Ahkam01-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Monday, May 13, 2019

Ahkam01-2019


احکام ومسائل

جناب مولانا الشیخ حافظ ابومحمد عبدالستار الحمادd
خط وکتابت:  مرکز الدراسات الاسلامیہ ۔ سلطان کالونی‘ میاں چنوں‘ خانیوال‘ پاکستان  ای میل:  markaz.dirasat@gmail.com

جادو اور اس کی اقسام وعلامات
O ہمارے گھر کے تمام افراد سستی اور کاہلی کا شکار رہتے ہیں‘ کسی کا بھی کوئی کام کرنے کو دل نہیں چاہتا‘ والد اور والدہ کے درمیان اکثر وبیشتر جھگڑا اور اختلاف رہتا ہے‘ ہمیں کسی روحانی عامل نے بتایا ہے کہ آپ کے گھر میں جادو کے اثرات ہیں‘ اس سلسلہ میں شرعی رہنمائی درکار ہے۔
P جادو‘ اردو زبان کا لفظ ہے جسے عربی میں سحر کہتے ہیں‘ اس کا لغوی معنی دھوکہ دینا‘ حقیقت سے پھیرنا‘ حیلہ کرنا اور باطل کو حق کی صورت میں پیش کرنا ہے۔ نیز کسی چیز کو ملمع سازی کر کے بایں طور پر پیش کرنا کہ دیکھنے والے حیران رہ جائیں‘ اسے بھی سحر کہتے ہیں۔ اصطلاحی طور پر اس کی مختلف تعریفیں کی گئی ہیں۔ حافظ ابن قیمa نے اس کی تعریف یوں کی ہے: ’’جادو‘ مختلف خبیث روحوں سے ترکیب پانے والی ایک ایسی چیز ہے جس سے انسانی طبیعت متأثر ہو جاتی ہے۔‘‘ (زاد المعاد: ص ۱۱۵)
مسحور کن انداز خطابت کو بھی سحر کہتے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے: ’’بعض انداز گفتگو بھی جادو اثر رکھتے ہیں۔‘‘ (بخاری‘ النکاح: ۵۱۴۶)
بہرحال جادو اپنے اندر بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ البتہ یہ انتہائی لطیف اور دقیق ہوتا ہے اور اس میں شیطانی عمل ودخل ضرور ہوتا ہے۔ اسے درج ذیل مقاصد کے لیے کیا یا کروایا جاتا ہے:
\          سحر محبت: کسی کے دل میں اپنی یا کسی دوسرے کی محبت ڈالنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
\          سحر تفریق: اپنے قریبی عزیز اور رشتوں کو توڑنے کے لیے عمل میں لایا جاتا ہے۔
\          سحر جنون: کسی کے دل ودماغ کو مفلوج کرنے یا کم از کم اسے وہم میں ڈالنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
\          سحر خمول: کسی بھی شخص پر کاہلی اور سستی طاری کرنے کے لیے اسے عمل میں لایا جاتا ہے۔
\          سحر امراض: کسی بھی دوسرے شخص کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
\          سحر استحاضہ: خواتین میں سحر کی یہ قسم عام ہوتی ہے‘ ان کی ماہانہ عادت کو لمبا کر دیا جاتا ہے‘ رسول اللہe نے اسے رکضۂ شیطان کہا ہے‘ مقصد یہ ہوتا ہے کہ اسے عبادات سے دور رکھا جائے۔
واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر جادو کا کوئی اثر نہیں ہوتا‘ قرآن کریم نے بھی اس کی علامتوں کی صراحت کی ہے۔ (البقرہ: ۱۰۲)
اس کی علامتیں درج ذیل ہیں:
\          نماز‘ روزہ اور دیگر عبادات سے دل کا اکتا جانا۔
\          اکثر ذہن کا منتشر اور پریشان رہنا۔
\          گھر کے افراد سستی‘ گھبراہٹ کا شکار رہتے ہیں‘ ان میں چڑ چڑا پن اور اختلاف رہتا ہے۔
\          جسم کے مختلف حصوں میں درد اور تھکاوٹ کا محسوس ہونا اور پٹھوں میں اکڑاؤ رہنا۔
\          کپڑوں یا مختلف مقامات پر خون کے چھینٹے پڑنا اور استعمال میں آنے والے کپڑوں کا کٹ جانا۔
\          اہل خانہ اور دوست واحباب کے باہمی معاملات کا خراب رہنا۔
\          رات کو سوتے وقت بھیانک اور ڈراؤنے خواب آنا۔
\          میاں بیوی کے درمیان اختلاف اور نفرت پیدا ہونا اور ایک دوسرے کو بدصورت دکھائی دینا۔
\          بیماری اور تکلیف کے باوجود ڈاکٹری رپورٹ میں بیماری کا نہ آنا۔
جادو سے محفوظ رہنے کے لیے کچھ عملی طریقے حسب ذیل ہیں:
جادو ایک شیطانی عمل ہے اور اس کا شکار میاں بیوی زیادہ ہوتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے اس کی وضاحت کی ہے‘ اس لیے میاں بیوی کو خاص طور پر اپنی حفاظت کرنا ہو گی۔
\          گھر میں تلاوت قرآن کا اہتمام کیا جائے بلکہ نماز فجر کے بعد آنے والے دن کا افتتاح قرآن کی تلاوت سے کیا جائے‘ نیز خود پڑھنے کا اہتمام کیا جائے‘ موبائل یا ٹیپ ریکارڈ سے کام نہیں چلے گا۔ خاص طور پر سورۂ البقرہ پڑھنے کا التزام کیا جائے۔
\          صبح وشام کے اذکار پڑھنے کا معمول بنایا جائے‘ گھر کے تمام افراد اس کا اہتمام کریں‘ خاص طور پر تسبیحات اور استغفار پڑھنے کا التزام کیا جائے۔
\          صدقہ وخیرات کرنے کی عادت ڈالی جائے‘ خاموشی کے ساتھ کسی ضرورت مند اور قریبی کے ساتھ تعاون کیا جائے‘ صدقہ کرنے سے بھی آنے والی آزمائشیں اور مصیبتیں ٹل جاتی ہیں‘ یہ کام خوش دلی سے کیا جائے۔
\          فواحش ومنکرات اور حرام کاموں سے اجتناب کیا جائے‘ سود اور دھوکہ دہی کی کمائی سے پرہیز کیا جائے‘ رزق حلال کا اہتمام کیا جائے۔
\          یہ یقین رکھا جائے کہ بیماری لگانے والا اور ہٹانے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے‘ اسی سے بکثرت دعا کی جائے‘ کسی پیر فقیر کی طرف رجوع نہ کیا جائے۔
\          گھر کے تمام افراد درج ذیل دم کریں جو ہمارا سالہا سال سے مجرب ہے:
                سورۂ فاتحہ‘ سورۂ بقرہ کی پہلی پانچ آیات‘ آیۃ الکرسی‘ آخری چار قل یعنی سورۂ الکافرون‘ سورۂ الاخلاص‘ سورۂ الفلق اور سورۂ الناس‘ سات دفعہ پڑھ کر صبح وشام دم کریں۔
\          اگرایسا ممکن نہ ہو تو کسی بھی مسلمان‘ دیندار‘ متبع سنت اور متشرع آدمی سے دم کروائیں۔ نیز نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں‘ امید ہے کہ ایسا کرنے سے بہترین نتائج سامنے آئیں گے۔ واللہ الموفق!
سجدہ کی کیفیت
O دوران نماز سجدہ کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ کیا مرد اور عورت کے لیے سجدہ کرنے کا طریقہ مختلف ہے؟ ہمارے ہاں عورتیں مختلف طریقہ سے سجدہ کرتی ہیں‘ اس کے متعلق قرآن وحدیث کی کیا ہدایات ہیں؟!
P سجدہ کرتے وقت مرد اور عورت کا الگ الگ طریقہ نہیں‘ ہمارے ہاں جو فرق روا رکھا جاتا ہے اس کی کتاب وسنت میں کوئی دلیل نہیں۔ اختصار کے پیش نظر کیفیت سجدہ حسب ذیل ہے‘ اور عورتوں کے لیے بھی یہی طریقہ ہے:
\          سجدہ کرتے وقت یہ سات اعضاء زمین پر لگنے چاہئیں 1 پیشانی اور ناک‘ 23 دونوں ہاتھ 45 دونوں پاؤں 67 دونوں گھٹنے
\          سجدے کے لیے جھکتے وقت پہلے دونوں ہاتھوں کو زمین پر رکھا جائے۔
\          دوران سجدہ ہاتھ زمین پر جبکہ کہنیاں زمین سے اٹھی ہوئی ہوں۔
\          دوران سجدہ قدموں کی ایڑیاں ملی ہوئی ہوں۔
\          سجدہ میں پاؤں کی انگلیوں کا رخ قبلہ کی طرف اور قدم کھڑے ہوئے ہوں۔
\          سجدہ میں دونوں بازو کشادہ‘ ہاتھ پہلوؤں سے دور‘ سینہ‘ پیٹ اور رانیں زمین سے اونچی‘ پیٹ کو رانوں سے اور رانوں کو پنڈلیوں سے جدا رکھیں۔
\          بحالت سجدہ ہاتھوں کی انگلیاں ملی ہوئی ہوں‘ کشادہ نہ ہوں۔
بوقت ضرورت کسی کپڑے پر سجدہ کرنا بھی جائز ہے۔ یہی طریقہ مرد وزن دونوں کے لیے ہے۔ عورتوں کے لیے کوئی خاص طریقہ کسی حدیث سے ثابت نہیں۔ واللہ اعلم!
جمعہ کے دن غسل کرنا
O جمعہ کے دن غسل کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟! آیا جمعہ کے دن غسل کرنا ضروری ہے یا ایک بہترین عمل ہے؟ اس کے متعلق کتاب وسنت کی روشنی میں وضاحت کریں۔
P جمعہ کے دن غسل کرنے کے متعلق کافی اختلاف ہے۔ کچھ اہل علم اس کے واجب ہونے کی طرف گئے ہیں جبکہ دوسرے اہل علم اسے مستحب قرار دیتے ہیں۔ عدم وجوب کے قائلین کا استدلال ان روایات سے ہے جن میں اس سبب کی وضاحت کی گئی ہے جس کی وجہ سے جمعہ کے دن غسل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ چنانچہ روایت میں ہے کہ لوگ اس وقت محنت مزدوری کرتے تھے جب جمعہ کا وقت ہوتا تو اسی حالت میں جمعہ کے لیے چلے آتے اور ان کے کپڑوں سے پسینے وغیرہ کی ناگوار بو آتی تھی‘ جس سے دوسروں کو تکلیف ہوتی تھی‘ اس بات کی شکایت جب رسول اللہe سے کی گئی تو رسول اللہe نے فرمایا: ’’جو تم میں سے جمعہ کے لیے آئے اسے چاہیے کہ غسل کرے۔‘‘
ایک دوسری روایت کے مطابق سیدہ عائشہr فرماتی ہیں کہ لوگ گذر اوقات کے لیے محنت مزدوری کرتے تھے‘ جب جمعہ کے لیے آتے تو اسی حالت میں چلے آتے‘ انہیں کہا گیا: ’’بہتر ہے کہ تم غسل کر کے آؤ۔‘‘ (بخاری‘ الجمعہ: ۹۰۳)
جو حضرات اس کے وجوب کے قائل ہیں‘ ان کی دلیل رسول اللہe کا فرمان ہے: ’’ہر بالغ پر جمعہ کے دن غسل کرنا واجب ہے۔‘‘ (بخاری‘ الجمعہ: ۸۷۹)
بہرحال اس مسئلہ کے متعلق دونوں قسم کی آراء پائی جاتی ہیں‘ عدم وجوب کے قائل بھی اسے سنت مؤکدہ اور وجوب ہی کے قریب کہتے ہیں۔ اس بناء پر دونوں موقف ایک دوسرے کے قریب ہی ہیں۔ ہمارے رجحان کے مطابق غسل جمعہ کی ابتداء اس وجہ سے ہوئی کہ لوگ محنت ومزدوری کر کے گذار اوقات کرتے تھے‘ اس وقت مسجد بھی تنگ تھی‘ لوگ اسی حالت میں جمعہ کے لیے چلے آتے۔ اس وجہ سے ماحول ناخوشگوار ہو جاتا تو آپe نے غسل کرنے اور خوشبو لگانے کا حکم دیا۔ اب بھی اگر ایسے حالات ہوں تو غسل جمعہ واجب ہے تا کہ دوسروں کے لیے اذیت کا باعث نہ ہو اور یہ تاکید حالات کے پیش نظر وجوب تک پہنچ سکتی ہے جبکہ پسینے کی وجہ سے ماحول بدبو دار ہو رہا ہو البتہ عام حالات میں صرف تاکیدی استحباب ہے‘ جیسا کہ امت کے اکثر اہل علم نے اس موقف کو اختیار کیا ہے۔ واللہ اعلم!


No comments:

Post a Comment