DarsQH21-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Monday, May 20, 2019

DarsQH21-2019


درسِ قرآن
خصوصیات رمضان
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾ (البقرة)
’’ماہ رمضان وہ ہے کہ جس میں قرآن نازل کیا گیا‘ جو لوگوں کو ہدایت کرنے والا ہے اور جس میں رہنمائی اور حق وباطل میں تمیز کی واضح نشانیا ں ہیں۔ تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے اسے روزہ رکھنا چاہیے۔‘‘
گزشتہ درس میں ایک تجارت کا ذکر کیا گیا تھا جواللہ اور بندہ مومن کے درمیان طے پائی ہے جس میں بندہ مومن اپنی جان ومال کے عوض اللہ تعالیٰ سے جنت کا سودا کرتا ہے اسی تجارت کے عوض بندہ مومن میں جو صفات پیدا ہوتی ہیں انہیں میں سے ایک روزے رکھنا ہے:
﴿اَلتَّآىِٕبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآىِٕحُوْنَ۠ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ﴾(التوبة)
’’وہ ایسے ہیں جو توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزہ رکھنے والے (راہ حق میں سفر کرنے والے)، رکوع اور سجدے کرنے والے ہیں۔‘‘
رمضان المبارک مسلمان کے لیے نیکیوں کا ایک موسم بہار ہے جس کا ہر ہر لمحہ اس قدر قیمتی ہے کہ اگر اس سے استفادہ کرتے ہوئے مسلمان اپنے لیے مغفرت کا سامان نہ کرے تو وہ نبی کریمe کی بددعا کی زد میں آجاتا ہے۔ رمضان المبارک اپنی بے شمار خصوصیات کی بنا پر دوسرے مہینوں اور دوسری عبادات سے متمیز ہے مثلا: 1 روزہ دار کے منہ سے نکلنے والی ہوا اللہ کے ہاں کستوری سے بھی زیادہ خوشبودار ہے۔ 2 روزہ دار کو بے حدو حساب اجر سے نوازا جاتا ہے۔ 3 روزہ دار کے لیے اللہ کے مقرب فرشتے اپنے رب سے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں جب تک روزہ دار روزہ افطار نہیں کرلیتا۔ 4 اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آجاتی ہے، رحمت اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں جبکہ جہنم کے دروازں کو بند کردیا جاتا ہے۔ 5 سرکش اور سردار شیاطین کو قید کردیا جاتا ہے تاکہ وہ اللہ کے بندوں کے دلوں میں وساوس پیدا نہ کریں۔ 6 اس مہینہ میں ایک ایسی رات بھی ہے جس میں کی جانی والی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے۔ 7 رمضان کی آخری رات بھی روزہ داروں کے لیے مغفرت کا اعلان کیا جاتا ہے۔ 8 رمضان کی ہر رات آواز لگائی جاتی ہے کہ ’’ہے کوئی اپنے گناہوں سے توبہ کرنے والا کہ اللہ تعالیٰ اس کی طرف رجوع کریں ، ہے کوئی بخشش کا طلب گار کہ اسے بخش دیا جائے، ہے کوئی دعا کرنے والا کہ اس کی دعا کو شرف قبولیت بخشا جائے اور ہے کوئی سوالی کہ اس کی حاجت کو پورا کیا جائے۔‘‘
اس کے علاوہ رمضان المبارک بے شمار خصوصیات ہیں جن کا تقاضا ہے کہ مسلمان  اس مہینہ کی قدرومنزلت کے احترام میں لہو لعب سے گریز کرے اور سعادت کی راہوں پر چل کر اپنے لیے مغفرت کا سامان کرے۔

درسِ حدیث
اعتکاف
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہr بیان فرماتی ہیں:
 [عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ، كَانَ يَعْتَكِفُ العَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتّٰى تَوَفَّاهُ اللّٰهُ، ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ.] (متفق عليه)
سیدہ عائشہr سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم e رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فوت کر لیا۔ آپe کی وفات کے بعد آپe کی بیویاں اعتکاف بیٹھا کرتی تھیں۔‘‘ (بخاری، مسلم)
اعتکاف نفلی عبادت ہے مگر رسول اللہe اپنی زندگی کے آخری رمضان تک ہر سال دس دن اعتکاف فرمایا کرتے تھے اور جس سال اس دنیا سے رحلت فرماتے ہیں اس سال آپe نے بیس دن اعتکاف فرمایا۔ اس نفلی عبادت کا ثواب بہت زیادہ ہے اس لئے کہ انسان اپنے سارے کام اور ساری مصروفیات کو چھوڑ کر اللہ کے گھر میں اللہ سے راز و نیاز کرنے کے لئے گوشۂ تنہائی کو اختیار کرلیتا ہے جس کا ثواب ایک حج اور عمرے کے برابر ملتا ہے۔ اعتکاف کی حالت میں کسی ضروری حاجت کے علاوہ مسجد سے باہر جانے کی اجازت نہیں، زیادہ وقت اپنی اعتکاف کی جگہ پر گذارے۔
اعتکاف کی نیت کرنے والا اکیسویں رات کو مسجد میں آجائے رات مسجد میں گذار کر نماز فجر کے بعد اپنے خیمے میں آجائے۔ دنیاوی باتوں سے بچے۔ اعتکاف کرنے والا اگر صفائی کی غرض سے غسل کرنا چاہے تو کر سکتا ہے مگر ٹھنڈک حاصل کرنے کے لئے بار بار غسل کرنے سے گریز کرے، رسول اکرمe اپنی زندگی میں ہر سال اعتکاف بیٹھتے تھے۔ آپe کے بعد امہات المومنین اعتکاف کرتی رہیں۔ آپe کی ازواج مطہرات آپe کی زندگی میں بھی اعتکاف کرتی تھیں مگر آپe کی وفات کے بعد وہ باقاعدہ اعتکاف کرتی تھیں، اس سے معلوم ہوا، اگر عورتیں بھی اعتکاف کرنا چاہیں تو انہیں اجازت ہے۔
اعتکاف کے لئے روزہ اور مسجد شرط ہے۔ یعنی روزے کی حالت میں مسجد میں اعتکاف کیا جائے، عورتیں بھی مسجد میں اعتکاف بیٹھیں عورتوں کو گھروں میں اعتکاف بیٹھنے کی اجازت نہیں، اس لئے کہ امہات المومنین مسجد میں اعتکاف کیا کرتی تھیں۔

No comments:

Post a Comment