Ahkam02-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Tuesday, May 14, 2019

Ahkam02-2019


احکام ومسائل

جناب مولانا الشیخ حافظ ابومحمد عبدالستار الحمادd
خط وکتابت:  مرکز الدراسات الاسلامیہ ۔ سلطان کالونی‘ میاں چنوں‘ خانیوال‘ پاکستان  ای میل:  markaz.dirasat@gmail.com

مدرسہ کے عطیات میں زکوٰۃ
O میں ایک مدرسہ کا خازن ہوں‘ میرے پاس مدرسہ کے عطیات‘ زکوٰۃ‘ صدقہ وخیرات کی رقم جمع رہتی ہے‘ کیا اس میں بھی سال گذرنے کے بعد زکوٰۃ ادا کرنا ہو گی؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت کریں۔
P جب قرون اولیٰ میں بیت المال کا نظام مستحکم تھا تو اس میں مختلف مدات کی رقم جمع رہتی تھی۔ لیکن یہ منقول نہیں ہے کہ اس جمع شدہ صدقہ وخیرات میں زکوٰۃ ادا کی گئی ہو‘ یہ مال تو خود صدقہ وخیرات کا ہوتا تھا‘ اس میں دوبارہ زکوٰۃ کی ادائیگی چہ معنی دارد؟!
زکوٰۃ اس مال سے ادا کی جاتی ہے جو کسی کی ملک ہو‘ مدرسہ کو ملنے والے عطیات کسی کی ملکیت نہیں ہوتے لہٰذا اس میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہe نے ایک مرتبہ سیدنا عمرt کو زکوٰۃ کی وصولی کے لیے تعینات فرمایا‘ انہوں نے رسول اللہe سے عرض کیا کہ ابن جمیل‘ خالد بن ولید اور سیدنا عباس] نے زکوٰۃ نہیں دی‘ سیدنا خالد بن ولیدt کے متعلق رسول اللہe نے فرمایا: ’’رہا خالد کا معاملہ تو تم ان پر زکوٰۃ طلبی کی وجہ سے ظلم کرتے ہو کیونکہ انہوں نے اپنی زرہیں اور دوسرا جنگی سامان اللہ تعالیٰ کے راستہ میں وقف کر رکھا ہے۔‘‘ (بخاری‘ زکوٰۃ: ۱۴۶۸)
سیدنا عمرt نے ان سے جنگی ساز وسامان کی زکوٰۃ طلب کی تھی کہ شاید یہ مال‘ تجارت کے لیے ہے تو اس کے متعلق رسول اللہe نے وضاحت فرمائی کہ اس کا جنگی سامان تجارت کے لیے نہیں بلکہ وہ فی سبیل اللہ وقف ہے اور وقف میں زکوٰۃ نہیں ہوتی۔
صورت مسئولہ میں مدرسہ کے عطیات‘ زکوٰۃ‘ صدقہ وخیرات وقف ہے‘ وہ کسی کی ملکیت نہیں کہ اس سے زکوٰۃ ادا کی جائے۔ عہد رسالت اور دور صحابہ میں بے شمار اوقاف تھے جو زمینوں کی صورت میں تھے۔ اس قسم کی وقف زمینوں کی پیداوار سے عشر نکالنے کی کوئی صراحت نہیں ملتی۔ اسی طرح مدرسہ کی رقم جو کسی کے پاس جمع ہے‘ وہ مدرسہ کے مصارف پر خرچ کرنے کے لیے ہے‘ اس میں زکوٰۃ نہیں۔ وہ تو خود صدقہ وخیرات کی مد سے ہے۔ اس میں زکوٰۃ نہیں نکالی جائے گی اور نہ ہی زکوٰۃ کی شرائط اس میں پائی جاتی ہیں۔ واللہ اعلم!
وضوء کے لیے ضرورت سے زیادہ پانی استعمال کرنا
O میں مسجد میں وضوء کر رہا تھا‘ میرے ساتھ ایک آدمی بیٹھا وضوء کرتے ہوئے بہت زیادہ پانی بہا رہا تھا۔ میں نے اسے کہا کہ ایسا کرنا درست نہیں‘ اس نے کہا کہ وضوء کرتے وقت پانی کے استعمال پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہو گا۔ کیا واقعی وضوء کے متعلق کوئی باز پرس نہیں ہو گی‘ جتنا مرضی پانی استعمال کر لیا جائے؟!
P دین اسلام افراط وتفریط سے ہٹ کر ایک معتدل دین ہے اور ہمیں اعتدال کی ہی تعلیم دیتا ہے۔ معاملات زندگی میں اسراف وتبذیر کی اجازت نہیں۔ وضوء کرتے وقت بے بہا پانی استعمال کرنا اسراف ہے اور بلا وجہ پانی بہاتے رہنا تبذیر ہے۔ قرآن کریم نے بلاو جہ کسی چیز کے بے دریغ استعمال کو ’’اخوان الشیاطین‘‘ یعنی شیطانوں کے بھائی قرار دیا ہے۔ وضوء کا معاملہ بھی اسی طرح ہے‘ اس میں ضرورت سے زیادہ پانی استعمال کرنا درست نہیں بلکہ تھوڑے پانی سے ہلکا وضوء کر لینا ہی کافی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباسwبیان کرتے ہیں کہ میں ایک رات اپنی خالہ سیدہ میمونہ r کے ہاں ٹھہرا۔ رسول اللہ e رات کو اٹھے اور ایک مشک سے وضوء کیا‘ آپ نے کم پانی استعمال کرتے ہوئے مختصر وضوء کیا۔ (بخاری‘ الوضوء: ۱۳۸)
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ایک اعرابی‘ رسول اللہe کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے وضوء کے متعلق سوال کیا تو آپe نے اسے تین تین بار اعضاء دھو کر وضوء کر کے دکھایا پھر فرمایا: ’’وضوء یہ ہوتا ہے جس نے اس پر اضافہ کیا‘ اس نے برا کیا‘ حد سے تجاوز کیا اور ظلم کیا۔‘‘ (ابوداؤد‘ الطہارہ: ۱۳۵)
اضافہ سے مراد درج ذیل دو صورتیں ہیں:          تین بار سے زیادہ کسی عضو کو دھونا   *  پانی کے استعمال میں فضول خرچی کرنا
تین دفعہ دھونے سے میل کچیل دور ہو جاتی ہے بشرطیکہ اعضاء وضوء کو اچھی طرح دھویا جائے‘ لہٰذا اس سے زائد دھونے کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ پانی ضائع ہو گا جس کی شرعاً اجازت نہیں۔ ایسا کرنے سے طبیعت بھی دھیمی ہو جاتی ہے‘ رسول اللہe ایک دفعہ سیدنا سعد بن ابی وقاصt کے پاس سے گذرے جبکہ وہ وضوء کر رہے تھے۔ آپe نے اسے دیکھ کر فرمایا: ’’یہ کیا اسراف ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: آیا وضوء میں بھی اسراف ہوتا ہے؟ تو آپe نے فرمایا: ’’ہاں! اگرچہ تم بہتے دریا کے کنارے پر بیٹھے ہو۔‘‘ (مسند امام احمد: ج۲‘ ص ۲۲۱)
ہمارے رجحان کے مطابق اگرچہ وضوء کو اچھی طرح کرنے کا حکم ہے لیکن ضرورت سے زیادہ پانی کا استعمال اسراف ہے جس کی شرعی طور پر اجازت نہیں بلکہ قیامت کے دن اس کے متعلق باز پرس ہو گی۔ واللہ اعلم!
نکاح میں کوئی شرط رکھنا
O ہم نے اپنی بچی کا نکاح کیا اور حق مہر کے علاوہ یہ شرط بھی رکھی کہ اگر بلاوجہ طلاق دی گئی تو دو لاکھ روپیہ ادا کرنا ہو گا۔ اب ہمارے داماد نے دوسری شادی کر لی ہے اور پہلی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہے‘ کیا اسے طے شدہ شرط کے مطابق دو لاکھ روپے ادا کرنا ہوں گے؟
P نکاح زندگی کا ایک بندھن ہے‘ اسے نہایت سنجیدگی سے گہری سوچ وبچار کے بعد کرنا چاہیے‘ نکاح کے وقت کوئی بھی سنجیدہ شرط رکھی جا سکتی ہے۔ امام بخاریa نے ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے: ’’نکاح میں شرائط کا بیان۔‘‘ (بخاری‘ النکاح۷ باب نمبر ۵۳)
اس سلسلہ میں انہوں نے ایک حدیث بایں الفاظ بیان کی ہے‘ رسول اللہe نے فرمایا: ’’وہ شرطیں جن کا پورا کرنا تمہارے لیے ضروری ہے وہ ہیں جن کو تم نے نکاح میں طے کر کے عورتوں کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے۔‘‘ (بخاری‘ النکاح: ۵۱۵۱)
البتہ ناجائز شرائط طے کرنا درست نہیں اور نہ ہی انہیں پورا کرنا ضروری ہے۔ امام بخاریa نے اس سلسلہ میں ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے: ’’وہ شرائط جن کا نکاح کے وقت طے کرنا جائز نہیں۔‘‘ (بخاری‘ النکاح: باب نمبر ۵۴)
ان میں سے ایک یہ ہے کہ نکاح کرتے وقت پہلی بیوی کو طلاق دینے کی شرط لگانا۔
شرط کے متعلق دو باتیں قابل غور ہیں:
·             یہ شرائط واجب اور ضروری ہیں یا انہیں پورا کرنا مستحب ہے؟ راجح بات یہ ہے کہ ان شرائط کا پورا کرنا واجب ہے الا یہ کہ فریقین میں افہام وتفہیم ہو جائے۔
·             ان کا تعلق صرف عقد نکاح سے ہے جیسے مہر کی ادائیگی اور اخراجات وغیرہ یا ان سے مراد وہ تمام شرائط ہیں جو عقد نکاح کے وقت طے پا جائیں۔ اس بارے میں علماء کی دونوں رائے ہیں‘ لیکن ہمارا رجحان یہ ہے کہ نکاح کے وقت جو شرائط طے ہو جائیں ان کا پورا کرنا ضروری ہے بشرطیکہ وہ شرط کتاب وسنت کے خلاف نہ ہو۔
صورت مسئولہ میں بلا وجہ طلاق دینے کی صورت میں دو لاکھ روپیہ کی ادائیگی کرنا شرط تھی۔ طلاق دینے کی صورت میں اسے ادا کرنا ہو گا۔ سیدنا عمرt نے فرمایا: ’’حقوق کے فیصلے شرائط کے مطابق ہوں گے۔‘‘ یعنی حقوق کی قطعیت شرط کے پورا ہونے کے وقت ہوتی ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: ج۶‘ ص ۱۰۱)
بہرحال اگر خاوند اپنی بیوی کو بلاوجہ طلاق دیتا ہے تو اسے حسب شرط دو لاکھ روپیہ ادا کرنا ہو گا۔ واللہ اعلم!
مساجد کی اقسام
O ہماری مسجد سے ملحقہ ایک پلاٹ ہے‘ ہم ظہر اور عصر کی نماز دھوپ کی وجہ سے اس ملحقہ پلاٹ میں پڑھتے ہیں کیونکہ رسول اللہe نے روئے زمین کو مسجد قرار دیا ہے‘ اس لیے وہاں نماز پڑھنا ایسا ہی ہے جیسے ہم مسجد میں ہی نماز پڑھتے ہیں۔ کیا ہمارا یہ عمل درست ہے؟!
P مسجد سے ملحقہ پلاٹ میں نماز پڑھنا تو جائز ہے لیکن اسے مسجد قرار دے کر اس پر مسجد کے احکام لاگو کرنا محل نظر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مساجد کی کئی ایک اقسام ہیں‘ ہر قسم کے متعلق شرعی حکم بھی الگ ہے۔ اس کی تفصیل درج ذیل ہے:
·                   رسول اللہe کے لیے تمام روئے زمین کو مسجد قرار دیا گیا ہے جہاں کہیں دوران سفر نماز کا وقت آجائے وہیں نماز پڑھ لی جائے۔ (بخاری‘ التیمم: ۳۳۵)
تمام روئے زمین کو حکمی طور پر مسجد قرار دیا گیا ہے‘ اس کے وہ احکام نہیں ہیں جو عام مساجد کے ہوتے ہیں۔
·                   گھر کے کسی کونے یا زرعی زمین کے کسی خطہ کو سہولت کے پیش نظر مسجد قرار دے لیا جاتا ہے جیسا کہ رسول اللہe کے عہد مبارک میں سیدنا عثمان بن مالک t نے اپنے گھر کے ایک کونے کو مسجد قرار دیا تھا اور رسول اللہe سے گذارش کی تھی کہ آپ میرے گھر تشریف لائیں اور وہاں ایک مرتبہ نماز پڑھیں تا کہ ہم اسے مسجد قرار دے دیں۔ (بخاری‘ الصلوٰۃ: ۴۲۵)
اس قسم کی مساجد کو گھر یا زمین کا مالک جب چاہے ختم کر سکتا ہے اور اسے اپنے استعمال میں لا سکتا ہے۔
·                   تیسری قسم ان مساجد کی ہے جن میں اذان وجماعت اور جمعہ کا اہتمام ہوتا ہے اور اس کی زمین باقاعدہ وقف ہوتی ہے جسے خرید وفروخت نہیں کیا جا سکتا۔ سوال میں جس مسجد کا ذکر ہے وہ آخری قسم سے تعلق رکھتی ہے اور مسجد سے ملحقہ پلاٹ کی حیثیت اس قسم کی مساجد کی نہیں جس میں نماز پڑھنے سے مسجد میں نماز پڑھنا قرار دیا جائے۔ لہٰذا حدیث مبارک سے حقیقی مسجد کا معنی کشید کرنا انتہائی محل نظر ہے۔ وہ پلاٹ حکمی مسجد کی حیثیت رکھتا ہے جس میں نماز پڑھنا تو جائز ہے لیکن اسے حقیقی مسجد قرار نہیں دیا جا سکتا۔

No comments:

Post a Comment

View My Stats