Khutba03-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Tuesday, May 14, 2019

Khutba03-2019


رسم ورواج کی شرعی حیثیت

امام الحرم المکی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر صالح بن حمید d
28 ربیع الآخر 1440ھ بمطابق  4 جنوری  2019ء
حمد و ثناء کے بعد!
لوگو! میں خود کو اور آپ سب کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! اللہ سے ڈرو! جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اسے بچا کر رکھتا ہے۔ جو اسے قرض حسنہ دیتا ہے، اللہ اسے جزا دیتا ہے، جو اس کا شکر ادا کرتا ہے، اللہ اسے مزید عطا فرماتا ہے۔ تقویٰ الٰہی کو اپنا نصب العین اور دلوں کا سامان بنا لو۔ اللہ سے ڈرو! ہر ایک کو ایک دن اس کے ساتھ ضرور ملنا ہے۔ اس ملاقات سے فرار کی کوئی راہ نہیں اور اس حساب کتاب سے کوئی نجات نہیں۔ اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! یاد رکھو کہ تقویٰ ہر چیز کا نعم البدل ہے اور تقویٰ کا نعم البدل کوئی نہیں۔ تو اس کے ذریعے ہر خیر کی طرف آ جاؤ اور ہر برائی سے بچ جاؤ۔ اہل تقویٰ کو ہر شر سے بچانا اور ایسے راستوں سے رزق دینا جن کی طرف گمان بھی نہ جاتا ہو، یہ اللہ کے ذمہ داری ہے۔ اپنے دلوں میں امید کے ساتھ ساتھ خوف بھی رکھو۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’یہ لوگ نیکی کے کاموں میں دَوڑ دھوپ کرتے تھے اور ہمیں رغبت اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے، اور ہمارے آگے جھکے ہوئے تھے۔‘‘ (الانبیاء: ۹۰)
اے مسلمانو! اسلام اسی لیے نازل ہوا ہے کہ اس کے ذریعے لوگوں کو دنیا وآخرت کی بھلائیاں نصیب ہو جائیں اور ان کے سارے معاملات درست ہو جائیں۔ اس سے عقیدہ بھی درست ہوتا ہے، عبادت، معاملات، عادات، اقدار، اخلاق، معاشرتی تعلقات اور انسانی رابطے بھی درست ہو جاتے ہیں۔ اسی کی بدولت انسان کی دنیا اور آخرت کے تمام معاملات منظم ہو جاتے ہیں۔
اے مسلمانو! انسان کے کاموں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ یا تو عبادتیں کرتا ہے جن سے ان کا دین درست ہوتا ہے، یا کچھ عادات وتقالید پر عمل کرتا ہے جن سے اس کی دنیا بہتر بنتی ہے۔ عادات وتقالید کا شرعی حکم انسان کی نیت سے جڑا ہوتا ہے۔ نیت اچھی ہو تو عادات بھی اچھی، نیت بری ہو تو عادات بھی بری۔ سیدنا عمر بن خطابt سے روایت ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا:
’’اعمال کا دار ومدار نیت پر ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت کا بدلہ دیا جائے گا۔‘‘ (بخاری ومسلم)
صاحب توفیق وہ ہے جو بہترین طریقہ اپنا لے اور شاندار اخلاق پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔ رسم ورواج لوگوں کے دلوں میں رچے بسے ہوتے ہیں اور لوگوں کی زندگیوں میں وہ خون کی طرح دوڑتے ہیں۔ انہیں لوگوں کی زندگیوں سے الگ کرنا یا ختم کرنا بڑا مشکل کام ہے۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ جس چیز کا عادی ہو جاتا ہے، اسی سے وہ مانوس بھی ہو جاتا ہے اور جس چیز کو پہچاتنا ہے، اسی پر بھروسہ کرتا ہے۔
لوگوں کی عادات اور ان کے رسم ورواج ان کی زندگی کا حصہ ہوتے ہیں، ان کی تہذیب اور ثقافت کا شعار ہوتے ہیں۔ اسی لیے ہماری پاکیزہ شریعت نے رسم ورواج کو برقرار رکھا ہے اور اسے خاص اہمیت دی ہے۔ ایسے رسوم ورواج کو برقرار رکھا ہے جو اچھے اور صالح ہیں، رہی بات برے رسم ورواج کی، تو ان سے تو شریعت نے منع کیا ہے اور انہیں قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ امام شاطبیa فرماتے ہیں:
’’اگر احکام شریعت میں رسوم ورواج کا خیال نہ رکھا گیا ہوتا تو شریعت کے احکام پر عمل کرنا لوگوں کے لیے ممکن نہ رہنا۔‘‘
اے بھائیو! رسم ورواج معاشرے میں پیدا ہوتے ہیں اور معاشرتی زندگی کے نظم وضبط سے متأثر ہوتے ہیں۔ معاشرے کی اچھائی اور برائی، مالداری اور غربت، علم اور جہالت، راست بازی اور گمراہی، سب کا اثر اس کے رسم ورواج پر پڑتا ہے۔ جہاں زندگی اچھی ہو گی، وہاں اچھے رواج پیدا ہوں گے اور جہاں زندگی بری ہو گی، وہاں بری رواج عام ہوں گے۔ ہر معاشرے کی عادات اس کے حال کی عکاسی کرتی ہیں۔ وہاں کے رواج ہی بتا دیتے ہیں کہ یہ معاشرہ راست باز ہے یا گمراہ، کھلے مزاج کا ہے یا تعصب پرست۔ نیکی سے نیک عادات جنم لیتی ہیں اور جہالت سے بری عادات پیدا ہوتی ہیں۔ معاشرہ جتنا دین دار ہو گا، تربیت یافتہ ہو گا، مثقف ہو گا اور آگاہ ہو گا، اتنا ہی اس میں اچھے رسم ورواج زیادہ، اور بری عادات کم ہوں گی۔
بہترین معانی، شاندار اخلاق، عالی اقدار، عمدگی اور خود داری سے بہترین رسم وراج تشکیل پاتے ہیں۔ صحیح عقائد، دینداری، اعلیٰ ظرفی سے اور معاش، کمائی اور تعلقات کے حوالے سے بنائے جانے والے اصول سے ہی رسم رواج تشکیل پاتے ہیں۔ کبھی تو رسم ورواج، خرافات، ظلم، تعصب، تکبر، بے جا تسلط اور جہالت جیسے نا مناسب رویوں کی بنا پر بھی تشکل پا جاتے ہیں۔
عادات وتقالید اور رسم ورواج، وہاں کے لوگوں کی زندگیوں اور ان کے معاشروں کی تاریخ میں ہونے والے تجربات کی کہانی سناتے ہیں، جو مختلف واقعات، سوانح اور بدلتے حالات سے بھری ہوتی ہے۔
یاد رہے کہ رسم ورواج معاشروں پر بہت گہرا اثر رکھتے ہیں۔ یہ بناتے بھی ہیں، بگاڑتے بھی ہیں، بلندیوں پر بھی لیجاتے ہیں اور کھائیوں میں گراتے بھی ہیں، اتحاد واتفاق بھی تشکیل دیتے ہیں اور معاشروں کو بکھیر بھی دیتے ہیں۔
اے مسلمانو! رسم ورواج در حقیقت معاشرتی رویے ہیں، جن پر لوگ قائم ہو جاتے ہیں۔ ہر واقعے، موقع، خوشی اور غمی میں ان ہی کے مطابق کام کرتے ہیں۔ ان کی باتیں، ان کا تعامل، ان کا کرنا، چھوڑنا، کھانا، پینا، رہنا سہنا، لباس، بات چیت، الفاظ، تصرفات، منصوبہ بندیاں، اصول، نظام، معاملات، لینا دینا، کرائے داری، اوقاف، نذریں اور دیگر تمام کام ان کے رسوم ورواج کے مطابق ہی ہوتے ہیں۔ غرض یہ کہ لوگ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے، یا اپنے معاملات کے انتظام وانصرام یا اصلاح کے لیے جو بھی کرتے ہیں، اپنے رسم ورواج کے مطابق ہی کرتے ہیں۔
رسم ورواج میں مہمان نوازی، ضرورت مند کی مدد، اجنبی کے ساتھ تعاون اور مصیبت زدہ کی دل جوئی جیسے بلند اوصاف اور شاندار اقدار بھی تشکیل پا جاتے ہیں۔
اے مسلمانو! دین اسلام کے احکام میں لوگوں کے احوال، ان کے معروف رسم ورواج اور ان رائج عادات وتقالید کا خیال بھی رکھا گیا ہے جن سے ان کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں اور حاجتیں مکمل ہوتی ہیں۔ یہی وہ چیزیں ہیں جنہیں رسول اللہ e نے بھی لوگوں پر چھوڑ دیا تھا، تاکہ وہ ان میں وہ طریقہ اپنا لیں جس سے ان کے معاملات درست ہو جائیں، بشرطیکہ ان کے رسوم ورواج شریعت کے خلاف نہ جائیں اور کسی ظلم کی حمایت نہ کریں۔ ایسے تمام احکام نبی اکرم e کے اس فرمان کے تحت آتے ہیں کہ
’’اپنی دنیا کے معاملات تم خود بہتر جانتے ہو۔‘‘ (مسلم‘ مسند احمد اور ابن ماجہ)
اس حوالے سے قاعدہ یہ ہے کہ جو چیز بھی لوگوں میں رواج کی شکل اختیار کر جائے، لوگ اس کے عادی ہو جائیں اور اس پر سارے لوگ عمل کرنے لگیں، اور اس میں کوئی شرعی حکم موجود نہ ہو، تو اسے مذموم مقاصد اور تعصب سے دور رہتے ہوئے، شرعی مصلحت کے پیمانے سے ماپنا چاہیے۔ یعنی اگر کسی عادت اور رواج سے کوئی اہم فائدہ حاصل ہوتا ہو، یا کسی واضح شر کی روک تھام ہوتی ہو، اور وہ معاشرے میں خلل نہ پیدا کرتا ہو، تو اسے قابل قبول رواج اور صحیح عادت سمجھا جائے گا۔
اسلام نے ہر ایسے رواج کو برقرار رکھا ہے جو صالح ہو، جس میں کسی قسم کا بھی فائدہ پایا جاتا ہو اور جو احکام شریعت کے خلاف نہ ہو۔ بعض رسوم ورواج کو تو اسلام نے درست بھی کیا اور انہیں بہتر بھی بنایا۔
اللہ تعالیٰ نے مالداروں اور ذمہ داروں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
’’جو سرپرست مال دار ہو وہ پرہیز گاری سے کام لے اور جو غریب ہو وہ معروف طریقہ سے کھائے۔‘‘ (النساء: ۶)
اسی طرح والدہ کے خرچے اور نان نفقے کے بارے میں فرمایا:
’’اِس صورت میں بچے کے باپ کو معروف طریقے سے انہیں کھانا کپڑا دینا ہوگا مگر کسی پر اس کی وسعت سے بڑھ کر بار نہ ڈالنا چاہیے‘ نہ تو ماں کو اِس وجہ سے تکلیف میں ڈالا جائے کہ بچہ اس کا ہے، اور نہ باپ ہی کو اس وجہ سے تنگ کیا جائے کہ بچہ اس کا ہے‘ دودھ پلانے والی کا یہ حق جیسا بچے کے باپ پر ہے ویسا ہی اس کے وارث پر بھی ہے۔‘‘ (البقرہ: ۲۳۳)
نبی اکرم e نے شوہر کے مال کا کچھ حصہ بغیر اجازت لے لینے کے حوالے سے ہند بنت عتبہ r سے کہا:
’’معروف طریقے کے مطابق اپنی اور اپنی اولاد کی ضروریات کے لیے کافی مال لے لیا کرو۔‘‘
امام قَرَافِیa فرماتے ہیں:
’’جن احکام کی بنیاد رواج پر ہو، رواج تبدیل ہونے کے بعد بھی ان پر عمل کرتے رہنا اجماع امت کی مخالفت دین اسلام کی غیر صحیح سمجھ ہے۔‘‘
اسی طرح امام ابن فُرْحُون فرماتے ہیں:
’’جن احکام کی بنیاد رواج پر ہوتی ہے، رواج کی تبدیلی کے ساتھ وہ احکام بھی بدل جاتے ہیں اور رواج کے خاتمے کے ساتھ وہ احکام بھی ختم ہو جاتے ہیں۔‘‘
یعنی شریعت میں جو حکم بھی رسم ورواج کے تابع ہے، وہ رسم ورواج کی تبدیلی سے نئے رسم رواج کے مطابق بدل جاتا ہے۔ رسم ورواج معاشرے کی ترقی، ثقافت کی تبدیلی اور تعلیم کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں اور ان میں بھی ترقی آتی جاتی ہے۔ پھر جو چیزیں پہلے غیر مقبول تھیں، وہ قبول ہو جاتی ہیں اور جو پہلے اچھا سمجھا جاتا تھا وہ برا مانا جانے لگتا ہے۔ یہ احکام جگہ، وقت، احوال اور معاشروں کے مزاج اور اخلاق کے مطابق بدلتے رہتے ہیں۔
پرانی کہاوت ہے کہ عادات کو چھوڑ دینا، پختہ ارادے کی علامت ہے۔
اہل علم کا معروف قاعدہ ہے کہ معروف رواج، معاہدے کی شرائط کی حیثیت رکھتا ہے۔
اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! یاد رکھو کہ رسم ورواج کے حوالے سے قاعدہ یہ ہے کہ دین میں ان کی اجازت ہے۔ ان پر عمل کرنا جائز ہے۔ کبھی تو رسم ورواج فرد یا معاشرے کے لیے عبادت یا سنت بن جاتی ہیں، چاہے وہ پہلے اچھی ہوں یا بری۔
امام مسلمa نے سیدنا جریر بن عبد اللہ البجلیt سے روایت کیا ہے کہ آپ e نے فرمایا:
’’جو اسلامی معاشرے میں کوئی اچھا رواج ڈالتا، اسے اپنا اجر بھی ملتا ہے اور ان تمام لوگوں کا اجر بھی ملتا ہے جو قیامت تک اس پر عمل پیرا رہیں گے، اس سے ان لوگوں کے اجر میں بھی کوئی کمی نہیں آئے گی۔ اور جو اسلامی معاشرے میں کوئی برا رواج ڈلتا ہے، اسے اپنا گناہ بھی ملتا ہے اور ان تمام لوگوں کا گناہ بھی ہوتا ہے جو قیامت تک اس پر عمل کریں گے۔ اس سے ان کے گناہوں میں بھی کوئی کمی نہیں آتی۔‘‘
’’میں پناہ چاہتا ہوں اللہ کی شیطان مردود سے۔‘‘
دوسرا خطبہ
حمد وصلوٰۃ کے بعد!
اے مسلمانو! نیک عادات وتقالید اور اچھے رسم ورواج، قوموں کو عزت دیتے ہیں، انہیں طاقتور بناتے ہیں۔ بری عادات اور بری تقالید قوموں کو کمزور کرتی ہیں اور انہیں راہ راست سے ہٹاتی ہیں، گمراہ کرتی ہیں اور انہیں غیر مستحکم بناتی ہیں۔
دین اسلام نے بری عادات، مذموم رواجوں اور آباء واجداد کے راستے پر ڈٹے رہنے سے خبردار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا:
’’ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم اُنہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔‘‘ (الزخرف: ۲۲)
آباء واجداد کے پیچھے اندھوں کی طرح چلتے رہنے میں اندھی تقلید ہے، عقلوں کی بندش اور تعمیر وترقی کی طرف لیجانے والی آزادی کا خاتمہ ہے۔ بری عادات ہی ہوتی ہیں جن کی وجہ سے لوگ مشقت اور مشکلات میں پڑ جاتے ہیں، ان کی محنت بھی ضائع ہوتی ہے، مال بھی ختم ہوتا ہے اور وقت بھی برباد ہوتا ہے۔ ان بری عادات کو لوگ خود ہی اپنے اوپر مسلط کر لیتے ہیں اور اپنے لیے لازمی ٹھہرا لیتے ہیں، اس لیے کہ دوسرے راضی ہو جائیں اور ان کی تنقید سے بچ سکیں۔ بس اسی لیے وہ ایسی چیزوں کا بار اٹھاتے ہیں جسے اٹھانے سے وہ عاجز ہیں، ایسے کام کرتے ہیں، جو انہیں خود پسند نہیں ہوتے، نہ چاہتے ہوئے بھی اپنا مال برباد کرتے ہیں۔
شریعت کے خلاف جانے والے، عقلوں کو نقصان پہنچانے والے، صحت تباہ کرنے والے، اخلاق اور اقدار پر اثر انداز ہونے والے رواجوں کے متعلق کیا کہا جا سکتا ہے؟
عادات اور رواجوں پر سختی سے قائم رہنے والوں اور انہیں شریعت کے احکام‘ نبی اکرم e کے فرامین پر ترجیح دینے والوں کے متعلق ابن القیم a فرماتے ہیں:
’’ایسے لوگوں کی فطرت میں خرابی آ جاتی ہے، ان کے دل تاریک ہو جاتے ہیں، ان کی سمجھوں میں خرابی آ جاتی ہے، ان کی عقلوں میں برائی بھر جاتی ہے۔ پھر ایسی ہی صفات پر وہ پلتے بڑھتے ہیں اور ان کی نسلیں انہی پر بڑی ہوتی ہیں۔‘‘
معاشرے کے بعض برے رواجوں پر بھی غور کیجیے جو شادیوں، ولیموں میں اور فوتگیوں پر نظر آتے ہیں۔ جن میں بے شمار پیسے لگائے جاتے ہیں، کمر توڑ دینے والے اخراجات برداشت کیے جاتے ہیں، بلکہ قرضوں کے پہاڑ اپنے اوپر لادے جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے یہاں رشتہ داروں سے ملنا جلنا، ان کی دعوتیں قبول کرنا اورایک دوسرے کی زیارت کرنا بھی غم اور پریشانی کی وجہ بن جاتی ہے۔ خوشی اور مسرت کا سبب نہیں رہتی۔ ایک دوسرے کی زیادت تو اس لیے کی جاتی ہے کہ مانوس ہوا جائے، ایک دوسرے کے ساتھ دل لگایا جائے، بات چیت سے لطف اندوز ہوا جائے، نہ اس لیے کہ ایک دوسرے پر فخر کیا جائے، تکلف کیا جائے، زیب وزینت دکھائی جائے اور اپنی برتری ظاہر کی جائے۔ اسی وجہ سے زندگی پریشانیوں سے بھر جاتی ہے، بد حالی عام ہو جاتی ہے اور زندگی سخت بوجھ لگنے لگتی ہے۔
اے مسلمانو! ہر عقلمند کے لیے لازمی ہے اور نیک مسلمان کے لیے سب سے پہلے ضروری ہے کہ وہ ہر ایسی عادت یا رسم ورواج کو نا پسند کرے جو کہ خلاف شریعت ہو یا جو تعصب یا جاہلیت یا تفرقہ بازی اور معاشرے میں عنصریت کو فروع دیتا ہو۔ ان ساری چیزوں کو شریعت اسلامیہ کے پیمانے پر ناپا جانا چاہیے۔ تاکہ بری عادات، مذموم رواج سے دور ہونے میں کامیاب ہوا جائے اور اسلام کی گھنی چھاؤں میں آ جائے اور اس کی بلند چوٹی پر پہنچ جائے۔ نیک لوگوں کے راستے پر آ جائے، اہل عقل، اہل فضل، اہل نفاست اور بامروت لوگوں کی راہ پر چل پڑے۔
جو عادات اور رسم ورواج کو شریعت اسلامیہ اور احکام الٰہی پر مقدم کرے، یا جو شریعت اسلامیہ کے مطابق فیصلے کرانے کی بجائے رسم ورواج کے مطابق فیصلے کرنے لگے، تو وہ بہت بڑی برائی میں مبتلا ہے جو انسان شریعت اسلامیہ سے خارج بھی کر سکتا ہے۔
اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! یاد رکھو کہ جو نصیحت اور وضاحت بیان کر کے بری عادات کا مقابلہ کرتا ہے وہ در حقیقت بہترین مصلح ہے جو جاہلوں کی مروجہ برائیوں کی اصلاح کر رہا ہے۔ ایسے لوگوں کو اللہ توفیق عطا فرمائے! انہیں جاہلوں کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس راہ پر قائم رہنا بھی جہاد کی ایک شکل ہے۔ جو قدرت رکھنے کے باوجود اصلاح نہ کرے، خاص طور پر اگر وہ اہل علم اور معروف لوگوں میں سے ہو، تو وہ کوتاہی کرنے والا ہے اور گناہ کا مستحق ہے۔
اِس سے بھی برا وہ ہے جو بری عادات اور مذموم رواجوں کی تعریف کر کے عوام کی خوشنودی کا طالب بنے۔
اے اللہ! رحمتیں، برکتیں اور سلامتی نازل فرما اپنے بندے اور رسول، حبیب المصطفی، نبی مجتبیٰe پر، پاکیزہ اہل بیت پر، امہات المومنین پر۔ اے اللہ! خلفائے راشدین، ابوبکر، عمر، عثمان اور علی سے، تمام صحابہ کرام سے، تابعین عظام سے اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے راضی ہوجا۔ اے سب سے بڑھ کر کرم نوازی کرنے والے! اپنا فضل و کرم اور احسان فرما کر ہم سب سے بھی راضی ہو جا۔ آمین!

No comments:

Post a Comment

View My Stats