DarsQH20-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, May 11, 2019

DarsQH20-2019

درسِ قرآن
سب فقیر الی اللہ ہیں
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ۰۰۱۵ .......... وَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِيْزٍ۰۰۱۷﴾ (الفاطر)
’’اے لوگو! تم اللہ كے محتاج ہو اور اللہ بے نیاز خوبیوں والا ہے۔ اگروہ چاہے تو تم كو فنا كردے اور نئی مخلوق پیدا كردے اور یہ بات اللہ كے لیے كچھ بھی مشکل نہیں۔‘‘
اللہ تعالی كے اوامر ونواہی انسانوں كی اپنی ہی بھلائی اور خوشنودی كے لیے ہیں۔ کیونکہ اللہ جو انسان کے خالق اور مالک ہیں وہ اس کی بھلائی اور نقصان كو بھی جاننے والے ہیں۔ –رب کائنات انسانوں كو انہی کی بہتری كے لیے صحیح راستے  پر چلنے کا حکم دیتے ہیں اور شیطانی اور بدی کے راستوں سے محفوظ رکھنے كے لیے كچھ چیزوں سے منع فرماتے ہیں۔ –ورنہ انسانوں كی معصیت، گمراہی اور نافرمانی اللہ کی عزت ووقار میں ایک رتی برابر بھی کمی نہیں کر سکتی اور نہ ہی ان تمام انسانوں کا راہ راست پر چلنا اور اللہ کی اطاعت میں رہنا اس رب کائنات کی بادشاہت میں اضافے کاباعث بنتا ہے :
﴿اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ١۫ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا﴾ (الاسراء: 7)
’’اگر تم نے اچھے کام کیے توخود اپنے ہی فائدہ کے لیے اوراگر تم نے برے کام کیے تو اس کا نقصان بھی تمہیں کو پہنچے گا۔‘‘
﴿مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَيْهَا﴾ (حم السجدة: 46)
’’جو شخص نیک کام کرے گا وہ اپنے نفع کے لیے اور جو برا کام کرے گا اس کا وبال بھی اسی پر ہوگا۔‘‘
ہر اچھا کام کرنے والے کا فائدہ اسی کو ہوگا اور آخرت میں بھی وہ اس پر بہترین اجر کا حق دار قرار پائے گا- صحیح مسلم کی ایک قدسی روایت کامفہوم ہے کہ ’’اے آدم کے بیٹے! اگر ابتدا سے لے کر آخری فرد جو اس دنیا میں آئے گا ، اور جن و انس اور دوسری تمام مخلوقات تم میں سب سے زیادہ متقی اور پرہیزگار شخص کی مانند ہوجائیں تو بھی تم سب کی یہ اطاعت شعاری میری ملکیت اور بادشاہت میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کرتی اور اگر تم سب کے سب اور اسی طرح دوسری مخلوقات اگر میر ی نافرمانی اور حکم عدولی پر اتر آئیں تو تمہاری یہ گمراہی میری بادشاہت میں کسی قسم کی کمی کا باعث نہیں بنتی۔
﴿اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ﴾ (الزمر: 7)
’’اگر تم ناشکری و نافرمانی کرو تو یاد رکھنا اللہ تم سب سے بے نیاز ہے ۔‘‘
ان تمام آیا ت میں یہی درس ہے کہ ہم بحیثیت انسان اللہ تعالیٰ (جو كہ ہمارے خالق اور مالک ہیں اس) کے محتاج ہیں۔ وہ انسانوں کی گمراہی اور شقاوت سے بے نیاز ہیں۔ اس کی رحمت اور بخشش کی حاجت ہمیں ہے –ہماری اطاعت اور بندگی اسے کو ئی فائدہ نہیں پہنچاتی۔ اپنی اس حاجت اور ضرورت کو آج ہم كیوں محسوس نہیں کررہے؟ کیوں ہم اللہ کی نافرمانی، حکم عدولی اور گمراہی والا رویہ رکھے ہوئے ہیں ؟اور کیوں اس کی اطاعت اور بندگی میں آکر اپنے لیے بھلائی اور کامیابی کاسامان نہیں کررہے؟

درسِ حدیث
جنت کی آرائش وتزئین
فرمان نبویe ہے:
[عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِﷺ، قَالَ: "إِذَا جَآءَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ، وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ".] (متفق عليه)
سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے‘ بے شک رسول اللہe نے فرمایا: ’’جب رمضان (کا مہینہ) آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو زنجیریں لگا دی جاتی ہیں۔‘‘ (بخاری ومسلم)
رمضان کی آمد پر جس طرح لوگ اپنی عبادت گاہوں‘ یعنی مساجد کو مزین کرتے ہیں‘ قالین تبدیل کرتے ہیں‘ سفیدی وغیرہ کروائی جاتی ہے تا کہ نمازیوں کو سہولت میسر آجائے اسی طرح اللہ تعالیٰ آسمانوں پر جنت کو سجاتا ہے اور جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے تمام دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور انسانوں کو برائی کی طرف راغب کرنے والے تمام شیاطین قید کر دیئے جاتے ہیں تا کہ وہ لوگوں کو گمراہ نہ کر سکیں۔ یہ رمضان کی خصوصی فضیلت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان میں اہل ایمان کا رجوع رمضان میں اللہ کی طرف زیادہ ہوتا ہے اور تلاوت قرآن ودیگر ذکر اذکار میں ان کا دل لگتا ہے اور توبہ واستغفار کا زیادہ اہتمام کرتے ہیں۔
جنت کا مزین کیا جانا اور شیاطین کو قید کرنا لوگوں کو رغبت دلانے کے لیے ہے کہ جس مقصد کے لیے تمہیں دنیا میں بھیجا گیا تھا اسے حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ اس لیے اب جنت کے تمام دروازے بھی کھلے ہیں اور برائی کی طرف رغبت دلانے والے شیطان بھی قید ہیں۔ اب اپنی خواہشات کو چھوڑ کر جنت حاصل کر لو۔ انسان کا دنیا میں آنے کا مقصد اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدمu کو جنت سے نکلتے وقت بیان کر دیا تھا کہ ’’تم دنیا میں چلے جاؤ‘ وہاں تمہاری طرف میری جانب سے ہدایت آئے گی‘ پس جن لوگوں نے میری ہدایت کی پیروی کی وہ دوبارہ اسی جنت میں داخل کیے جائیں گے۔‘‘
جنت کے حصول کے تمام راستے اللہ تعالیٰ نے آسان کر دیئے ہیں‘ اس کے باوجود اگر کوئی اللہ کی اس نعمت سے محروم رہتا ہے تو یہ اس کے نصیب کی بات ہے۔ شیاطین انسانوں کو گمراہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں مگر رمضان میں ان کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ پھر بھی اگر لوگ جنت کا راستہ اختیار نہیں کرتے اور اپنی خواہش کی  پیروی کرتے رہتے ہیں تو وہ لوگ اللہ کی رحمت سے محروم ہوں گے۔ جنت کی تزئین وآرائش‘ شوق دلانے کے لیے ہے ورنہ جنت تو پہلے ہی بہت خوبصورت اور عمدہ ٹھکانہ ہے۔ جہنم کے دروازے بند کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ اعمال جو انسان کو جہنم میں لے جانے کا سبب بنتے ہیں ان کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ اب تو اپنے مالک سے خوش ہو جاؤ اور اس کی تمہارے لیے بنائی ہوئی جنت میں جانے کی کوشش کر لو۔

No comments:

Post a Comment

View My Stats