Khutba02-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Tuesday, May 14, 2019

Khutba02-2019


سچائی

امام الحرم المکی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر ماہر المعیقلی d
21 ربیع الآخر 1440ھ بمطابق  28 دسمبر  2018ء
حمد و ثناء کے بعد!
اے مومنو! اللہ سے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ اسکی بے شمار نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔ اللہ کے اس فرمان کو یاد رکھو:
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو۔‘‘ (التوبہ: ۱۱۹)
اے امت اسلام! سچائی، اسلام کے عظیم اخلاق میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے اور اسے اپنانے کی ترغیب دلائی ہے۔ یہ انبیاءo اور اللہ کے نیک بندوں کے اخلاق میں سے بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل ابراہیمu  کے اوصاف بیان کرتے ہوئے اسی اخلاق کا ذکر فرمایا۔ فرمایا:
’’اِس کتاب میں ابراہیمؑ کا قصہ بیان کرو، بے شک وہ ایک راست باز انسان اور ایک نبی تھا۔‘‘ (مریم: ۴۱)
سیدنا اسماعیلu کی تعریف کرتے ہوئے بھی اسی صفت کا ذکر کیا۔ فرمایا:
’’اس کتاب میں اسماعیلu کا ذکر کرو‘ وہ وعدے کا سچا تھا اور رسُول نبی تھا۔‘‘ (مریم: ۵۴)
رہی بات ساری مخلوق کی چنیدہ ہستی اور خاتم الانبیاءo کی، تو وہ سب سے بڑھ کر سچ بولنے والے اور صادق مانے جانے والے تھے۔ سچے اور امانت دار تھے۔ آپ کے دشمن بھی آپ کی سچائی اور امانت کے معترف تھے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:
’’اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو ڈراؤ۔‘‘ (الشعراء: ۲۱۴)
تو رسول اللہe صفا پہاڑی پر چڑھے اور پکارنے لگے کہ اے بنی فِہْر! اے بنی عَدِی! اسی طرح قبیلہ قریش کی تمام شاخوں کو نام لے لے کر پکارا۔ یہاں تک کہ سب اکٹھے ہو گئے۔ جو نہ آسکا، اس نے کسی کو بھیج دیا، تاکہ وہ دیکھ کر اسے بتا دے کہ معاملہ کیا ہے۔ ابو لہب بھی آ گیا اور قریش کے دوسرے سردار بھی آ گئے۔
آپe نے فرمایا: ذرا بتاؤ! اگر میں آپ کو کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے وادی میں ایک فوج آپ پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہے تو کیا تم میری بات مان لو گے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں! آج تک ہم نے آپ کے منہ سے سچائی کے علاوہ کچھ نہیں سنا۔ آپe نے فرمایا: پھر میں آپ کو دردناک سزا سے خبردار کرتا ہوں۔
ام المؤمنین سیدہ خدیجہr نے بھی آپ کی خوب صفت بیان کی۔ جب غار حراء میں رسول اللہe کی جبریلu سے ملاقات ہوئی، تو آپe اس حال میں لوٹے کہ خوف سے آپ کا دل لرز رہا تھا۔ آپe نے خدیجہr سے کہا: مجھے تو اپنے بارے ڈر لگنے لگا ہے۔ سیدہ نے کہا: ہر گز نہیں۔ اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہ کرے گا۔ آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، سچ بولتے ہیں۔ (بخاری ومسلم)
سچائی کی اتنی فضیلت اور مرتبہ کیا کم ہے کہ صدیقین کا درجہ نبیوں کے درجے کے فورا بعد آیا ہے۔ امام قرطبی علی a بیان کرتے ہیں کہ صدیق وہ ہے جو بہت زیادہ سچ بولتا ہو یا جو سچائی کو سب سے پہلے سچ تسلیم کر لے۔ یا جس کا عمل اس کی باتوں کی تائید کرے۔ قرآن کریم میں جب اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں کے متعلق بات کی جن پر اُس نے انعام کیا ہے تو فرمایا:
’’جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیاء  اور صدیقین اور شہداء اور صالحین‘ کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں۔‘‘ (النساء: ۶۹)
یعنی جو بھی اپنے حالات اور استطاعت کے مطابق اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اور فرائض سر انجام دے گا، تو وہ ان ہی لوگوں کے ساتھ ہو گا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے، جنہیں کمال اور نیکی، سعادت اور فلاح کی نعمت عطا فرمائی ہے۔
یہ ہیں سچائی اپنانے والوں کے علم بردار، انبیاء کے بعد افضل ترین انسان، اس امت کے سچے ترین انسان، ابو بکرt، جنہوں نے سب سے پہلے آپe پر ایمان قبول کیا اور ان کی بات کو سچ تسلیم کیا۔
صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہe نے سیدنا ابو بکرt کے حق میں فرمایا:
’’کیا تم میرے ساتھی کو تنگ کرنا نہیں چھوڑو گے؟! کیا تم میرے ساتھی کو تنگ کرنا نہیں چھوڑو گے؟! جب میں نے کہا تھا کہ اے لوگو! میں، سب کے لیے اللہ کا رسول ہوں۔ تو تم سب نے کہا تھا: جھوٹ کہتے ہو اور ابو بکر نے کہا تھا: سچ کہتے ہیں۔‘‘
جب انسان تہہ دل سے سچائی کو اپنا لیتا ہے تو اس پر سچائی کے اثرات بھی نظر آنے لگتے ہیں۔ اس کے عقیدے پر، اس کی عبادت پر اور اس کے اخلاق پر بھی اس کے اثرات نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ اسی لیے جب رسول اللہe نے ایک صبح فرمایا کہ آج کس نے روزہ رکھا ہے؟ تو ابوبکرt نے کہا: میں! آپe نے کہا: تو آج جنازے کے ساتھ کون گیا تھا؟ ابو بکرt نے کہا: میں گیا تھا! آپe نے کہا: آج مسکین کو کس نے کھلایا تھا؟ ابوبکرt نے کہا: میں نے۔ آپe نے فرمایا: تو مریض کی عیادت کس نے کی تھی؟ اس پر بھی ابو بکرt نے کہا: میں نے۔ آپe نے فرمایا: یہ ساری نیکیاں جس شخص میں جمع ہو جاتی ہیں، وہ یقین طور پر جنتی بن جاتا ہے۔ یہ ساری نیکیاں جس شخص میں جمع ہو جاتی ہیں، وہ یقین طور پر جنتی بن جاتا ہے۔ (مسلم)
اے ایمانی بھائیو! ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ سچائی کا بلند ترین مرتبہ یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ کے ساتھ سچائی اپنائی جائے۔ وہ اس طرح کہ انسان توحید اپنا لے، اخلاص سے عبادت کرے، اللہ کی نشانیوں کی تصدیق کرے، قرآن وحدیث میں آنے والے اسمائے الٰہی اور صفات ربانی پر ایمان رکھے، سچائی کے ساتھ اللہ پر بھروسہ اور اعتماد کرے، اللہ کے انعام پر یقین رکھے اور نبی اکرمe کی پیروی کرے۔
سچائی اور اخلاص لازم وملزوم ہیں۔ کلمہ توحید کی قبولیت کے یہی دو عظیم رکن اور بنیادی شرطیں ہیں۔
صحیح بخاری میں ہے کہ جب رسول اللہe سے دریافت کیا گیا کہ قیامت کے دن آپe کی شفاعت پانے والا سعادت مند ترین انسان کون ہو گا؟ تو آپe نے فرمایا: قیامت کے دن میری شفاعت پانے والا خوش قسمت ترین انسان وہ ہو گا جو سچائی کے ساتھ تہہ دل سے کہے: لا الٰہ الا اللہ۔
اسی طرح صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا:
’’جو شخص بھی سچائی کے ساتھ تہہ دل سے، سچائی کے ساتھ تہہ دل سے یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، تو اس پر اللہ تعالیٰ جہنم کی آگ حرام کر دیتا ہے۔‘‘
اخلاص یہ ہے کہ اپنا مقصد ایک کر لیا جائے۔ سچائی یہ ہے کہ ارادہ ایک کر لیا جائے۔ انسان اُس وقت تک سچا نہیں بن سکتا جب تک وہ اِس کے لیے محنت اور تگ ودو نہ کرتا رہے۔ انسان سچ بولتا رہتا اور سچائی پر سختی سے قائم رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اس عظیم مرتبے اور بلند مقام تک پہنچ جاتا ہے۔
صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا:
’’سچائی کو اپنائے رکھو۔ سچائی سے نیکی کی توفیق ملتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لیجاتی ہے۔ انسان سچ بولتا رہتا ہے اور سچائی پر سختی سے قائم رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے یہاں سچے لوگوں میں شمار ہونے لگتا ہے۔‘‘
اللہ کے بندو! اللہ کے ساتھ سچائی اپنانے سے مصیبتیں بھی آسان ہو جاتی ہیں اور دعائیں بھی قبول ہوتی ہیں۔ غار میں پھنس جانے والے تین بندوں کے واقعے میں آتا ہے کہ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: ساتھیو! اللہ کی قسم! آج سچائی کے علاوہ ہمیں کوئی چیز نہیں بچا سکتی۔ تو ہر شخص اُس نیکی کا ذکر کر کے دعا کرے جس کے متعلق وہ یقین رکھتا ہو کہ اس نے وہ پوری سچائی کے ساتھ کی تھی۔ جب انہوں نے اللہ سے دعائیں مانگیں اور نیک اعمال کو وسیلہ بنایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی مشکل آسان کر دی۔
امام ابن القیمa فرماتے ہیں: اللہ کے ساتھ سچائی اپنانے سے بڑھ کر کوئی چیز انسان کے لیے نفع بخش نہیں ہو سکتی۔ ہر معاملے میں اللہ کے ساتھ سچائی اپنانے سے بڑھ کر کوئی چیز انسان کے لیے نفع بخش نہیں ہو سکتی اور جو ہر معاملے میں اللہ کے ساتھ سچائی اپناتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ، اُس معاملے سے بھی بہتر معاملہ کرتا ہے، جو وہ شخص دوسروں کے ساتھ کرتا ہے۔
سچائی جس طرح انسان کو دنیا کے فتنوں اور مصیبتوں سے بچاتی ہے اسی طرح یہ آخرت کی مصیبتوں اور سختیوں سے بھی نجات دلانے والی ہے۔ یہی رضائے الٰہی جیسے عظیم مقصد کو حاصل کرنے اور جنت میں ہمیشہ رہنے کا ذریعہ ہے۔
فضل وکرم عطا فرمانے والا اللہ کریم فرماتا ہے:
’’یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کو اُن کی سچائی نفع دیتی ہے، ان کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، یہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے، یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ (المائدہ: ۱۱۹)
اے مؤمنو! سچا انسان، نیک نیت ہوتا ہے۔ سچوں کے ساتھ اچھی عاقبت کا وعدہ کیا گیا ہے۔ سچا انسان خوب اطمینان میں رہتا ہے اور افضل ترین انسانوں میں شمار ہونے لگتا ہے۔ اس چیز کی گواہی رسول اللہe نے دی ہے۔
عبد اللہ بن عمروw فرماتے ہیں: رسول اللہe سے کہا گیا: افضل ترین لوگ کون ہیں؟ آپe نے فرمایا: پاک دل والے اور سچی زبان والے۔ (ابن ماجہ)
امام ابن القیمa کا بیان کردہ ایک نقطہ یہ بھی ہے کہ قرآن کریم میں سچائی سے متصل پانچ چیزوں کا ذکر آیا ہے۔ سچائی کے ساتھ داخل ہونے کا، سچائی کی بنا پر نکلنے کا، سچائی سے کیے جانے والے اعمال کا، سچی ناموری کا اور سچ کے ٹھکانے کا۔ یوں لگتا ہے کہ پروئے ہوئے ہیرے ہیں۔ ہر ایک دوسرے کی طرف لیجاتا ہے۔ یعنی جو داخل ہونے اور نکلنے، یعنی آنے جانے میں سچائی اپنا لیتا ہے تو اسے نیک اعمال کی توفیق مل جاتی ہے۔ یعنی وہ آخرت کے لیے اپنے اعمال تیار کر لیتا ہے، اور جو ایسا کرتا ہے اسے اللہ تعالیٰ بعد میں آنے والے لوگوں میں ناموری عطا فرما دیتا ہے، اس طرح اسے دنیا کی زندگی میں ہی بشارتیں مل جاتی ہیں، آخرت میں تو اس کے لیے سچ کا ٹھکانہ ہے۔ ایسی جنت ہے جو اتنی عریض ہے جتنے آسمان وزمین، جس میں ایسی ایسی چیزیں ہیں جنہیں کبھی کسی آنکھ نے نہیں دیکھا، کبھی ان کے متعلق کسی کان نے خبر نہیں سنی اور کبھی کسی انسان کے دل میں بھی ان خیال نہیں آیا۔
’’نافرمانی سے پرہیز کرنے والے یقیناًباغوں اور نہروں میں ہوں گے۔ سچی عزت کی جگہ، بڑے ذی اقتدار بادشاہ کے قریب۔‘‘ (القمر: ۵۵)
دوسرا خطبہ
بعد ازاں!
اے اہل ایمان! بھلی زندگی اور عاقبت کی بہتری اللہ تعالیٰ کے ساتھ تہہ دل سے سچائی اپنا لینے میں ہی ہے۔ جب دل سچائی اپنا لیتا ہے تو زبان بھی اس کے پیچھے چلتی ہے اور دیگر اعضاء بھی سچائی کو اپنا لیتے ہیں۔ یوں انسان کے ارادے بھی سچے ہو جاتے ہیں، باتیں بھی سچی اور عمل بھی سچا۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: سنو! جسم میں ایک ایسا ٹکڑا ہے جو اگر درست ہو جائے تو سارا جسم سدھر جاتا ہے اور اگر وہ حصہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔ پھر فرمایا: یہ حصہ دل ہے۔
جو اسلام کے مبنی بر رحمت احکام کو دیکھتا ہے، تو دیکھتا ہے کہ ہر حکم کے ساتھ اللہ کے ساتھ سچائی اپنانے کا کوئی نہ کوئی تعلق ضرور ہے۔ نماز ارکان اسلام میں سے ہے اور ایمان کی سچائی کی دلیل ہے۔ جو اس کی حفاظت کرتا ہے، وہ اس کے لیے نور اور برہان بن جاتی ہے۔ یعنی ایمان کی سچائی کی دلیل بن جاتی ہے اور قیامت کے دن یہی اسے نجات دلا دیتی ہے۔ جو اس کی حفاظت نہیں کرتا، قیامت کے دن وہ نور، برہان اور نجات سے محروم رہتا ہے۔ ساری عبادات کا یہی حال ہے۔
اسلام نے جس طرح اللہ کی عبادت میں سچائی کو لازمی ٹھہرایا ہے، اسی طرح دوسروں کے ساتھ تعامل اور برتاؤ میں بھی سچائی کو لازمی قرار دیا ہے۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: خرید وفروخت کرنے والے جب تک سودہ طے کر کے الگ نہیں ہو جاتے، تب تک وہ آزاد رہتے ہیں۔ اگر وہ سچائی کے ساتھ ہر چیز واضح کر دیں تو انہیں سودے کی برکت نصیب ہو جاتی ہے اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور چیزوں کو چھپائیں تو ان کے سودے سے برکت ختم ہو جاتی ہے۔
اللہ کے بندو! اللہ کے ساتھ سچائی اپناؤ، وہ بھی اپنے وعدے پورے کرے گا۔ اس کی مدد کرو، وہ تمہاری مدد کرے گا۔ اس سے دعائیں مانگو، وہ تمہاری دعائیں سنے گا اور حق پر آپ کو ثابت قدمی نصیب کرے گا۔
اے اللہ! خلفائے راشدین، ابو بکر، عمر، عثمان اور علی سے راضی ہو جا۔ تمام صحابہ اور تابعین اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے راضی ہو جا۔ اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اپنا خاص فضل وکرم اوراحسان فرمان کر ہم سب سے بھی راضی ہو جا۔

No comments:

Post a Comment