Idaria04-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Thursday, May 16, 2019

Idaria04-2019


اداریہ ... فرد قائم ربطِ ملّت سے ہے!

اسلام میں اتفاق واتحاد کی اہمیت اور عصر حاضر میں اس کی ضرورت واہمیت سے ہر با شعور شخص بخوبی آگاہ ہے۔ آج اسلامیان عالم جن نازک‘ پر خطر اور ناگفتہ بہ حالات سے دو چار ہیں ان کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اسلام کی تعلیمات کے مطابق بنیان مرصوص بن جائیں۔ کیونکہ اسلام ہی ہماری قوت اور ہماری سربلندی کا سرچشمہ ہے۔ اس کے بغیر ہماری تمام کوششیں اور توانائیاں رائیگاں ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ اختلافات جب بھی سر اٹھاتے ہیں مسلمانوں کو اسلام سے دور لے جاتے ہیں۔ اسلام دلوں کے قریب ہو تو ہمارے دل بھی قریب ہو جاتے ہیں۔ حقیقی بات یہ ہے کہ اسلام جس قدر اتحاد ویگانگت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے اسی قدر ہم اس نعمت سے محروم ہیں۔ حالانکہ اتحاد ویکجہتی وقت کا اہم تقاضا ہے جس کے بغیر اپنے مسائل کو حل نہیں کر سکتے۔
آئیے! ذرا تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں کہ اتحاد کے سبب ہم دنیا کے جلال وجمال کے کس طرح وارث بن گئے۔ دنیا جانتی ہے کہ ظہور اسلام سے قبل عالم انسانیت سیاسی‘ معاشی‘ معاشرتی اور مذہبی اعتبار سے مختلف طبقوں اور فرقوں میں بٹی ہوئی تھی۔ سیاست میں آمریت اور جورو استبداد کا دور دورہ تھا۔ معاشرت میں انسان اونچ نیچ میں تقسیم تھے۔ معاش میں امیر وغریب کا فرق اور ظالم ومظلوم طبقوں کا وجود قائم تھا۔ مذہبی عقائد پر مبنی فرقوں کی وجہ سے انسانیت مختلف اور متصادم گروہوں  میں تقسیم ہو چکی تھی۔ قرآن پاک نے {ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسُ} کہہ کر ان دگر گوں حالات کی نشاندہی فرمائی ہے۔ آخر کار انسانیت کو ظلم کی اس تاریک اور طویل رات سے نجات ملی اور اسلام کی صبح جاں نواز‘ امن وسلامتی‘ انسانی وحدت اور اتحاد ویگانگت کا پیام دلنواز لے کر طلوع ہوئی۔ آدمیت کو احترام وتوقیر کی نعمت ملی۔ سیاست میں جبر وتشدد کی بجائے باہمی مشاورت سے معاملات حکومت طے پانے لگے اور ظالم حکمرانوں سے انسانیت کو نجات حاصل ہوئی۔ معاشرے میں کمزور وقوی کا فرق ختم ہوا اور عدل وانصاف کا دور شروع ہوا۔ معاشی طور پر ترجیح یافتہ اور مظلوم طبقوں کی غیر انسانی تفریق ختم ہوئی اور ہر مسلمان اپنے حق سے بہرہ ور ہوا اور واضح طور پر حکم آیا {وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا} کہ ’’اے مسلمانو! تم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور آپس میں فرقہ فرقہ نہ بن جاؤ۔‘‘ پھر یہ بھی تنبیہ فرمائی کہ ’’اے مسلمانو! تم مشرکوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور فرقہ فرقہ بن گئے۔‘‘ اسلام نے تو ’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں۔‘‘ کا درس دے کر واضح کر دیا ہے کہ نجات انہی دو اصولوں میں ہے اور اتحاد بھی انہی پر قائم ہو سکتا ہے اور برقرار رہ سکتا ہے {وَلَا تَفَرَّقُوْا} اور جدا جدا نہ ہو کہہ کر فرقہ بندی سے روک دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مذکورہ دو اصولوں سے انحراف کرو گے تو تمہارے درمیان پھوٹ پڑ جائے گی اور تم الگ الگ فرقوں میں بٹ جاؤ گے۔‘‘ (احسن البیان)
اسلام کا قرنِ اوّل ہماری تاریخ کا عہد زرّیں ہے۔ صحابہ کرام] کے عقیدہ وعمل کی بنیاد اللہ کی کتاب اور رسول اللہe کی سنت مطہرہ تھی اور اسی پر متحد تھے۔ آج بھی اگر اپنے اختلافات ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں کتاب وسنت کی طرف رجوع کرنا ہو گا۔ قرآن پاک کا یہی حکم ہے: {فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ} کہ ’’اپنے متنازعہ امور کو اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف لوٹا دو۔‘‘ یعنی انہیں اپنا حکم تسلیم کر لو تو پھر تمہارے اختلافات ختم ہو جائیں گے۔ رسول اللہe کا ارشادِ گرامی ہے: (ترجمہ) کہ ’’کتاب وسنت کو پیروی اختیار کرو‘ تم گمراہ نہیں ہو گے۔‘‘ آج ہمارے اختلافات کا سبب یہ ہے کہ ہم نے کتاب وسنت کی بجائے شخصیات کو اپنے فکر وعمل کا مرکز قرار دے لیا ہے۔ حالانکہ کتاب وسنت کو ہی اپنے فکر وعمل کا محور بنانے میں دین ودنیا کی فلاح وکامرانی کا راز مضمر ہے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ دور انفرادیت کا دور نہیں‘ اجتماعیت کا دور ہے جو اجتماعی کوشش‘ اجتماعی جد وجہد اور اجتماعی عمل وکردار کا متقاضی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام اور اہل اسلام کے خلاف سازش کرنے والی سامراجی طاقتوں کے نقابوں کو نوچ کر پھینک دیا جائے لیکن یہ اس وقت ممکن ہے جب مسلمان ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں۔ اتحاد واتفاق کو پوری طرح اپنا لیں۔ دین کی ایک لڑی میں منسلک ہو جائیں {وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا} پر عمل پیرا ہو جائیں۔ تفرقہ بازی اور تنازعہ سے اجتناب کریں۔ {رُحَمَآئُ بَیْنَہُمْ} اور {اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ} کا نمونہ بن جائیں اور قرآن  وحدیث کو مشعل راہ بنائیں۔ علامہ اقبالؒ نے کہا ہے     ؎
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

No comments:

Post a Comment