DarsQH02-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Tuesday, May 14, 2019

DarsQH02-2019


درسِ قرآن
معزز کون؟!
ارشاد باری تعالیٰ:
﴿يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا١ؕ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ﴾ (الحجرات: 13)
’’اے لوگو!ہم نے تم سب کو ایک نر اور ایک مادہ سے پیدا کیا ہے اور پھر تم کو مختلف قومیں اور خاندان بنا دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو‘ بے شک تم میں سب سے زیادہ معزز اللہ کے نزدیک وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہے۔‘‘
برداری‘ خاندان اور قوموں کی بنیاد پر انسان نے آج تلواریں نیام سے نکال رکھی ہیں او ر معزز ومحتر م بننے کے دنیاوی اور مادیت پرستانہ اصولوں نے انسان کو اپنے ہی بھائی اور اپنے ہی قبیلہ کے افراد کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ لیکن اگر انسان اپنے خالق و مالک کی ابدی ہدایت او رکتاب روشن سے رہنمائی لے کر اس دنیا میں زندگی گزارنے کا عزم مصصم کرے تو یہ معاشرہ امن ، محبت اور اخوت کی آماجگاہ بن جائے‘ اس صورت میں وہ جان جائے گا کہ قبائل واقوام اور خاندان وبرادری کی تقسیم کا مقصد کیاہے؟عزت وتوقیر اور احترام و وقار کے ان مصنوعی اصولو ں میں سوائے حقوق کی پامالی اور ظلم وستم کے کچھ نہیں‘ جبکہ فی الحقیقت معزز و محترم وہ ہے جو اپنے دل میں اللہ کی محبت اور اللہ کا خوف سمیٹے ہوئے ہےاور اپنے اوپر تقوی کا لباس اوڑھے ہوئے ہے:
﴿يٰبَنِيْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُّوَارِيْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِيْشًا١ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى ١ۙ ذٰلِكَ خَيْرٌ﴾ (الأعراف: 26)
’’اے بنی آدم! ہم نے تمہارے لیے لباس پیدا کیا جو تمہاری شرمگاہوں کو چھپاتا ہے اور مو جب زینت بھی ہےاور تقوی کا لبا س اس سے بھی بڑھ کر ہے۔‘‘
اقوام ماضي نے بھی جب آسمانی اصولوں کو پس پشت ڈالا اور شیطانی شکنجے میں جھکڑے گئے تو ذلت ورسوائی اور بد امنی ان کا مقدر ٹھہری ، لیکن اگر وہ اللہ کے اصولوں کو اپناتے تو فراوانی نعمت اور خوشحالی سے ہمیشہ لطف اندوز ہوتے :
﴿وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰهُمْ۠ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ۰۰۶۵﴾ (المآئدة)
’’اگر اہل کتاب ایمان لے آتے اور تقوی اختیار کرتے تو ہم ضرور ان کی برائیاں ان سے دور کردیتے اور اور ہم انہیں راحت و آرام کی جنتوں میں لے جاتے۔‘‘
اللہ کی معیت کا اعزاز بھی صاحب  تقوی کو حاصل ہوگااور اس اعزاز سے بڑھ کر اور اعزاز کیا ہوسکتا ہے:
﴿اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ۰۰۱۲۸﴾ (النحل)
’’یقین مانو!اللہ تعالی پرہیز گاروں اور حسن سلوک اختیار کرنے والوں کے ساتھ ہیں۔‘‘
مسلمانوں کو جان لینا چاہیے کہ تقوی ،نیکی اور حسن سلوک ہی اللہ کی رحمت حاصل کرنے کا واحد ذریعہ ہےجبکہ اس کے بغیر دنیا میں بھی ذلت ہے اور آخرت میں بھی ناکامی سے دو چار ہونا پڑے گا۔
درسِ حدیث
بدعات سے بچیں
فرمان نبویe ہے:
[عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: "إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الحَوْضِ، مَنْ مَرَّ عَلَيَّ شَرِبَ، وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا، لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونِي، ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ". عن أبي سعيد الخدري: "فَأَقُولُ إِنَّهُمْ مِنِّي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ غَيَّرَ بَعْدِي."] (رواه البخاري)
سیدنا سہل بن سعدt سے روایت ہے‘ انہوں نے کہا کہ رسول اللہe نے ارشاد فرمایا: ’’میں حوض پر تم سے پہلے ہی موجود ہوں گا‘ جو شخص میرے پاس سے گزرے گا وہ (اس سے) پیئے گا اور جس نے پی لیا اسے کبھی پیاس نہ لگے گی۔ کچھ لوگ میرے پاس آئیں گے‘ میں انہیں پہچانتا ہوں گا اور وہ مجھے  پہچانتے ہوں گے۔ پھر میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ کھڑی کر دی جائے گی۔‘‘ سیدنا ابو سعید خدریt بیان کرتے ہیں کہ پھر آپ نے فرمایا: ’’میں کہوں گا‘ یہ تو مجھ سے ہیں (میرے امتی ہیں)۔ مجھے کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئے کام ایجاد کر لیے تھے۔ میں کہوں گا‘ اس شخص کے لیے (مجھ سے) دوری ہو جس نے میرے بعد دین میں تبدیلی کر لی۔‘‘
ہر مسلمان رسول اکرمe کی سفارش پر بھروسہ کیے بیٹھا ہے اور اسی امید پر کہ نبیؐ ہمارے سفارشی ہیں۔ آپe ہمیں اللہ کے عذاب سے بچا لیں گے۔ نبی کریمe کی سفارش برحق ہے‘ آپe اپنی امت کو عذاب الٰہی سے بچانے کی ہر ممکن کوشش فرمائیں گے۔ لیکن جب آپe کو بتایا جائے گا کہ ان لوگوں نے آپؐ کے دین میں تبدیلیاں کیں تو یہ سن کر آپe سخت ناراض ہوں گے اور ارشاد فرمائیں گے کہ ’’جس نے میرے بعد میرے دین میں تبدیلی پیدا کی اس کے لیے ہلاکت اور مجھ سے دوری ہے۔‘‘
مذکور بالا حدیث میں اسی بات کا بیان ہے کہ آپ حوض کوثر پر اپنی امت کو پانی پلا رہے ہوں گے کہ اچانک ایک ایسا گروہ سامنے آئے گا جن کے اعضائے وضو چاندی کی طرح چمک رہے ہوں گے‘ جس سے ظاہر ہو گا کہ یہ امت محمدیہ کے افراد ہیں۔ حضورe ان کو پہچان رہے ہوں گے اور وہ آپe کو پہچان لیں گے۔ پھر آپe اور ان کے درمیان ایک رکاوٹ کھڑی کر دی جائے گی۔ یہ صورتحال دیکھ کر آپؐ فرمائیں گے ’’ان کو میرے پاس آنے سے کیوں روک رہے ہیں؟‘‘ تو عرض کیا جائے گا کہ آپؐ کو علم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کتنے نئے کام جاری کر لیے تھے۔ یہ سن کر آپe سخت ناراض ہوں گے اور فرمائیں گے کہ ’’ان کے لیے ہلاکت اور دوری ہے جنہوں نے میرے بعد دین میں تبدیلی کر دی۔‘‘
اس تناظر میں دیکھیں تو آج لوگوں نے اصل اور خالص دین کو چھوڑ کر خود ساختہ اعمال ثواب سمجھ کر کرنا شروع کر دیئے ہیں جو کہ بدعات ہیں وہ لوگ انہیں ثواب سمجھ کر کرتے ہیں۔ بدعات اور رسومات کو پہچان کر چھوڑنے کی کوشش کی جائے اور سنت نبویؐ پر عمل کیا جائے۔

No comments:

Post a Comment

View My Stats