Mazmoon02-01-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Tuesday, May 14, 2019

Mazmoon02-01-2019


قرآن کریم اور تلاوت کے آداب

تحریر: جناب رانا محمد شفیق خاں پسروری
عظمت قرآن:
قرآن مجید، انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی ایک خاص نعمت ہے۔ جس میں موعظت و ہدایت، تفصیل وتکثیر انعامات الٰہی، تقرب ربانی اور کرامات کا دریا موجزن ہے۔ یہ ہر طرح سے انسان کے لیے باعث رحمت، باعث برکت، باعث مغفرت اور ہدایت کاملہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی و رضا مندی‘ برائیوں سے بچائو، اچھائیوں کی راہ، آلام و مصائب سے چھٹکارا، دکھ‘ تکلیف، رنج و کلفت سے بچائو کا طریقہ، امن و سکینت کا سبب اور رشد و ہدایت نیز انسانی فلاح و بہبود کا منبع ہے۔
انسان کو صحیح معنوں میں مسجود ملائکہ اور اشرف المخلوقات بنانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے خیر و شفاء کا یہ منبع سب نبیوں کے سردار اور رسولوں کے امام حضرت محمدe پر نازل کیا۔ اس عظیم کتاب کے تھامنے والوں کو سب امتوں سے افضل اور پڑھنے والوں کو سب انسانوں سے بہتر قرار دیا۔ یہ کتاب اللہ کے حضرت انسان اور امت مسلمہ سے حد درجہ پیار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
حضرت انسان اور مسلمان کو بھی چاہیے کہ وہ اس عظمت و رفعت کے مرکب کی کماحقہ قدر کرے اور اپنا انگ انگ اس کے حوالے کر دے۔ تبھی اس کی رحمت و برکات، مغفرت و ہدایت اور قرب الٰہی و انعامات ربانی کا حصول ہو سکتا ہے۔
قرآن مجید معبود حقیقی اور محبوب و مطلوب کا کلام خاص ہے۔ محبوب کی تقریر و تحریر کی کسی دل کھوئے کے ہاں جو وقعت ہوتی ہے اور کے ساتھ جو وارفتگی و شیفتگی کا معاملہ ہوتا ہے وہ اختیار کرنا چاہیے۔ پھر یہ عظیم کتاب تو احکم الحاکمین کا کلام اور سلطان السلاطین، بادشاہوں کے بادشاہ کا فرمان ہے۔ اس سطوت و جبروت والے شہنشاہ کا قانون ہے جس کی ہمسری نہ کسی بڑے سے بڑے سے ہوئی اور نہ ہو سکتی ہے۔ جن لوگوں کو سلاطین کے دربار سے واسطہ پڑا ہے وہ تجربے سے اور جن کو نہیں پڑا وہ اندازے سے سلطانی فرمان کی ہیبت جان سکتے ہیں۔ کلام الٰہی محبوب و حاکم کا کلام ہے۔ اس لیے دونوں آداب کا خیال رکھنا چاہیے۔ حضرت عکرمہؒ جب کلام پاک پڑھنے کے لیے کھولتے تو بے ہوش ہو کر گر پڑتے، زبان پر یہی جاری ہوتا تھا۔
[ھذا کلام ربی، ھذا کلام ربی۔]
’’یہ میرے رب کا کلام ہے، یہ میرے رب کا کلام ہے۔‘‘
یعنی اس کو ایک عام فرد کی طرح نہیں پڑھنا چاہیے۔ صرف بندہ بن کر اپنے آقا، مالک، محسن اور منعم کا کلام سمجھ کر پڑھے۔ اس کے حضور اس طرح حاضر ہو جس طرح کسی خاص تقریب میں آقا کے حضور حاضر ہے۔ اچھی طرح مسواک کر کے، وضو کر کے ایسی جگہ جہاں یکسوئی حاصل ہو، نہایت وقار اور تواضع کے ساتھ قبلہ رو بیٹھئے، نہایت حضور قلب اور خشوع کے ساتھ اس طرح پڑھیے گویا حق تعالیٰ سبحانہ کو کلام پاک سنا رہا ہے یا اس ذات برحق سے گفتگو کا شرف حاصل کر رہا ہے۔ (اگر معانی جانتا ہو تو کیا ہی خوب……!) نہایت تدبر و تفکر کے ساتھ وعدے اور رحمت و مغفرت کی آیات پر مغفرت ورحمت کا بھکاری بن جائے اور خوب دعا مانگے عذاب ووعید کی آیات پر کانپ اٹھے اور اللہ سے پناہ وبخشش کی دعا مانگے کہ اس کے سوا کوئی بھی چارہ ساز نہیں۔ جن آیات میں اللہ کی تقدیس و تحمید ہے وہاں سبحان اللہ کہے۔ تلاوت کے درمیان از خود رونا آئے تو بہت خوب ورنہ بہ تکلف رونے کی سعی کرے۔ دوران تلاوت کسی اور سے ہم کلام نہ ہو۔ دوران تلاوت اگر کوئی ضرورت پیش آئے تو تلاوت بند کر کے ضرورت پوری کرے اور پھر تعوذ پڑھ کر دوبارہ تلاوت کرے۔ بلند آواز سے پڑھنا اولی ہے لیکن کوئی نمازپڑھ رہا ہو یا لوگ مجمع میں دیگر امور میں مشغول ہوں تو آہستہ پڑھے۔
 تلاوت کے آداب:
اس کتاب کی تلاوت کے آداب جو قرآن واحادیث سے ثابت ہیں وہ درج ذیل ہیں:
1 اس عظیم کتاب کو برحق، شک و شبہ سے بالاتر اور انسان کی فلاح و خیر، رشد و ہدایت اور شفا کا باعث جاننا۔ منزل من اللہ، منزل برسول اللہ سمجھنا اور باعث ثواب و اجر قرار دینا، اس میں درج احکامات پر عمل کرنا اور تمام کے تمام پر ایمان لانا ضروری ہے اور اس کے ذریعے دنیا و آخرت کی بہتری کے لیے کوشش کرنا۔ (دنیا و آخرت کی کامیابی کا باعث قرار دے کر اس کی آیات کو لازمۂ حیات بنا لینا)
2 اس کتاب مقدس کو انتہائی پاک جگہ پر رکھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی صفت بیان کرتے ہوئے ’’مرفوعۃ مطھرۃ‘‘ کے الفاظ بیان کئے ہیں۔ یعنی بلند و پاک، سو اس کتاب مقدس کو کسی اونچی جگہ اور پاکیزہ مقام پر رکھا جائے۔ (عبس: ۱۴)
3 اس کو ناپاک ہاتھ نہ لگنے چاہئیں، جب بھی چھوا جائے باوضو ہو کر، {لَا یَمَسُّہٗ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ} (واقعہ: ۷۹) میں یہی حکم ہے۔ نیز رسول اللہe کی حدیث مبارکہ بھی ہے۔ [لا یمس القرآن الا طاھر] (کہ ہر گز قرآن کو بے وضو نہ چھوا جائے (موطا امام مالک) یہ وہ حکم نبویe ہے جو سیدنا عمرو بن حزمt کے ہاتھ یمن کے رؤسا کو بھیجا گیا تھا۔ (موطا کتاب القرآن)
4 حالت جنابت اور حیض و نفاس میں قرآن پاک کی تلاوت بھی جائز نہیں۔ سیدنا ابن عمرt سے ابودائود و ترمذی میں روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: [لا تقرا الحائض والجنب شیئا من القرآن] ’’حائضہ اور جنبی قرآن کا کچھ بھی نہ پڑھے۔‘‘ (ابوداؤد مراسیل، کتاب القرآن)
نوٹ! احکام القرآن للجصاص، تفسیر ابن کثیر، روح المعانی وغیرہ کے حوالے سے صحابہ کرام]۔ بغیر وضو کے قرآن پاک پڑھنے کو جائز سمجھتے تھے مگر چھونے کو ناروا۔ یعنی بے وضو قرآن کو چھونا نہیں چاہیے البتہ زبانی پڑھاجا سکتا ہے۔ البتہ حالت جنابت،حیض و نفاس میں زبانی بھی نہیں پڑھنا چاہیے۔ (تحت تفسیر آیت لا یمسہ الا المطہرون)
اسی طرح اگر کوئی جنبی اور حائضہ کے سامنے قرآن پاک پڑھ رہا ہو اور وہ غلطی کر جائے تو اس صورت میں غلطی کی درستی کے لیے جنبی اور حائضہ کے قرآن پاک پڑھنے کی اجازت ہے۔ ایسے ہی عام معمولات میں کلمات خیر مثلا الحمد للہ، سبحان اللہ، ان شاء اللہ وغیرہ کہنے کی بھی اجازت ہے۔
5 جب بھی قرآن پاک پڑھے بلند آواز سے پڑھے کہ اس کا سننا بھی باعث ثواب و رحمت ہے۔ اس سے یہ بھی مقصود ہے کہ اگر کوئی غلطی ہو تو کوئی سننے والا درستی کر دے۔ امام بخاریؒ نے جامع الصحیح میں باقاعدہ بلند آواز سے قرآن پاک پڑھنے کا باب باندھا ہے اور سیدنا عبداللہ بن مغفلt سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہe کو دیکھا کہ وہ اپنی اونٹنی پر سوار تھے اور لوچدار لہجے میں بلند آواز سے سورۃ فتح پڑھ رہے تھے۔ (کتاب التفسیر بخاری شریف)
6 قرآن پاک خوش الحانی اور بہترین لہجہ سے پڑھنا چاہیے۔ رسول اللہe کی حدیث مبارکہ ہے:
[حسنوا القرآن باصواتکم فان الصوت الحسن یزید القرآن حسنا]
’’کہ تم لوگ اپنی آوازوں سے قرآن پاک کو حسین بنائو کہ اچھی آواز قرآن کے حسن میں اضافہ کر دیتی ہے۔‘‘
اسی طرح بخاری شریف میں باقاعدہ خوش الحانی سے قرآن پڑھنے کا باب ہے اور حضرت ابوموسیٰؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہe نے اس کے حق میں فرمایا:
[لقد اوتیت مزمارا من مزامیر آل داؤد۔]
’’کہ مجھے حضرت دائود u کی خوش الحانی سے نوازا گیا ہے۔‘‘ (بخاری کتاب التفسیر)
7 قرآن پاک پڑھنے میں تیزی نہیں کرنی چاہیے کہ الفاظ آپس میں خلط ملط ہو جائیں اور سمجھ نہ آئے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{لَا تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ}
کہ قرآن پاک پڑھتے ہوئے جلد بازی میں زبان نہیں ہلانی چاہیے۔ (القیامۃ: ۱۶)
8 ایک ایک لفظ کھینچ کھینچ کر اور موتیوں کی صورت الگ پڑھنا چاہیے۔ ایسے جیسے ہر لفظ کا مزا لے لے کر پڑھا جائے۔ بخاری شریف میں باقاعدہ الفاظ کھینچ کر پڑھنے کا باب ہے۔ سیدنا انسt سے روایت ہے کہ رسول اللہe خوب کھینچ کر پڑھتے تھے۔
دوسری جگہ حدیث میں ہے:
[فقال کانت مداثم قراء بسم اللہ الرحمن الرحیم یمد بسم اللہ ویمد بالرحمن ویمد بالرحیم۔] (بخاری کتاب التفسیر)
’’کہ سیدنا انسt نے کہا کہ آپ کھینچ کر پڑھتے تھے پھر بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر کہا کہ بسم اللہ کو کھینچتے‘ پھر الرحمن کو کھینچتے پھر الرحیم کو کھینچتے۔‘‘
9 ترتیل سے یعنی ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا چاہیے، اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
{وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلاً} (مزمل:۴)
’’قرآن پاک کو نہایت اطمینان سے ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا چاہیے۔‘‘
بخاری شریف میں ہے کہ ایک شخص نے کہا کہ میں نے رات پوری مفصل سورتیں پڑھیں تو عبداللہ بن مسعودt نے کہا: قرآن نہیں پڑھا بلکہ یہ تو گھاس کاٹنا ہوا۔
سیدہ ام سلمہr فرماتی ہیں:
[یقطع قراتہ یقول الحمد للہ رب العالمین ثم یقف ویقول الرحمن الرحیم ثم یقف وکان یقرا مالک یوم الدین۔] (شمائل ترمذی)
’’کہ رسول اللہe ہر آیت کو الگ الگ پڑھتے تھے‘ الحمد للہ رب العالمین پڑھتے پھر ٹھہر جاتے، پھر الرحمن الرحیم پڑھتے پھر رک جاتے‘ پھر مالک یوم الدین پڑھتے۔‘‘
یعنی ہر آیت (گول دائرے) پر رکنا اور وقف کرنا ہی سنت اور ترتیل ہے۔
شاہ عبدالعزیزؒ تفسیر عزیزی میں لکھتے ہیں کہ ترتیل لغت میں صاف اور واضح پڑھنے کو کہتے ہیں اور شرع شریف میں کئی چیزوں کی رعایت سے تلاوت قرآن کو کہتے ہیں۔اول حرفوں کا صحیح طرح مخرج سے نکالنا، دوسرے (گول دائرے) آیات کے نشان پر ٹھہرنا۔ تیسرے حرکتوں میں اشباع کرنا یعنی زبر، زیر اور پیش وغیرہ اچھی طرح ظاہر کرنا، چوتھے آواز کو تھوڑا بلند کرنا، پانچویں آواز میں درد پیدا کرنا، کہ دل پر اثر ڈالے۔ چھٹے تشدید اور مد کو اچھی طرح ظاہر کرنا کہ اس کے اظہار سے عظمت کلام ظاہر ہوتی ہے اور تاثیر میں اعانت ہوتی ہے۔ ساتویں آیات رحمت و عذاب کا حق ادا کرے (جیسا کہ شروع میں گزرا اور مقصود ان ساتوں سے قرآن پاک کا فہم ہے) (تحت آیت رتل القرآن ترتیلا)
سیدنا ابن عباسw سے مروی ہے کہ ’’میں ترتیل سے القارعۃ اور اذا زلزلت پڑھنا زیادہ پسند کرتا ہوں اس سے کہ سورۃ بقرہ اور آل عمران بلا ترتیل پڑھوں۔
حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز قرآن پاک کے پڑھنے والے کو کہیں گے کہ ترتیل سے پڑھتا جا جس طرح دنیا میں پڑھتا تھا اور جنت کے درجات طے کرتا جا۔ جہاں آیات ختم ہونگی وہی تیری منزل ہے۔ (سنن اربعہ، احمد، ابن حبان باب فضائل القرآن)
گویا زیادہ بلند مقام اسی کو ملے گا جو نہایت اطمینان اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا ہے اور یہی مسنون طریقہ ہے۔
0 قرآن پاک کو جتنا بھی غور و فکر سے پڑھا جائے بہتر ہے‘ کم از کم مدت ایک ماہ میں ختم کرنا چاہیے۔ اگر مزید استطاعت ہو تو پندرہ دن میں، مزید استطاعت ہو تو سات دن میں‘ اس سے کم بالکل نہیں پڑھنا چاہیے۔
بخاری شریف میں سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاصw سے دو حدیثیں روایت ہیں جن میں ایک ماہ میں قرآن پاک پڑھنے کی اجازت، حد سات دن کا حکم ہے۔ رسول اللہe نے فرمایا:
[اقرء القرآن فی شھر قلت انی اجد قوۃ حتی قال فاقراہ فی سبع ولا تزد علیہ۔]
یعنی تم قرآن کو ایک ماہ میں پڑھو (سیدنا عبداللہt کہتے ہیں) میں نے کہا کہ میں اس سے زیادہ کی استطاعت رکھتا ہوں۔ فرمایا:
’’زیادہ سے زیادہ سات دن میں پڑھو اور سات سے کم بالکل نہیں۔‘‘ (بخاری کتاب التفسیر)
اسی وجہ سے قرآن پاک کی سات منازل بنائی گئی ہیں۔ تا کہ حفاظ و قراء ایک ہفتے میں قرآن پاک کا دور کر سکیں۔ صحابہ کرام و تابعینؒ نے روزانہ تلاوت کی ایک مقدار مقرر کی ہوئی تھی جسے حزب یا منزل کہا جاتا ہے۔ پورے قرآن کی کل سات منازل یا احزاب ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر مقدمہ)
بخاری میں روایت حدیث ہم پہلے لکھ آئے ہیں جس میں ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن مسعودt سے کہا کہ میں نے آج رات مفصل سورتیں پڑھی ہیں تو ابن مسعودt نے کہا: [ھذا کھذا الشعر] کہ یہ تو گھاس کاٹنا ہوا۔ (قرآن پڑھنا نہ ہوا) (کتاب التفسیر بخاری)
ترمذی شریف میں ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا:
[لم یفقہ من قرأ القرآن فی اقل من ثلث]
یعنی ’’جس نے تین دن سے کم میں قرآن پڑھا اس نے قرآن کو کچھ سمجھا ہی نہیں۔‘‘ (کتاب القرآن)
! قرآن پاک پڑھتے ہوئے حالت خشوع وخضوع کی ہو، خشیت الٰہی کی وجہ سے کپکپاہٹ طاری ہو تو کیا کہنا، آنکھیں اشکبار ہوں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{اِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ تَرٰٓی اَعْیُنَھُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ}
’’جب سنتے کہ جو رسول کی طرف اتارا گیا تو ان کی آنکھیں آنسو بہاتے دیکھتے ہو کہ انہوں نے حق پہچانا ہے۔ ‘‘ (المائدہ: ۵/۸۳)
بخاری شریف کتاب التفسیر باب البکاء عند قراۃ القرآن میں عبداللہ بن مسعودt سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے مجھ سے سورۃ النساء سنی تو آپ رونے لگے۔
صحابہ کرام کے متعلق خصوصاً سیدنا عمرو ابوبکرw کے بارے میں عام روایات ہیں کہ وہ بعض اوقات بے ہوش ہو جایا کرتے تھے۔
@ ریا و نمود سے الگ رہ کر محض رضائے الٰہی اور خوشنودی ربانی کے لیے قرآن پاک پڑھنا چاہیے۔ قرآن پاک میں بار ہا ریاکاری کی سختی سے ممانعت ہے اور اس سے (ریا سے) نہ صرف اعمال ضائع ہوتے ہیں بلکہ سخت سزا و عذاب بھی مقدر بنتا ہے۔ بخاری کتاب التفسیر باب ریا بقرائۃ القرآن میں ایسے قاریوں (یعنی قرآن پاک پڑھنے والوں) کے سلسلے میں احادیث آئی ہیں جو محض ریاکاری کی غرض سے تلاوت و قرات کرتے ہیں اور ان کے متعلق رسول اللہe کا فرمان ہے:
یمرقون من الاسلام کما یمرق السھم من الرمیۃ
’’کہ وہ اسلام سے ایسے نکلیں گے جیسے کمان سے تیر، اور فرمایا:
[ویقرأون القرآن لا یجاوز حناجرھم]
کہ قرآن پڑھتے ہیں مگرا ن کے حلقوں سے نیچے نہیں اترتا۔ جب بھی پڑھے دل لگا کر پڑھے، جب اکتاہٹ محسوس کرے، تلاوت روک دے۔ جی لگنے تک قرآن پاک پڑھنا ہی بہتر، صحیح اور مسنون ہے۔ بخاری کتاب التفسیر باب قراء القرآن ما التفت قلوبکم میں سیدنا جندب بن عبداللہt سے روایت ہے کہ نبی اکرمe نے ارشاد فرمایا:
[اقرؤا القرآن ما التفت قلوبکم فاذا اختلفتم فقوموا عنہ۔]
’’کہ قرآن پاک اس وقت تک پڑھو جب تک دل لگا رہے اور جب دل اچاٹ ہو تو نہ پڑھو۔‘‘
نوٹ! یہ اس لیے ہے کہ اس طرح قرآن پاک پر نہ غور و فکر، تدبر و تفکر ہو سکتا ہے نہ آیات و عدو وعید کا حق ادا ہو پاتا ہے۔ نیز اعراب و الفاظ کے خلط ملط اور غلط ہونے کا امکان بھی ہے۔ جب کہ قرآن پاک پر تدبر کا حکم ہے۔
{اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ} (اسراء: ۴۱)
$ قرآن پاک کو لازمہ حیات اور ایک معمول بنانا چاہیے کہ یہ ہر طرح انسان کے لیے فائدہ مند کتاب ہے۔
بخاری کتاب التفسیر میں باقاعدہ باب ہے: [استذکار القرآن وتعاھدہ] کہ قرآن پاک کے ہمیشہ تلاوت کرنے اور پڑھنے (ذکر بنانے) کا بیان سیدنا عبداللہ بن عمرw سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا:
[انما مثل صاحب القرآن کمثل صاحب الابل المعلقۃ ان عاھد علیھا امسکھا وان اطلقھا ذھبت۔]
’’کہ قرآن والے کی مثال بندھے اونٹ والے کی طرح ہے کہ اگر وہ اس کے گرد رہے گا تو اسے محفوظ رکھے گا ورنہ وہ بھاگ جائے گا۔‘‘
ایک اور حدیث میں فرمایا: [تعاھدوا القرآن] قرآن ہمیشہ پڑھتے رہو۔ (بکاری باب مذکور)
% جو کچھ بھی پڑھا جائے اس پر عمل کیا جائے۔ قرآن و احادیث کی تمام تر تعلیمات کا مقصد ہے عمل اور لازمہ حیات بنانا ہے، قرآن پاک کو متقیوں، مومنوں کے لیے رحمت، ہدایت، شفاء اور موعظت قرار دیا گیا ہے۔ (یونس: ۵۷، انعام: ۱۵، اعراف: ۳۲، اٰل عمران: ۱۳۸)
امام ابن کثیرؒ نے تفسیر کے مقدمہ میں ایک حدیث نقل کی ہے‘ حضرت عبدالرحمن سلمی تابعیؒ کہتے ہیں کہ جن سے (صحابہ سے) ہم نے قرآن سیکھا وہ کہا کرتے تھے کہ ہم نے رسول اللہe سے پڑھا اور جب تک ہم دس آیتوں کا علم و عمل نہ سیکھ لیتے تھے آگے نہ بڑھتے تھے۔ غرض قرآن کا علم اور عمل دونوں ہی کو سیکھا۔
^ تلاوت سے قبل [اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم] پڑھنا چاہیے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{فَاِذَا قَرَأْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم} (نحل: ۹۸)
’’جب قرآن پڑھنے لگو تو اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم پڑھ لیا کرو۔‘‘
امام ابن کثیرؒ لکھتے ہیں کہ اس سے دو فائدے حاصل ہوتے ہیں: ایک قرآن کے طرز بیان پر عمل‘ دوسرے عبادت کے بعد کے غرور کا توڑ نیز جو واہی تباہی منہ سے نکل جاتی ہے اس سے منہ پاک ہو جاتا ہے اور تلاوت کے قابل ہو جاتا ہے۔ اس طرح قرآن پاک کی تلاوت کے دوران وساوس سے بچائو بھی ہو جاتا ہے۔  علماء کرام نے تلاوت کے چھ آداب ظاہری اور چھ باطنی بیان کئے ہیں۔
آداب ظاہری:
٭      انتہائی ادب سے قبلہ رو باوضوء ہو کر پڑھیں
٭      پڑھنے میں جلدی نہ کریں۔
٭      رونے کی سعی کریں۔
٭      اگر ریا کا احتمال ہو یا کسی فرد کی تکلیف و حرج کااندیشہ ہو تو آہستہ ورنہ بلند آواز سے۔
٭      آیات عذاب پر پناہ و مغفرت طلب کریں اور آیات رحمت پر بھکاری بن جائے یعنی آیات رحمت و عذاب کا حق ادا ہو۔
٭      خوش الحانی سے پڑھیں۔
آداب باطنی:
٭      قرآن پاک کی عظمت دل میں ہو۔
٭      اللہ تعالیٰ صاحب کلام ہے کی رفعت و کبریائی دل میں ہو۔
٭      دل وساوس و خطرات سے پاک ہو۔
٭      معانی کا تدبر اور لذت کا اہتمام ہو۔ رسول اللہe نے ایک رات یہی آیت پڑھتے ہوئے گزار دی۔
{اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فِاِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَاِنْ تَغْفِرْ لَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْم} (مائدہ: ۱۱۸)
اسی طرح سعد ابن جبیرt نے یہ آیت پڑھتے ہوئے صبح کر دی۔
{وَامْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّھَا الْمُجْرِمُوْنَ} (یٰسین: ۵۹)
جن آیات کی تلاوت کر رہا ہے، دل ان کے تابع کر دے، اس طرح پڑھے گویا اللہ سے گفتگو کر رہا ہے یا اس کو سنا رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

1 comment:

View My Stats