Idaria01-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Monday, May 13, 2019

Idaria01-2019


اداریہ ... بسنت کی اجازت کیونکر؟!

پرویز مشرف کے دور میں چینلز کھولنے کی اجازت ملنے کے ساتھ ساتھ کچھ لغو اور اخلاقیات سے گرے مغرب سے درآمد نیو ایئر نائیٹ اور ویلنٹائن ڈے جیسے ایام منانے کے علاوہ بسنت کو منانے کے لیے سرکاری سطح پر اس خونی کھیل کی بھر پور حوصلہ افزائی کی گئی۔ پرویز مشرف صاحب نے مذہب کا لبادہ اتارنے اور خود کو سیکولر اور لبرل ظاہر کرنے کے لیے نہ صرف بسنت منانے کی اجازت دی بلکہ بسنت منانے میں پیش پیش رہے تھے۔ جب بسنت کا اعلان کیا جاتا تو اس سے کئی ہفتے قبل ہی بسنت منانے کے لیے لوگ سرگرم ہو جاتے۔ پتنگیں اور قاتل ڈور کی تیاریاں شروع ہو جاتیں۔ بسنت سے پہلے اور کئی ہفتے بعد تک آسمان رنگ برنگ پتنگوں‘ گڈیوں اور بو کاٹا کے شور سے آلودہ رہتا۔ مشرف دور میں ہوٹلوں کی چھتیں اور اندرون لاہور کی تاریخی حویلیاں اور پلازوں کی چھتیں بُک ہوتیں۔ شراب وکباب کے علاوہ آزاد خیال برہنہ لباس عورتیں بھارت اور یورپ سے آکر اس بسنت پر ہونے والی بیہودگی میں مرکزی کردار ادا کرتی تھیں۔ ہر طرف ڈھول ڈھمکا‘ سپیکروں میں بجنے والے لچر گانوں سے کان پڑی آواز بھی سنائی نہ دیتی تھی۔ جب تک بسنت جاری رہتی نہ تو اذان کی آواز سنائی دیتی اور نہ مساجد میں آنے کی کوئی زحمت کرتا۔ اچھے خاصے پانچ وقت کے نمازی بھی خاندان کی خواتین کو چھتوں پر چڑھا کر پتنگوں کے پیچوں میں سب کچھ بھول جاتے تھے۔ نہ حی علی الصلوٰۃ کی فکر اور نہ حی علی الفلاح یاد رہتی۔ اس بسنت کے ذریعے مشرف نے پاکستان کے مہنگائی اور غربت کے ہاتھوں مجبور عوام کے مسائل کو حل کرنے کی بجائے نوجوانوں اور مذہب بے زار لوگوں کو بسنت جیسے ایام کے ذریعے اصل مقصد سے ہٹا دیا۔ دو تین سال میں ہی بسنت کی آڑ میں ڈور اور پتنگ سازوں نے اسے صنعت کی صورت دے دی۔ لیکن اس بسنت نے خونی تہوار کی شکل اختیار کر لی‘ ان ایام میں روزانہ قاتل ڈور معصوم بچوں اور بالخصوص موٹرسائیکل سواروں کی زندگیاں چھیننے کا سبب بننے لگی۔ روزانہ دو دو تین تین لوگ جب اس بسنت کی بھینٹ چڑھنے لگے تو عوام اس کے خلاف سراپا احتجاج ہو گئے۔ بسنت پرپابندی کی بجائے حکومت کی طرف سے لوگوں کو کئی ہدایات دی گئیں کہ وہ اپنی حفاظت خود کریں۔ ہیلمٹ اور دیگر حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کا شہریوں کو پابند کیا گیا لیکن منچلوں کے شوق بدتمیزی کو روکنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہ ہوئی۔
بسنت کے دنوں میں مائیں اپنے بچوں کو گھروں میں بند کر کے رکھتیں‘ ہر طرف خوف کا عالم ہوتا لیکن پھر بھی کہیں نہ کہیں قاتل ڈور کسی کی شہ رگ کاٹ دیتی۔ شہباز شریف کے دور حکومت میں بسنت منانے پر پابندی لگا دی گئی بلکہ علاقے کی پولیس اور ایس ایچ او کو سختی سے آرڈر کیا گیا کہ اگر کسی تھانے کی حدود میں پتنگ بازی ہوئی یا قاتل ڈور سے کوئی انسانی جان ضائع ہوئی تو اس حلقے کے ایس ایچ او کے خلاف ایف آئی آر کٹے گی‘ اسے معطل کر دیا جائے گا۔ وہ لوگ جن کے نونہال قاتل ڈور پھرنے سے زندگی کی بازی ہار گئے تھے انہوں نے اس خونی تہوار پر پابندی کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تو عدالت نے اس پر پابندی لگا دی۔ مسلم لیگ نون کے دور میں بسنت اور پتنگ بازی پر پابندی پر عمل در آمد کرایا گیا تو لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔
موجودہ تحریک انصاف کی حکومت نے نئے پاکستان کا دعویٰ کر کے لوگوں سے ووٹ لیے اور خوشحالی کے جھانسے میں آکر لوگوں نے ان کے دعوؤں پر اعتماد کیا لیکن صرف چار ماہ بعد ہی لوگوں کو دن میں تارے نظر آنے لگے۔ کوئی ایسی چیز نہیں جس کی قیمت نہ بڑھی ہو۔ نمک مرچ‘ گھی اور دالیں بھی عام شہریوں کے لیے خریدنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ حکمران جو کشکول توڑنے کا دعویٰ کر کے گذشتہ حکومت کو رگیدا کرتے تھے آج اپنے دور حکومت میں ان کا ماٹو ووٹ کو عزت دو کی بجائے کشکول کو عزت دو بن گیا ہے۔ لوگوں کو پچاس لاکھ گھر دینے کے دعوے داروں نے کراچی اور پنجاب میں سرکاری زمینوں پر آباد غریب لوگوں کے گھروں پر بلڈوزر پھیر کر ان کو چھت دینے کی بجائے چھت چھین لی ہے۔ میڈیا جس نے عمران خان کے ہر سچ جھوٹ کو رپورٹ کیا اور انہیں اس مسند تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا آج وہی میڈیا نشانے پر ہے۔ الیکٹرانک سے پرنٹ میڈیا تک اشتہارات بند کر دیئے گئے ہیں جس سے اخبارات کے صفحے ہی نہیں سمٹے بلکہ وہاں کام کرنے والے لوگوں کی تعداد بھی سمٹ گئی ہے۔ حکمرانوں نے سو دن میں جو دعوے کیے ان میں وہ بری طرح ناکام ہوئے ہیں اور وزراء کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ موجودہ حکومت جو ادھار مانگ کر ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر عمل پیرا ہے‘ کے پاس  کوئی منصوبہ اور پلاننگ نہیں ہے۔ ان کی غلط حکمت عملی کا نتیجہ ہے کہ ڈالر ۱۰۴ سے ۱۴۰ پر پہنچ چکا ہے اور بغیر کوئی قرض لیے صرف ڈالر کی قیمت بڑھنے سے بیٹھے بٹھائے تقریبا ۱۹۰ ارب کے ہم مزید مقروض ہو چکے ہیں۔ اب حکومت نے اپنی نالائقیوں کو چھپانے کے لیے ایک ہی حل ڈھونڈا ہے کہ قوم کو لہو ولعب میں مشغول کر دو۔ چنانچہ حکومت نے فروری میں بسنت کو دھوم دھام اور بے حیائی کے پورے کروفر سے منانے اور لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے کے لیے اجازت دینے کا اعلان کیا ہے۔ اسی طرح ملک میں سینما اور فلم کے فروغ کے لیے سینماؤں کی تعداد ۱۲۷ سے ایک ہزار تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ گذشتہ روز جب ایک ہندو ممبر پارلیمنٹ نے شراب پر پابندی کا بل پیش کیا تو تحریک انصاف اور اپوزیشن نے مل کر اسے مسترد کر دیا۔
تحریک انصاف ایک طرف مدینہ کی ریاست قائم کرنے کا دعویٰ کرتی ہے تو دوسری طرف بے حیائی اور لچر پن کے فروغ کے لیے پوری طرح کمربستہ ہے۔ جناب وزیر اعظم صاحب مدینہ کی ریاست میں نہ تو ویلنٹائن ڈے منایا جاتا تھا اور نہ ہی بسنت تہواروں کی کوئی جگہ تھی۔ ہمارے نبی رحمتe نے ہمیں جو دو تہوار خوشی اور تفریح کے لیے دیئے ہیں وہ عیدالفطر اور عیدالاضحی ہیں۔ آپ مدینہ کی ریاست کے داعی ہیں تو آپ کو نبی رحمتe کی سیرت اور اسوۂ حسنہ کی پیروی کرنا چاہیے مگر آپ تو ایک گستاخ رسول حقیقت رائے کی یاد میں منائے جانے والے دن کو منانے کے لیے بے تاب نظر آتے ہیں۔ خدا را یا تو ریاست مدینہ کا نام لینا چھوڑ دیں یا پھر ریاست مدینہ کی حقیقی جھلک دکھانے کے لیے ان لچر اور لغو‘ کلچر وثقافت کے نام پر بے حیائی کو فروغ دینے والے ان ایام پر پابندی لگا دیں۔ وما علینا الا البلاغ!

No comments:

Post a Comment

View My Stats