Ahkam20-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, May 11, 2019

Ahkam20-2019

احکام ومسائل

جناب مولانا الشیخ حافظ ابومحمد عبدالستار الحمادd
خط وکتابت:  مرکز الدراسات الاسلامیہ ۔ سلطان کالونی‘ میاں چنوں‘ خانیوال‘ پاکستان  ای میل:  markaz.dirasat@gmail.com

روزہ کے لیے نیت میں تردد
O بعض دفعہ میرا رمضان کے مہینہ میں سفر کا پروگرام ہوتا ہے‘ کیا میں اس طرح روزہ کی نیت کر سکتا ہوں کہ اگر روزہ میں مشقت نہ ہوئی تو اسے پورا کر لوں گا بصورت دیگر اسے چھوڑ دوں گا؟ کیا اس طرح تردد پر مبنی نیت کرنا صحیح ہے؟!
P فرض روزہ کی نیت کے متعلق حدیث میں صراحت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’جس شخص نے طلوع فجر سے پہلے روزے کی نیت نہ کی وہ روزہ نہ رکھے۔‘‘ (نسائی‘ الصیام: ۲۳۳۵)
ایک روایت میں مزید وضاحت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’جو شخص طلوع فجر سے پہلے رات کے وقت روزے کی نیت نہ کرے تو اس کا روزہ نہیں ہوتا۔‘‘ (ابن ماجہ‘ الصیام: ۱۷۰۰)
اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ احادیث سے آمدہ اس روزے سے مراد فرض روزہ یا اس کی قضا کرنے نیز دوسرے واجب روزے ہیں۔ نفلی روزے اس سے مستثنیٰ ہیں‘ کیونکہ ان کی نیت دن کے وقت بھی کی جا سکتی ہے۔ البتہ فرض روزے کی نیت غروب آفتاب کے بعد صبح صادق سے پہلے کرنا ضروری ہے۔ فرض روزے کی نیت میں دو بنیادی چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔ جن کی تفصیل حسب ذیل ہے:
\          اس نیت میں پختگی اور پختہ ارادہ شامل ہو۔ اس کے لیے مطلق یا معلق ارادہ کافی نہیں۔
\          یہ نیت رات کے کسی حصے میں ہونا چاہیے‘ دن کے وقت نیت کرنا کافی نہیں ہو گا۔
لہٰذا ہمارے رجحان کے مطابق صورت مسئولہ میں روزہ کے لیے نیت میں تردد صحیح نہیں کہ اگر روزہ گراں نہ ہوا تو اسے پورا کروں گا بصورت دیگر اسے ختم کر دوں گا۔ اگر کوئی اس قسم کے تردد کے ساتھ روزہ رکھتا ہے تو اس کا روزہ نہیں۔ اسے بعد میں قضاء دینا ہو گی۔ مسافر کو اگرچہ روزے کے متعلق رخصت ہے کہ وہ دوران سفر اگر روزہ نہیں رکھتا تو اسے شرعا اجازت ہے لیکن اگر اس نے روزہ رکھنا ہے تو پہلے سے ہی کچی پکی نیت نہ کرے بلکہ روزہ رکھنے کی پختہ نیت ہو اور اسے نبھانے کا عزم بالجزم ہو۔ اگر دوران سفر روزہ اس کے لیے مشقت کا باعث بن رہا ہے تو اسے چھوڑ دینے کی اجازت ہے۔ جیسا کہ سیدنا جابرt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe فتح مکہ کے لیے رمضان المبارک میں مکہ کی طرف روانہ ہوئے اور آپ نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ جب آپe مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک ’’کراع غمیم‘‘ نامی مقام پر پہنچے تو آپe کو بتایا گیا کہ لوگوں پر روزہ گرانی اور مشقت کا باعث بن رہا ہے اور وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ آپ کیا حکم دیتے ہیں؟ یا آپ کیا کرتے ہیں؟ چنانچہ آپe نے عصر کے بعد پانی کا ایک پیالہ لیا اور اسے لوگوں کو دکھانے کے لیے بلند کیا‘ پھر آپe نے اسے نوش جان فرمایا۔ یعنی آپe نے روزہ افطار کر دیا اور لوگوں نے بھی آپ کو دیکھ کر روزہ ختم کر دیا۔ آپe کو بتایا گیا کہ اب بھی کچھ لوگ روزے کی حالت میں ہیں اور انہوں نے روزہ ختم نہیں کیا تو آپe نے ان کے متعلق فرمایا: ’’یہی لوگ نافرمان ہیں‘ آپe نے تین مرتبہ اس جملہ کو دہرایا۔‘‘ (مسلم‘ الصوم: ۱۱۱۴)
اس وضاحت سے معلوم ہوا کہ متردد نیت کے ساتھ روزہ نہیں ہوتا بلکہ اس میں پختگی اور عزم بالجزم کا ہونا ضروری ہے۔ واللہ اعلم!
اہل ہمت کو روزے کا حکم
O میرے ایک دوست نے کہا کہ قرآن کریم میں روزے کی طاقت رکھنے والوں کو فدیہ دینے کی بھی اجازت ہے اور احادیث کے مطابق یہ آیت منسوخ نہیں بلکہ محکم ہے۔ اس آیت کریمہ کی وضاحت کر دیں۔
P سوال میں جس آیت کریمہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ حسب ذیل ہے: ’’جو لوگ روزہ کی طاقت رکھتے ہیں وہ ایک مسکین کا کھانا بطور فدیہ دے دیں۔‘‘ (البقرہ: ۱۸۴)
اس آیت کی تفسیر دو مختلف انداز میں کی گئی ہے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے:
\          سیدنا سلمہ بن اکوعt بیان کرتے ہیں کہ ’’جب مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی تو ہم میں سے جو شخص روزے نہ رکھنا چاہتا وہ فدیہ دے دیتا حتی کہ اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی تو اس نے اسے منسوخ کر دیا۔‘‘ (بخاری‘ التفسیر: ۴۵۰۷)
                اس کے بعد والی آیت یہ ہے: ’’تم میں سے جو شخص اس مہینے میں موجود ہو وہ لازماً روزہ رکھے۔‘‘ (البقرہ: ۱۸۵)
                اس آیت میں فدیہ والی رخصت ختم ہو گئی۔ اب ہر تندرست گھر میں موجود شخص کے لیے روزہ رکھنا لازم ہو گیا۔ البتہ یہ رخصت اس شخص کے لیے باقی ہے جو انتہائی ضعیف ہونے کی وجہ سے روزہ نبھا نہیں سکتا اور اس کی قوت وصحت کی بھی کوئی امید نہیں۔
\          اس آیت کی تفسیر کا دوسرا انداز سیدنا عبداللہ بن عباسw کا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو روزہ رکھنے میں انتہائی مشقت محسوس کریں‘ وہ روزہ رکھنے کی بجائے ایک مسکین کا کھانا بطور فدیہ دے دیں۔‘‘
                ان کے نزدیک یہ آیت منسوخ نہیں بلکہ ان لوگوں کے لیے ہے جو بڑھاپے کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتے یا وہ مریض جن کی صحت یابی کی کوئی امید نہیں۔ (بخاری‘ التفسیر: ۴۵۰۵)
سیدنا عبداللہ بن عباسw چونکہ ترجمان القرآن کے لقب سے معروف ہیں اور ان کے لیے رسول اللہe نے خصوصی دعا بھی کی تھی‘ انہوں نے اس آیت کا جو مفہوم بیان کیا ہے وہ شریعت میں الگ طور سے بھی ثابت ہے۔ ان کے بیان کردہ مفہوم کی لغت سے تائید بھی ہوتی ہے کہ ’’یطیقون‘‘ سے مراد انتہائی بوڑھے اور دائمی بیمار ہیں جو روزہ کی مشقت برداشت نہیں کر سکتے اور ان کی قوت اور صحت کے بحال ہونے کی امید بھی نہیں۔ ایسے حضرات روزہ نہ رکھیں اور اس کی بجائے فدیہ دے دیں۔
بہرحال آیت کریمہ کے دونوں معانی صحیح اور درست ہیں۔ ایک معنی آیت کے سیاق وسباق سے تعلق رکھتا ہے اور دوسرے معنی کی تائید لغت سے ہوتی ہے۔ دونوں معانی کا نتیجہ یہ ہے کہ جو شخص روزہ کی طاقت رکھتا ہے اب وہ روزہ نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ اگر پہلے معنی مراد ہیں تو یہ آیت منسوخ ہے اور اس کی صراحت میں موجود ہے اور اگر دوسرے معنی مراد ہیں تو آیت محکم ہے اسے منسوخ کہنے کی ضرورت نہیں جیسا کہ سیدنا ابن عباسw نے فرمایا ہے۔ اب کسی انسان کو یہ اجازت نہیں کہ ترجمہ تو پہلے اسلوب والا کرے اور دوسرے اسلوب کی بناء پر اسے غیر منسوخ کہے۔ پھر یہ نتیجہ اخذ کرے کہ اب بھی ہر شخص کو روزہ چھوڑنے اور فدیہ دینے کی اجازت ہے۔ یہ انداز بد دیانتی پر مبنی ہے اور قرآن وحدیث اور اجماع امت کے بھی خلاف ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ قرآن کریم کی آیات کے متعلق اس طرح کا رویہ اختیار نہ کرے۔ واللہ اعلم!
دودھ پلانے والی کا روزہ
O میری ایک چھوٹی سی نو مولود بیٹی ہے اور وہ شیر خوارگی کے د ور سے گذر رہی ہے‘ اب میرے لیے روزہ کے متعلق کیا حکم ہے؟ کیا میں روزہ چھوڑ سکتی ہوں؟ اگر چھوڑ دوں تو کیا مجھے بعد میں قضاء دینا ہو گی؟ وضاحت کر دیں۔
P رمضان المبارک کے روزوں کے متعلق شرعی احکام کچھ اس طرح ہیں:
\          جو آدمی تندرست ہے اور گھر میں موجود ہے اسے روزہ رکھنا ضروری ہے۔
\          جو تندرست ہونے کے باوجود گھر میں نہیں بلکہ سفر میں ہے اس کے لیے رخصت ہے کہ روزہ چھوڑ دے لیکن بعد میں چھوڑے ہوئے روزوں کی قضاء دے۔
\          اگر کوئی بیمار ہے تو اس کے لیے بھی روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے لیکن بیمار دو طرح کے ہوتے ہیں۔ دائمی مریض روزہ چھوڑ دے لیکن اس کی جگہ کسی مسکین کو کھانا دے دے۔ اگر دائمی مریض نہیں بلکہ اس کے شفا یاب ہونے کی امید ہے تو اسے چاہیے کہ وہ روزے چھوڑ دے اور جب تندرست ہو تو اپنے چھوڑے ہوئے روزوں کو دوبارہ رکھ لے۔ رسول اللہe نے دودھ پلانے والی اور حاملہ عورت کو مسافر کے حکم میں بیان کیا ہے۔ چنانچہ آپe کا ارشاد ہے: ’’اللہ تعالیٰ نے مسافر کو روزہ اور نصف نماز معاف فرما دی ہے۔ حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی‘ معافی دی ہے۔‘‘ (نسائی‘ الصیام: ۲۳۱۷)
اب اگر دودھ پلانے والی عورت کو روزہ رکھنے سے مشقت کا سامنا یا اس کے بچے پر منفی اثرات کا اندیشہ ہو تو ا سے روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے۔
روزہ ترک کرنے کے بعد کیا حکم ہے؟ چھوڑے ہوئے روزوں کی قضا دے؟ یا فدیہ دے؟ یا کسی کی بھی ضرورت نہیں؟
ہمارے ہاں دو موقف قابل عمل ہیں لیکن تیسرا موقف کہ اسے کسی کی بھی ضرورت نہیں یہ قابل عمل نہیں بلکہ مرجوح ہے۔ قابل عمل موقف حسب ذیل ہیں:
\          اگر دودھ پلاتے پلاتے د وسرا حمل ہو جاتا ہے اور روزہ رکھنے کا موقع ہی نہیں ملتا تو اس صورت میں وہ فدیہ دے دے۔
\          اگر اسے روزے رکھنے کا موقع میسر آ سکتا ہے تو مسافر کی طرح وہ چھوڑے ہوئے روزوں کی جگہ قضاء کے طور پر روزے رکھے۔ واللہ اعلم!


No comments:

Post a Comment

View My Stats