Idaria20-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, May 11, 2019

Idaria20-2019

اداریہ ... نزولِ قرآن کا مہینہ

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار ولا تعداد عنایتوں‘ رحمتوں‘ فضیلتوں‘ عظمتوں‘ مغفرتوں اور برکتوں کو اپنے جلو میں لیے ہم پر سایۂ فگن ہو چکا ہے۔ اس ماہ کے روزوں کی فرضیت سے مقصود یہ ہے کہ اہل ایمان میں تقویٰ پیدا ہو جائے یعنی وہ متقی بن جائیں۔ تقویٰ سے مراد یہ ہے کہ انسان برائیوں سے بچ جائے اور نیکیوں میں سبقت لے جائے۔ وہ لوگ بڑے خوش قسمت ہیں جو دن کو صیام اور رات کو قیام کر کے اپنی بخشش کا سامان کر لیتے ہیں۔
نبی کریمe نے اس ماہ مبارک کی فضیلت وبرکت کئی طرح سے بیان فرمائی ہے۔ پھر اس مہینے کا یہ کتنا بڑا اعزاز ہے کہ اس ماہِ مقدس میں قرآن مجید نازل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کا تعارف ہی یوں کروایا ہے: {شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ} یعنی ’’رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس میں قرآن پاک نازل کیا گیا۔‘‘ جو انسانوں کی رشد وہدایت کے لیے بیّن وواضح تعلیمات کا مرقع ہے‘ جو براہ راست حق وباطل کا امتیاز کر دینے والا ہے۔ ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد پاک ہے کہ {اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ} کہ ’’ہم نے قرآن پاک کو لیلۃ القدر میں نازل کیا ہے۔‘‘ رسول اللہe کے ارشادات کی روشنی میں لیلۃ القدر رمضان شریف کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ایک رات ہے۔
خالق کائنات نے اپنی مخلوق کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے جتنے انبیاء کرام مبعوث فرمائے ان کو حالات کے مطابق تعلیمات اور معجزات سے بھی نوازا گیا۔ رسول اللہe چونکہ رحمۃ للعالمین اور خاتم النبیین ہیں۔ آپ کی نبوت قیامت تک جاری رہے گی‘ اس لیے آپ کو رشد وہدایت کے لیے وہ نسخۂ کیمیا عطا کیا گیا جو قیامت تک ہر دور کے لیے منبع ہدایت ہے۔ بلاشبہ قرآن مجید ایک دائمی معجزہ ہے جس کی ایک آیت کی مثل بھی پوری کائنات پیش کرنے سے یکسر قاصر ہے۔ قرآن پاک ایک ایسا مینارۂ نور ہے جس کی تعلیمات کی روشنی سے دنیا اپنے مسائل حل کر سکتی ہے۔ اس اعتبار سے قرآن مجید دنیا کی پہلی اور آخری کتاب ہدایت ہے جس کے انوار وتجلیات سے دنیا قیامت تک منور ہوتی رہے گی۔
ایک مفکر نے بڑے خوبصورت انداز میں لکھا ہے کہ ’’قرآن مجید دنیا کی واحد کتاب ہے جس نے نوع انسانی کے افکار‘ اخلاق‘ تہذیب اور اطوار زندگی پر اتنی وسعت‘ اتنی گہرائی اور اتنی ہمہ گیری کے ساتھ اثر ڈالا ہے جس کی کوئی نظیر دنیا میں نہیں پائی جاتی۔‘‘ قرآن مجید کا وجود خود ایک معجزہ ہے۔ حفاظت قرآن کا پہلو ہو یا اسلوب نگارش کا‘ قرآن مجید کو جس پہلو اور جس زاویہ سے دیکھیں اس کی معجزہ نمائی کا پَرتَو نظر آتا ہے۔ حقیقی بات یہ ہے کہ قرآن مجید کی تعلیمات انسان کے لیے ایک دستور العمل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ تاریخ انسانی میں پہلی کتاب ہے جس نے تاریخ انسانی کا رخ موڑ دیا۔ جب انسان اس کی تعلیمات پر غور وفکر کرتا ہے تو اسے جامعیت اور معانی کی وسعتیں سمٹی ہوئی نظر آتی ہیں۔
قرآن مجید اس اعتبار سے ایک منفرد حیثیت کا حامل ہے کہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ یہ اس کا بہت بڑا اعجاز ہے کہ چودہ سو سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ ہر طرح کی تحریف سے محفوظ ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ قیامت تک محفوظ رہے گا۔ قرآن مجید صرف کتابوں کی صورت میں محفوظ نہیں بلکہ یہ نسخۂ کیمیا اللہ تعالیٰ نے لاکھوں حفاظ کرام کے سینوں میں بھی محفوظ کر دیا ہے۔
قرآن مجید میں تحریف کے لیے دشمنان اسلام ہزاروں منصوبے بنا لیں اور لاکھوں مذموم کوششیں کام میں لے آئیں مگر اس میں وہ خاسر وناکام رہیں گے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی باتیں حق وصداقت اور انصاف پر مبنی ہیں۔ اس کے کلام کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔ کیونکہ یہ کسی انسان کا کلام نہیں بلکہ ایسی ذات کا کلام ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جب قرآن پاک کی صداقت وحقانیت پر ہمارا ایمان ہے تو پھر ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ اس کے قوانین کے نفاذ کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں۔ ملک کے حکمران جو ریاست مدینہ کا نعرہ تو لگاتے ہیں مگر نفاذ اسلام کے لیے کچھ نہیں کرتے اور نہ ہی خلاف اسلام دفعات کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ملکی معیشت سود پر مبنی ہے۔ پھر سود پر قرضے لیے جا رہے ہیں۔ وہ سود جو ایک دوسرے ملک کو قرض دے کر وصول کرتا ہے اس سے مقروض ملک کی معیشت تباہ ہو جاتی ہے۔ یہ قرض ادا کرنے کے لیے قوم پر بھاری ٹیکس لگائے جاتے ہیں۔ شریعت کا منشا یہ ہے کہ سودی لین دین ختم کیا جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور اسے اللہ اور رسول کے ساتھ جنگ کے مترادف قرار دیا ہے۔
قرآن مجید اپنی ہیبت اور تاثیر کے اعتبار سے بھی بے مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {لَوْ اَنْزَلْنَا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیْتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ} ’’اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو وہ بھی اللہ کی عظمت کے خوف سے دب اور پھٹ جاتا۔‘‘ انسان ہی کس قدر سنگدل ثابت ہوا ہے کہ وہ پیغام قرآن کو فراموش کر چکا ہے۔ اسی لیے رسوائی اس کا مقدر بن گئی ہے۔ علامہ اقبالa نے کہا تھا     ؎
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

No comments:

Post a Comment