Khutba01-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Monday, May 13, 2019

Khutba01-2019


اتحادِ امت کا طریقہ

امام الحرم المکی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر صالح بن حمید d
حمد و ثناء کے بعد!
اے لوگو! میں خود کو اور تمہیں اللہ کے تقوے کی نصیحت کرتا ہوں، اللہ تم پر رحم رمائے۔ اللہ سے ڈرو، جس شخص کے سرہانے موت کا فرشتہ بیٹھا ہو، بھلا وہ کیسے میٹھی نیند سے لطف اندوز ہو سکتا ہے؟ اس لیے سوئے ہوئے کو جاگ جانا چاہیے اور غافل کو ہوش میں آ جانا چاہیے۔ کیا لوگ بہرے ہو گئے ہیں کہ انہیں نصیحت فائدہ نہیں دیتی؟ کیا ان کے دل بہک گئے ہیں کہ وہ عبرت نہیں پکڑتے؟!
اللہ کے بندے! اگر تیرے سے غلطی ہو گئی ہے تو لوٹ آ، اگر تجھے شرمندگی ہے تو گناہوں سے رک جا۔ اگر تجھے غصہ آ گیا ہے تو اسے پی جا۔ جو برداشت کرتا ہے وہ بچ جاتا ہے۔ جو ڈر جاتا ہے وہ محفوظ رہتا ہے۔ خود کو جھوٹی خبریں پھیلانے اور غیبت کا ذریعہ بننے سے بچائو۔ تیرا دشمن وہ نہیں جو تیرے خلاف باتیں کرتا ہے بلکہ تیرا دشمن تو وہ چغل خور ہے جو تمہیں ان باتوں کی خبر دیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿اِنَّمَا السَّبِيْلُ عَلَى الَّذِيْنَ يَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ يَبْغُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ* وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ*﴾ (الشورٰى)
’’ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔ البتہ جو شخص صبر سے کام لے اور درگزر کرے تو یہ بڑی عظمت کے کاموں میں سے ہے۔‘‘
بردرانِ اسلام!اے امت محمد! اللہ کی توفیق اور مدد کے ساتھ کچھ مخلص لوگوں نے پختہ عزم کے ساتھ امت کو کھوکھلا کر دینےو الی لڑائیوں اور اندھے بغض و کینے سے نجات دینے کی کوششیں کیں ہیں۔ اللہ کے دین کی نصرت، امت محمدیہ کے غلبے اور قومی مفاد کیلئے وسیع تر صلح کی کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے یہ کوششیں پوری تندہی، ذمہ داری، پورے خلوص اور سچائی کے ساتھ، بھرپور محبت و الفت اور جرأت و بہادری کے ساتھ کی ہیں۔ انہوں نے امت کے اتحاد اور فرقہ بندی کی دلدل سے امت کو بحفاظت نکالنے کیلئے بھرپور سعی کی ہے۔ انہوں نے امت کو بحرانوں سے نکالنے، ملی اتحاد اور امت میں پڑنے والے شگاف کو پر کرنے کیلئے بڑی مخلصانہ کاوشیں کی ہیں تاکہ امت صراط مستقیم پر چل سکے ،سیدھے اور درست دین پر کاربند ہو سکے۔
برادرانِ اسلام! اللہ کے فضل سے اتحاد امت کا مقصد حاصل کرنا آسان ہے، کیونکہ اللہ کے فضل و کرم سے اتحاد امت کے اسباب وافر مقدار میں موجود ہیں۔ رکاوٹیں دور کرنا بھی قطعاً مشکل نہیں۔ خصوصاً دور حاضر میں جبکہ دشمنوں کے مکروفریب کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ امت میں اختلافات پید اکرنے کی ان کی کوششیں اور مقاصد ننگے ہو چکے ہیں۔ امت محمدیہ میں اختلافات کو ہوا دینا، فرقہ بندی کے گڑھے کو وسیع کرنا اور ان میں باہمی قتل و غارت کو گرمانا اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، حتی کہ انہوں نے مسلمانوں کا خون بہایا ہے۔ انہیں ملک بدر کیا ہے اور متحد معاشروں کو توڑ پھوڑ دیا ہے۔
اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔ سارے مسلمان ہی ان کا ہدف ہیں، کوئی مسلمان اس سے مستثنیٰ نہیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَ لَا يَزَالُوْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى يَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِيْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا﴾ (البقرة: 217)
’’وہ تو تم سے لڑتے ہی رہیں گے حتیٰ کہ اگر اُن کا بس چلے تو تمہیں اِس دین سے پھرا لے جائیں۔‘‘
اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ﴿وَ لَا يَزَالُوْنَ﴾ کا مطلب ہے کہ وہ اس دشمنی کو ہمیشہ زندہ رکھیں گے، وہ مسلمانوں کو مذہبی اور لسانی گروہوں میں تقسیم کرتے رہیں گے۔
میں پھر اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ کسی ایک مسلمان گروہ پر بس نہیں کرینگے، بلکہ وہ انہیں آپس میں لڑاتے رہیں گے۔ اس لیے وہ مسلمان جو ان کافروں کے بارے خاموش ہیں یا جن کے بارے میں دشمنان اسلام ابھی کارروائیاں نہیں کر رہے، یا انہیں کچھ مدد دے رہے ہیں،و ہ مت سمجھیں کہ دشمن انہیں چھوڑ دے گا۔ وہ مسلمانوں کے درمیان نفرت کی آگ بھڑکا رہے ہیں، وہ مسلمانوں میںفتنے پھیلا رہے ہیں۔ انہیں ایک دوسرے کے خلاف بھڑکا رہے ہیں۔ تاکہ وہ اپنے مخصوص مقاصد میں کامیاب ہو سکیں۔ جب دشمنانِ اسلام اپنے غلط نظریات پر متفق ہیں تو ہم اہل اسلام اپنے حق مذہب پر منتشر کیوں ہوں؟
اے امت محمدیہ! ہمارے نبی محترم محمد eنے ہمیں نہایت واضح اور سیدھے راستے پر چھوڑا ہے۔ اس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے۔ ہمیں کتاب اللہ اور اپنی سنت دی ہے ہم جب تک ان پر کاربند رہیں گے کبھی گمراہ نہ ہوں گے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا﴾ (آل عمران: 103)
’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور فرقہ بندیوں میں نہ پڑو۔‘‘
مزید فرمایا:
﴿وَ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا﴾ (الانفال)
’’اللہ اور اس کے رسُول کی اطاعت کرو اور آپس میں مت جھگڑو، ورنہ تم کمزور پڑ جائو گے۔‘‘
نیز فرمایا:
﴿وَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ۰۰۵۲﴾ (المؤمنون)
’’تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں۔‘‘
جی ہاں! اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک امت قرار دیا ہے، یہ نہیں فرمایا کہ متحد امت ہے ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمان اپنے دین کی بدولت ایک ہی امت ہیں۔ وہ گروہوں میں بٹے ہوئے نہ تھے کہ بعد میں متحد ہوتے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿مِلَّةَ اَبِيْكُمْ اِبْرٰهِيْمَ١ؕ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ﴾ (الحج: 78)
’’قائم ہو جاؤ اپنے باپ ابراہیمؑ کی ملت پر‘ اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام ’’مسلم‘‘ رکھا تھا۔‘‘
ہمارا دین ایک ہے، کتاب ایک ہے، قبلہ ایک ہے، بیت اللہ ایک ہے اور منہج ایک ہے۔ مسلمانوں کو اللہ کی معیت اور عنایت حاصل ہے، جب وہ توحید الٰہی اور حسن عبادت پر جمع ہوتے ہیں۔ کافروں کے خلاف متحد ہو جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں دشمن کی تکلیفوں، خوف اور اضطراب سے محفوظ کر دیتا ہے۔
جب وہ انتشار کا شکار ہوتے ہیں تو سکینت الٰہی دور ہو جاتی ہے۔ اللہ ان میں باہمی اختلافات پیدا کر دیتا ہے۔ ان کے حالات بدتر ہو جاتے ہیں۔ اس وقت وہ دنیا اور آخرت کی بہترین امت نہیں رہتے‘ وہ اپنے جلدی اور مؤخر ہونے والے معاملات میں بہترین نہیں ہوتے حتی کہ وہ اللہ کی کتاب کو اپنا راہنما اور امام بنا لیں۔ سنت رسول کو وہ اپنا نور اور ہدایت کا سرچشمہ بنا لیں۔ اس وقت انہیں بلند شان نصیب ہو گی، ان کا مقام و مرتبہ بڑھے گا اور ان کی حفاظت ہو گی۔
کتاب اللہ اور سنت رسول دو محفوظ اور ثابت اصول ہیں۔ ان سے روگردانی کرنا ممکن نہیں۔ ہدایت انہی سے اور انہی کے ساتھ مل سکتی ہے۔ نجات اور تحفظ اسے مل سکتا ہے جو ان پر کاربند ہو گا۔ یہ دو واضح دلیلیں ہیں۔ جب حق پرست حق کی پیروری کرتا ہے اور باطل پرست حق سے منہ موڑتا ہے تو یہ دونوں ان میں واضح فرق کرتے ہیں۔
اطاعت و جماعت اللہ کی وہ رسی ہے جسے مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جیسا کہ سیدنا ابن مسعود t نے اس کی تفسیر کی ہے۔
اے امت محمد ! مسلمانوں کو ایک عقیدہ، ایک ہی طرح کی عبادات اور مقامات مقدسہ متحد رکھتے ہیں۔ ان کی عبادات، اخلاق، تعلیمات، شرعی احکامات جیسے نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ، جہاد، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، آداب اور نصیحتیں سب انہیں متحد رکھتی ہیں۔
اتحاد امت کے سامنے کینہ اور بدلہ لینے کے جذبات بہت چھوٹے ہو جاتے ہیں۔ ذاتی لالچ، گروہی جھنڈے، نسلی تعصب اور فرقہ بندی دم توڑ جاتی ہے اور سارے لوگ ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ کے جھنڈے تلے جمع ہو جاتے ہیں۔ اللہ اکبر! عزت اللہ، اس کے رسول اور مومنوں ہی کیلئے ہے۔
اجتماعی، ثقافتی اور دینی اتحاد، اس دین کی محبت، اس پر عمل پیرا ہونے، اسے غلبہ دینے اور منار اسلام کو سربلند کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔
اے امت محمدیہ! اہل اسلام کے ساتھ سچے برتائو ہی سے امت کا اتحاد ممکن ہے۔ ایسا برتائو جو شرعی قواعد اور اصولوں پر مبنی ہو اور وہ اصول کتاب اللہ، سنت رسول اور سلف صالح کے منہج سے لیے گئے ہوں۔ تمام مسلمانوں کو وہی اعمال و کردار کافی ہے جو اوائل صحابہ کرام، مہاجرین و انصار اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں کے لیے کافی تھا۔ باوجود اس کے کہ ان کا مقام و مرتبہ اور شان مختلف تھی۔ حالانکہ وہ سارے ہی اللہ کے چنیدہ ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيْرُ﴾ (فاطر)
’’پھر ہم نے ان لوگوں کو (اس) کتاب کا وارث بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے پسند فرمایا۔ پھر بعضے تو ان میں اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعضے ان میں متوسط درجے کے ہیں اور بعضے ان میں اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کئے چلے جاتے ہیں۔‘‘
اس امت پر اللہ کی رحمت ہے۔ یہ ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں،باہمی مدد تعاون کرتے ہیں۔ اللہ کے فضل اور رحمت سےیہ جنت کے تمام دروازوں سے داخل ہوں گے۔ کسی کو ایک دروازے سے داخل ہونے کی اجازت ہو گی۔ کسی کو کئی دروازوں سے آوازیں آئیں گی کہ ادھر سے داخل ہو جائو اور کسی کو آٹھوں دروازوں سے جنت میں داخل ہونے کی دعوت ملے گی۔ اگرچہ ان کی منزلیں اور مقامات مختلف ہیں۔ لیکن ان کا منہج اور مقصد ایک ہی ہے۔ ان میں سے کچھ مجاہد ہیں، کچھ علماء، کچھ مخلص دعوت دین والے، کچھ نیکی کا بتانے اور برائی سے روکنے والے ہیں اور کچھ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہوئے سیدھی راہ پر گامزن عام لوگ ہیں۔ وہ امت کے حقوق ادا کرتے ہیں‘ جو شخص مسلمان اور مومن ہو گیا اسے سارے اسلامی حقوق ملتے ہیں جب تک اسلام سے مرتد نہیں ہو جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے دو لڑنےو الے گروہوں کو مومن کہا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَ اَخَوَيْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ﴾ (الحجرات)
’’مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات کو درست کرو۔‘‘
جو شخص مسلمانوں کی طرح نما زپڑھے، ان کے قبلے کا رخ کرے، ان کا ذبیحہ کھائے تو وہ مسلمان ہے ۔ اس کے وہی حقوق ہیں جو دیگر مسلمانوں کے ہیں۔ انہی کی طرح اس کے ذمے فرائض بھی ہیں۔ اس کا حساب اللہ کے ذمے ہے، اس کے دل کی حالت اللہ ہی جانتا ہے۔ اس کے دل کو چیر کر نہیں دیکھا جائے گاکہ (وہ مسلمان ہے یا نہیں) اس کے بارے میں بدگمانی درست نہیں۔ اس کے ساتھ نفرت و دشمنی رکھنا درست نہیں۔ القابات کی بنا پر مسلمانوں میں تقسیم ڈالنا درست نہیں۔ سب سے افضل القاب: مہاجر اور انصار ہیں۔ لیکن یہ القاب بھی باہمی اتحاد اور پہچان کیلئے ہیں۔ نفرت پھیلانے اور مسلمانوں کو تقسیم کرنے کیلئے نہیں تھے۔
مسلمان حق کے ساتھ حق میں مضبوط ہیں لیکن غلو نہیں کرتے۔ اللہ کی مخلوق کے ساتھ مہربان ہیں اور ظلم نہیں کرتے، لوگوں کے حقوق نہیں دباتے۔ آسان ترین معاملات اختیار کرتے ہیں۔ دو نقصانات میں سے شدید کو پہلے ختم کرتے ہیں۔ وہ دوست اور دشمن کے بارے میں سب سے بڑھ کر عدل کرنے والے ہیں۔ نبی کریمe نے فرمایا مجھے حکم دیا گیا تھا کہ :
﴿وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَيْنَكُمْ﴾ (الشورٰى)
’’میں تمہارے درمیان انصاف کروں۔‘‘
مزید ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ﴾ (المآئدة)
’’کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جائو، بلکہ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے، اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرتے رہو۔‘‘
مسلمان د ین اسلام کی دعوت حکمت و دانائی سے دیتے ہیں۔ مہربانی اور شفقت سے نصیحت کرتے ہیں‘ وہ شریعت پر عمل کرتے ہیں۔ اپنا غصہ نکالنے اور انتقام لینے کی کوشش نہیں کرتے۔ وہ توبہ کرنے والے کی توبہ پر خوش ہوتے ہیں۔ غلطی کا اعتراف کرنے والے کا عذر قبول کر لیتے ہیں۔ گناہ گاروں کےلیے دعا کرتےہیں، کسی کی لغزش پر خوش نہیں ہوتے، عیب پوشی کرتے ہیں۔ لوگوں کے عیب نہیں ٹٹولتے۔ کسی کے عیب اور غلطیوں کا تذکرہ ان کی اصلاح کی نیت سے کرتے ہیں‘ انہیں ملامت کرنے اور ان کے عیب لوگوں کو بتانے کیلئے نہیں کرتے۔
بدعات بھی دیگر گناہوں کی طرح ہیں۔ ان میں سے کچھ چھوٹی اور کچھ بڑی ہیں۔ کچھ بہت واضح اور کچھ غیر واضح ہوتی ہیں۔ بدعات سے محفوظ رہنا بہت نصیب کی بات ہے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ البتہ کسی آیت کی تفسیر یا فرمان نبوی کی تشریح میں اکثر لوگوں سے سہو ہو جاتی ہے۔ درست تعبیر وہی کرتا ہے جسے اللہ کی مدد اور توفیق حاصل ہوتی ہے۔ اللہ اپنے دین کی مدد اور حمایت فاجر لوگوں اور بدترین اخلاق والوں سے بھی لے لیتا ہے۔
فریضہ جہاد ہر نیک اور بد حکمران کی زیر قیادت جاری رہے گا۔ یہ جہاد کبھی تلوار سے ہوگا کبھی قلم سے اور کبھی زبان سے، مقصود دشمن کو شکست دینا ہے۔
صرف اسلام کا جھنڈا لہرایا جائے گا۔ مسلمانوں کا (معاہدوں پر) ذمہ ایک ہے۔ مسلمانوںکا ادنیٰ شخص بھی اس کی پاسداری کرے گا۔ وہ دوسروں کے خلاف ایک مٹھی کی طرح (متحد اور مضبوط) ہیں۔ دشمنانِ اسلام کی ان کوششوں کے باوجود جو وہ مسلمانوں میں گروہ بندی، انتشار اور ان کے وسائل لوٹنے کیلئے کر رہے ہیں، انہیں جلا وطن کرنے اور ان کے مال لوٹنے کیلئے کر رہے ہیںَ مسلمان امت کے اتحا دکا پختہ یقین رکھتے ہیں۔ وہ دینی اجتماع کے خواہش مند ہیں۔ وہ اس پر اصرار کرتے ہیں۔ اگرچہ شکوک و شبہات پیدا کرنے والے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کو پھسلانے والے بھی سرگرم ہیں۔ منافقین، بیمار دلوں والے اور مغرب زدہ بھی کوششیں کر رہے ہیں۔
مسلمانوں کو یقین ہے کہ ان کا مطلوبہ اتحاد خالی نعروں اور تمنائوں سے حاصل نہیں ہو گا ۔ بلکہ تمام لوگوں کے اس پختہ یقین و ایمان کے ساتھ حاصل ہو گا کہ وحدت امت اسلام کا اہم ترین رکن ہے‘ اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔ مسلمانوں کے اہداف، مقاصد، آرزوئیں، سربلندی کی تمنا، امت کی حرمت اور ان کے وطنوں کی حفاظت صرف اور صرف اتحاد امت ہی سے حاصل ہو سکتی ہیں۔
امت اسلام! نبی کریم e کے حزم و عزم، نرمی اور درگزر کے شاندار منہج سے مخالف دلوں کو جوڑا جا سکتا ہے۔ دور جانے والوں کو قریب کیا جا سکتا ہے اور اللہ ہی دلوں کو جوڑنے والا ہے۔
اے امت محمدیہ! جب اخلاص، امیر کی اطاعت و فرمانبرداری، جماعت کا اتحاد، حسن نصیحت حاصل ہو جائے تو اس وقت مسلمانوں کے دلوں پر نفاق اور بیماریاں اثر اندازنہیں ہوتیں۔ کیونکہ اللہ کے لیے مخلص ہو کر عبادات بجا لانا، حکمرانوں کی خیر خواہی کرنا اور مسلمانوں کی جماعت سے منسلک رہنا، وہ خوبیاں ہیں جو اصول دین کو جمع کرتی ہیں اور اتحاد کے قواعد کو جمع کرتی ہیں۔ اس سے اللہ اور بندوں کے حقوق جمع ہوتے ہیں۔ دنیا اور آخرت کے مصالح منظم ہوتے ہیں۔
دوسرا خطبہ
برادرانِ اسلام! فرقہ بندی، گروہ بندی اور عصبیت کا نتیجہ ذلت و رسوائی ہے۔ انہی کی بدولت دشمنانِ اسلام کو امت اسلام میں طمع پیدا ہوتا ہے۔ انہی کی وجہ سے وہ مسلمانوں کی گردن پر سوار ہوتے ہیں اور انہیں حقیر سمجھتے ہیں اور وہ انہیں اسلام اور اس کے اصولوں کے خلاف دلیل بناتے ہیں۔ فتنے امت کے جوڑ جوڑ کاٹتے ہیں۔ نفرتیں پھیلاتے ، یوں نہ حق ثابت ہوتا ہے اور نہ باطل ٹلتا ہے۔ بد امنی ظلم و ستم کا دروازہ ہے۔ بد امنی جدائی پیدا کرتی ہے اور جدائی ہلاکت و فنا کی طرف لے جاتی ہے وحدت امت اجتماع اور اتحاد کا باعث ہے۔ ہر وہ چیز جو اتحا دکے منافی ہو، اجتماع کے خلاف ہو اور نفرتیں پھیلائے وہ فرقہ بندی، انتشار اور گروہ سازی کا ذریعہ ہے۔
امت اسلام! اسلام میں گروہ اور مذہبی فرقوں کے وجود کا انکار ممکن نہیں بلکہ مسلمان ہوں یا کافر ان میں اختلافات کے خاتمے کا تصور ممکن نہیں۔ لیکن گروہ بندی کی عصبیت اور ہلاک کر دینے والی خواہشات نفس کا انکار ضروری ہے۔
سیدنا ابی بن کعب tنے رسول اللهeسے دریافت کیا تھا کہ اپنی قوم سے محبت کرنا بھی عصبیت ہے؟ آپ eنے فرمایا: ’’نہیں! اپنی قوم کا ظلم ساتھ دینا عصبیت ہے۔‘‘
اے امت محمد! اللہ سے ڈرو اور خوب جان لو کہ دشمنان اسلام مسلمانوں کے خلاف بدترین مکروفریب کر رہے ہیں۔ ان کے خلاف متحد ہو کر ہی نجات پائی جا سکتی ہے۔ یہی جہاد اکبر ہے۔ ظالموں سے دور رہنے اور ان کے آگے نہ جھکنے سے ہی ان سے نجات مل سکتی ہے۔ اللہ کے تقوے کے بعد بہترین تیاری اپنی صف بندی اور اتحاد ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ﴾ (الصف)
’’اللہ کو تو پسند وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔‘‘
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! شرک اور مشرکین کو ذلیل ورسوا فرما! سرکشوں، بے دینوں اور تمام دشمنان ملت کو ذلیل ورسوا فرما۔ آمین!

No comments:

Post a Comment

View My Stats