DarsQH01-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Monday, May 13, 2019

DarsQH01-2019


درسِ قرآن
قرآنی قصص کے مقاصد (2)
ارشاد باری تعالیٰ:
﴿اَلَمْ يَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۙ۬ وَ قَوْمِ اِبْرٰهِيْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْيَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِ١ؕ اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانَ الله لِيَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ۰۰۷۰﴾ (التوبة)
’’کیا انہیں اپنے سے پہلے لوگوں کی خبریں نہیں پہنچیں ، قوم نوح، عاد وثمود اور قوم ابراہیم ، اہل مدین اور اہل موتفکات (الٹی ہوئی بستیوں کے رہنے والے)، ان کے پاس ان کے پیغمبر دلیلیں لے کر پہنچے ، اللہ تعالی تو بالکل ان پر ظلم کرنے والے نہ تھے، بلکہ انہوں نے خود ہی اپنے آپ پر ظلم کیا ۔‘‘
قرآن مجید میں واقعات اور قصص  ذکر کرنے کا مقصد صرف اور صرف واقعات و حوادث سے پردہ ہٹانا ہی نہیں ، بلکہ امت محمدیq کے لیے ان کو بیان کرنے کا اہم مقصد یہ بھی ہے کہ دیکھا جائے کہ ان اقوام کی ہلاکت کے اسباب کیا تھے؟ انہیں کس جرم کی پاداش میں صفحہ ہستی سے نیست و نابود کیا گیا؟ تاکہ متبعین محمدe ان اسباب ومحرکات سے اپنے آپ کو محفوظ  رکھیں ، ورنہ یہ یادرکھنا چاہیے کہ اللہ کی سنت تو ہمیشہ ایک ہی رہتی ہے ، اس میں تغیر کی گنجائش نہیں کہ جن محرکات اور عوامل کی وجہ سے امم ماضیہ کو عذاب سے دو چار ہونا پڑا ، بعد میں آنے والے ان اسباب کی موجودگی کے باوجوبھلا محفوظ کیسے رہ سکیں گے ؟
ارشاد باری تعالیٰ:
﴿سُنَّةَ الله الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ١ۖۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ الله تَبْدِيْلًا۰۰۲۳﴾ (الفتح)
’’اللہ کے اس قاعدے کےمطابق جو پہلے سے چلا آرہا ہے ، آپ کبھی بھی اس کے قاعدے کو بدلتا ہوا نہ پائیں گے۔‘‘
ان واقعات کو یوں ہی بطور قصہ کے بیان نہیں کیا گیا ، بلکہ ان کو بیان کرنے اور بار بار بیان کرنے میں حکمتیں، امت محمدیq کے لیے مصلحتیں اور مقاصد ہیں، ان کو پڑھتے وقت غور و فکر اور تأمل کرنا از بس ضروری ہے ، تاکہ ان مقاصد کو حاصل کیا جا سکے جن مقاصد کے تحت ان واقعات کو قرآن کریم کاحصہ بنایا گیا اور ان میں سب سے اہم بنیادی چیز اپنے لیے نصیحت کا سامان کرنا ہے :
﴿لَقَدْ كَانَ فِيْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ حَدِيْثًا يُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِيْقَ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَ تَفْصِيْلَ كُلِّ شَيْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَؒ۰۰۱۱۱﴾ (یوسف)
’’ان کے بیان میں عقل والوں کے لیے یقینا نصیحت اورعبرت ہے ، یہ قرآن جھوٹ بنائی ہوئی بات نہیں ، بلکہ یہ تصدیق ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے کی ہیں ، کھول کھول کر بیان کرنے والا ہے ہر چیز کو  اور ہدایت اور رحمت ہے ایمان دار لوگوں کے لیے۔‘‘
ارشاد باری تعالیٰ:
﴿اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِيْدٌ۰۰۳۷﴾ (ق)
’’ان میں ہر صاحب دل کے لیے عبرت ہے اور اس کے لیے جو دل لگاکر اور متوجہ ہو کر سنتا ہو۔‘‘

درسِ حدیث
خون مسلم کی حرمت
فرمان نبویe ہے:
[عَنْ عَبْدِ اللهِ بن مسعود، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِﷺ: "لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: الثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ".] (بخاري ومسلم)
سیدنا عبداللہ بن مسعودt سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’کسی مسلمان کا خون بہانا حلال نہیں مگر ان تینوں صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں جائز ہے: بوڑھا بدکار، جان کے بدلے جان اور اپنے دین کو چھوڑ کر جماعت سے الگ ہونے والا۔‘‘  (بخاری و مسلم)
اسلام نے جتنی خون مسلم کی تکریم کی ہے اتنا ہی آج کے دور میں اسے ارزاں کر دیا گیا ہے۔ معمولی سی بات پر انسان کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا جاتا ہے۔ جب سے دہشت گردی کی وبا پھوٹی ہے ہر طرف قتل و غارت کا بازار گرم ہے حتیٰ کہ قتل کرنے والے کو یہ نہیں معلوم کہ وہ کیوں قتل کر رہا ہے اور مقتول نہیں جانتا کہ اسے کیوں قتل کیا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں رسول اللہe کا یہ ارشاد مشعل راہ ہے۔ یہ دراصل قرآن کی اس آیت کی تفسیر ہے جس میں اللہ نے فرمایا کہ کسی جان کو حق کے بغیر قتل نہ کرو کہ شادی شدہ بدکاری کرے یا کوئی کسی انسان کو قتل کر دے یا دین اسلام سے مرتد ہو جائے ان تینوں صورتوں میں بھی کسی کو اجازت نہیں کہ وہ خود اس حد کو نافذ کرے بلکہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان پر حد نافذ کرے۔ اسی بات کی وضاحت اس حدیث میں کی گئی ہے کہ کسی مسلمان کا خون بہانا درج ذیل تین صورتوں کے علاوہ حلال نہیں۔ پہلے نمبر پر وہ شخص جو عمر کے اس حصے کو پہنچ چکا ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے کا وقت ہے مگر وہ بدکردار ہے اور بدکاری سے باز نہیں آتا تو وہ اسلام کے نزدیک واجب القتل ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ بوڑھے بدکار کو قتل کر دیا جائے اور جوان کو چھوڑ دیا جائے بلکہ اس معاملے کی وضاحت دوسری حدیث میں ہے کہ شادی شدہ مرد یا عورت بدکاری کرے تو اسے سنگسار کر دیا جائے اور اگر شادی شدہ نہیں تو اسے (۸۰) کوڑے کی سزا دی جائے۔ دوسرا وہ شخص جو کسی مسلمان کو بلاوجہ قتل کر دے، قصاص کے طور پر اسے حکومت قتل کرے ہاں اگر مقتول کے وارث اسے معاف کر دیں تو اس کی جان بچ سکتی ہے، تیسرے وہ شخص جو مسلمانوں کی جماعت میں افتراق کا سبب بنتا ہے اور جماعت سے جدا ہو کر اپنا دین بدل لیتا ہے وہ بھی اسلام میں واجب القتل ہے، اس لئے کہ وہ خود تو گمراہ ہوا اور بھی کئی لوگوں کی گمراہی کا سبب بنے گا اس کا وجود اسلامی معاشرے کے لئے خطرناک ثابت ہوگا۔ اس لئے اسلام نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان گناہوں کے علاوہ کسی کے خون سے ہولی کھیلنے کی اجازت نہیں ‘ خون مسلم کی حرمت کا خیال رکھا جائے۔

No comments:

Post a Comment