Idaria03-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Tuesday, May 14, 2019

Idaria03-2019


اداریہ ... اسلام ابدی اور عالمگیر دین ہے!

بعض مغرب زدہ لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام کے عقائد‘ خیالات‘ تہذیب وتمدن چودہ سو سال پرانے ہیں اور زمانے کے تقاضے نئے ہیں اس لیے انہیں جدید ماحول کی روشنی میں ڈھالنا ضروری ہے۔ یہ اعتراض بے حد گھٹیا اور حقائق سے بعید ہے کیونکہ اسلام ایک مکمل دین اور جامع طرز حیات کا نام ہے جس میں زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی موجود ہے۔ بعض شعبوں کے بارے میں تو مکمل ہدایات دی گئی ہیں اور بعض میں بنیادی اصول فراہم کر دیئے ہیں جن کی روشنی میں حالات وظروف کے مطابق مناسب طریق کار اختیار کیا جا سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام ایک ابدی اور عالمگیر دین ہے۔ قیامت تک کے تمام زمانوں اور تمام قوموں کی رہنمائی اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب بنیادی اصول تو غیر متبدل ہوں مگر بعض تفصیلات میں تبدل پذیر حالات اور تقاضوں کو سامنے رکھنے کی گنجائش بھی موجود ہو۔
حقیقی بات یہ ہے کہ اسلام زمانے کے بدلتے ہوئے تقاضوں میں خود نہیں ڈھلتا بلکہ اپنی عالمگیر اور نکتہ رس حکمت وتدبیر کے سانچوں میں ان تقاضوں کو ڈھال لیتا ہے۔ کیونکہ ہر دور کے تقاضوں کی تکمیل واصلاح کے بغیر اس کی ابدیت واکملیت پر حرف آتا ہے۔ چونکہ اللہ کا پسندیدہ دین صرف اسلام ہے {اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ} یہ بات علی وجہ البصیرت کہی جا سکتی ہے کہ انسانیت کی فلاح وبہبود اسلام سے وابستہ ہے۔ یہی وہ دین ہے جسے خالق کائنات نے انسانوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے پسند فرمایا ہے۔ اسی دین کی تبلیغ واشاعت کے لیے انبیاء کرام مبعوث کیے گئے۔ اسلام کی آخری اور مکمل ترین صورت دنیا کو حضرت محمد رسول اللہe کے ذریعہ حاصل ہوئی۔ ارشاد خداوندی ہے:
{اَلْیَوْمَ اَكمَلْتُ لَكمْ دِیْنَكمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْكمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَكمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا}۔
اتمام نعمت اور دین اسلام‘ امت محمدیہq کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے‘۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دین کے علاوہ کوئی دوسرا دین انسانیت کی حقیقی فوز وفلاح اور دارین میں سرخروئی کا ضامن نہیں بن سکتا۔ انسانیت کی بھلائی کا راز صرف اور صرف اسلام کو زندگی کا لائحہ عمل بنانے میں مضمر ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ بھٹکی ہوئی انسانیت رشد وہدایت کے اس سرمدی چشمے سے اپنی لب تشنگیاں کب دور کرتی ہے؟
اس بات کا انحصار بڑی حد تک ان لوگوں کے طرز فکر وعمل پر ہے جو اپنے آپ کو دین حق کا پیروکار سمجھتے ہیں۔ اگر یہ لوگ صحیح معنوں میں اسلامی تعلیمات اور آپؐ کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہو جائیں تو وہ نہ صرف خود دین ودنیا کی کامیابیوں سے اپنے دامن کو مالا مال کر سکتے ہیں بلکہ بھٹکی ہوئی انسانیت کو ضلالت وگمراہی سے نکال کر فلاح وکامرانی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو زندگی کے ہر موڑ پر انسان کی رہنمائی کرتا ہے اور ایسے اصول اور ایسا اسلوب حیات پیش کرتا ہے جو انسانی مساوات‘ عالمی اخوت اور امن عالم کا پیغامبر ہے۔ رسول اللہe نے فرمایا کہ ’’تمام انسان اللہ کے نزدیک برابر ہیں۔ گورے کو کالے پر اور عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت نہیں۔ بلکہ تقویٰ وجہ امتیاز واکرام ہے۔‘‘ جیسا کہ قرآن مجید کا ارشاد ہے: {اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ} یعنی ’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک صاحب عزت وتکریم وہ ہے جو تقویٰ میں سب سے آگے ہے۔
ابراہام لنکن نے دنیا میں اس وجہ سے بڑی شہرت حاصل کی تھی کہ اس نے شمالی امریکہ میں غلاموں کو آزادی دی تھی۔ حالانکہ نبی اکرمe نے صدیوں پیشتر یہ عمل خود کر کے دکھلایا اور تکریم انسانیت کے پیش نظر آپ غلاموں کو خرید کر آزاد کر دیا کرتے تھے۔ اس وقت معاشرے میں غلاموں کو جس حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا‘ اسلام نے اسی قدر ان کو عظمت عطا کی۔ سیدنا صہیب رومیt ہوں یا سیدنا بلال حبشیt‘ اس معاشرے میں بلال کو وہ عظمت نصیب ہوئی کہ انہیں مؤذن بنا کر بلند وبالا کر دیا۔ جب کہ ان کا تلفظ درست نہیں تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اکرمe ظاہری الفاظ پر نہ جاتے تھے بلکہ ان کی نظریں اس جذبہ پر تھیں جو سیدنا بلالt کے دل کی گہرائیوں میں کروٹیں لے رہا تھا۔
دنیا میں دو بڑے معاشی نظام برسر پیکار رہے۔ ایک طرف سرمایہ دارانہ نظام ہے تو دوسری طرف سوشلزم جو کیمونزم کی ترقی یافتہ شکل تھا جو اب دم توڑ چکا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام رو بہ زوال ہے۔ دنیا اس حقیقت کو فراموش کر چکی ہے کہ اسلام ہی وہ فطری نظام زندگی ہے جو انسانیت کو تباہی سے بچا سکتا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامی اقدار کو زندگی کا محور بنایا جائے۔ 

No comments:

Post a Comment