DarsQH03-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Tuesday, May 14, 2019

DarsQH03-2019


درسِ قرآن
اطاعتِ ربِّ کریم
ارشاد باری تعالیٰ:
﴿فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْا١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِيْنَۙ۰۰۳۴﴾ (الحج)
’’تمہارا معبود تو ایک ہی معبود ہے۔ لہٰذا تم اسی کی اطاعت میں رہو۔‘‘
اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کی زندگی اور دنیا میں اس کے آنے کا مقصد متعین کردیا ہے اور وہ اللہ کی عبادت اور اسی کی بندگی اختیار کرنا ہے۔ کیونکہ اللہ کی اطاعت میں آجانے کاشعور انسانوں کے ذہنوں میں اگر بیدار ہو جائے تو پھر ان کے تمام امور زندگی ایک نظام کے تابع ہو جاتے ہیں۔ نبی کریمe نے بھی اسی اسلوب دعوت کو اپنایا تھااور سب سے پہلے لوگوں کو اللہ کی وحدانیت اور اس کی بندگی اختیار کرنے کی دعوت دی تھی اور اسی اسلوب پر کاربند رہنے کا اپنے صحابہ کرام] کو سبق دیا تھا ۔ سیدنا معاذt کو یمن کا گور نر بنا کر بھیجا تو انہیں اسی بات کی تلقین فرمائی تھی کہ تم اہل کتاب کو پہلے اللہ کی عبادت کی دعوت دینا اور اس عقیدے کے راسخ ہوجانے کے بعد انہیں معاملات زندگی میں شرعی رہنمائی دینا۔ قرآن کی دعوت کا بھی یہی اسلو ب ہے کہ پہلے اصول اور بنیادوں کو قائم اور مستحکم کیا جائے اور پھر فروعی عبادات و معاملات کی دعوت دی جائے۔ بندگی رب کو اپنا لینے اور اپنے آپ کو اللہ رب العالمین کے حوالے کردینے میں ہی انسان کی کامیابی ہے۔
﴿وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ يَخْشَ اللّٰهَ وَ يَتَّقْهِ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفَآىِٕزُوْنَ۠۰۰۵۲﴾ (النور)
’’اور جو کوئی بھی اللہ اور اس کے رسولe کی اطاعت اختیار کرے گا اور اللہ سے ڈرے گا اور اس کی نافرمانی سے بچے گا تو ایسے لوگ بامراد ہیں۔‘‘
سیدنا ابراہیمu کو بھی اللہ نے سب سے پہلے اپنا فرمانبردار بننے کا ہی حکم صادر فرمایاتھا:
﴿اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْ١ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۰۰۱۳۱﴾ (البقرة)
’’جب اُن (حضرت ابراہیمu) سے ان کے پروردگار نے فرمایا کہ’’ فرمانبردار بن جاؤ۔‘‘ وہ بولے کہ’’میں فرمانبردار ہوں سارے جہانوں کے پروردگار کا۔‘‘
نبی کریم e کوبھی رب تعالیٰ کی اطاعت میںہی رہنے کا حکم دیا گیا تھا۔
﴿وَ اُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۰۰۶۶﴾ (المؤمن)
’’مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تمام جہانوں کے پروردگار کا تابع فرمان ہو جاؤں۔‘‘
اور مسلمانوں کو بھی یہی ہدایت فرمائی کہ:
﴿فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓىِٕكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا۰۰۱۴﴾ (الجن)
’’ اور جس کسی نے بھی اللہ کی فرمانبرداری اختیار کی تو اس نے راہ راست کو پالیا۔‘‘
درسِ حدیث
زبان کی حفاظت اور عمدہ گفتگو
سیدنا ابوہریرہt بیان کرتے ہیں:
 [عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "إِنَّ العَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ، لَا يُلْقِي لَهَا بَالًا، يَرْفَعُهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَاتٍ، وَإِنَّ العَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ، لَا يُلْقِي لَهَا بَالًا، يَهْوِي بِهَا فِي جَهَنَّمَ.] (متفق عليه)
سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے‘ انہوں نے کہا کہ رسول اللہe نے فرمایا کہ ’’کوئی بندہ اللہ کی رضا مندی کا کوئی ایسا بول بولتا ہے جس کی عظمت کا اسے علم نہیں ہوتا‘ اللہ تعالیٰ اس کلمہ کی بنا پر اس کے درجے بلند کر دیتا ہے‘ اور کوئی بندہ اللہ کی ناراضگی کا کوئی ایسا کلمہ بول دیتا ہے جس کی وہ کوئی پرواہ نہیں کرتا وہ کلمہ اسے جہنم میں گرا دیتا ہے۔‘‘
زبان کی حفاظت کے بارے میں کتاب وسنت سے بڑی عمدہ رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ مذکور بالا حدیث میں رسول اللہe نے درست اوراللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے گفتگو کرنے والے کو درجات کی بلندی کی نوید سنائی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی والی باتیں کرنے والے کو جہنم میں ڈالے جانے کی خبر دی ہے۔ بات کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے کہ میں جو بات کر رہا ہوں اس کے نتائج کیا ہوں گے اور نتائج کی پرواہ کیے بغیر جو بات زبان پر آئی کہہ دی وہ شخص دنیا میں بھی رسوا ہوتا ہے اور آخرت میں عذاب اس کا مقدر بن جائے گا۔ لہٰذا جو بات کی جائے ناپ تول کر کی جائے یہی زبان کی حفاظت ہے۔ زبان کی حفاظت کرنے والا انسان کبھی شرمندہ نہیں ہوتا۔ جبکہ غیر شائستہ اور غیر محتاط گفتگو کرنے والے پر کوئی اعتماد نہیں کرتا اور نہ ہی معاشرے میں اس کی عزت ہوتی ہے۔ انسان کی گفتگو اس کے اخلاق‘ کردار اور شخصیت کی آئینہ دار ہوتی ہے‘ اسی بنا پر اسلام نے زبان کی حفاظت کرنے کی تاکید کی ہے‘ عمدہ گفتگو دلوں پر اثر کرتی ہے۔ رسول اکرمe نے فرمایا: ’’جب بھی بات کریں بھلائی اور خیر خواہی کی بات کریں یا پھر خاموش رہیں اس لیے کہ خاموشی بھی عبادت ہے۔‘‘ آپe نے فرمایا: [مَنْ صَمَتَ نَجَا] یعنی ’’جس نے خاموشی اختیار کی اس نے نجات پا لی۔‘‘ زبان کی حفاظت کرنے سے انسان جھوٹ‘ بہتان‘ غیبت‘ الزام جیسے گناہوں سے بچ جاتا ہے اور عمدہ گفتگو کا اپنا ایک اثر ہوتا ہے یہی وجہ ہے رسول اکرمe کے اخلاق کریمانہ کی بنا پر لوگ آپe کے حلقہ احباب میں شامل ہوتے رہے اور تھوڑی ہی مدت میں پورے جہان پر چھا گئے۔ امت محمدیہ کے ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ اپنی زبان کی حفاظت کرے اور گفتگو میں نرمی پیدا کرے تا کہ جہنم کے گڑھے میں گرنے کی بجائے درجات کی بلندی حاصل کرے۔ عمدہ گفتگو انسان کی عظمت کی دلیل ہے۔ ہجرت حبشہ کے وقت صحابہ کرام شاہِ حبش کے دربار میں جو گفتگو کی اس کے نتیجے میں اسے اسلام کی مسیحائی کا علم ہوا اور اس نے مہاجرین کو پناہ دی اور انہیں مکہ والوں کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ عمدہ گفتگو انسان کا زیور ہے اس زیور کی حفاظت کی جائے۔

No comments:

Post a Comment