Mazmoon02-04-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Tuesday, May 14, 2019

Mazmoon02-04-2019


مسجد میں داخل ہوتے وقت کی دعا (دوسری وآخری قسط)

’’بسم اللہ والصلوٰۃ والسلام علی رسول اللہ‘‘

کے الفاظ کا تحقیقی جائزہ

تحریر: جناب پروفیسر حافظ محمد شریف شاکر
السنن الکبریٰ للنسائی کی حدیث:
امام نسائیa نے اس موضوع پر تین احادیث تخریج کی ہیں:
[حدیث ۹۸۳۸:  اخبرنا محمد بن بشار قال حدثنا ابوبکر قال حدثنا الضحاک قال: حدثنی سعید المقبری عن أبی ھریرۃؓ أن رسول اللّٰہ قال:  إذَا دَخَلَ اَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَلْیُسَلِّمْ عَلَی النَّبِیِّ وَلْیَقُلْ: ’اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ‘، وَاِذَا خَرَجَ فَلْیُسَلِّمْ عَلَی النَّبِیِّ: وَلْیَقُلْ: ’اَللّٰھُمَّ بَاعِدْنِیْ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔‘] (النسائی، احمد بن شعیب ، ابوعبدالرحمن: السنن الکبرٰی، (تحقیق: حسن عبدالمنعم شلبی): مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت: ۱۴۲۱ھ/۲۰۰۱ء: ص۹/۴۰)
’’سعید مقبری (a) نے سیدنا ابوہریرہ (t) سے روایت کیا کہ بلاشبہ رسول اللہ e نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو نبی e پر سلام پڑھے اور کہے :’’ اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔‘‘اور جب (مسجد سے) نکلے تو نبی e پر سلام بھیجے اور کہے: ’’اے اللہ! مجھے شیطان سے دور کردے۔‘‘
امام نسائیa مذکورہ بالا حدیث ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
[خالفہ محمد بن عجلان، رواہ عن سعید المقبری عن أبی ھریرۃؓ عن کعب قولہٗ۔]
’’محمد بن عجلان نے اس (ضحاک) کی مخالفت کی، اس نے یہ سعید مقبری سے (اس نے) ابوہریرہt سے، (اس نے) کعب سے، اس(کعب) کا(یہ اپنا) قول روایت کیا ہے۔‘‘
کعب کایہی قول درج ذیل حدیث نمبر۹۸۳۹میں روایت کیا گیا ہے:
[حدیث ۹۸۳۹:  اخبرنا قتیبۃ بن سعید، قال حدثنا اللیث عن ابن عجلان عن سعید المقبری عن أبی ھریرۃؓ أن کعب الاحبار قال: یا ابا ھریرۃ، احفظ منّی اثنتین، أوصیک بھما اذا دَخَلت  الْمَسْجِدَ فَصَلِّ عَلَی النَّبِیِّ وَقُلْ: ’اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ‘، وَاِذَا خَرَجتَ من المسجد فَصَلّ عَلَی النَّبِیِّ: وَقُلْ: ’اَللّٰھُمَّ احْفَظْنِیْ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔‘]۔ (السنن الکبریٰ للنسائی:ص۹/۴۰)
’’سعید مقبری (a) نے ابوہریرہ (t)سے روایت کیا کہ بلاشبہ کعب احبار نے کہا: اے ابوہریرہ! مجھ سے دو چیزیں یاد کرلو! میں ان دونوں کی آپ کو وصیت کرتا ہوں: جب آپ مسجد میں داخل ہوں تو نبی e پر صلاۃ بھیجئے اور کہیے: اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیجئے! اور جب آپ مسجد سے نکلیں تو نبی e پر صلاۃ بھیجئے اور کہئے : اے اللہ! مجھے شیطان سے محفوظ کردے۔‘‘
 تعلیلی جائزہ:
مذکورہ بالا حدیث نمبر۹۸۳۹میں ابن عجلان سے روایت کرنے والا راوی لیث (ابن ابی سعید) کوفی ضعیف ہے، اس کا تذکرہ ہمارے اس مقالہ کے حوالہ نمبر۱۱،۱۲،۱۳ میں تفصیلاً کردیا گیا ہے۔ امام نسائیa نے بھی اسے ضعیف کہا ہے۔ (النسائیـ: کتاب الضعفاء والمتروکین (تحقیق: محمد ابراہیم زاید): مع (کتاب الضعفاء الصغیر لمحمد بن اسماعیل البخاری ): دارالمعرفۃ ، بیروت: ۱۴۰۶ھ/۱۹۸۶ء: ص۲۳۰)
حدیث ۹۸۴۰ کو امام نسائیa نے [عن ابن ابی ذئب عن سعید بن ابی سعید المقبری عن أبیہ عن أبی ھریرۃؓ] کی سند سے روایت کیا ہے ، اس حدیث میں کعب الاحبار کی دونوں وصیتوں کا ذکر کرنے کے بعد کعب کے یہ الفاظ مذکور ہیں:
[اذا دَخَلت  الْمَسْجِدَ فَسَلّم عَلَی النَّبِیِّ وَقُلْ: ’اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ‘، وَاِذَا خَرَجتَ فَسَلّم عَلَی النَّبِیِّ: وَقُلْ: ’اَللّٰھُمَّ احْفَظْنِیْ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ‘]۔ (النسائی: السنن الکبرٰی: ص۹/۴۰)
’’(اے ابوہریرہ!)جب آپ مسجد میں داخل ہوں تو نبی e پر سلام پڑھئے اور کہیے: اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے! اور جب آپ (مسجد سے) نکلیں تو کہیں : اے اللہ! مجھے شیطان سے محفوظ کردے۔‘‘
تعلیلی جائزہ:
ابوعبدالرحمن (یعنی امام نسائی) نے سعید مقبری کے بارے میں کہا کہ ابن ابی ذئب ہماے ہاں محمد بن عجلان سے اور ضحاک بن عثمان سے اثبت ہے ، اور اس کی (روایت کردہ) حدیث ہمارے ہاں زیادہ بہتر ہے۔ سعید مقبری کی (روایت کردہ) احادیث ، ابن عجلان پر مخلوط ہوگئی ہیں: 1جیسے سعید نے اپنے باپ سے ، اس نے ابوہریرہt سے روایت کیا، اور 2جیسے سعید نے اپنے بھائی سے، اس نے ابوہریرہt سے روایت کیا، اور 3ان دونوں (سعید کے باپ اور بھائی) کے علاوہ سعید کے مشائخ (سے روایت کردہ) تمام احادیث کو ابن عجلان نے ’’سعید عن ابی ہریرہ‘‘ سے روایت کردیا۔ (النسائی: السنن الکبرٰی: ص؟)
البحر الزخار المعروف بمسند البزار:
امام ابوبکر بزارa۲۹۲ھ) نے اس موضوع پر دو حدیثیں تخریج کی ہیں:
[حدیث ۳۷۲۰: حدثنا نصر بن علی ومحمد بن یحیی بن الفیاض، واللفظ لمحمد بن یحییٰ قالا: حدثنا عمارۃ بن غزیۃ عن ربیعۃ بن ابی عبدالرحمان عن عبدالملک بن سعید قال: سمعت ابا حمید أو أبا اسید یقول: قال رسول اللّٰہ: إذَا دَخَلَ احدکم المسجد فَلیقل: ’اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ‘، وَاِذَا خَرَجَ فَلْیَقُلْ: ’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِک‘۔] (البزار، احمد بن عمرو ، ابوبکر: البحر الزخّار المعروف بمسند البزار (تحقیق: الدکتور محفوظ الرحمن زین اللّٰہ): مکتبۃ العلوم والحِکَم، المدینۃ المنورۃ: الطبعۃ الاولیٰ ۱۴۰۹ھ/۱۹۸۸ء: ص۹/۱۷۰)
ہمیں نصر بن علی اور محمد بن یحییٰ بن فیاض نے حدیث بیان کی ، اور(یہ) لفظ محمد بن یحییٰ کے ہیں ، دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ، عمارہ بن غزیہ نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمن سے ، اس نے عبدالملک بن سعید سے ، اس نے کہا کہ میں نے ابو حمید یا ابو اُسید سے سنا وہ کہتا ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا:  جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو کہے : ’’اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔‘‘اور جب (مسجد سے) نکلے تو کہے: ’’اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں۔‘‘
امام ابوبکر بزارaاس پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جو اس سند سے حسن تر سند کے ساتھ رسول اللہ e سے یہ حدیث روایت کرتا ہو، رسول اللہ e سے (یہ حدیث) کئی طرق سے روایت کی گئی ہے۔ ہم نے یہ حدیث عمارہ بن غزیہ کی علت کی وجہ سے ذکر کی ہے اور ہم نے یہ حدیث ابو حمید اور ابو اسید(دونوں) سے روایت کی ہے ، (جو درج ذیل ہے)اگرچہ یہ (حدیث) ان دونوں (صحابہ ابو حمید اور ابو اسید) کے سوا سے (بھی) روایت کی جاتی ہے۔‘‘
[حدیث ۳۷۲۱: وحدثنا محمد بن مثنّٰی قال: نا عبدالملک ابوعامر قال:  نا سلیمان بن بلال عن ربیعۃ عن عبدالملک بن سعید عن ابی حمید و أبی اسید عن النبی بنحوہ۔] (البزار: نفس المرجع)
’’اور یہی حدیث ہمیں محمد بن مثنیٰ نے روایت کی ، اس نے کہا کہ ہمیں عبدالملک ابوعامر نے حدیث روایت کی ، اس نے کہا کہ ہمیں سلیمان بن بلال نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمن سے ، اس نے عبدالملک بن سعید سے ، اس نے ابو حمید اور ابواُسید (دونوں)سے (ان دونوں نے) نبی  e سے اس جیسا (متن حدیث) روایت کیا۔‘‘
تعلیلی جائزہ:
مسند بزارکی حدیث نمبر۳۷۲۰ میں عمارہ بن غزیہ نے ربیعہ سے روایت کرتے ہوئے ابو حمید یا ابو اسیدروایت کردیا، جب کہ حدیث نمبر۳۷۲۱میں سلیمان بن بلال نے ربیعہ سے روایت کرتے ہوئے ’’ابو حمید اور ابو اسید‘‘ روایت کیا۔ امام ابوبکر بزارaنے عمارہ بن غزیہ کی روایت کو معلول قرار دیا جب کہ اس کے مقابلہ میں ربیعہ سے سلیمان بن بلال کا ’’عن ابی حمیدوابی اسید‘‘ روایت کرنا زیادہ صحیح ہے۔
صحیح مسلم کی حدیث:۱۶۵۲:
[حدثنا یحیی بن یحیی اخبرنا سلیمان بن بلال عن ربیعۃ بن ابی عبدالرحمان عن عبدالملک بن سعید عن ابی حمید أو أبی اسید قال: قال رسول اللّٰہ: إذَا دَخَلَ احدکم المسجد فَلیقل: ’اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ‘، وَاِذَا خَرَجَ فَلْیَقُلْ: ’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِک‘۔]
’’رسول اللہ e نے فرمایاکہ تم میں سے جب کوئی مسجد میں داخل ہو تو کہے : ’’اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔‘‘اور جب (مسجد سے) نکلے تو کہے: ’’اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں۔‘‘
امام مسلمaفرماتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن یحییٰ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے یہ حدیث سلیمان بن بلال کی کتاب سے لکھی ہے ، اورکہا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ یحییٰ حمانی ’’وابی اسید‘‘ کہتے ہیں ۔ (القشیری ، النیشابوری ،مسلم بن الحجاج ،ابوالحسین، الامام:  صحیح مسلم ، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا، باب ما یقول اذا دخل المسجد:حدیث۱۶۵۲(۳۱۷): دارالسلام ،الریاض: ۱۴۱۹ھ/۱۹۹۸ء : ص۲۸۹)
امام مسلمaفرماتے ہیں :
[وحدثنا حامد بن عمر البکراوی : حدثنا بشر بن المفضل حدثنا عمارۃ بن غزیۃ عن ربیعۃ بن ابی عبدالرحمان عن عبدالملک بن سعید بن سوید الانصاری ، عن ابی حمید أو عن أبی اسید عن النبی بمثلہ۔] (نفس المرجع: حدیث۱۱۶۵۳: ص۲۹۰۔ الاصبہانی، احمد بن عبداللہ، ابو نعیم:  المسند المستخرج علی صحیح الامام مسلم، (تحقیق: محمد بن محمد بن اسماعیل الشافعی)، حدیث۱۶۰۶: دارالکتب العلمیہ، بیروت:ص۲/۳۰۸۔ حافظ ابن حجر عسقلانی :نتائج الافکار فی تخریج احادیث الاذکار: (تخریج: محمد علی سمک): مکتبۃ عباس احمد الباز، مکۃ المکرمۃ: ۱۴۲۱ھ/۲۰۰۱ء: ص۱/۲۰۰،۲۰۱)
صحیح مسلم کی مندرجہ بالا حدیث نمبر۱۶۵۲ میں امام مسلم کے استاد یحییٰ بن یحییٰ کے استاد سلیمان بن بلال ہیں جب کہ حدیث نمبر۱۶۵۳ میں امام مسلم کے استاد حامد بن عمر البکراوی کے استاد بشر بن المفضل ہیں۔
حدیث ۱۶۵۲ سلیمان بن بلال نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمن کے واسطہ سے عبدالملک بن سعید سے روایت کی، جب کہ حدیث ۱۶۵۳ بشر بن مفضل نے (یہ حدیث) عمارہ بن غزیہ سے (اس نے) ربیعہ بن ابی عبدالرحمان کے واسطہ سے عبدالملک بن سعید سے روایت کی ، دونوں حدیثوں کا متن یکساں ہے ، لیکن سند میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے ، جس کا تذکرہ ’’معرفت علل حدیث‘‘ اور جرح وتعدیل کے عظیم امام ابوزرعہ رازی (م ۲۶۰ھ) نے کیا ، جسے ان کے شاگرد رشید امام ابن ابی حاتم رازی (م ۳۲۷ھ) یوں نقل کرتے ہیںکہ ابوزرعہ سے اس حدیث کے بارے سوال کیا گیا جسے ربیعہ بن ابی عبدالرحمان نے روایت کیا تو اس سے اختلاف کیا گیا: 
[بشر بن مفضل، عن  عمارۃ  بن  غزیۃ  عن ربیعۃ عن عبدالملک بن سعید بن سویدالانصاری، عن ابی حمید الساعدی عن  ابی اسید الساعدی عن النبی اَنّہ قال:  اذا دخل احدکم المسجد فلیُسَلّم ولیقل: ’اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ‘، وَاِذَا خَرَجَ فَلْیَقُلْ: ’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِک۔‘] روایت کیا۔
اور سلیمان بن بلال نے اس حدیث کو
[عن ربیعۃ بن عبدالملک ابن سعید بن سوید عن ابی حمید و أبی اسید عن النبی]
روایت کیا ہے۔امام ابوزرعہ نے فرمایا کہ (یہ حدیث) ابو حمید اور ابو اسید سے مروی ہے اور دونوں کا نبیe سے روایت کرنا زیادہ صحیح ہے۔ اور(ابوزرعہ نے کہا کہ) ہمیں یونس بن عبدالاعلیٰ نے ’’قراء علیہ‘‘ (’’قراء ۃ علیہ‘‘: کا مفہوم یہ ہے کہ شاگرد استاد کے سامنے حدیث پڑھے اور استاد سنے ، جیسے آج کل مدارس میں ایک شاگرد پڑھتا ہے اور استاد ودیگر طلبہ سنتے ہیں۔)
خبر دی کہ آپ (یعنی یونس بن عبدالاعلیٰ )پر
[عن ابن وھب عن یحیی بن عبداللّٰہ بن سالم عن عمارۃ بن غزیۃ عن ربیعۃ عن عبدالملک بن سعید بن سوید عن ابی حمید و أبی اسید عن النبی ]
پڑھا گیا، جیسا کہ (اس حدیث کو) سلیمان بن بلال نے روایت کیا ،تو اس سے ثابت ہوا کہ خطا بشر بن مفضل کی طرف سے ہے۔ (الرازی ، عبدالرحمان الرازی بن الامام ابی حاتم محمد بن ادریس: معرفۃ علل الحدیث: المکتبۃ الاثریۃ: سانگلہ ہل: سن ندارد: ص ۱/۱۷۸،۱۷۹)
امام ابو زرعہ aنے سند کے جس اختلاف کا ذکر کیا ، وہ تین طرح کاہے:
1      ’’عبدالملک بن سعید عن ابی حمید او ابی اسید‘‘ یعنی (یہ حدیث) عبدالملک بن سعید نے ابو حمید سے یا ابواسید سے روایت کی۔
2      ’’عبدالملک بن سعید بن سوید الانصاری عن ابی حمید الساعدی عن ابی اسید الساعدی‘‘ یعنی (یہ حدیث) عبدالملک نے ابو حمید سے اس
3      ’’عبدالملک بن سعید بن سوید الانصاری عن ابی حمید الساعدی عن ابی اسید الساعدی‘‘ یعنی (یہ حدیث) عبدالملک نے ابو حمید سے اس نے ابواسید سے روایت کی۔
4      ’’عبدالملک بن سعید بن سوید عن ابی حمید و ابی اسید‘‘ یعنی (یہ حدیث) عبدالملک بن سعید بن سوید نے ابو حمید سے اور ابواسید (دونوں)سے روایت کی۔
مندرجہ بالا تین اسناد میں تیسری سند زیادہ صحیح ہے اور امام زرعہ aنے فرمایا ہے کہ دونوں(ابوحمید اور ابواسید) کا نبی e سے روایت کرنا زیادہ صحیح ہے۔
السنن الصغریٰ للنسائی کی حدیث:
جیسا کہ ابوزرعہ رازیaکا قول اوپر ابھی ذکر ہوا کہ ابوحمید اور ابواسیددونوں صحابہ کا نبی e سے روایت کرنا زیادہ صحیح ہے۔امام نسائی کی تخریج کردہ درج ذیل حدیث سے بھی اسے تقویت حاصل ہوتی ہے:
[حدثنا سلیمان بن عبیداللّٰہ الغیلانیّ البصری قال: حدثنا ابو عامر قال: حدثنا سلیمان عن ربیعۃ عن عبدالملک بن سعید قال: سمعت ابا حمید وأبا اسید یقولان: قال رسول اللّٰہ: إذَا دَخَلَ احدکم المسجد فَلیقل: ’اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ‘، وَاِذَا خَرَجَ فَلْیَقُلْ: ’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِک‘۔] (النسائی، احمد بن شعیب، ابوعبدالرحمن، الحافظ: سنن النسائی (السنن الصغریٰ)، کتاب الصلاۃ ، باب القول عند دخول المسجد وعند الخروج منہ، حدیث۷۳۰: دارالسلام، الریاض:۱۴۲۰ھ/۱۹۹۹ء : ص۲/۱۰۰)
’’ہمیں سلیمان بن عبیداللہ غیلانی بصری نے حدیث بیان کی ، اس نے کہا کہ ہمیں ابو عامر نے حدیث بیان کی، اس نے کہا کہ ہمیں سلیمان (بن بلال) نے حدیث بیان کی (اس نے حدیث روایت کی)ربیعہ سے اس نے عبدالملک بن سعید سے ، اس نے کہا کہ میں نے ابو حمید اور ابو اُسید سے سنا ، وہ دونوں کہتے ہیں کہ رسول اللہ e نے فرمایا:  جب تمہارا کوئی ایک شخص مسجد میں داخل ہو تو کہے: [اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ] اور جب (مسجد سے) نکلے تو کہے: [اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِک۔]
کتاب الدعوات للبیہقی کی حدیث:
[أخبرنا ابوعلی الحسین بن محمد الروذباری، حدثنا ابوبکر بن داسۃ حدثنا ابوداؤد حدثنا محمد بن عثمان الدمشقی، حدثنا عبدالعزیز یعنی الدراوردی عن ربیعۃ بن ابی عبدالرحمن عن عبدالملک بن سعید بن سوید قال: سمعت ابا حمید أو أبا اسید الانصاری یقول: قال رسول اللّٰہ: إذَا دَخَلَ احدکم المسجد فَلیسلّم و لیصل علی النبی ثم لیقل: ’اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ‘، وَاِذَا خَرَجَ فَلْیَقُلْ: ’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِک‘۔] (البیہقی، احمد بن حسین بن علی، ابوالحسن:  کتاب الدعوات الکبیر، القسم الأوّل (تحقیق: بدر بن عبداللّٰہ البدر): منشورات مرکز المخطوطات والتراث والوثائق: جمیعۃ احیاء التراث الاسلامی، الکویت:۱۴۰۹ھ/۱۹۸۹ء :ص۴۸)
’’رسول اللہ e نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو نبی e پر سلام وصلوٰۃ  پڑھے پھرکہے: [اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ] اور جب نکلے تو کہے: [اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِک۔]
اس حدیث کے تحت اس کتاب کے محقق لکھتے ہیں کہ اسے امام بیہقی نے (سنن الکبریٰ :ص۲/۴۴۲) اسی مذکورہ سند کے ساتھ تخریج کیا اور یہ سنن ابی داؤد میں(حدیث نمبر۴۶۵) ہے۔ اور امام بیہقی نے اسے اسی طرح ابی الجواہر عن الدراوردی سے تخریج کیا اور امام احمد (بن حنبل) نے اس (حدیث۳/۴۹۷،۵/۴۲۵) کو تخریج کیا، امام مسلم نے اسے ۱۰/۴۹۴) اور امام نسائی نے المجتبیٰ میں (۲/۵۲)اور فی عمل الیوم واللیلۃ میں (۱۷۷) اور ابن حبان نے (۳/۲۷۹،۲۸۰) میں ربیعہ سے ’’بدون الصلاۃ والسلام علی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم‘‘نبی e پر صلوٰۃ وسلام (کے الفاظ) ذکر کیے بغیر تخریج کیا۔ (البیہقی:  کتاب الدعوات الکبیر ، القسم الأوّل:ص۴۸)
الشیخ محمد بن صالح العُثَیْمِینa۱۵ شوال ۱۴۲۱ھ/۱۱جنوری۲۰۰۱ء) لکھتے ہیں:
[اذا وصل المسجد النبوی قدّم رجلہ الیمنی لدخولہ وقال: ((بِسْمِ اللّٰہِ  وَالصّلاَۃُ وَالسَّلاَمُ  عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ  ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَ بِوَجْھِہِ الْکَرِیْمِ ، وَبِسُلْطَانِہِ الْقَدِیْمِ مِنَ  الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ]۔  (العُثَیْمِین، محمد بن صالح، الشیخ: المنھج لمُرید العمرۃ والحج : طبع باشراف مؤسسۃ الشیخ محمد بن صالح العُثَیْمِین،الخیریۃ، المملکۃ العربیۃ السعودیۃ،۱۴۳۲ھ:ص۳۲)
شیخ عُثَیْمِینa نے بھی یہاں ’’ الصلوٰۃ‘‘ کا اضافہ کردیا اور کسی کتاب سے اس کا حوالہ بھی نہیں دیا۔ جتنی احادیث آپ اس مقالہ میں پڑھ چکے ہیں، ان میں سے کسی صحیح یا حسن حدیث میں یہ اضافہ نہیں ملتا، لہٰذا اس اضافہ شدہ سے بچنا چاہیے۔
الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن بازa۲۷ محرم الحرام ۱۴۲۰ھ/۱۳مئی ۱۹۹۹ء) لکھتے ہیںکہ جب زائر مسجد (نبوی) کی طرف آئے تو اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ مسجد میں داخل ہوتے وقت اپنا دایاں قدم آگے بڑھائے اور کہے:
[بِسْمِ اللّٰہِ  وَالصّلاَۃُ وَالسَّلاَمُ  عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَ بِوَجْھِہِ الْکَرِیْمِ، وَبِسُلْطَانِہِ الْقَدِیْمِ مِنَ  الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔] (ابن باز، عبدالعزیز بن عبداللّٰہ ،الشیخ : التحقیق والایضاح : الریاسۃ العامۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء ، الریاض ، المملکۃ العربیۃ السعودیۃ،۱۴۲۹ھ/۲۰۰۸ء :ص۸۹)
تحقیقی جائزہ:
اس دُعاء میں بھی ’’الصّلاَۃُ‘‘ کا اضافہ موجود ہے جس کے بارے میں آپ ہمارے اس مقالہ کے گذشتہ صفحات میں پڑھ چکے ہیں، باقی دعاء کی تفصیل درج ذیل ہے:
سنن ابن ماجہ کی ضعیف حدیث نمبر۷۷۱ میں [بِسْمِ اللّٰہِ وَالسَّلاَمُ  عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ] ہے ، اور سنن ابی دائود کی حدیث نمبر۴۶۶ ، صفحہ نمبر۷۸ پر [اَعُوْذُ بِاللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَ بِوَجْھِہِ الْکَرِیْمِ ، وَبِسُلْطَانِہِ الْقَدِیْمِ مِنَ  الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ] موجود ہے ، اور اس (دُعائے ابن باز) کا تیسرا حصہ: [اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ] صحیح مسلم اور دیگر کتب حدیث میں موجود ہے، اور امام ابو زرعہ نے صحیح مسلم کی بسند ِعبدالملک بن سعید بن سوید عن ابی حمید و ابی اُسید ، حدیث کو’’زیادہ صحیح‘‘ کہا ہے۔( دیکھئے حوالہ نمبر۱۹)
بڑوں کی لغزشیں:
امام شافعیa۱۵۰ھ) کے ’’نسخ القرآن بالسنۃ‘‘ کے ممنوع ہونے کا مذہب اختیار کرنے پرابوالحسن الکیاالہراسی الشافعی (م ۵۰۴ھ) نے یہاں تک کہہ دیا:
[ھفوات الکبار علی اقدارھم و من عند خطاؤ ہٗ عظم قدرہ]
’’بڑوں کی لغزشیں ان کے مراتب کے مطابق ہوتی ہیں اور جس کی غلطی ہٹ جائے اس کا مرتبہ بڑھ جاتا ہے۔‘‘
الکیا الہراسی الشافعی مزید کہتے ہیں کہ (قاضی) عبدالجبار (الشافعی المعتزلی م ۴۱۵ھ)  مذہب شافعی کے اصول وفروع پر خوب نظر رکھتے تھے، جب وہ اس مقام پر پہنچے تو کہا:
[ھٰذا الرجل کبیر ولکنّ الحق اکبر منہ ، قال ولم نعلم احداً منع من جواز نسخ الکتاب بخبر الواحد عقلاً فضلاً عن المتواتر۔] (محمدصدیق حسن خان،السید ، نواب بھوپالی ،قنوجی :  حصول المأمول من علم الأصول: مکتبۃ التجاریہ الکبریٰ، مصر: ۱۳۵۷ھ/۱۹۳۸ء: ص۱۲۷)
’’یہ آدمی بڑا ہے لیکن حق اس سے بھی بڑا ہے‘‘ اور کہا: ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے خبر واحد کے ساتھ نسخ کتاب  کے جواز سے عقلاً منع کیا ہو ، چہ جائیکہ متواتر (حدیث) کے ساتھ نسخ کتاب کو ممنوع قرار دیا ہو۔‘‘
حصول المأمول سے یہ پیرا لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ بڑوں سے غلطیاں بھی بڑی ہوتی ہیں ، ایسے ہی یہ دونوں قابل قدر شیوخ ( عَثَیْمِین اور ابن بازرحمہما اللہ) بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکے۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلویa۱۱۷۶ھ/۱۷۶۴ء) فرماتے ہیں:
[قال مالک رحمہ اللّٰہ ما من احدٍ الاّ وماخوذ من کلامہ و مردود علیہ اِلاَّ قول رسول اللّٰہ۔] (شاہ ولی اللہ ، احمد بن عبدالرحیم الدہلوی، محدث:  عِقد الجید فی احکام الاجتھاد والتقلید: (تحقیق: محمد علی الحلبی الاثری): دار الکتب، پشاور: الطبعۃ الاولیٰ۱۳۳۴ھ/۲۰۱۳ء: ص۶۸)
’’امام مالک aنے فرمایا کہ ’’ہر کسی کی بات قبول بھی کی جاسکتی اور مسترد بھی کی جاسکتی ہے سوائے رسول اللہ e کی بات کے۔‘‘
اللہ تعالیٰ ہمیں شخصیت پرستی سے محفوظ رکھے، اور ہمیں قرآن کریم اور احادیث صحیحہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

No comments:

Post a Comment