Mazmoon02-03-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Tuesday, May 14, 2019

Mazmoon02-03-2019


فتنۂ انکارِ حدیث

تحریر: جناب مولانا لیاقت علی باجوہ
اللہ تعالی نے قرآن مجید کی وضاحت یعنی نبی کریمe کی حدیث کو محدثین کرامS کے ذریعہ محفوظ فرما دیا ہے اور آپ کی سنت کتب احادیث میں قیامت تک محفوظ رہے گی۔ بلاشبہ حدیث کے بغیر سنت کا پتہ نہیں چلتا اور حدیث کے بغیر قرآن کو سمجھا نہیں جاسکتا۔ اگر سنت رسول e کتب احادیث میں محفوظ نہ کی جاتی تو نزول قرآن اور بعثت رسول e کا مقصد ہی فوت ہو جاتا آج کل فتنہ انکار حدیث لوگوں کو اس بات کی طرف راغب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حدیث رسول اللہe دین میں حجت نہیں اور اگر حدیث کو چھوڑ دیا جائے تو سب ایک ہو جائیں گے ، فرقہ بندی کی اصل وجہ یہ احادیث ہی ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نبی e کی حیثیت محض ایک پوسٹ مین کی طرح تھی کہ جن کے ذریعے انسانیت کو قرآن پہنچا دیا گیا، اس سے آگے ان کی کوئی ذمہ داری نہیں تھی۔ نعوذباللہ!
 وضاحت :
فرقہ بندی کی اصل وجہ احادیث نہیں بلکہ حدیث کے نام پر گھڑی گئی جھوٹی روایات اور اکابر پرستی ہے۔ رہا معاملہ احادیث کا تو یہ اسلام میں بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں کیونکہ یہ قرآن کے احکامات کی تشریح ہیں۔ ذیل میں اس کی وضاحت کی جاتی ہے۔
اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
{بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ وَ لَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ٭}
’’روشن دلائل اور الہامی کتابوں کے ساتھ اور ہم نے نازل کیا تمہاری طرف اس قرآن کو تاکہ تم کھول کر بیان کردو انسانوں کے لئے جو انکی طرف نازل کیا گیا ہے تاکہ وہ غور و فکر کریں ۔‘‘ (النحل: ۴۴)
{ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیْہِمْ وَ یُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ۱ وَ اِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ٭}
’’وہ وہی ہے جس نے اِن بے پڑھے لکھوں میں ان ہی میں سے ایک ایسا رسول بھیجا جو کہ پڑھ پڑھ کر سناتا (سمجھاتا) ہے ان کو اس کی آیتیں اور وہ سنوارتا (نکھارتا) ہے ان کو اور سکھاتا (پڑھاتا) ہے ان کو کتاب و حکمت، جب کہ یہ لوگ اس سے قبل یقینا کھلی گمراہی میں تھے۔‘‘ (الجمعہ: ۲)
کھول کر بیان کردو سے مراد یہ ہے کہ قرآن میں جو نازل کیا گیا ہے اس کی مکمل وضاحت کردو۔ قرآن مجید میں صلوۃ کا حکم آتا ہے‘ لیکن صلوٰۃ کیا ہے، کس طرح قائم کی جاتی ہے؟ اس کا کوئی بیان نہیں۔ قرآن میں بیان کیا گیا ہے کہ صلوۃ مومنوں پر مقررہ وقت پر فرض ہے، اب یہ اوقات کون کون سے ہیں، کس کس وقت کون سی صلوۃ ادا کی جائے گی، اس کی کوئی تفصیل نہیں بیان کی گئی، قرآن میں سجدے کا ذکر ہے رکوع کا ذکر ہی، لیکن سجدہ کیا ہوتا ہے کیسے کیا جاتا ہے، رکوع کیا ہوتا ہے، رکوع کرنے والے کون ہیں اس کی کوئی وضاحت نہیں ملتی۔ اسی طرح لا تعداد معاملات ہیں کہ جن کا حکم قرآن میں موجود ہے لیکن ان کی تفصیل نہیں ملتی، چنانچہ نبیe کو اس وضاحت یعنی ان احکامات کو کس طرح بجا لایا جائے گا اس کے طور طریقے بتانے کا حکم دیا۔ نبیe نے اس کی تشریح اپنی طرف سے کی یا یہ بھی اللہ کی طرف سے تھی۔
{وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی٭ اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی٭} (النجم: ۳-۴))
’’یہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے ، یہ تو وحی ہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے ۔‘‘
کچھ افراد کا یہ بھی خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی e پر ایک ہی وحی کی گئی اور وہ یہ قرآن مجید ہے، باقی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور کوئی بات وحی نہیں کی گئی۔ اس لئے جسے آج حدیث رسولe کہہ کر پیش کیا جا رہا ہے اس پر ایمان لانا ضروری نہیں۔ یہ ایک غلط فہمی ہے‘ قرآن مجید میں موجود بہت سے واقعات ایسے ہیں جن سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس قرآن کے علاوہ بھی ان پر خفیہ وحی ہوئی ہے، مثال کے طور پر چند آیات پیش کی جاتی ہیں:
{وَ اِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰی بَعْضِ اَزْوَاجِہٖ حَدِیْثًا۱ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِہٖ وَ اَظْہَرَہُ اللّٰہُ عَلَیْہِ عَرَّفَ بَعْضَہ وَ اَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ۱ فَلَمَّا نَبَّاَہَا بِہٖ قَالَتْ مَنْ اَنْبَاَکَ ہٰذَا۱ قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ٭} (التحریم: ۳)
’’اور جب نبی نے اپنی ایک بیوی سے ایک بات راز میں کہی پھر جب وہ اس بات کی خبر (دوسری زوجہ سے) کر بیٹھیں اور اللہ نے اس (بات) کو ظاہر فرما دیا اپنے نبی پر، تونبی نے اس کا کچھ حصہ تو جتلا دیا اور کچھ سے چشم پوشی فرما لی،پھر جب نبی نے ان کو وہ بات جتلائی تو وہ کہنے لگیں کہ آپ کو اس کی خبر کس نے دی؟ تو(نبی کریمe نے جواب) میں فرمایا کہ مجھے اس ذات نے خبر دی ہے جو (سب کچھ) جاننے والی (ہر چیزسے) پوری طرح باخبر ہے ۔‘‘
یہ بات واضح ہوگئی کہ اللہ تعالی نے اس بات کو بذریعہ وحی نبیe کو بتادیا لیکن پورے قرآن میں اس وحی کے الفاظ نہیں ملتے۔
{مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَۃٍ اَوْ تَرَکْتُمُوْہَا قَآپمَۃً عَلٰٓی اُصُوْلِہَا فَبِاِذْنِ اللّٰہِ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ٭}(الحشر)
’’جو بھی کھجور کا درخت تم لوگوں نے کاٹا (اے مسلمانو!) یا اسے باقی رہنے دیا اپنی جڑوں پر تو یہ سب کچھ اللہ ہی کے حکم سے تھا اور (اللہ نے یہ حکم اس لئے دیا کہ) تاکہ وہ رسوا کرے ان بدکاروں کو۔‘‘
بنی نضیر سے غزوہ کے موقع پر کچھ درخت کاٹ دئے گئے اور کچھ کو رہنے دیا گیا، یہ اللہ کے حکم سے تھا لیکن قرآن کریم میں کہیں بھی اس کا حکم نہیں کہ کون کون سے درخت کاٹ دئے جائیں اور کون سے رہنے دیے جائیں۔ معلوم ہوا کہ وحی خفی کے ذریعے اس کا حکم دیا گیا تھا۔ واضح ہوا کہ نبیe تمام امور اللہ کی طرف سے کی گئی وحی کی بنا پر کرتے تھے، یہ وحی قرآن کے علاوہ تھی۔ لہٰذا نبیe کا ہر حکم و عمل من جانب اللہ اور اسلام میں دلیل ہے۔چنانچہ فرمایا گیا :
{وَ مَآ اٰتٰیکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ۱ وَ مَا نَہٰیکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا۱ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ۱ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ٭}
’’اور جو رسول تمہیں دے اسے لے لو اور جس چیز سے روکے اس سے رک جاو ، اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘ (الحشر)
{لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیْرًا٭} (الاحزاب: ۲۱)
’’بلاشبہ تمہارے لئے (اے لوگوں!) بڑا ہی عمدہ نمونہ ہے رسول اللہ (کی زندگی) میں یعنی ہر اس شخص کے لئے جو امید رکھتا ہو اللہ (سے ملنے) کی اور وہ ڈرتا ہو قیامت کے دن (کی پیشی) سے اور وہ یاد کرتا ہو اللہ کو کثرت سے۔‘‘
معلوم ہوا کہ نبیe کا قول و فعل اسلام میں دلیل ہے، اور ان کے زندگی گزارنے کا ایک بہترین طریقہ جس کی پیروی ہر اس شخص کو کرنی چاہیے جو اللہ کے پاس واپس جانے اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو، چنانچہ ان کی اطاعت کا حکم دیا گیا:
{وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ۱ وَ لَوْ اَنَّہُمْ اِذْ ظَّلَمُوْٓا اَنْفُسَہُمْ جَآئُوْکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰہَ وَ اسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا٭ فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا٭}
’’اور ہم نے جو بھی کوئی رسول بھیجا اس لئے بھیجا کہ اس کی اطاعت کی جائے اللہ کے حکم سے، اور اگر یہ لوگ (جنہوں نے یہ حماقت کی تھی) جب ظلم کر بیٹھے تھے اپنی جانوں پر، تو سیدھے آجاتے آپ کے پاس، اور اللہ سے معافی مانگتے (اپنے جرم کی) اور رسولe بھی ان کیلئے (اپنے رب کے حضور) معافی کی درخواست کرتے، تو یقینا یہ لوگ اللہ کو پاتے بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا، انتہائی مہربان ہے۔ پس قسم ہے تمہارے رب کی (اے نبی e) یہ لوگ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ یہ آپس کے جھگڑوں میں تمہارافیصلہ نہ مان لیں ، پھرتمہارا جو بھی فیصلہ ہو اس پر یہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ محسوس کریں اور اسے دل وجان سے تسلیم کرلیں۔‘‘ (النساء)
{قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَ یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ۱ وَ اللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ٭ قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلَ۱ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْکٰفِرِیْنَ٭} (آل عمران)
’’کہو (اے لوگو!) اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو، تو تم میری پیروی اختیار کرو، (اس وجہ سے) اللہ تم سے محبت کرے گا، اور تمہارے گناہوں کی بخشش بھی فرما دے گا، اور اللہ بڑا ہی بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔کہو، اطاعت کرو اللہ کی اور رسول کی، پھر اگر یہ لوگ منہ موڑلیں تو اللہ کافروں کوپسند نہیں کرتا۔‘‘
ملاحظہ فرمایا آپ نے کہ لوگوں پر نبیe کی اطاعت کس قدر لازم ہے؟ جو اللہ اور رسول e کی اطاعت نہ کرے اسے کافر کہا گیا ہے۔ اسی طرح جو نبیe کے کسی فیصلے کو نہ مانے یا اس طرح مانے کے اس کا دل اس پر راضی نہ ہو تو ایسے شخص کا ایمان ہی نہیں۔ کچھ افراد یہ بھی کہتے ہیں کہ اس سے مراد قرآنی آیات ہیں، لیکن اس آیت میں ان فیصلوں کا ذکر ہے کہ جو آپس کے اختلافات پر نبی e نے کئے ہوں، یعنی قول النبی e۔ سورہ آل عمران کی آیات میں ایک طرف اطاعت لازمی قرار دی گئی تو دوسری طرف ان کی اتباع (وہ پیروی جس کا حکم نہ دیا گیا ہو) کا یہ مقام بیان کیا گیا کہ اگر تم نے ایسا کیا تو اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا۔(یعنی وہ کام جن کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ نبی e نے وہ کام کئے ہوں،جیسا کہ نماز میں کہیں سے بھی قرآن پڑھ لیا جائے تو نماز ہو جاتی ہے، لیکن ایک مومن نبی e کے ذاتی عمل کو اپنا لے کہ نبی e کون کون سی نماز میں کون کون سی سورہ پڑھا کرتے تھے اور وہ بھی وہی پڑھے۔
الغرض یہ بات مکمل طور پرثابت ہو چکی ہے کہ نبیe کا قول و فعل اسلام میں دلیل اور اس کا ماننا لازم ہے۔ اللہ رب العزت کا لاکھ احسان ہے کہ اس نے ایک ایسا مکمل نظام مرتب فرمایا کہ آج ہمارے پاس یہ احادیث صحیحہ پہنچی ہیں، حدیث کے نام پر بے شمار روایات کو گھڑا گیا، لیکن اسماء الرجال کے نظام کے تحت الحمد اللہ ان سب کی حقیقت آج ہمارے سامنے آ گئی اور ہمیں معلوم ہو گیا ہے کہ کون سی روایت موضوع ، منقطع، ضعیف، غریب یا صحیح ہے۔ یہ بہت ضروری تھا کیونکہ ان گھڑی ہوئی روایات میں وہ باتیں بیان کردی گئی تھیں جو یکسر قرآن کے بیان کردہ کا انکار کرتی تھیں۔ اس بات کی وضاحت اوپر کی جا چکی ہے کہ حدیث قرآن کے علاوہ کوئی نیا دین ونظام نہیں بلکہ قرآن ہی کی تشریح ہے۔ قرآن کی تفسیر و تشریح کبھی بھی قرآن کے بیان کردہ کا انکار نہیں کر سکتی۔ سورہ تحریم میں فرمایا گیا :
{یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ٭}
’’اے نبی! کیوں حرام کر لی ہے وہ چیز جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہے۔‘‘ (التحریم)
یعنی قرآن کے بیان کردہ کو کوئی بات رد نہیں کرسکتی۔
قرآن میں اس بات کی وضاحت موجود ہے کہ ایمان والوں کے درمیان ہونے والے اختلاف کے لئے اللہ اور رسول e کی طرف رجوع کیا جائے:
{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ۱ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ۱ ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا٭} (النساء)
’’اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور جو تم میں سے صاحب امر ہوں، پھر اگر تمہارے درمیان کوئی اختلاف ہو جائے تو اس کو لوٹا دو اللہ اور رسول کی طرف، اگر تم حقیقت میں اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو، یہ اچھی بات اور انجام کے حساب سے بہتر ہے۔‘‘
اللہ اور رسول کی طرف پلٹانے کا مطلب قرآن اور حدیث کی طرف لوٹا دینا ہے ، گویاحدیث رسول e دین میں حجت ہے۔ لہٰذا کوئی بھی صحیح حدیث رد نہیں کی جاسکتی۔
اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے صحابہ کرام] نے رسول اکرم e کی احادیث حفظ کیں، پھر ان کے بعد سلف الصالح تشریف لائے اور انہوں نے یہ احادیث کتب میں مدون کردیں جو کہ صحاح‘ سنن اورمسانید کے نام سے پہچانی جاتی ہیں ۔
ان سب میں سے صحیح ترین صحیح بخاری اور صحیح مسلم ہیں‘ سنن اربعہ‘ مسند امام احمد اور موطا امام مالک وغیرہ میں بھی احادیث صحیحہ موجود ہیں ۔
 نبیؐ کی کلام حجت کیوں مانی جاتی ہے؟
نبی e کا قول، فعل، تقریر، اور صفت نقل کرنے کوحدیث کہا جاتا ہے ۔ حدیث یاتوقرآن مجید کے کسی حکم کی تاکید کرتی ہے جیسا کہ نماز ، روزہ ۔ یاپھر قرآن مجید کے اجمال کی تفصیل جیسا کہ نماز میں رکعات کی تعداد، زکاۃ کا نصاب اور حج کا طریقہ وغیرہ ۔
یاپھر ایسے حکم کوبیان کرتی ہے جس سے قرآن مجید نے سکوت اختیار کیا ہو مثلا عورت اور اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ سے اکھٹے نکاح کرنے کی حرمت (یعنی بیوی اوراس کی خالہ یا پھوپھی جمع کرنا حرام ہے)۔
اللہ تبارک وتعالی نے قرآن مجید اپنے نبی محمد e پرنازل فرمایا اورلوگوں کے لیے اسے بیان کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا :
’’ہم نے آپ کی طرف یہ ذکر اس لیے اتارا ہے کہ لوگوں کی جانب جو نازل فرمایا گیا ہے آپ اسے کھول کھول کربیان کردیں ، شائد کہ وہ اس پر غوروفکر کریں۔‘‘ (النحل)
حدیث رسول e بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
’’کہ نہ توتمہارے ساتھی نے راہ گم کی ہے اور نہ ہی وہ ٹیڑھی راہ پر ہے ، اور نہ وہ اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں ، وہ توصرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے۔‘‘ (النجم)
اللہ تعالی نے محمد e کو مبعوث اس لیے فرمایا کہ وہ لوگوں کو اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت اور اس کے علاوہ ہرایک کے انکار کی دعوت دیں، انہیں جنت کی خوشخبری اورجہنم سے ڈارنیوالا بنایا۔ اسی کے متعلق اللہ سبحانہ وتعالی فرماتے ہیں:
’’اے نبی! یقینا ہم نے ہی آّپ کو گواہیاں دینے والا ، خوشخبریاں سنانے والا ، آگاہ کرنے والا ، بنا کربھیجا ہے، اور اللہ تعالی کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا روشن چراغ بنا کربھیجا ہے۔‘‘ (الاحزاب)
نبی اکرم e اس امت کی بھلائی اورخیر پر بہت زیادہ حریص تھے ، جو بھی خیراور بھلائی کی بات تھی اسے اپنی امت تک پہنچایا اور جس میں شرونقصان تھا اس سے امت مسلمہ کوبچنے کا کہا، اسی چیزکی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
’’تمہارے پاس ایک ایسے رسول آئے ہیں جوتمہاری جنس سے ہیں جنہیں تمہیں نقصان دینے والی بات نہایت گراں گزرتی ہے، جوتمہاری منفعت کے بڑے خواہشمند رہتے ہیں، ایمانداروں کے ساتھ بڑے ہی شفقت اورمہربانی کرنے والے ہیں۔‘‘ (التوبہ)
ہرنبی خاص کرصرف اپنی قوم کی طرف ہی بھیجا جاتا تھا ، اوراللہ تعالی نے اپنے رسول محمد e کو سب لوگوں کے لیے رحمت بنا کربھیجا ، اس کا ذکراس طرح فرمایا ہے :
’’اورہم نے آپ کوتمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔‘‘ (الانبیاء)
جب رسول اکرم e اپنے رب کی طرف سے نازل کردہ وحی کے مبلغ ہیں توان کی اطاعت وفرمانبرداری کرنا واجب ہے بلکہ رسول اللہ e کی اطاعت تواللہ تعالیٰ کی ہی اطاعت ہے :
’’جس نے بھی رسول (e) کی اطاعت کی وہ حقیقتاً اللہ تعالی کی اطاعت کرتا ہے۔‘‘ (النساء)
اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم e کی اطاعت ہی نجات وکامیابی اور دنیاوآخرت کی سعادت کا را ہے، اللہ تبارک وتعالی کافرمان ہے:
’’جو بھی اللہ تعالی اوراس کے رسول کی اطاعت کرے گا اس نے عظیم کامیابی حاصل کرلی۔‘‘ (الاحزاب)
توسب لوگوں پر اللہ تعالی اور اس کے رسول e کی اطاعت واجب ہے اس لیے کہ اسی میں ان کی فلاح وکامیابی ہے :
’’اللہ تعالی اوراس کے رسول کی اطاعت تاکہ تم پررحم کیا جائے۔‘‘ (آل عمران)
اب جوبھی اللہ تعالی اوراس کے رسول e کی نافرمانی ومعصیت کرے گا اس کا نقصان اوروبال اس پرہی ہوگا وہ اللہ تعالی کا کوئی نقصان نہیں کرسکتا ۔
فرمان باری تعالی ہے:
’’اورجوشخص اللہ اوراس کے رسول (e) کی نافرمانی کرے اور اس کی مقررکردہ حدوں سے آگے نکلے اسے اللہ تعالی جہنم میں ڈال دے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ایسے لوگوں کے لیے رسواکن عذاب ہے۔‘‘ (النساء)
جب اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول e کسی معاملہ کا فیصلہ کردیں تو کسی کے لیے جائزنہیں کہ وہ اسے اختیارکرے یا چھوڑ دے بلکہ اس پرایمان اورحق کی اطاعت واجب ہے۔ اسی کے بارہ میں اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
’’کسی مومن مرد وعورت کو اللہ تعالی اور اس کے رسول کے فیصلہ کے بعد اپنے کسی امر کا کوئی اختیارباقی نہیں رہتا ، اللہ تعالی اور اس کے رسول کی جو شخص بھی نافرمانی کرے گا وہ صریحا گمراہی میں ہے۔‘‘ (الاحزاب)
بندے کا ایمان اس وقت تک کامل ہی نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ اوراس کے رسولe سے سچی محبت نہ رکھے اوراس محبت کے لیے اطاعت لازمی ہے ۔
جوشخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالی اس سے محبت کرے اور اس کے گناہ معاف کردے تووہ رسول اکرمe کی اطاعت کرے:
’’کہہ دیجئے! اگرتم اللہ تعالی کی محبت رکھتے ہوتومیری اتباع واطاعت کرو ، خود اللہ تعالی بھی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور اللہ تعالی بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ (آل عمران)
رسول اکرم e سے محبت صرف کلمات ہی نہیں جنہیں بار بار زبان پرلاکرمحبت کا اظہار کیا جائے بلکہ یہ ایک عقیدہ اورمنہج ہے جس کا معنی نبی e کے حکم کی اطاعت اور جوکچھ انہوں نے بتایا اس کی تصدیق اور جس سے روکا اوربچنے کا کہا ہے اس سے رکنا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت صرف مشروع طریقے سے کرنا ہے۔
جب اللہ تعالیٰ نے اس دین کی تکمیل کردی اور رسول اکرم e نے اپنے رب کی رسالت لوگوں تک کماحقہ پہنچا دی تو اللہ تعالی نے رسول اکرم e کواپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرماتے ہوئے انکی روح قبض کرلی۔
رسول اکرم e نے اپنی امت کوایک صاف شفاف دین پرچھوڑا‘ اس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے تو جو بھی اس راہ اوردین سے ہٹے گا وہ ہلاکت میں ہے ، اسی کا اشارہ کرتے ہوئے رب العزت کا فرمان ہے:
’’آج میں نے تمہارے لیے اپنے دین کوکامل کردیا اور تم پر اپناانعام پورا کردیا اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پرراضی ہوگیا۔‘‘ (المائدۃ)
اللہ تعالی کے فضل وکرم سے صحابہ کرام] نے رسول اکرم e کی احادیث حفظ کیں ، پھران کے بعد سلف الصالح تشریف لائے اور انہوں نے یہ احادیث کتب میں مدون کردیں جو کہ صحاح‘ سنن اورمسانید کے نام سے پہچانی جاتی ہیں۔
ان سب میں سے صحیح ترین صحیح بخاری اور صحیح مسلم ہیں۔ سنن اربعۃ‘ مسند امام احمد اور موطا امام مالک وغیرہ میں بھی احادیث صحیحہ موجود ہیں ۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے اس دین کومکمل فرما دیا، اوررسول اکرم e نے جوبھی بھلا اورخیرمعلوم کی اسے اپنی امت تک پہنچا دیا اور جوبھی شرونقصان والی اشیاء کا ان کے پاس علم آیا اس سے اپنی امت کوبچنے کا حکم دیا، اب جوبھی اللہ تعالیٰ کے دین میں کوئی بدعت اورخرافات وغیرہ ایجاد کرتا ہے تو اس کا وہ کام مردود ہے مثلا:
مردوں سے مانگنا اور قبروں کا طواف کرنا، جنوں سے مدد مانگنا اور انہیں پکارنا، اسی طرح اولیاء سے مدد طلب کرنا وغیرہ یہ سب کچھ غیر شرعی اور مردود فعل ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول e نے مشروع نہیں کیے جیسا کہ رسول اکرم e نے فرمایا ہے:
’’جس نے بھی ہمارے اس دین میں کوئی نیا کام نکالا جواس میں سے نہیں تووہ مردود ہے۔‘‘ (صحیح مسلم۔ دیکھیں کتاب: اصول الدین الاسلامی تالیف الشیخ محمد بن ابراھیم التویجری۔)
انکار حدیث کے فتنے کی ابتدا امام شافعیa کے دور میں ہوئی تھی‘ امام شافعیa نے ایسے افراد سے مناظرے بھی کیے تھے‘ برصغیر میں بیسویں صدی عیسوی کے شروع میں عبداللہ چکڑالوی نے اس نظریہ کو متعارف کروایا۔

No comments:

Post a Comment