Ahkam03-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Tuesday, May 14, 2019

Ahkam03-2019


احکام ومسائل

جناب مولانا الشیخ حافظ ابومحمد عبدالستار الحمادd
خط وکتابت:  مرکز الدراسات الاسلامیہ ۔ سلطان کالونی‘ میاں چنوں‘ خانیوال‘ پاکستان  ای میل:  markaz.dirasat@gmail.com

بیوی کو کہنا کہ ’’تم میری طرف سے آزاد ہو‘‘
O میری بیوی‘ میری والدہ سے ناراض ہو کر اپنے میکے چلی گئی‘ مجھے جب علم ہوا تو میں نے اسے پیغام دیا کہ ’’تو میری طرف سے آزاد ہے‘‘ اور اپنے لیے جو بہتر خیال کرے اسے کر گذرے۔ جبکہ میری نیت اسے راہ وراست پر لانے کی تھی‘ طلاق دینا مقصود نہ تھا۔ کیا ایسے الفاظ کہنے سے طلاق ہو جاتی ہے؟
P شریعت اسلامیہ میں طلاق کی دو اقسام حسب ذیل ہیں:
·             طلاق صریح: … صاف اور واضح الفاظ استعمال کر کے اپنی بیوی کو زوجیت سے الگ کرنا۔ جیسا کہ بیوی سے کہا جائے کہ ’’میں تجھے طلاق دیتا ہوں۔‘‘ اس طرح طلاق دینے سے نیت وغیرہ کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ واضح طور پر لفظ طلاق استعمال کرنے سے طلاق ہو جاتی ہے۔
·             طلاق کنایہ: … اپنی بیوی کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرنا جو علیحدگی اور جدائی کی طرف اشارہ کرتے ہوں۔ مثلاً یوں کہا جائے کہ تو میری طرف سے آزاد ہے‘ اپنے لیے جو بہتر خیال کرے اسے کر گذرے۔ ایسے الفاظ استعمال کرنے سے خاوند کی نیت کو دیکھا جاتا ہے۔ اگر طلاق کی نیت ہے تو طلاق ہو جائے گی اور اگر ڈرانا دھمکانا مقصود ہے تو طلاق نہیں ہو گی۔ خود رسول اللہe نے اپنی ایک بیوی کو یوں کہا تھا: ’’اپنے میکے چلی جاؤ۔‘‘ (بخاری‘ الطلاق: ۵۳۵۴)
چونکہ آپ کا ارادہ طلاق دینے کا تھا لہٰذا ان الفاظ سے طلاق ہو گئی۔ اس کے برعکس ایک صحابی سیدنا کعب بن مالکt نے اپنی بیوی کے لیے یہی الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا تھا: ’’اپنے میکے چلی جاؤ۔‘‘ (بخاری‘ المغازی: ۴۴۱۸)
لیکن ان کی نیت طلاق دینے کی نہیں تھی بلکہ وقتی طور پر اسے علیحدہ کرنا تھا لہٰذا ان الفاظ کے استعمال کرنے سے طلاق نہیں ہوتی۔
صورت مسئولہ میں بھی طلاق کے لیے کوئی واضح اور صریح الفاظ استعمال نہیں کیے بلکہ اپنی بیوی کو یوں کہا کہ ’’تو میری طرف سے آزاد ہے‘ اپنے لیے جو بہتر خیال کرے اسے کر گذرے۔‘‘
ان الفاظ سے طلاق دینا مقصود نہ تھا بلکہ اسے ڈرا دھمکا کر راہ راست پر لانے کی نیت تھی لہٰذا ان الفاظ سے طلاق نہیں ہوئی۔ بہرحال اب یہ معاملہ سائل اور اللہ کے ما بین ہے۔ ہم تو اس کے ظاہری الفاظ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے رجحان کا اظہار کرتے ہیں کہ ان الفاظ کے استعمال سے اس کی بیوی کو طلاق نہیں ہوئی‘ لہٰذا فریقین صلح وآشتی سے اپنا گھر آباد کر سکتے ہیں۔ واللہ اعلم!
وضع حمل کے بعد طلاق دینا
O میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی‘ پھر دوران عدت رجوع کر لیا۔ کچھ عرصہ حالات ساز گار رہے پھر گھر میں ناچاقی ہوئی تو میری بیوی اپنے میکے چلی گئی۔ میں نے وہاں اسے طلاق کا نوٹس بھیج دیا جبکہ وہ حاملہ تھی‘ وضع حمل کے بعد اسے تیسرا نوٹس بھی بھیج دیا‘ کیا اب صلح ہو سکتی ہے؟
P قرآن کریم نے جو ضابطہ طلاق بیان کیا ہے‘ اس کے مطابق نکاح کے بعد خاوند کو تین دفعہ طلاق دینے کا اختیار ہے۔ پہلی طلاق کے بعد اگر دوران عدت رجوع کر لیا جائے تو اپنے گھر کو آباد کیا جا سکتا ہے۔ البتہ اس نے اپنا ایک اختیار استعمال کر لیا ہے۔ یعنی ایک طلاق ہو چکی ہے۔ عدت گذرنے کے بعد رجوع ہو سکتا ہے لیکن اس کے لیے نکاح جدید کرنا ہو گا۔ اسی طرح دوسری طلاق کے بعد یہی صورت حال ہو گی‘ دوران عدت رجوع کیا جا سکتا ہے اور عدت گذرنے کے بعد نکاح جدید سے اپنا گھر آباد کیا جا سکتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’طلاق دوبار ہے پھر یا تو شائستہ طریقہ سے اپنے پاس رکھنا ہے یا بھلائی کے ساتھ اسے چھوڑ دینا ہے۔‘‘ (البقرہ: ۲۲۹)
یہ وہ دو طلاقیں ہیں جن کے بعد شوہر کے لیے حق رجوع باقی رہتا ہے‘ البتہ تیسری طلاق فیصلہ کن ہوتی ہے۔ اس کے بعد رجوع کی کوئی صورت نہیں۔
صورت مسئولہ میں سائل نے پہلے اپنی بیوی کو طلاق دی‘ پھر دوران عدت رجوع کر لیا۔ پھر دوسری طلاق دی جبکہ اس کی بیوی حاملہ تھی۔ واضح رہے کہ دوران حمل بھی طلاق ہو جاتی ہے اور اس کی عدت بچے کو جنم دینا ہے۔ دوسری طلاق کے بعد وضع ہوا اور اس کے ساتھ ہی عدت ختم ہو گئی جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور حمل والی عورتوں کی عدت وضع حمل ہے۔‘‘ (الطلاق: ۴)
عدت ختم ہوتے ہی نکاح بھی ختم ہو گیا‘ اب جو تیسری طلاق دی ہے وہ وضع حمل کے بعد دی جبکہ وہ اس کی بیوی نہ رہی تھی۔ اس لیے یہ طلاق بر محل نہیں بلکہ یہ طلاق لغو ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں۔ اب دو طلاقیں مکمل ہو چکی ہیں اور عدت بھی ختم ہو گئی ہے۔ تجدید نکاح کے ساتھ اپنا گھر آباد کیا جا سکتا ہے لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ خاوند کے پاس صرف ایک فیصلہ کن طلاق دینے کا اختیار باقی رہ گیا ہے اس کے بعد رجوع کی کوئی گنجائش نہ ہو گی۔ واللہ اعلم!
بدھ کی نحوست
O کیا کوئی دن منحوس بھی ہوتا ہے؟ ہم نے سنا ہے کہ بدھ کے دن کوئی کام شروع نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ دن منحوس ہے اور اس دن اگر کوئی کام شروع کیا جائے تو وہ پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچتا۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں۔
P لوگوں کے ہاں مشہور ہے کہ ہر مہینے کا آخری بدھ منحوس ہوتا ہے‘ اس کی بنیاد بعض ضعیف اور موضوع روایات ہیں۔ پھر اس عقیدے کی بناء پر کہا جاتا ہے کہ اس دن سفر نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی اس دن کسی کاروبار کا آغاز کیا جائے‘ یہ سب باتیں بے بنیاد اور خرافات ہیں۔ قرآن مجید میں قوم عاد کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ہم نے ایک منحوس دن میں ان پر سناٹے کی آندھی چھوڑ دی جو مسلسل چلتی رہی۔‘‘ (القمر: ۱۹)
اس یوم نحس کے متعلق مشہور ہے کہ یہ بدھ کا دن تھا‘ اس سے بدھ کی نحوست کا مسئلہ کشید کیا گیا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے کسی دن کو منحوس پیدا نہیں کیا۔ یہ باتیں نجومیوں کے ہاں مشہور ہیں کہ فلاں دن نحس ہے اور فلاں سعد۔ اللہ کی شریعت میں یہ تقسیم بے بنیاد ہے۔ اس سلسلہ میں ایک روایت کو بھی بنیاد بنایا جاتا ہے کہ بدھ کے دن سینگی لگوانے سے پرہیز کرو کیونکہ سیدنا ایوبu کو اسی دن بیماری آئی تھی۔ نیز کوڑھ اور برص کی بیماری بھی بدھ کے دن یا بدھ کی رات کو ظاہر ہوتی ہے۔ (ابن ماجہ‘ الطب: ۳۴۸۸)
محدثین نے اس روایت کو بھی ضعیف قرار دیا ہے‘ لہٰذا اس قسم کی روایات کو بنیاد بنا کر بدھ کے دن یا اس کی رات کو منحوس نہیں قرار دیا جا سکتا‘ اس کے برعکس کتب حدیث میں ایک روایت بایں الفاظ مروی ہے جسے سیدنا جابر بن عبداللہw بیان کرتے ہیں: ’’رسول اللہe نے مسجد فتح میں سوموار‘ منگل اور بدھ تین دن تک دعا کی‘ وہ دعا بدھ کے دن ظہر سے عصر تک مانگی تو اللہ تعالیٰ نے اسے شرف قبولیت سے نوازا۔‘‘
سیدنا جابرt فرماتے ہیں کہ مجھے جب بھی کوئی بڑا کام کرنا ہوتا تو میں بدھ کے دن کا انتظار کرتا‘ پھر ظہر سے عصر تک دعا کرتا تو اللہ تعالیٰ اس دعا کو قبول فرماتے۔ (الادب المفرد: ج۱‘ ص ۲۴۴)
اس حدیث کے پیش نظر امام بیہقیa نے لکھا ہے: ’’دعا کے لیے ان اوقات‘ حالات اور مقامات کا خیال رکھا جائے جن میں قبولیت دعا کی امید ہوتی ہے۔ اوقات میں ایک بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان کا وقت ہے۔ (شعب الایمان‘ ج۳‘ ص ۳۲۹)
بہرحال بدھ کے دن نحوست کا عقیدہ باطل اور بے اصل ہے۔ واللہ اعلم!
ولی کے بغیر نکاح
O میں ایک کالج کی طالبہ ہوں اور دین اسلام کا مطالعہ رکھتی ہوں‘ میں ایک دیندار لڑکے سے شادی کرنا چاہتی ہوں جبکہ میرے والدین قبر پرست ہیں اور اس شادی پر راضی نہیں ہیں۔ اگر میں نکاح خواں کو اپنا ولی مقرر کر کے نکاح کر لوں تو کیا یہ نکاح شرعی ہو گا؟!
P دین اسلام میں کسی بھی لڑکی کو بذات خود نکاح کرنے کی اجازت نہیں۔ بلکہ زندگی کے اس بندھن میں ولی کی اجازت اور اس کی رضا مندی ضروری ہے۔ سرپرست کا اولین فرض یہ ہے کہ پہلے وہ لڑکی کی رضامندی حاصل کر لے پھر کسی سے اس کی شادی کے متعلق بات چیت کا آغاز کرے۔ نکاح کے لیے یہ دو بنیادی چیزیں انتہائی ضروری ہیں۔ رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے: ’’سرپرست کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔‘‘ (ترمذی‘ النکاح: ۱۱۰۱)
اس حدیث کا واضح مطلب یہ ہے کہ جو نکاح سرپرست کی اجازت کے بغیر ہو اس کی شرعا کوئی حیثیت نہیں۔ اگر سرپرست کسی غلط جگہ پر نکاح کرنا چاہتا ہو تو ولایت کا حق دوسرے قریبی رشتہ دار کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ اگر تمام سرپرست غلط کار ہوں (اگرچہ ایسا بہت کم ہوتا ہے) تو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جا سکتا ہے۔ اگر عدالت اس نتیجہ پر پہنچے کہ واقعی تمام رشتہ دار غلط جگہ پر رشتہ کرنے کے لیے تلے ہوئے ہیں تو جج کی سرپرستی میں نکاح کیا جا سکتا ہے۔
صورت مسئولہ میں لڑکی کو چاہیے کہ وہ نکاح خواں کو ولی بنانے کی بجائے اپنے حقیقی سرپرست کو اعتماد میں لے اور انہیں قائل کرے‘ کسی معتبر کو درمیان میں لا کر اس مسئلے کو حل کرے۔ نکاح خواں تو کسی صورت میں ولی نہیں بن سکتا‘ نہ ہی اس کو ولی بنا کر نکاح کرنا شرعی ہو سکتا ہے۔ اگر والدین اور دیگر رشتہ دار کام نہ آ سکیں تو عدالت کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی وناصر ہو اور ہماری مشکلات کو حل فرمائے۔ آمین!

No comments:

Post a Comment