Khutba21-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Monday, May 20, 2019

Khutba21-2019


رمضان... خوبصورتی اور جلالت کا مہینہ

امام الحرم المکی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیسd
5 رمضان 1440ھ بمطابق  11 مئی  2019ء
حمد و ثناء کے بعد!
اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! ماہِ قرآن، ماہِ تقویٰ اور ماہِ اخلاص میں اپنی باتوں اور اپنے کاموں کو پاکیزہ کر لو۔ توبہ کر لو، اس سے پہلے کہ موت حملہ کر دے اور اس سے چھٹکارے کا کوئی راستہ نہ ملے۔
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر روزے فرض کر دیے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیا کے پیروؤں پر فرض کیے گئے تھے۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔‘‘ (البقرۃ: ۱۸۳)
تقویٰ اپنا کر اللہ کی طرف رجوع کرو۔ تقویٰ ہی آخرت کے لیے بہترین زاد راہ ہے۔ گمراہوں کا ساتھ چھوڑ دو‘ جہاں ہدایت ہو، اسی راستے پر چلو۔ تقویٰ اور زہد کے ساتھی بن جاؤ۔
اے مسلمانو! دیکھو! منافعے والے مہینے کی مہربانیوں کی چھاؤں ہم پر پڑنے لگی ہیں۔ یہ اپنے جلال وجمال کے ساتھ آ گیا ہے۔ یہ پُر عطر مہینہ ہے۔ اس کی فضیلت سب کے لیے واضح ہے۔ یہ بھلائیوں سے بھرا پڑا ہے۔ اس کی پاکیزہ کرنوں سے روشنی پھیل گئی ہے۔ اس کی خوشبو سے شہر کے شہر جھومنے لگے ہیں۔ تاریک زمانے کے آسمان پر اس کے تارے نکل آئے ہیں۔ باسلامتی اس کی کشتیاں اور کارواں لوٹ آئے ہیں۔ تاکہ یہ ہماری پیاسی روحوں پر راحت اور عمدہ رزق کی برکھا برسائے۔ تاکہ یہ ہمیں اپنے حقیقی داتا اور مولیٰ کی طرف لوٹا دے۔
اللہ اکبر! ماہ رمضان ایک الٰہی جھونکا ہے۔ جس سے مسلمانوں کی زندگی ذکر اور نیکی سے بھر جاتی ہے۔ جس سے زبانیں پیاری پیاری تلاوت میں مصروف ہو جاتی ہیں۔ جس سے نفس روزوں میں لگ جاتے ہیں اور تہجد کے نور سے منور ہو جاتے ہیں۔ یہ نفس میں سوئی ہوئی خیر کو بیدار کرنے آیا ہے۔ یہ گمراہی اور گناہوں کی راہوں کو بند کرنے آیا ہے۔ یہ نیکی کے احساس کو تازہ کرنے آیا ہے۔ یہ احسان اور خوشی کے احساسات کو جگانے آیا ہے۔ تاکہ زندگی کے بوجھ تلے دب جانے والے نفس آزاد ہو جائیں، تاکہ مادیت کی دوڑ میں تھک جانے والے لوگ سانس لے لیں۔ اس میں کان پوری توجہ کے ساتھ سننے لگتے ہیں، آنکھوں سے آنسو جاری رہتے ہیں، روح خشوع وخضوع اپنا لیتی ہے اور دل رجوع الیٰ اللہ پر راضی ہو جاتے ہیں۔ یہ ہے قبولیت کا جھونکا جو اب چل پڑا ہے۔ یہ ہے خیر کا سیلاب جو اب رواں دواں ہے۔ یہ ہے شیطان جو قید اور ملعون ہو چکا۔ سیدنا ابو ہریرہ  بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا:
’’رمضان کی پہلی رات شیطانوں اور سرکش جنوں کو قید کر دیا جاتا ہے، آگ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں، ان میں سے کوئی کھلا نہیں رہتا۔ جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، ان میں کوئی بند نہیں رہتا۔ ایک پکارنے والا پکارتا ہے: اے نیکی کرنے والے! آگے بڑھ۔ اور اے برائی کا ارادہ رکھنے والے! رک جا! اللہ تعالیٰ لوگوں کو جہنم کی آگ سے بچاتا ہے اور یہ کام ہر رات کرتا ہے۔‘‘ (ترمذی وابن ماجہ)
روزے آ گئے ہیں تو ساری خیر آ گئی ہے۔ قرآن کریم کی تلاوت آ گئی، حمد وتسبیح آ گئی۔ ہر نفس قول وعمل میں محنت کرتا ہے‘ دن میں روزے رکھتا ہے اور رات میں تراویح پڑھتا ہے۔
اے مؤمنو! اپنے مہینے کا استقبال سچی توبہ کے ساتھ بہترین انداز میں کرو، عفت اپنا کر کرو، بے قیمت چیزوں کو چھوڑ کر کرو۔
اے میری امت! اس ماہ کا استقبال پرہیزگاری کی روح سے کرو۔ اور توبہ کے اس ماہ کا استقبال کرو کیونکہ توبہ میں دیر کرنا گمراہی کا ذریعہ ہے۔
اپنے رب کی طرف رجوع کرو، کیونکہ گناہ بہت برے ہیں، ان ہی کی وجہ سے امتیں رسوا ہوتی ہیں اور ان میں بیماری آ جاتی ہے۔
اللہ کے بندو! روزہ مسلمان کو غلطیوں اور گناہوں سے بچانے والی ڈھال ہے۔ گندگی اور برائی سے بچانے والی رکاوٹ ہے۔ یہ آگ کی گرمی سے بچانے والی ڈھال ہے۔ سنو! اپنی عقل اور سمجھ کو اپنے اعضاء کی لگام بناؤ۔ انہیں اپنا محاسبہ کرنے والا بناؤ۔ تاکہ آپ کا روزہ کمی اور غلطی سے محفوظ ہو جائے۔ رسول اللہe نے فرمایا: روزہ ڈھال ہے۔ جس سے بندہ اپنے آپ کو روزے سے بچاتا ہے۔  (مسند احمد)
مگر یہ تب ہی ہو سکتا ہے جب انسان کے اعضاء بھی بڑے گناہوں اور ہلاکت خیز غلطیوں سے بچ جائیں۔ جب انسان کی زبان لغو باتوں اور بے فائدہ کلام سے محفوظ ہو جائے۔ جب زبان دوسروں پر حملوں سے محفوظ ہو جائے، جب آنکھیں حرام کی طرف دیکھنے سے رک جائیں، جب قدم برائی کی جانب اٹھنے سے باز آ جائیں، جب اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے ہاتھ کھل جائیں، جب دوسروں کو اذیت سے انسان رک جائے، جب پاکیزہ اور صاف دل اللہ کی طرف پلٹ آئیں، جب انسان سچی توبہ، اخلاص، توحید اور سنت پر قائم ہو جائے۔
اے روزہ دار، تو نے کھانا تو چھوڑ دیا، تو بھوک اور پیاس کا شکار ہو گیا۔
خوش ہو جا، کیونکہ روزِ قیامت رحمتِ الٰہی کی شکل میں تجھے عید نصیب ہو گی جس میں تیری بھلائی اور خوشی ہو گی۔
رسول اللہe نے فرمایا: عین ممکن ہے کہ کوئی روزہ دار ایسا ہو، جسے روزے سے بھوک کے سوا کچھ نصیب نہ ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی تہجد گزار ایسا ہو، جسے تہجد سے شب بیداری کے سوا کچھ نصیب نہ ہو۔ (ابن ماجہ اور نسائی)
اللہ کے بندو! روزے کا مقصد یہی تو ہے کہ نفس کو پاکیزہ کیا جائے اور اس کی تربیت کی جائے۔ اسے گندگیوں سے پاک کیا جائے۔ یہی حقیقی مقصد اور اعلیٰ ترین ہدف ہے، جسے پورا کرنے کے لیے روزے فرض کیے گئے ہیں۔ تقویٰ بھی یہی ہے: ابن القیمa فرماتے ہیں: روزہ پرہیزگاروں کی لگام ہے، مجاہدین کی ڈھال ہے، نیک لوگوں اور اللہ کی قربت پانیوالوں کی جنت ہے۔ تمام اعمال سے ہٹ کر یہ صرف اللہ کے لیے ہوتا ہے۔ یہ اللہ اور اس کے بندے کے درمیان ایک راز ہے۔ جسے اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جان سکتا، امام کمال بن ہمامa فرماتے ہیں: روزے سے برائی کا حکم دینے والا نفس رک جاتا ہے، اس سے وہ تمام اعضاء پر حملے سے باز آ جاتا ہے۔
اے امتِ صیام وقرآن! رمضان، قرآن کا مہینہ ہے۔ اس میں جبریل‘ رسول اللہe کے ساتھ قرآن کریم کا دور کیا کرتے تھے۔ صحیح روایت میں ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: روزہ اور قرآن روز قیامت بندے کے لیے سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا: اے پروردگار! میں نے اسے کھانے اور خواہشات نفس سے روکے رکھا، تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما! قرآن کہے گا: میں نے اسے رات کے وقت سونے سے روکے رکھا۔ تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما! پھر ان دونوں کی سفارش قبول کر لی جائے گی۔ (مسند احمد اور طبرانی)
یہ کتنا عظیم ماہ ہے، جس میں کرم نوازیوں کی موسلا دھار بارشیں برستی ہیں، جس میں عبادت گزاروں کے دل روشنیوں کی طرف لپکتے ہیں۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہa فرماتے ہیں: جو ہدایت کو تلاش کرنے کے لیے قرآن پر غور وفکر کرتا ہے: اسے حق کا راستہ ضرور مل جاتا ہے۔
اگر تو ہدایت کا طالب ہے تو قرآن کریم پر غور وفکر کر‘ قرآن کے تدبر میں ہی ساری بھلائیاں ہیں۔
اے مسلمانو! اے روزہ دارو! یہ بابرکت ایام محاسبۂ نفس کا بہترین موقع ہیں۔ یہ اصلاح نفس کا شاندار وقت ہے۔ کیونکہ اس مہینے میں بہت سے عظیم سبق ہیں۔ اس میں نیکی اور نیک اعمال کے میدان میں ایک دوسرے سے مقابلہ کیا جاتا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا امت دین اسلام کا روشن چہرہ دکھانے میں کامیاب ہوئی ہے، جس میں وسطیت اور میانہ روی پائی جاتی ہے، جس میں مبالغہ آرائی، انتہا پسندی اور دہشتگردی کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔ کیاامت اسلامیہ ایسی چیز کا مقابلہ کرنے میں کامیاب ہوئی ہے جو اس کی امن وسلامتی، سکون اور چین اور باہمی مودت ومحبت کی ضد میں آتی ہو؟ کیا نسل پرستی اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے یہ توانا رہی ہے؟ کیا اس نے پوری طاقت کے ساتھ ان لوگوں کا مقابلہ کیا ہے، جو اس کے اصول، ناقابل تدیل ضابطوں اور کلیات پر حملہ کرنا چاہتے ہیں؟ تو جلدی کرو، آگے بڑھو، اللہ کے دیئے ہوئے فضل وکرم کی طرف بڑھو۔ اس کے کھلے دروازے کی طرف آ جاؤ۔ اس سے پہلے کہ جسم سے روح نکل جائے۔ اس مہینے کو پیش قدمی کا مہینہ بنا لو۔ ایک دوسرے پر رحم کرو، ایک دوسرے کو معاف کرو، ایک دوسرے کے ساتھ صلح کرو۔ صلہ رحمی کرو، اپنے اوقات کی حفاظت کرو، اپنے دلوں کو ٹٹولو۔ روزے اور تہجد کے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ رمضان دین اسلام کے عظیم مقاصد کا احساس جگانے کا بہترین موقع ہے۔ دین کے مقاصد کی تکمیل میں معاشرے سبھی افراد کو برابر شریک رہنا چاہیے۔ خاندان کو، مسجد کو، مدرسے کو، یونیورسٹی کو اور سارے معاشرے کو، ذرائع ابلاغ کو اور جدید ذرائع ابلاغ کو۔ ان سب کو دین کے مقاصد حاصل کرنے میں لگانے کا اجر اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ بابِ ریان سے جنت میں داخل ہونے کا موقع مل جائے۔ مبارکباد کے لائق ہیں روزہ دار اور بشارت دینے کے قابل ہیں تہجد گزار۔
یہ امانت، پرہیزگاری اور تقویٰ کا مہینہ ہے۔ قبولیت کے متلاشی کے لیے کامیابی کا مہینہ ہے۔ مبارک باد کے قابل ہے وہ شخص جس کا روزہ درست ہو، جو صبح وشام مہیمن کو پکارتا رہے۔
سنو! اپنے رب کا شکر ادا کرو کہ اس نے آپ کو رمضان عطا فرمایا ہے۔ شکر کا ایک حصہ یہ ہے کہ اس میں کثرت سے دوسروں پر احسان کیاجائے۔ حاجتمندوں کی حاجتیں پوری کی جائیں۔ اللہ کے بندوں کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں۔
’’رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے، جو راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے، اُس کو لازم ہے کہ اِس پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو، تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، سختی کرنا نہیں چاہتا اس لیے یہ طریقہ تمہیں بتایا جا رہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے، اُس پر اللہ کی کبریا ئی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو۔‘‘ (البقرۃ: ۱۸۵)
دوسرا خطبہ
حمد وصلوٰۃ کے بعد:
بعدازاں! اللہ کے بندو! اپنی باتوں اور کاموں میں اللہ سے ڈرو! اس کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کر دو اور اس کی پیروی کرو۔ صبح وشام اسی کی فرماں برداری کرو۔ یوں آپ عزت بھی پا لو گے۔ بزرگی بھی حاصل کر لو گے۔ قائد بھی بن جاؤ گے اور کمال بھی کما لو گے۔
ایمانی بھائیو! اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! ماہِ صیام کو پیش قدمی کا مہینہ بنانا بہت اچھا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم میں سے ہر ایک اس کی بہترین تیاری کرے۔ توبہ کی تجدید کرے، کثرت سے قرآن کریم کی تلاوت کرے، اس پر غور وخوض کرے۔ دوسرے کو معاف کرے، اپنا دل صاف کر لے، حسد اور کینہ سے دور ہو جائے۔ دلوں اور سینوں کو پاک کر لے۔ لڑنے والے جنگ بندی کر لیں۔ سب مل کر قرآن وسنت پر قائم ہو جائیں۔ مسلمانوں کے بارے میں بھلا گمان رکھیں۔ صدقہ، احسان، نیکی اور بھلائی کے کام کریں۔ گھر اور فیملی کا خیال کریں۔ صلہ رحمی کریں اور رشتہ داروں کا خیال کریں۔ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو خاص توجہ دیں۔ بہترین طریقے سے ان کی تربیت کریں۔ امت کو اکٹھا کرنے کی کوشش کریں۔ اختلافات اور تفرقہ بازی سے دور ہو جائیں۔ وسطیت اور اعتدال کو فروغ دیں۔ امن وسلامتی قائم کرنے کی کوشش کریں۔ اپنی شناخت اور حب الوطنی کو بہتر کریں۔ سب مل کر ایک ہی جماعت بن جائیں۔ مسلمان جماعت اور مسلمان حکمران کے ساتھ مل جائیں۔ اپنی زندگی اور موت بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ جنت کے لیے کام کریں اور جہنم سے بچنے کی کوشش کریں۔ اپنے وقت کی حفاظت کریں۔ معاہدوں کی پاسداری کریں۔ سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور جدید میڈیا کے قوانین کی پابندی کریں۔ اس نئی ٹیکنالوجی کو دین کی خدمت اور ملک کے امن کو فروغ دینے کے لیے استعمال کریں۔ مذموم مقاصد والی افواہوں اور جھوٹے دعوؤں اور افترابازیوں سے دور رہیں۔
اللہ کے بندو! سنو! اللہ کا شکر ادا کرو، کہ اس نے آپ کو اس بابرکت شہر میں بابرکت مہینہ عطا فرمایا ہے۔ آپ رمضان المبارک کے موقع پر بیت اللہ میں موجود ہیں۔ آپ کے لیے امن وسلامتی کا بہترین اور کامل نظام تشکیل دیا گیا ہے۔ اللہ کے فضل سے جس کی بدولت آپ سلامتی اور اطمینان سے رہ سکتے ہیں۔ یہ فضل الٰہی کے بعد اس ملک کے حکمرانوں کی خاص توجہ اور نگہبانی کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ کام ان کے نامۂ اعمال میں شامل فرمائے۔ امن کی بحالی اور دوام کے لیے اپنے محافظ بھائیوں کی مدد کرو۔ یہاں ہم بڑے فخر سے اپنے فوجی جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ اپنے ان جوانوں کو جو ہماری سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔ ان کی قربانیوں پر، انکی فتح پر ہم انہیں مبارکبارد پیش کرتے ہیں۔ وہ ہمارے سروں کا تاج ہیں۔ ہماری امیدوں کا مرکز اور ہمارے فخر کا سرچشمہ ہیں۔ ہم انہیں پکارتے ہیں، بیت اللہ شریف جیسے بابرکت مقام اور بابرکت گھڑی میں۔ کہ صبر کرو۔ صبر سے کام لو۔ ثابت قدمی دکھاؤ۔ ثابت قدمی دکھاؤ۔ اللہ آپ کو جلد کامیاب فرمائے اور نصرت عطا فرمائے۔
اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! ان بابرکت دنوں میں، رحمت کے جھونکوں کے مہینے میں انکساری کے ساتھ اپنے ہاتھ اٹھاؤ اور اپنے لیے، اپنے گھر والوں کے لیے، اپنے حکمرانوں کے لیے، اپنے ملکوں کے لیے اور اپنی امت کے لیے دعائیں کرو۔ اللہ تعالیٰ سے بار بار دعا کرو۔ اسی کو پکارو اور اسی سے دعا کرو‘ وہ آپ کے کمزور اور بے سہارا، مصیبت زدہ اور مشکل میں پڑنے والے، بھائیوں کی مدد فرمائے، جو اپنے دین کی وجہ سے ہر جگہ تنگ کیے جا رہے ہیں۔ دعا کرو کہ اللہ ان کی مشکلیں آسان کرے، ان کی پریشانیاں دور فرمائے، ان کی سختیاں دور فرمائے اور ان کے معاملات درست فرمائے۔ یقینا! وہ دعا سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔ آمین!

No comments:

Post a Comment

View My Stats