Idaria05-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Thursday, May 16, 2019

Idaria05-2019


اداریہ ... اظہارِ یکجہتی!

دنیا اس امر پر شاہد ہے کہ کشمیر کا تنازعہ نصف صدی سے بھی زیادہ عرصہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید تلخی کا سبب بنا ہوا ہے۔ اس دوران دونوں ملکوں کے د رمیان کئی بار مذاکرات بھی ہوئے‘ تین جنگیں بھی ہوئیں اور پاکستان بھارت کنٹرول لائن پر بھارتی اشتعال انگیزی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے لیکن مسئلہ جوں کا توں ہے۔ ایک عالم اس بات پر بھی گواہ ہے کہ بھارت نے ریاست جموں و کشمیر کے وسیع رقبے پر فوجی طاقت کے بل بوتے پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے لیکن بھارت اپنی دیرینہ آرزو کے مطابق کشمیری حریت پسندوں کی جد وجہد آزادی کو آٹھ لاکھ ظالم فوج کے جبر وتشدد کے باوجود انہیں زیر نہیں کر سکا۔ 8,00,000 سے زائد افراد کی قربانیاں پیش کرنے کے باوصف خون شہیداں جتنا بہہ چکا ہے حصول آزادی کا جذبہ اور ولولہ اتنا ہی تیز ہو رہا ہے۔ انہی قربانیوں کی بدولت کشمیری مسلمانوں کی جد وجہد آزادی پورے جوش وجذبہ کے ساتھ جاری ہے۔ کشمیری حریت پسند جس جذبۂ ایمانی‘ اتحاد اور عزم وہمت کے ساتھ ایثار وقربانی کی لا زوال داستانیں رقم کر رہے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب وادی جموں وکشمیر پنجۂ ہنود سے آزاد ہو گی۔
تاریخ شاہد ہے کہ قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ کشمیریوں پر جس قدر ظلم ڈھائے جا چکے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ وادئ کشمیر میں مسلمانوں کا کوئی گھر ایسا نہیں جس کا کوئی فرد آزادی کی راہ میں شہید نہ ہوا ہو اور کوئی شخص ایسا نہیں جو بھارت کی ظالم فوج کے قہر کا نشانہ نہ بنا ہو۔ ہندو فوجیوں کی درندگی کا عالم یہ ہے کہ مسلمان عورتوں کو عصمت دری کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کمسن بچوں اور عمر رسیدہ خواتین کو بھی معاف نہیں کیا۔ آٹھ سال کی آصفہ اور اٹھارہ ماہ کی حبا بھی ان کی درندگی کی بھینٹ چڑھ گئی۔ پیلٹ گن کے چھروں نے سینکڑوں نوجوانوں کی آنکھوں کو بے نور کر دیا‘ بے شمار مساجد کا تقدس پامال ہوا۔ پورا خطۂ کشمیر خون سے لالہ زار ہے۔ اس طرح خطے کا امن ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں انسانی حقوق کی دعویدار تنظیمیں کہاں ہیں؟ اقوام متحدہ کی حق خود ارادیت کی قرار دادیں کہاں ہیں؟ بلاشبہ مسئلہ کشمیر پر قومی اور انصاف پسند ممالک کے طور پر اتفاق رائے موجود ہے لیکن بھارت کشمیری مسلمانوں کی جد وجہد کو سبوتاژ کرنے کے لیے قوت اور ہٹ دھرمی کی بنا پر اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور بین الاقوامی قوانین کو پامال کر رہا ہے۔ اس کے جارحانہ اقدامات انسانی حقوق کے علمبرداروں کے لیے کھلا چیلنج ہیں۔
اس حقیقت سے انکار ناممکن ہے کہ کشمیر‘ پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی سرحدی معاملہ نہیں بلکہ تنازعہ کشمیر‘ تقسیم ہند کے نامکمل ایجنڈے کا حصہ ہے جس کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ کیونکہ کشمیر کا مقدمہ آج بھی اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ لیکن نہایت افسوس کی بات ہے کہ امریکہ مذاکرات کا مشورہ دیتے وقت اس کا حوالہ نہیں دیتا۔ امریکہ اگر اس مسئلہ کے منصفانہ حل میں سنجیدہ اور مخلص ہے تو اسے بھارت کو صرف ایک اصول کا پابند کر دینا چاہیے کہ وہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دے دے تا کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔ لیکن یہ بڑی تلخ حقیقت ہے کہ بھارت نے ’’گن پوائنٹ‘‘ پر کشمیری عوام کے حقوق غصب کر رکھے ہیں۔ بظاہر وہ جمہوریت کا بڑا چیمپئن بنا پھرتا ہے لیکن اس کی جمہوریت بھی فوجی راج ہے۔
پاکستان اس وقت کشمیر ایسے نازک اور اہم مسئلہ کے بارے میں بہت سنجیدہ اور فکر مند ہے۔ مذاکرات کے سلسلہ میں پاکستان نے کبھی پس وپیش نہیں کیا۔ جب تک بھارت مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی بند نہیں کرتا مذاکرات نتیجہ خیز نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ مذاکرات کے لیے بہتر اور خوشگوار ماحول پیدا کرنا ضروری ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ مذاکرات اگر اخلاص وسنجیدگی پر مبنی ہوں تو تنازعہ کے حل کے لیے راہیں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ بھارت نے اب تک منفی طرز عمل ترک نہیں کیا۔ بھارت کے کئی ذمہ داران اب بھی اٹوٹ انگ کی رٹ لگا رہے ہیں۔
باخبر لوگ جانتے ہیں کہ کم وبیش ربع صدی سے پاکستان میں 5 فروری کا دن کشمیری مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منایا جاتا ہے اور اس دن کو مقبوضہ کشمیر میں یوم تشکر کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس بار بھی پورے ملک میں قوم متحد ہو کر جلسے‘ جلوس‘ ریلیاں اور احتجاجی مظاہرے کر کے پوری دنیا کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ برصغیر میں امن‘ مسئلہ کشمیر کے ساتھ وابستہ ہے۔ انصاف پسند دنیا پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ بھارت پر سفارتی اور اقتصادی دباؤ بڑھا کر اسے مجبور کر دے کہ وہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل کرتے ہوئے اپنی فوجوں کونکال کر اہل کشمیر کو اپنے وعدے کے مطابق حق خود ارادیت دے تا کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ آزادی کے ساتھ کر سکیں۔ بھارت کو اس بات کا احساس کرنا چاہیے کہ اس وقت ایک طرف کشمیری تحریک آزادی ابھی نہیں تو کبھی نہیں کے فیصلہ کن موڑ پر ہے۔ کشمیر کے بچوں سے لے کر بوڑھوں تک بھارتی فورسز سے برسر پیکار ہیں۔ وہ بھیک نہیں اپنا حق مانگ رہے ہیں۔ بھارت اگر انہیں حق نہیں دیتا تو وہ یہ حق چھین لیں گے۔ ہماری رائے میں مسئلہ کشمیر کی اہمیت کے پیش نظر سال میں ایک دن منا لینا کافی نہیں بلکہ کشمیر کی آزادی اور وہاں جاری تحریک آزادی کو توانا بنانے کے لیے بہت سے ضروری اقدامات کی ضرورت ہے‘ اس پر حکمرانوں کو غور وفکر کرنا چاہیے۔

No comments:

Post a Comment