Idaria02-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Tuesday, May 14, 2019

Idaria02-2019


اداریہ ... پاک وافغانستان میں امن خطے کی ضرورت!

افغانستان اور پاکستان دو برادر مسلم ممالک ہیں۔ دونوں ممالک کے عوام جہاں اسلام کے رشتے میں بندھے ہیں وہیں سرحد کے دونوں پار آباد قبائل میں خون کے رشتے صدیوں سے قائم ہیں۔ دونوں طرف کے لوگ پشتو زبان بولتے ہیں۔ دونوں کی تہذیب‘ کلچر‘ رہن سہن‘ دکھ درد سانجھے ہیں۔ افغانستان پر جب روس نے چڑھائی کی اور اس کے بعد امریکہ نے افغانستان پر بارود کی بارش برسائی تو لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین نے پاکستان کا رخ کیا۔ پاکستان نے اسلامی اخوت ومحبت کے جذبے کے تحت اپنے ان افغان بھائیوں کی مہمان نوازی کا حق ادا کر دیا۔ آج نصف صدی ہونے کو آئی ہے اور یہ مہمان نوازی اب بھی جاری ہے۔
افغانستان میں دو سپر طاقتوں نے اپنے اپنے مفادات کے لیے جو جنگ مسلط کی وہ آج بھی جاری ہے۔ افغان قوم نے جارح قوتوں کو منہ توڑ جواب دیا اور آج امریکہ اس جنگ سے جان چھڑانا چاہتا ہے کیونکہ امریکہ نے اس جنگ میں جو نقصان اٹھایا ہے اس کا تخمینہ لگایا جائے تو امریکہ کی تاریخ کی یہ سب سے مہنگی اور مہلک جنگ ثابت ہوئی ہے۔ اس وقت امریکہ کھربوں ڈالرز اس جنگ میں جھونک چکا ہے مگر اسے رتی بھر بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ اس کے ہزاروں فوجی اس بے مقصد جنگ میں مارے گئے اور جو معذور ہو کر ہمیشہ کے لیے ناکارہ ہو گئے ان کا تو کوئی شمار ہی نہیں۔ امریکہ اگر مزید اس جنگ کو جاری رکھتا ہے تو کچھ بعید نہیں کہ امریکہ جو افغانستان کی سلامتی اور امن کے درپے تھا اس کی اپنی سلامتی اور بقاء داؤ پر لگ جائے۔ لگتا ہے ’’سو جوتے اور سو پیاز کھانے‘‘ کے بعد امریکہ کو بھی یہ بات اب سمجھ آگئی ہے اور اس نے مذاکرات کے لیے پاکستان سے مدد مانگی ہے۔
پاکستان نے امن کی خاطر امریکہ کی تمام زیادتیوں اور تلخیوں کو بھلا کر مذاکرات کے عمل میں اخلاص دل سے مدد اور تعاون مہیا کیا ہے۔ پاکستان بھی اچھی طرح یہ سمجھتا ہے کہ افغانستان میں امن پاکستان ہی نہیں پوری دنیا کے امن کے لیے ضروری ہے۔ افغانستان میں امن قائم ہو گا تو پاکستان کی ترقی کی شاہراہ سی پیک کامیاب ہو گی۔ علاوہ ازیں پاکستان نو آزاد ریاستوں سے اپنے تعلقات کو مضبوط کرے گا اور اس وقت جو گیس پائپ لائن نو آزاد ریاستوں سے پاکستان لائی جا رہی ہے یہ دہشت گردوں کی تخریب کاری کے خطرات سے محفوظ ہو گی۔ پاکستان اگر وہاں کسی معدنیات سے فائدہ اٹھائے گا تو اس کے جواب میں اپنی اشیاء خورد ونوش سمیت دیگر سامان حرفت وصنعت وہاں بھیج کر اپنی تجارت کو فروغ دے گا۔
یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان کی کوششوں سے مذاکرات کا عمل درست سمت میں جاری ہے اور ان مذاکرات کی کامیابی کے امکانات واضح ہو رہے ہیں کیونکہ طالبان کی عسکری وسیاسی قیادت ان مذاکرات میں براہ راست شامل ہو رہی ہے اور اس نے افغان حکومت کے ساتھ بھی مذاکرات کی حامی بھر لی ہے۔ اگرچہ مذاکرات اور امن کی کوششیں جاری ہیں تا ہم کابل اب بھی دھماکوں سے گونج رہا ہے۔ گذشتہ روز ایک سرکاری عمارت پر خودکش دھماکہ ہوا جس میں ۴۳ افراد لقمۂ اجل بن گئے۔ اسی طرح ایک مذہبی تقریب میں دھماکہ ہوا اور ۵۵ افراد مارے گئے۔ ان حملوں کا مقصد امن عمل کو نقصان پہنچانا ہے۔ ان دہشت گردانہ حملوں سے یہ سمجھ آتا ہے کہ اس کی ماسٹر مائنڈ ’’را‘‘ ہے۔ بھارت نہیں چاہتا کہ افغانستان میں امن کے لیے مذاکرات کامیاب ہوں اور نصف صدی سے جاری بلا مقصد جنگ جس میں اربوں کھربوں ڈالرز ضائع ہو گئے اپنے منطقی انجام کو پہنچے۔ اگر جنگ ختم ہو جاتی ہے تو پھر افغانستان میں بھارت جو کردار ادا کر کے پاکستان کی سلامتی سے کھیل رہا ہے وہ کردار بھی ختم ہو جائے گا۔ بھارت نے جو ہماری سرحد کے ساتھ امریکہ کی آشیر باد سے سفارت خانوں کے نام پر دہشت گردی کے مراکز کھول رکھے ہیں اور جہاں سے ٹی ٹی پی‘ داعش اور بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کو پاکستان میں تخریب کاری کی تربیت دی جاتی ہے یہ سب مراکز بند کرنا پڑیں گے۔ افغانستان میں امن سے ہماری مغربی سرحدیں محفوظ ہو جائیں گی۔ افغانستان سے بد امنی کے خاص طور پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان افغانستان میں امن عمل کے لیے ہر ممکنہ تعاون مہیا کر رہا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود کا حالیہ چار ممالک کا دورہ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے اور آرمی چیف جناب قمر جاوید باجوہ نے افغانستان میں کمانڈر جنرل آسٹن اسکاٹ سے راولپنڈی میں ملاقات کی۔ یقینا جنرل آسٹن اسکاٹ آرمی چیف جناب باجوہ سے ان معاملات پر رہنمائی اور تعاون کے طلبگار ہوں گے۔ امریکہ کو بھی اس بات کا ادراک ہے کہ افغانستان سے پر امن واپسی بھی پاکستان کی معاونت کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی لیے امریکہ نے اپنا رعونت بھرا لب ولہجہ تبدیل کیا اور پاکستان سے مدد چاہی۔ ۲۱ دسمبر کو امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کر دیا کہ امریکہ شام کے بعد افغانستان سے بھی فوج واپس بلا لے گا۔ یہ مثبت رد عمل تھا کیونکہ امریکہ پر یہ واضح ہو گیا ہے کہ افغانستان میں اگر سو سال بھی لڑتا رہے تو اس جنگ میں فاتح نہیں بن سکتا۔ وہ افغانوں کو شکست نہیں دے سکتا کیونکہ کہسار باقی تو افغان باقی۔
افغانستان میں امن اور مذاکرات کے لیے چین اور سعودی عرب کے کردار کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔ دونوں ممالک اس حوالے سے کافی عرصہ سے کوششیں کر رہے تھے۔ مذاکرات کا عمل اب پٹڑی پر چڑھ گیا ہے تو اسے ڈی ٹریک ہونے سے بچانا بھی تمام ممالک کی ذمہ داری ہے۔ امریکہ اور طالبان کو اپنے اپنے رویوں میں نرمی لانا پڑے گی۔ اپنے اپنے مفادات کو دنیا کے امن کے لیے قربان کرنا پڑے گا۔ امید ہے کہ یہ عمل تیزی سے مراحل طے کرے گا اور افغانستان میں امن قائم کرنے کی کوششیں ثمر بار ہوں گی۔

No comments:

Post a Comment

View My Stats