Mazmoon02-02-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Tuesday, May 14, 2019

Mazmoon02-02-2019


سب سے پہلے سفیر

تحریر: جناب مولانا عبدالمالک مجاہد (سعودیہ)
وہ نہایت خوبصورت تھا، امیر والدین کا بیٹا تھا۔ نئی نئی پوشاکیں پہنتا، گفتگو میں اس قدر مٹھاس تھی کہ سننے والے عش عش کر اٹھتے۔ اتنا ذہین تھا اور باتیں اتنی مزیدار کرتا کہ ہر مجلس کی جان ہوتا۔ اس کے ساتھی اس کی آمد کا انتظار کرتے اور جب وہ مجلس میں بیٹھ جاتا تو سب خاموش اس کی طرف دیکھتے، اس کی سنتے اور سر دھنتے۔ اس کے دلائل بڑے وزنی اور زبردست ہوتے، کوئی اس سے گفتگو میں آگے نہیں نکل سکتا تھا۔
وہ اپنی دھن کا پکا تھا۔ سبھی جانتے تھے کہ وہ جب کوئی عزم و ارادہ کر لیتا ہے تو پھر کوئی اس کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ وہ کسی سے نہیں ڈرتا تھا، تاہم ایک ایسی شخصیت تھی جس سے وہ خوب ڈرتا تھا اور اس کے سامنے اس کی گھگھی بندھ جاتی اور یہ اس کی والدہ تھی۔ آج وہ اپنی والدہ، قریبی رشتہ داروں اور قوم کے اشراف کے سامنے کھڑا تھا، اس کی والدہ نے تھپڑ کھینچ رکھا تھا اور قریب تھا کہ اپنے بیٹے کو دے مارتی کہ اشراف میں سے ایک نے اسے منع کیا: ابھی ہم اس کو سمجھا دیتے ہیں۔ اتنا زیادہ غصہ نہ کرو، یہ سمجھ جائے گا۔
مگر یہ نوجوان ان سے مرعوب ہوئے بغیر ان کو نہایت دلنشیں انداز میں قرآن حکیم کی آیات سنا رہا تھا۔ والدہ خناس بنت مالک نے اس کو خوب سمجھایا بھی تھا، ڈرایا بھی تھا، لالچ بھی دیا تھا مگر یہ کوئی بات سننے کے لئے تیار ہی نہیں تھا۔
یہ نوجوان مکہ مکرمہ کا باسی تھا اور مؤرخین کے مطابق سب سے مہنگا اور اعلیٰ عطر استعمال کرنے والا مصعب بن عمیرt تھا، اسے اسلام کا پہلا سفیر بننے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اگر آپ سیرت پاک کا بغور مطالعہ کریں تو اللہ کے رسولe کی بے شمار خوبیوں میں ایک بات یہ بھی نمایاں تھی کہ آپe اپنے ساتھیوں سے ان کی استعداد کے مطابق کام لیتے تھے۔ جس کے اندر جو صلاحیت ہوتی، اس کے مطابق اس سے کام لیا جاتا۔
دیگر بہت سارے نوجوانوں کی طرح مصعب بن عمیرt نے بھی محمد الامین الصادق کے بارے میں سنا کہ وہ اس بات کے مدعی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پوری کائنات کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے۔
صفا پہاڑی کے دامن میں واقع دار ارقم اس دعوت کا مرکز تھا۔ لوگ وہاں جمع ہوتے، تزکیہ نفس ہوتا، قرآن سیکھا جاتا اور نمازیں ادا کی جاتیں۔ صحابہ کرامy چوری چھپے اس دعوت کو آگے پھیلا رہے تھے۔
مکہ مکرمہ اس زمانے میں کوئی بہت بڑا شہر نہیں تھا، وہاں کسی قسم کی سرگرمیاں کیسے خفیہ رہ سکتی تھیں جب کہ قریش مکہ بطور خاص مسلمانوں پر گہری نظریں رکھے ہوئے تھے۔
ایک دن عثمان بن طلحہ نے اپنی آنکھوں سے سیدنا مصعبt کو دار ارقم میں داخل ہوتے دیکھا اور پھر کسی دوسرے دن دیکھا کہ محمدe جیسی نماز پڑھ رہا ہے، ام مصعب تک یہ خبریں مسلسل پہنچ رہی تھیں۔ اس نے اپنے لخت جگر کو رسیوں سے باندھا، مارا اور سارے طریقے آزمائے، ادھر مسلمان حبشہ کی طرف ہجرت کر کے جا رہے تھے۔ سیدنا مصعبt بھی اپنی والدہ کو جل دے کر اسی قافلے میں شامل ہو گئے۔ کچھ عرصے کے بعد پھر مکہ آ گئے، عرصہ حیات تنگ ہوا تو دوبارہ حبشہ چلے گئے اور پھر ایک مختصر سی مدت کے بعد واپس مکہ مکرمہ تشریف لائے۔ ماں نے اپنی سختی برقرار رکھی اور ساری سہولتیں واپس لے لیں۔
ایک دن صحابہ کرامy اللہ کے رسولe کے گرد حلقہ بنائے بیٹھے تھے کہ سیدنا مصعبt آ گئے۔ آج ان کی پوشاک ٹاٹ کی تھی، بمشکل ستر چھپایا ہوا تھا۔ کہاں وہ خوش لباس اور مہنگا عطر استعمال کرنے والا مصعبt اور کہاں یہ حالت، صحابہ کرامy کی آہیں نکل گئیں۔ آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اللہ کے رسولe نے اپنے ساتھی کی طرف شفقت بھری نگاہوں سے دیکھا اور پھر فرمایا: میں نے مصعب کو اسلام لانے سے پہلے بھی دیکھا ہے۔ پورے مکے میں اس سے زیادہ والدین کا لاڈلا کوئی نہ تھا، ساری سہولتیں اور آسائشیں اس کو میسر تھیں مگر اس نے یہ ساری نعمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے قربان کر دیں۔
ماں نے آخری حربے کے طور پر اسے پھر قید کرنے کا پروگرام بنایا، سیدنا مصعبt نے اپنی والدہ سے صاف لفظوں میں کہہ دیا: جس کسی نے مجھے رسیوں سے باندھنے میں تمہاری مدد کی، میں اس کو قتل کر دوں گا۔
والدہ کو اپنے بیٹے کے عزم اور ارادے کا خوب اندازہ تھا۔ چنانچہ اس نے روتے ہوئے اپنے بیٹے کا راستہ چھوڑ دیا۔ بیٹے نے گھر پر الوداعی نظر ڈالی اور پھر ماں کے راستے میں کھڑا ہو گیا اور نہایت پیار سے بولا:
’’پیاری اماں! میں تمہارا نہایت ہمدرد اور خیر خواہ ہوں، بس ایک مرتبہ اپنی زبان سے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دے دو۔‘‘
ماں نے غضب ناک نگاہوں سے دیکھا اور کہا: ستاروں کی قسم! جب تک میری عقل اور ہوش و حواس کام کرتے ہیں، میں تمہارے مذہب میں کبھی داخل نہ ہوں گی۔ بیٹے کے دل پراس گفتگو کو سننے کے بعد کیا گزری ہوگی؟ پریشان حال اللہ کے رسولe کے پاس آتے اور ادھر اللہ کے رسولe اپنے اس پیارے ساتھی کو ایک ایسی ذمہ داری سونپتے ہیں جو اس سے قبل کسی کو میسر نہ آئی تھی۔ مدینہ منورہ کے کچھ لوگ مسلمان ہو چکے تھے۔ ان کی تربیت اور اسلام کی تعلیمات کو مزید پھیلانے کے لئے سفیر کی ضرورت تھی۔ چنانچہ اس عہدے کے لئے سیدنا مصعب بن عمیرt کا انتخاب کیا گیا۔
سیدنا مصعبt نے مدینہ منورہ میں سیدنا اسعد بن زرارہt کے گھر قیام فرمایا اور دونوں نے مل کر اسلام کی تبلیغ شروع کی۔ شروع میں عرض کر چکا ہوں کہ سیدنا مصعبt نہایت خوش شکل، عقل مند اور بہترین گفتگو کرنے والے تھے، چنانچہ انہوں نے اپنے اعلیٰ اخلاق سے بہت سارے لوگوں کو اسلام میں داخل کر لیا۔ ایک دن سیدنا اسعد بن زرارہt کے ساتھ مل کر بنی عبداشہل کے محلے میں تشریف لائے۔ وہاں ایک باغ کے اندر مرق نامی کنویں پر بیٹھ گئے۔ اس وقت تک اس قوم کے دو بڑے سردار سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ سعد نے اسید سے کہا:
’’دیکھو! اسعد بن زرارہ میری خالہ کا بیٹا ہے اور میں خود جانا مناسب نہیں سمجھتا۔ یہ لوگ ہمارے قبیلے کے کمزوروں کو بے وقوف بنا رہے ہیں، ذرا جا کر ان کو ڈانٹ ڈپٹ کر دو۔‘‘
اسید غصے کے عالم میں اس باغ میں پہنچ گئے اور گویا ہوئے: تم یہاں کس لیے آئے ہو؟ ہمارے کمزوروں کو بے وقوف بنا رہے ہو۔ یاد رکھو! اگر تمہیں اپنی جان کی ضرورت ہے تو ہم سے الگ ہی رہو۔
یہ کہہ کر انہوں نے اپنا شدید غصہ ظاہر کیا۔ اس قسم کی سخت گفتگو کے بعد سیدنا مصعبt نے مسکراتے ہوئے زبان کھولی: آپ ہم سے ناحق ناراض ہو رہے ہیں۔ ذرا تشریف رکھیں، ہماری بات سنیں، اگر پسند آ جائے تو قبول کر لیں، پسند نہ آئے تو چھوڑ دیں، ہم دوسرے محلے میں چلے جائیں گے۔
اسید نے کہا: یہ تم نے انصاف کی بات کہی اور بیٹھ گئے، ادھر سیدنا مصعبt نے قرآن کریم کی تلاوت اور اس کی تشریح کی اور ادھر اسید کے ذہن میں تبدیلی آنے لگی۔ ’’کتنی اچھی باتیں ہیں، کیا پیارا کلام ہے یہ!‘‘ وہ گویا ہوئے۔
یہ چند منٹوں کی بات تھی، سارا منظر تبدیل ہو چکا تھا۔ وہ درشت کلامی اب محبت بھری باتوں میں تبدیل ہو چکی تھی۔ ’’اگر اسلام قبول کرنا ہو تو اس کی شرط کیا ہے؟‘‘ سوال پوچھا گیا۔
’’بس غسل کریں، کپڑے تبدیل کریں اور کلمہ شہادت کی گواہی دیں۔‘‘ انہیں جواب ملتا ہے۔ پھر سیدنا اسیدt خود اسلام کے داعی بن گئے اور اسلام کی یہ روشنی سعد بن معاذؓ تک پہنچتی ہے، وہ بھی اسلام قبول کر لیتے ہیں اور اسی شام اس وقت ایک بہترین مفکر اور سردار سعد بن عبادہ بھی اسلام میں داخل ہو گئے۔ پھر پورے مدینے میں ایک ہی بات گشت کرنے لگی:
’’اگر ان سمجھدار، ذہین و فطین افراد اور ہمارے سرداروں نے اسلام قبول کر لیا ہے تو اس کو قبول کرنے میں ہمارے لیے کیا ممانعت ہے؟‘‘
چنانچہ اسی دن شام تک بہت سارے لوگ مسلمان ہو چکے تھے۔ اسلام کے اس پہلے سفیر نے اپنے اخلاص، اخلاق اور جدوجہد سے بے پناہ کامیابی حاصل کی۔ اگلے حج سے پہلے مکہ پہنچے اور آپe کو ساری رپورٹ پیش کی۔ قبائل کے حالات اور مدینہ منورہ کی اقتصادی و سیاسی صورت حال سے آگاہ کیا۔
اسی سال بیعت عقبہ ثانیہ ہوئی اور اللہ کے رسولe کے لیے ہجرت کی روانگی کی راہ ہموار ہوئی۔ ہجرت کے بعد غزوۂ بدر ہوا جس میں مشرکین مکہ کو شکست فاش ہوئی۔ اسلامی ریاست مضبوط ہو گئی۔ بدر میں جھنڈا انہی کے ہاتھ میں تھا۔
ابھی کچھ عرصہ ہی گزرا تھا کہ مکہ والے ایک لشکر جرار لے کر مدینہ منورہ پر حملہ آور ہوئے۔ اللہ کے رسولe نے اس موقع پر مہاجرین اور انصار کو جھنڈے عطا فرمائے۔ ان خوش قسمت لوگوں میں سیدنا مصعبt بھی شامل تھے۔ جھنڈے کا ملنا ایک بڑی سعادت ہے اور اس کی حفاظت کرنا اس سے بھی بڑی ذمہ داری! سیدنا مصعب بن عمیرt اس ذمہ داری کو خوب سمجھتے تھے۔ چنانچہ احد کے دن آپ نے اس ذمہ داری کا حق ادا کر دیا۔ مؤرخین نے اس دن سیدنا مصعبt کا کردار کچھ یوں بیان کیا ہے:
جنگ احد میں جھنڈا مصعبt کے پاس تھا۔ مسلمان جب تتر بتر ہوئے تو مصعبt ثابت قدم رہے۔ ابن قمۂ لیثی آگے بڑھا اور اس نے آپ کے داہنے ہاتھ پر زور کا وار کیا، آپ نے جھنڈا بائیں ہاتھ میں پکڑ لیا، اب اس نے بائیں ہاتھ پر تلوار کا وار کیا۔ بایاں بازو بھی کٹ گیا اور آپ یہ آیت تلاوت کر رہے تھے:
{وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ} (آل عمران:۱۴۴)
’’اور محمدe صرف اللہ کے رسول ہی ہیں، آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔‘‘
اب سیدنا مصعبt نے کٹے ہوئے بازوئوں کے بقایا حصوں کو سہارا دے کر جھنڈا اپنے سینے سے لگا لیا۔ اب کی بار اس نے نیزے سے حملہ کیا۔ آپ کی زبان پر مسلسل قرآن پاک کی آیت تھی۔
{وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ}
نیزے کی انی آپ کے سینے کے پار ہو گئی اور آپ زمین پر گر گئے اور اس کے ساتھ ہی شہید ہو گئے۔ شہادت کے وقت عمر مبارک چالیس سال تھی۔ جھنڈا زمین پر گرا تو سیدنا علیt نے آگے بڑھ کر جھنڈا سنبھال لیا۔ معرکہ ختم ہوا۔ اللہ کے رسولe دیگر صحابہ کے ساتھ شہداء کو الوداع کر رہے تھے۔ ان صحابہ میں سیدنا مصعب بن عمیرt بھی شامل تھے۔
سیدنا خباب بن ارتt نے آنسوئوں کے ساتھ ان کو یوں نذرانۂ عقیدت پیش کیا:
ہم لوگوں نے محض رضائے الٰہی کی خاطر اللہ کے رسولe کے ساتھ ہجرت کی۔ اس کا اجر و ثواب اور بدلہ یقینا اللہ تعالیٰ سے ملے گا۔ ہم میں سے کچھ ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے ہجرت کا بدلہ دنیا میں بھی پایا اور کچھ ایسے تھے جن کو کوئی مادی فائدہ دنیا میں حاصل نہ ہوا، ان میں مصعب بن عمیرt بھی شامل تھے۔ جب ان کو دفن کرنے لگے تو کفن میسر نہ تھا، ایک چھوٹی سی چادر تھی، جس کو سر پر ڈالتے تو پائوں ننگے رہ جاتے اور پائوں پر سر کاتے تو سر مبارک ننگا رہ جاتا۔
رؤف رحیم پیغمبر کو خبر دی گئی۔ آپ e تشریف لائے‘ اپنے پیارے ساتھی کی نعش پر کھڑے ہوئے۔ آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ آپe نے فرمایا:
[من المومنین رجال صدقوا ما عاھدوا اللہ علیہ، لقد رایتک بمکۃ ومابھا ارق حلۃ ولا احسن لمۃ منک، ثم ھا انت ذا، شعث الراس فی بردۃ!]
مومنوں میں کچھ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے ساتھ وعدے کو سچا کر دکھایا۔ مصعب! میں نے تمہیں مکے میں دیکھا تھا۔ تم سے زیادہ نفیس لباس اور تم سے زیادہ خوبصورت بال کسی کے نہیں تھے اور اس وقت تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم بکھرے ہوئے بالوں کے ساتھ ایک معمولی چادر میں لپٹے ہوئے ہو۔
پھر آپeنے تمام شہداء کی طرف ایک نظر ڈالی اور فرمایا: ’’اللہ کا رسول گواہی دیتا ہے کہ تم قیامت والے دن شہداء میں اٹھائے جائو گے۔
پھر آپe نے صحابہ کرام کو حکم دیا:
[غطوابھا راسہ، واجعلوا علی رجلیہ الاذخر۔]
سیدنا مصعبt کے سر کو چادر سے ڈھانک دو اور قدموں کو اذخر گھاس سے ڈھانک دو (اور پھر قبر میں دفن کر دو) t (بخاری: ۴۰۴۷، ابوداؤد: ۲۸۷۶)

No comments:

Post a Comment