Ahkam05-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Thursday, May 16, 2019

Ahkam05-2019


احکام ومسائل

جناب مولانا الشیخ حافظ ابومحمد عبدالستار الحمادd
خط وکتابت:  مرکز الدراسات الاسلامیہ ۔ سلطان کالونی‘ میاں چنوں‘ خانیوال‘ پاکستان  ای میل:  markaz.dirasat@gmail.com

مدتِ رضاعت
O ہمارے ہاں کچھ خواتین فیشن کے طور پر اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلاتیں بلکہ شروع دن سے ہی بچے کو ڈبے کے دودھ پر لگا دیا جاتا ہے اور کچھ عورتیں دیر تک بچوں کو دودھ پلاتی رہتی ہیں۔ اس سلسلہ میں قرآن وحدیث کی کیا ہدایات ہیں؟!
P فیشن کے طور پر نو مولود کو دودھ نہ پلانا ہمارے ہاں عام ہے بلکہ اپنے حسن کی حفاظت کے لیے اسے ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ حالانکہ اس کے متعلق شریعت میں بہت سخت وعید آئی ہے۔ چنانچہ سیدنا ابوامامہ باہلیt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’میں سویا ہوا تھا کہ خواب میں میرے پاس دو آدمی آئے اور وہ مجھے ایک اونچے پہاڑ پر لے گئے وہاں میں نے چند ایک خوفناک مناظر دیکھے‘ ان میں سے ایک یہ تھا کہ عورتوں کی چھاتیوں کو سانپ نوچ رہے تھے‘ میں نے پوچھا‘ ان کا کیا ماجرا ہے‘ مجھے بتایا گیا کہ یہ وہ عورتیں ہیں جو اپنے بچوں کو اپنا دودھ نہیں پلاتی تھیں۔‘‘ (صحیح ابن خزیمہ: ۳/۲۳۷)
اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ بلا وجہ اپنے بچوں کو اپنا دودھ نہ پلانا کس قدر سنگین جرم ہے؟ ہماری خواتین کو چاہیے کہ وہ اس سلسلہ میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کریں‘ جبکہ بعض خواتین مدت گذرنے کے بعد بھی دودھ پلاتی رہتی ہیں یہ بھی درست نہیں قرآن کریم نے دودھ پلانے کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال بیان کی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں۔‘‘ (البقرہ: ۲۳۲)
حمل ٹھہرنے کی وجہ سے اس مدت میں کمی ہو سکتی ہے‘ بعض اوقات دودھ میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے بچوں کو قبل از وقت دودھ چھڑانا ضروری ہو جاتا ہے۔ قرآن کریم نے دودھ پلانے کی مذکورہ مدت کو متعدد مقامات پر بیان کیا ہے۔ چنانچہ ایک آیت بایں طور ہے: ’’دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوتا ہے۔‘‘ (لقمان: ۱۴)
بہرحال ہمارے معاشرہ میں افراط وتفریط ہے‘ اسلام ہمیں اعتدال کی تعلیم دیتا ہے‘ اس بناء پر خواتین کو چاہیے کہ وہ دودھ پلانے کے متعلق بھی میانہ روی اختیار کریں۔ واللہ اعلم!
والد کی جائیداد پر قبضہ کرنا
O ہم پانچ بھائی اور دو بہنیں ہیں‘ بڑے بھائی والد محترم کو زندگی میں بہت اذیت دیتے رہے‘ وہ سخت گستاخ اور نافرمان ہے‘ اب والد صاحب وفات پا گئے ہیں‘ انہوں نے زبردستی والد صاحب کی جائیداد پر قبضہ کر رکھا ہے‘ اس سلسلہ میں ہماری رہنمائی کریں۔
P زندگی میں والدین کی اطاعت گذاری اور فرمانبرداری فرض ہے‘ اس سلسلہ میں قرآن مجید میں متعدد آیات ہیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’تمہارے پروردگار نے فیصلہ کیا ہے کہ تم اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں‘ باپ کے ساتھ حسن سلوک کرتے رہو‘ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کہو اور نہ ہی انہیں جھڑکو اور ان سے بات کرتے وقت حسن ادب اختیار کرو۔‘‘ (الاسراء: ۲۳)
والدین کا گستاخ نہ صرف آخرت میں بد بخت ہو گا بلکہ دنیا میں بھی اسے راحت اور چین نصیب نہیں ہو گا۔ نافرمان بیٹے کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس جرم کی معافی مانگے اور اپنے والد کے لیے دعا خیر کرتا رہے تا کہ دنیا میں اس جرم کی تلافی ہو جائے۔ باقی اس کا دوسرے بہن بھائیوں کو نظر انداز کر کے باپ کی جائیداد پر ناجائز قبضہ کرنا بھی سنگین جرم ہے‘ اس طرح ناحق دوسروں کا مال کھانے کی شرعا اجازت نہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کا مال نا حق طریقے سے نہ کھاؤ۔‘‘ (النساء: ۲۹)
قرآن کریم نے قانون وراثت کے مطابق حقدار رشتے داروں کے حصے مقرر کیے ہیں۔ اس کے مطابق والد کی جائیداد کو تقسیم کیا جائے‘ اس سلسلہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ تعالیٰ تمہیں‘ تمہاری اولاد کے متعلق حکم دیتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔‘‘ (النساء: ۱۱)
اس ضابطہ وراثت کے مطابق والد کی وفات کے بعد اس کے ترکہ کی شرعی تقسیم اس طرح ہے کہ اس کی جائیداد کے بارہ حصے کیے جائیں‘ دو‘ دو حصے ایک لڑکے کو اور ایک‘ ایک حصہ ہر لڑکی کو دیا جائے‘ یہ اس صورت میں ہے جب بیوہ زندہ نہ ہو۔ اگر وہ بقید حیات ہے تو اس کا آٹھواں حصہ نکال کر باقی ترکہ کے بارہ حصے کر لیے جائیں اور حسب وضاحت انہیں تقسیم کر دیا جائے۔ واللہ اعلم!
مسجد کی سیڑھی کو استعمال کرنا
O ایک بڑھئی نے سیڑھی بنا کر مسجد میں رکھی ہے اور اسے مسجد کے لیے وقف کیا ہے‘ کچھ لوگ اسے اپنے استعمال میں لاتے ہیں۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ اگر انتظامیہ اجازت دے تو کیا حکم ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت کریں۔
P مسجد میں جو اشیاء رکھی جاتی ہیں وہ دو طرح کی ہوتی ہیں۔ جن کی تفصیل یہ ہے:
\      لوگوں کے استعمال کے لیے انہیں مسجد میں رکھا جاتا ہے اور بوقت ضرورت لوگ انہیں استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً میت کو نہلانے کے لیے ایک تختہ مسجد میں رکھا جاتا ہے تا کہ اس پر میت کو غسل دیا جائے۔ اسی طرح میت کو اٹھانے کے لیے چار پائی بھی رکھی جاتی ہے‘ اس طرح کی اشیاء بوقت ضرورت استعمال کی جا سکتی ہیں۔
\      دوسری وہ اشیاء ہیں جو مسجد میں ہوتی ہیں اور مسجد میں ہی استعمال ہوتی ہیں۔ مثلاً مسجد میں برقی پنکھے لگے ہوتے ہیں‘ الماریوں میں قرآن مجید رکھے جاتے ہیں۔ انہیں بھی استعمال کرتے ہیں لیکن انہیں مسجد میں ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ مسجد کی تمام چیزیں وقف ہوتی ہیں۔ وقف للہ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انسان انہیں اپنی مِلک سے نکال کر اسے اللہ کی مِلک کر دیتا ہے‘ جب کوئی چیز اللہ کے لیے وقف ہو جاتی ہے تو اسے ذاتی استعمال میں نہیں لانا چاہیے۔ مسجد کے متولی یا کمیٹی کے ارکان کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ مسجد کی کسی وقف شدہ چیز کو اپنے ذاتی کام میں استعمال کریں یا کسی کو استعمال کرنے کی اجازت دیں۔ سیدنا عمر t نے اپنی زمین وقف کرتے ہوئے فرمایا: ’’اسے فروخت نہیں کیا جائے گا‘ نہ ہی کسی کو ہبہ کیا جائے گا اور نہ ہی اس میں وراثت چلے گی۔‘‘ (بخاری‘ الوصایا: ۲۷۷۲)
صورت مسئولہ میں اگر بڑھئ نے سیڑھی بنا کر مسجد میں اس لیے رکھی ہے کہ لوگ اسے استعمال کریں اور اس کا ثواب اسے ملے تو اس صورت میں تو سیڑھی کو استعمال کیا جا سکتا ہے اور اگر اس نیت سے اس نے مسجد میں سیڑھی رکھی ہے کہ مسجد کے کاموں میں اسے استعمال کیا جائے تو ایسی صورت میں اسے مسجد سے باہر لے جانا درست نہیں۔ خواہ مسجد کی انتظامیہ اسے اجازت ہی کیوں نہ دے۔ واللہ اعلم!
قرآن مجید کو تکلف سے پڑھنا
O دور حاضر میں مساجد کے ائمہ ایسے ہوتے ہیں کہ قرآن مجید پڑھتے وقت اپنے چہرے کو بگاڑتے ہیں اور تکلف سے اس کی قراء ت کرتے ہیں۔ کیا قرآن مجید کو اس طرح پڑھا جا سکتا ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں۔
P قرآن مجید کو خوش الحانی سے پڑھنا چاہیے۔ پڑھتے وقت حروف کے مخارج اور صفات کا خیال رکھنا چاہیے‘ چنانچہ امام بخاریa نے ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے: ’’خوبصورت آواز سے قرآن کریم کی تلاوت کرنا۔‘‘ (بخاری‘ فضائل القرآن‘ باب: ۳۱)
اس کو ثابت کرنے کے لیے رسول اللہe کا ایک ارشاد پیش کیا ہے جو آپe نے سیدنا ابوموسیٰ اشعریt کے متعلق فرمایا تھا: ’’اے ابوموسیٰ! بلاشبہ تجھے سیدنا داؤدu جیسی خوش الحانی اور خوبصورت آواز دی گئی ہے۔‘‘ (بخاری‘ فضائل القرآن: ۵۰۴۸)
لیکن اس کا مطلب قطعاً یہ نہیں کہ قرآن مجید کو پڑھتے وقت منہ کو بگاڑا جائے اور اسے تکلف سے پڑھا جائے۔ اس انداز سے قرآن کی تلاوت کرنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ افراد کو صرف صوتی خوبصورتی کی وجہ سے امامت میں آگے بڑھایا جائے گا۔ چنانچہ رسول اللہe نے فرمایا کہ ’’۶ اوصاف سے پہلے پہلے نیک اعمال بجا لاؤ‘ وہ اوصاف یہ ہیں:
1      بیوقوفوں کی حکمرانی: یہ نشانی بھی بکثرت حکمرانوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔
2      پولیس اور دربانوں کی کثرت: یہ بات بھی ہمارے مشاہدہ میں آچکی ہے۔
3      قطع رحمی: ہمارے معاشرے میں یہ وبا بھی عام ہے کہ ہم قطع رحمی کا شکار ہیں۔
4      فیصلے فروخت کرنا: ہمارے عدالتی نظام میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔
5      قتل وخون کو ہلکا خیال کرنا: خونریزی اس قدر عام ہے کہ انسان کو گاجر ومولی کی طرح کاٹا جاتا ہے۔
6      قرآن کریم کو محض طرزوں اور راگوں کی چیز بنا لیا جائے اور مصلی امامت پر ان افراد کو تعینات کیا جائے جو صرف آواز کے ترنم میں ماہر ہوں گے۔ (سلسلہ الاحادیث الصحیحہ: ۹۷۹)

No comments:

Post a Comment