Idaria21-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Monday, May 20, 2019

Idaria21-2019


اداریہ ... رمضان المبارک میں حکومتی کارکردگی

نوع انسان اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے۔ اہل ایمان کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے لوگوں تک اسلام کی دعوت پہنچائیں تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کے احکامات اور رسول اللہe کی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کریں جو مقصود حیات ہے۔ مسلمان کا ایمان ہے کہ دنیوی زندگی کے بعد قیامت کے روز احتساب‘ جزا وسزا اور اخروی زندگی کی ابتداء ہو گی۔ مسلمان کا مقصود یہ ہے کہ وہ دارین میں فلاح وکامرانی سے ہمکنار ہو۔ انسان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں داخل ہو جائے۔ اسی کامیابی کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت سے مواقع فراہم کر رکھے ہیں۔ ان میں رمضان کا مبارک مہینہ بھی ہے۔ بڑے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنی زندگی میں اس بابرکت مہینے کو پا لیا اور روزے رکھ کر اس کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور مغفرتوں سے دامن کو مالا مال کر لیا۔ آج جب ہم اپنے گرد وپیش پر نظر ڈالتے ہیں تو جماعت کے کتنے اکابر واصاغر ایسے ہیں جو پچھلے سال رمضان المبارک کی سعادتوں کو سمیٹنے میں ہمارے شریک سفر تھے مگر آج وہ نظر نہیں آتے۔ اس لیے حیات مستعار کو غنیمت سمجھتے ہوئے رمضان المبارک میں سعادت دارین کے حصول کے لیے کمربستہ رہنا چاہیے۔ نبی اکرمeنے اپنی امت کو نیکیوں کے اس موسم بہار میں اللہ تعالیٰ سے بخشش ومغفرت کے لیے بھر پور دعاؤں اور زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ کتنا فضل وکرم ہے کہ وہ اس ماہ میں جنت کے دروازے وا‘ جہنم کے دروازے بند اور شیطان کو جکڑ کر اہل ایمان کے لیے حصول سعادت کی فضا سازگار فرما دیتا ہے۔ راتوں کو قیام‘ دن کو صیام‘ سحری کا اہتمام‘ افطاری کا اشتیاق اور قدم قدم پر روزے کا احساس یہ سب چیزیں مومن کے لیے حصول برکات میں ممد ومعاون ثابت ہوتی ہیں۔
بلاشبہ روزہ نیکی کا بہت بڑا عمل ہے۔ حدیث قدسی ہے‘ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: [اَلصَّوْمُ لِیْ وَاَنَا اَجْزِیْ بِہٖ] کہ ’’روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔‘‘ روزہ جس قدر جلیل القدر نیکی ہے اسی قدر اس کے اثرات بھی ہمہ گیر ہیں۔ روزہ دار جن پابندیوں کو بخوشی قبول کرتا ہے اگر ان پر پورے سال میں عمل کیا جائے تو معاشرے میں ایک صحت مند انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔ نبی اکرمe کا ارشاد گرامی بڑا واضح ہے کہ لوگو! اگر تم روزہ کی حالت میں فضول وبے ہودہ امور سے باز نہ رہے تو اللہ تعالیٰ کو تمہارے بھوکا اور پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ معلوم ہوا کہ روزے کا مقصد تقویٰ اور تزکیہ نفس ہے پھر جو لوگ روزے کے تمام تقاضے پورے کرتے ہیں ان کے لیے بخشش خداوندی کی یہ نوید ہے کہ جس شخص نے بھی ماہ رمضان میں بحالت ایمان اور ثواب کی نیت سے روزے رکھے اور راتوں کو قیام کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام سابق گناہ معاف فرما دیتا ہے۔
اس مقام پر ہمارا یہ فرض اولین ہے کہ ہم نہ صرف خود پورے اہتمام اور اس کے تقاضوں کے مطابق روزے رکھیں بلکہ اپنے گرد وپیش میں اس کی تلقین کریں تا کہ نیکیوں کے موسم بہار میں کوئی شخص بھی خزاں کا شکوہ کناں نہ رہے۔
آخر میں ہم ایک اہم امر کا تذکرہ ضروری سمجھتے ہیں کہ PTI نے اقتدار میں آنے کے بعد اور اس سے پہلے جس قدر دعوے اور وعدے کیے ان کا جو حشر ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ سیف سٹی اور فول پروف سکیورٹی کے جملہ انتظامات ناکام ہو گئے۔ لاہور اور کوئٹہ میں خود کش دھماکوں کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے۔ ان دھماکوں میں ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکار اور بارہ سے زائد شہری شہید ہو گئے۔ ریاست مدینہ اور محفوظ پاکستان کے دعوے کہاں گئے؟ محفوظ پاکستان‘ ریاست مدینہ کی روشنی میں صحیح اسلامی اور فلاحی مملکت بنانے کی ضرورت ہے مگر افسوس! یہ صورت دور دور تک نظر نہیں آتی۔ یہ بڑی افسوسناک بات ہے کہ آئے روز بھارت سے ہمارے قیدیوں کی میتیں یہاں پہنچ رہی ہیں۔ ہمیں اس پر سفارتی سطح پر احتجاج کی بھی توفیق نہیں ہوتی۔ جبکہ پاکستان ایسے بھارتی ماہی گیروں جو غیر قانونی طور پر پاکستان کی حدود میں آ جاتے ہیں مقدمات قائم کیے بغیر با عزت طور پر حکومت انہیں رہا کر دیتی ہے۔ اس پر یہی کہا جا سکتا ہے    ع
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجأت
رمضان‘ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے جس کا پہلا عشرہ گذر چکا ہے۔ حکومت نے شہریوں کو ضروریات زندگی کی اشیاء سستے داموں فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر بجلی اور گیس پر سبسڈی ختم کر دی ہے۔ موبائل کے استعمال پر 25 فیصد ٹیکس لگا دیا ہے۔ حکومت اب 2.60 روپے فی یونٹ بجلی مزید مہنگی کرنے کے لیے پر تول رہی ہے۔ پٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں ظالمانہ طور پر اضافہ کر دیا ہے۔ عمران خان کہا کرتے تھے کہ ’’IMF کے پاس جانے کی بجائے میں خودکشی کو ترجیح دوں گا۔‘‘ اب حکومت نے کشکول توڑنے کی بجائے IMF کے آگے جھولیاں پھیلا دی ہیں اور کڑی شرائط پر اس سے قرضہ لینے کا معاہدہ کر لیا ہے جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا اور عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا جائے گا۔ جس سے لوگوں کی مشکلات بڑھ جائیں گی۔ حزب اختلاف کی بڑی جماعتوں نے اس معاہدے کو مسترد کر دیا ہے۔ حزب اختلاف کو پارلیمنٹ اور سینٹ میں بڑے زور دار طریقہ سے اپنا موقف پیش کرنا چاہیے۔ یہ بات بھی کہنے کی ہے کہ حکومت نے اوپن مارکیٹ میں پھلوں‘ سبزیوں اور اشیائے خورد نوش کی فروخت کے لیے جو سرکاری نرخنامہ جاری کیا تھا اس کی حیثیت پرکاہ کے برابر نہیں رہی۔ دکاندار اور تاجر من مانے نرخوں پر اشیاء فروخت کر رہے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ لیموں کا سرکاری ریٹ 300 روپے فی کلو مقرر تھا مگر وہ 500/400 روپے فی کلو فروخت ہوتا رہا۔ اگرچہ بعض اشیاء کی قیمتوں میں معمولی کمی بھی ہوئی ہے مگر مجموعی طور پر قیمتوں پر نظر ثانی اور مقررہ قیمتوں پر عمل در آمد کی ضرورت ہے۔

No comments:

Post a Comment