Khutbat05-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Thursday, May 16, 2019

Khutbat05-2019


اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو

امام الحرم المکی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر اُسامہ خیاط d
12 ربیع الآخر 1440ھ بمطابق  18 جنوری  2018ء
حمد و ثناء کے بعد!
اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! اس دن کی رسوائی و مصیبت سے بچو، جبکہ تم اللہ کی طرف واپس ہو گے، وہاں ہر شخص کو اس کی کمائی ہوئی نیکی یا بدی کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر ظلم ہرگز نہ ہوگا۔‘‘
اللہ کے بندو! سمجھدار بندوں پر اللہ کی ایک خصوصی نعمت یہ ہے کہ انہیں اس نے کامل عقل، زندہ دل، پاکیزہ نفس اور درست رائے سے نواز رکھا ہے۔ منہج کی استقامت، اپنی خشیت کا مکمل حصہ، ہمیشہ تعظیم الٰہی کرتے رہنے کی توفیق، رضائے الہی، رحمت ربانی اور مغفرت خدا کی تلاش میں رہنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ اللہ کی تائید، توفیق اور مدد شامل حال کرنے والے اعمال پر توجہ دینے کی توفیق عطا فرمائی ہے، جن کی بدولت اہل ایمان بہترین انعام کمانے اور جنت کو پانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اہل عقل کو ان سب نعمتوں کے ساتھ ساتھ یہ نعمت بھی عطا فرمائی ہے کہ وہ اپنے اعمال کی وجہ سے کبھی نامراد یا ناکام نہیں ہوں گے۔ اُن لوگوں میں کبھی شامل نہیں ہونگے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
’’اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام و نامراد لوگ کون ہیں؟ وہ کہ دنیا کی زندگی میں جن کی ساری سعی و جہد راہِ راست سے بھٹکی رہی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں۔‘‘ (الکہف: ۱۰۳-۱۰۴)
یہی وجہ ہے کہ اہل ایمان کے قدم کبھی نہیں پھسلتے، وہ ہمیشہ تباہی سے محفوظ رہتے ہیں، بد ترین گھاٹے اور برے انجام کی طرف لے جانے والی گمراہی کی راہوں سے دور رہتے ہیں۔ ان کی واضح ترین صفت یہ ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے ہیں۔ ایسے اطاعت گزار ہیں کہ جن کی اطاعت گزاری، انہیں ایسی ہر چیز سے دور رکھتی ہے جو اطاعت گزاری کا مزا کرکرا کرنے والی ہو یا اس پر کسی طرح بھی اثر انداز ہوتی ہو، یا اسے کمزور کرنے والی، یا اس کی اہمیت گھٹانے والی یا اس کا درجہ ہی کم کرنے والی ہو۔
وہ چیز اور وہ راستہ، جس سے اہل ایمان دور رہنے اور بچنے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسولe کا مقابلہ کرنا اور ان کے احکام کے خلاف جانا۔ ہٹ دھرمی کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات کی خلاف ورزی کرنا اور گناہ کا راستہ اپنانا۔ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والے کا حال امام ابن کثیرa یوں بیان کرتے ہیں کہ ایسے لوگ ایک وادی میں ہوتے ہیں، جبکہ شریعت، ایمان اور اہل ایمان ایک دوسری وادی ہوتے ہیں۔
اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جانے کے برے نتائج سے خبردار کرنے کے حوالے سے ایک عظیم آیت بھی آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’یہ اس لیے کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسولe کا مقابلہ کیا اور جو اللہ اور اس کے رسولe کا مقابلہ کرے، اللہ اُس کے لیے نہایت سخت گیر ہے۔‘‘ (الانفال: ۱۳)
’’مگر جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے، جبکہ اس پر راہ راست واضح ہو چکی ہو، تو اُس کو ہم اُسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بد ترین جائے قرار ہے۔‘‘ (النساء: ۱۱۵)
اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جانا تو کافروں کا رویہ ہے، جو کتاب اللہ کو بھی جھٹلاتے ہیں اور رسولوں کو بھی جھٹلاتے ہیں۔ یہ رویہ فرمان برداری کے منافی رویہ ہے اور فرمان برداری اللہ کے چنیدہ بندوں اور دانش مند لوگوں کی صفت ہے۔ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جانے والوں کو رونگٹے کھڑے کر دینے  اور ڈرا دینے والی یہ سخت سزا دی جائے، جسے سن کر ہی ہر احساس رکھنے والے، عقلمند اور دل رکھنے والوں کی نیندیں اڑ جائیں۔ یہی سزا اللہ کی طرف سے عبرتناک سزا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والے اور حدوں سے گزرنے والے ہر شخص کی منتظر ہے، جو اللہ کی عزت نہیں کرتا، قرآن وحدیث میں آنے والے ڈراووں پر کان نہیں دھرتا، مثالوں سے عبرت نہیں پکڑتا، اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کے احوال سن کر سبق نہیں پکڑتا اور عبرت حاصل نہیں کرتا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے اور اپنے رسول کے خلاف جانے والوں کو دنیا کی سخت سزا اور آخرت میں بد ترین ٹھکانے کی وعید سنائی ہے۔ دنیا میں تو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی راہ پر چلنے والوں کی سزا یہ ہے کہ ان کا یہ عمل دنیا میں ان کے لیے مزیّن کر دیا جاتا ہے۔ یہ اللہ سے انہیں ملنے والی ڈھیل ہوتی ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’پس اے نبی! تم اِس کلام کے جھٹلانے والوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو ہم ایسے طریقہ سے اِن کو بتدریج تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ اِن کو خبر بھی نہ ہوگی۔‘‘ (القلم: ۴۴)
اسی طرح فرمایا:
’’پھر جب انہوں نے ٹیڑھ اختیار کی تو اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کر دیے۔‘‘ (الصف: ۵)
اسی طرح فرمایا:
’’ہم انہیں ان کی سرکشی ہی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑے دیتے ہیں۔‘‘ (الانعام: ۱۱۰)
آخرت میں ان لوگوں کی سزا یہ ہے کہ انہیں جہنم کی آگ میں پھینک دیا جائے گا، وہ اس کی گرمی میں جلتے رہیں گے اور وہاں کے عذاب کو جھیلتے رہیں گے۔ ظاہر ہے کہ جو ہدایت کے رستے کو چھوڑ دیتا ہے، قیامت کے دن اس کے لیے جہنم کے راستے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’گھیر لاؤ سب ظالموں اور ان کے ساتھیوں اور اُن معبودوں کو۔‘‘ (الصافات: ۲۲)
اسی طرح فرمایا:
’’سارے مجرم اُس روز آگ دیکھیں گے اورسمجھ لیں گے کہ اب انہیں اس میں گرنا ہے اور وہ اس سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پائیں گے۔‘‘ (الکہف: ۵۳)
اللہ کے بندو! اللہ اور کے رسول کی مخالفت سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم کی جائے، کامل ترین انداز میں اس سے ڈرا جائے۔ انسان کے دل میں خشیت الٰہی تب ہی صحیح طرح بیٹھ سکتی ہے جب وہ اس کی کامل قدرت، سخت پکڑ اور دردناک عذاب پر مکمل یقین رکھتا ہو۔
اسی طرح اس رویے سے بچنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا جائے، اس کے احکام اور تعلیمات کو مان لیا جائے، اس کی شریعت کو تسلیم کر لیا جائے اور اس کے فیصلوں کے سامنے سر جھکا دیا جائے۔ یہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر چھوٹے اور بڑے کام میں رسول اللہ e کی اطاعت بھی کی جائے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’کہو، اللہ کے مطیع بنو اور رسولe کے تابع فرمان بن کر رہو لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو خوب سمجھ لو کہ رسولe پر جس فرض کا بار رکھا گیا ہے اُس کا ذمہ دار وہ ہے اور تم پر جس فرض کا بار ڈالا گیا ہے اُس کے ذمہ دار تم ہو‘ اُس کی اطاعت کرو گے تو خود ہی ہدایت پاؤ گے ورنہ رسول کی ذمہ داری اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ صاف صاف حکم پہنچا دے۔‘‘ (النور: ۵۴)
رسول اللہ e کی اطاعت کرنے والے کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی راہ پر رکھنے کی ذمہ داری لی ہے۔ یہ ہدایت ہی ہے جو انسان کو اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جانے سے روکے رکھتی ہے بلکہ ایک مضبوط رکاوٹ بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔
ہدایت، اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہنے کا ثمرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی پکار پر لبیک کہنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:
’’اے ایمان لانے والو! اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو، جبکہ رسُول تمہیں اس چیز کی طرف بُلائے، جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے، اور جان رکھو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے۔‘‘ (الانفال: ۲۴)
اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہنے کا رویہ وہی ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رسول اللہ e نے فرمایا:
’’جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو حسب طاقت، اسے انجام دیا کرو اور جس چیز سے میں روک دوں اسے چھوڑ دیا کرو۔‘‘ (بخاری ومسلم)
رسول اللہ e نے اس حدیث میں اسی آیت کی تشریح بیان فرمائی ہے کہ
’’جو کچھ رسولe تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اس سے رک جاؤ‘ اللہ سے ڈرو، اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ (الحشر: ۷)
اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو۔ اس کے اور اس کے رسول کے خلاف جانے سے خبردارد رہو۔ خبردار ہو جاؤ، کیونکہ اس کا نتیجہ ہلاکت، ناکامی، تباہی اور گھاٹا ہی ہے۔ آخرت میں جنہم کی آگ میں گرنا اسی کا نتیجہ ہے۔
دوسرا خطبہ
حمد وصلوٰۃ کے بعد:
اللہ کے بندو! اللہ کا فرمان ہے:
’’اے ایمان لانے والو! اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جبکہ رسُول تمہیں اس چیز کی طرف بُلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے۔‘‘ (الانفال: ۲۴)
اس آیت میں عظیم معانی، کثیر فوائد، شاندار نصیحتیں اور بہترین رہنمائی پائی جاتی ہے۔ اہل علم نے ان میں سے چند فوائد پر روشی ڈالی ہے۔ علامہ عبد الرحمٰن سعدیa فرماتے ہیں:
’’اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اُس چیز کا حکم دیا جو بنیادی طور پر ان کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہیں۔ لبیک کہنے سے مراد یہ ہے کہ وہ دونوں کے احکام کو مانیں اور ان کے مطابق چلیں، ان پر عمل کرنے میں تیزی دکھائیں اور دوسروں کو بھی یہی دعوت دیں۔ اسی طرح اس آیت کے مفہوم میں یہ بھی شامل ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی سے بچا جائے، جہاں وہ روک دیں، وہاں رک جایا جائے۔‘‘
آیت میں فرمایا کہ ’’جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے، یہ تو ایسی صفت ہے جو اللہ کے ہر حکم میں لازمی طور پر پائی جاتی ہے۔ یہی اللہ کے ہر حکم کا فائدہ اور حکمت ہے۔‘‘
دل اور روح کی زندگی، اللہ کی بندگی، اس کی اور اس کے رسول کی اطاعت پر قائم رہنے ہی میں ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول کی پکار پر لبیک نہ کہنے کے انجام سے ڈراتے ہوئے فرمایا:
’’جان رکھو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے۔‘‘ (الانفال: ۲۴)
تو جب بھی اللہ کا کوئی حکم آپ کے سامنے آئے، اسے کبھی نہ ٹھکرائیے گا۔ ایسا نہ ہو کہ جب آپ اُس پر عمل کرنا چاہیں، تب آپ سے یہ توفیق چھین لی جائے۔ یا کہیں آپ کے دلوں میں اختلاف نہ پیدا ہو جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ بندے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے۔ وہ جیسا چاہتا ہے، دلوں کو پھیرتا رہتا ہے۔
چنانچہ انسان کو چاہیے وہ کثرت سے یہ دعا کرتا رہے کہ
’’اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو دین پر ثابت قدمی نصیب فرما! اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنی فرمان برداری پر لگا۔‘‘
اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہنے والے بنو۔ یہی ہلاکت اور ناکامی سے حفاظت کا ضامن عمل ہے۔

No comments:

Post a Comment