Ahkam04-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Thursday, May 16, 2019

Ahkam04-2019


احکام ومسائل

جناب مولانا الشیخ حافظ ابومحمد عبدالستار الحمادd
خط وکتابت:  مرکز الدراسات الاسلامیہ ۔ سلطان کالونی‘ میاں چنوں‘ خانیوال‘ پاکستان  ای میل:  markaz.dirasat@gmail.com

باپ اور بیٹے کی حادثاتی موت
O میرے دادا جان اور والد محترم گاڑی میں سفر کر رہے تھے‘ سامنے سے آنے والا ٹرک گاڑی سے ٹکرا گیا‘ اس حادثہ میں دونوں فوت ہو گئے‘ واضح رہے کہ والد محترم‘ میرے دادا جان کے اکلوتے بیٹے تھے اور ہم دو بھائی ہیں۔ جائیداد کی تقسیم کیسے ہو گی؟
P پہلے تو ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حادثہ میں فوت ہونے والے دونوں بزرگوں کو جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ان کے گناہوں کو معاف فرمائے۔ شریعت کے مطابق ایک سے زیادہ رشتہ دار کسی حادثہ مثلاً آگ لگنے‘ پانی میں ڈوبنے یا زلزلہ کی وجہ سے مکان گرنے میں اکٹھے فوت ہو جائیں اور یہ علم نہ ہو سکے کہ ان میں سے پہلے کون فوت ہوا ہے اور بعد میں کون مرا ہے تو ایسے اجتماعی حادثہ میں فوت ہونے والے ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے۔ بلکہ ان کے زندہ ورثاء‘ متروکہ جائیداد کے حقدار ہوں گے۔
صورت مسئولہ میں باپ اور بیٹا دونوں ہی ایک حادثہ میں فوت ہوئے ہیں‘ ان میں سے کسی کی موت کے متعلق تقدیم وتاخیر کا علم نہیں‘ ایسے حالات میں باپ بیٹے کا وارث نہیں ہو گا اور نہ ہی بیٹے کو باپ کی جائیداد کا حقدار قرار دیا جائے گا۔ بلکہ فوت ہونے والے کی جائیداد کے زندہ دونوں بھائی وارث ہوں گے۔ یعنی فوت ہونے والے باپ بیٹے کی جائیداد کو ملا کر اس کے دو حصے کیے جائیں گے پھر ایک حصہ ایک بھائی کو اور دوسرا حصہ دوسرے بھائی کو دے دیا جائے گا۔ جس طرح سیدنا زید بن ثابتt سے روایت ہے‘ آپ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیقt نے ان کو جنگ یمامہ اور سیدنا عمر فاروقt نے طاعون عمواس میں فوت ہونے والوں کے متعلق حکم دیا کہ ’’زندہ وارثوں کو فوت شدگان کا وارث بنایا جائے اور فوت ہونے والوں کو ایک دوسرے کا وارث نہ بنایا جائے۔‘‘ (بیہقی: ج۲‘ ص ۲۲۲)
امام مالکؒ نے جنگ جمل‘ جنگ صفین اور حرہ کے دن قتل ہونے والوں کے متعلق یہی فتویٰ دیا تھا کہ انہیں ایک دوسرے کا وارث نہیں بنایا جائے گا بلکہ ان کے جو زندہ ورثاء ہیں انہیں ان کا وارث قرار دیا جائے گا۔ (موطا امام مالک: ج۱‘ ص ۳۴۰ مع تنویر الھوالک) واللہ اعلم!
ترکہ کیا ہے…؟
O میرے والد گرامی جب فوت ہوئے تو انہوں نے دو قسم کا ترکہ اپنے پیچھے چھوڑا تھا۔ ایک قطعہ ارضی جو انہیں ہمارے دادا کی طرف سے بطور وراثت ملا تھا اور کچھ زمین انہوں نے اپنی محنت سے خریدی تھی‘ ایک مکان بھی انہوں نے بنایا تھا۔ اب تقسیم میراث کس قسم کی جائیداد پر لاگو ہو گی؟ واضح رہے کہ میری ایک بہن بھی زندہ ہے۔
P ترکے کے متعلق ہمارے ہاں بہت غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں‘ ہمارے ہاں ترکہ اسے خیال کیا جاتا ہے جو باپ دادا سے بطور وراثت ملا ہو اور جو کچھ فوت ہونے والے نے اپنی محنت سے کمایا ہو اسے ترکے میں شمار نہیں کیا جاتا۔ حالانکہ ہر منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کو ترکہ کہا جاتا ہے خواہ اسے وہ وراثت میں ملی ہو یا خود کمائی کر کے حاصل کی ہو۔ بہرحال مرنے کے بعد جو کچھ بھی مرنے والے نے اپنے پیچھے چھوڑا ہے اور کسی دوسرے شخص کا اس میں حق نہیں‘ اسے ترکہ کہا جائے گا۔ اگر اس کی متروکہ جائیداد میں متعین طور پر کسی غیر کا حق ہے تو اس وقت وہ مال اس کے ترکے میں شامل نہیں کیا جائے گا جب تک اس دوسرے کا حق ادا نہ کر دیا جائے۔  مثلاً مرنے والے نے اپنی کوئی چیز کسی کے پاس گروی رکھی ہوئی تھی‘ اس نے اس قدر مال نہیں چھوڑا کہ اسے ادا کر کے گروی شدہ چیز کو وا گذار کرایا جا سکے تو ایسی چیز مرنے والے کے ترکہ میں شمار نہیں ہو گی کیونکہ اس چیز کے ساتھ کسی غیر کا حق متعلق ہے۔ اس کے برعکس وہ چیز متوفی کے ترکہ میں شمار ہو گی جس کا سبب مِلک اس کی زندگی میں قائم ہو چکا تھا لیکن وہ چیز اس کے مرنے کے بعد اس کی ملکیت میں شامل ہو گی۔ مثلاً ایک شخص نے کسی حکومتی سکیم سے پلاٹ لینے کے لیے درخواست دی جو بذریعہ قرعہ اندازی تقسیم ہونا تھا‘ لیکن اس کے مرنے کے بعد اس کے نام پلاٹ کا قرعہ نکل آیا تو اس صورت میں وہ پلاٹ اس کا ترکہ شمار ہو گا‘ کیونکہ اس پلاٹ کے حصول کا سبب وہ اپنی زندگی میں قائم کر چکا تھا۔
اس مقام پر یہ وضاحت کرنا بھی ضروری ہے کہ شادی شدہ بچی کے فوت ہونے کی صورت میں اس کا سامان جہیز‘ حق مہر اور شادی کے موقع پر ملنے والے تحائف وغیرہ‘ اس کا ترکہ شمار ہوں گے‘ والد کا اس کے تمام مال پر قبضہ کر لینا یا والدین کا جہیز کو دوسری بچی کی شادی کے لیے رکھ لینا جائز نہیں۔ صورت مسئولہ میں مرحوم نے جو جائیداد بھی اپنے پیچھے چھوڑی ہے اس کے تین حصے کیے جائیں‘ دو حصے بیٹے کو اور ایک حصہ بیٹی کو دیا جائے‘ اس میں یہ تفریق نہیں ہو گی کہ کونسی جائیداد اسے وراثت میں ملی تھی اور کونسی جائیداد اپنی محنت سے حاصل کی تھی۔ ہر قسم کی جائیداد قابل تقسیم ہو گی‘ بشرطیکہ اس کے ساتھ کسی غیر کا حق وابستہ نہ ہو‘ اگر جائیداد کا کوئی حصہ کسی دوسرے سے متعلق ہے تو اس کی ادائیگی کے بعد وہ تقسیم ہو گی۔
دوران نماز انگلیاں چٹخانا
O ہم نے کچھ نمازی دیکھے ہیں جو دوران نماز اپنی انگلیاں چٹخانے میں مصروف رہتے ہیں یا اپنے کپڑے درست کرتے رہتے ہیں‘ کیا ایسا کرنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے‘ قرآن وحدیث کے مطابق اس عمل کا کیا حکم ہے۔
P دوران نماز انگلیاں چٹخانا یا اپنے کپڑے درست کرنا ایک فضول کام ہے‘ اس سے نماز تو باطل نہیں ہوتی البتہ نماز کے خشوع اور خضوع میں فرق ضرور آجاتا ہے‘ اس کے علاوہ نمازی کی یہ حرکت دوسرے نمازیوں کی تشویش کا باعث ضرور بنتی‘ بہرحال ایسی حرکات انتہائی ناپسندیدہ ہیں جو نماز کے خشوع میں خلل انداز ہوں۔ فقہاء ومحدثین نے دوران نماز حرکات کی پانچ اقسام ذکر کی ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے:
b      حرکت واجب … اس سے مراد ایسی حرکت ہے جس پر نماز کا کوئی فعل واجب موقوف ہو۔ مثلاً ایک نمازی کو دوران نماز یاد آیا کہ اس نے نجاست آلود جرابیں پہن رکھی ہیں تو اس صورت میں ضروری ہے کہ وہ اپنی جرابیں اتار دے‘ اس قسم کی حرکت ضروری ہے کیونکہ نجاست آلود جرابوں میں نماز نہیں ہوتی۔
b      حرکت مسنون … ایسی حرکت جس پر نماز کا کمال موقوف ہو۔ مثلاً دوران نماز کسی کا وضو ٹوٹ گیا تو صف میں جو خلا پیدا ہوا ہے اسے پر کرنے کے لیے حرکت کرنا یہ حرکت مسنون ہے کیونکہ دوران نماز صف میں خلا پر کرنا مسنون عمل ہے۔
b      حرکت مکروہ … ایسی حرکت جس کی دوران نماز کوئی ضرورت نہ تھی اور نہ ہی تکمیل نماز کے ساتھ اس کا کوئی تعلق تھا۔ جیسا کہ صورت مسئولہ میں ہے کہ دوران نماز اپنی انگلیوں کے پٹاخے نکالنا‘ ایسی حرکت انتہائی ناپسندیدہ ہے۔
b      حرام حرکت … جو بہت زیادہ اور مسلسل ہو۔ مثلاً حالت قیام میں نمازی نے ایسی حرکت شروع کی‘ پھر اسے رکوع اور سجدہ کی حالت میں بھی برقرار رکھا‘ ایسا معلوم ہو کہ یہ انسان نماز نہیں پڑھ رہا بلکہ کسی دوسرے کام میں مصروف ہے۔ ایسی حرکت حرام ہے۔
b      حرکت مباح … مذکورہ بالا صورتوں کے علاوہ جو حرکت ہو۔ مثلاً ضرورت پیش آنے پر نمازی کھجلی کرنے لگے‘ یا آنکھوں کے آگے آنے والے کپڑے کو دور کر دے۔ وغیرہ
بہرحال نمازی کو چاہیے کہ دوران نماز فضول قسم کی حرکات سے خود کو بچائے رکھے تا کہ اس کی نماز خشوع اور خضوع سے ادا ہو۔ واللہ اعلم!
اعلیٰ تعلیم اور شادی
O میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے کرتے عمر کی اس حد کو پہنچ چکی ہوں کہ مجھے اب شادی کی کوئی رغبت نہیں رہی اور ہمارا مادی پہلو بھی کسی کو ہم سے شادی کرنے کی ترغیب نہیں دیتا‘ اس سلسلہ میں آپ ہمیں کیا نصیحت کرتے ہیں۔
P سب سے پہلے تو میری تمام والدین سے گذارش ہے کہ وہ اپنی بچیوں کو اس قدر اعلیٰ تعلیم دلوانے میں مصروف نہ رکھیں کہ وہ شادی کی عمر سے گذر کر مایوسی کی دہلیز پر جا بیٹھیں۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ تحریم میں رسول اللہe کی متبادل بیویوں کے درج ذیل اوصاف بیان کیے ہیں‘ ان میں کہیں بھی اعلیٰ تعلیم یا عالمہ فاضل کا ذکر نہیں ملتا۔
1 سچی مسلمان، 2 ایمان دار، 3 فرمانبردار، 4 توبہ گذار، 5 عبادت گذار، 6 روزے دار (تحریم: ۵)
اتنی تعلیم ضروری ہونی چاہیے جو مذکورہ بالا اوصاف میں ممد ومعاون ہو۔
دوسری گذارش سائلہ سے ہے کہ وہ عجز وانکسار کے ساتھ بارگاہ الٰہی میں گڑ گڑا کر التجا کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایسا خاوند مقدر کر دے جو اخلاق ودینداری کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ ہو۔ جب انسان صدق دل سے اللہ کی طرف متوجہ ہو گا اور دعا کے آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے‘ قبولیت کی رکاوٹوں کو دور کر کے دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے مایوس نہیں کرتا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’تم مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔‘‘ (المؤمن: ۶۰)
اس سلسلہ میں رسول اللہe کا درج ذیل فرمان مد نظر رکھنا چاہیے: ’’جان لو کہ ناپسندیدہ چیزوں پر صبر کرنے میں بہت سی خیر وبرکت ہے کیونکہ اللہ کے ہاں مدد صبر کے ساتھ‘ خوشحالی‘ بدحالی کے ساتھ اور آسانی تنگی کے ساتھ وابستہ ہے۔‘‘ (مسند احمد: ج۱‘ ص ۳۰۸)
ہمارری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ سائلہ کی مشکلات کو حل فرمائے تا کہ دنیا وآخرت میں اسے کامیابی نصیب ہو۔

No comments:

Post a Comment