Mazmoon02-05-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Tuesday, May 14, 2019

Mazmoon02-05-2019


ڈاکٹر بہاؤالدین اور تحریک ختم نبوت انسائیکلوپیڈیا

تحریر: جناب پروفیسر عبدالعظیم جانباز (سیالکوٹ)
عقیدہ ختم نبوت ایک بدیہی عقیدہ ہے جس پر کسی بھی دلیل کی ضرورت نہیں۔ ہر سلیم الفطرت اِنسان اِس بات کو بخوبی جانتا ہے کہ حضور خاتم النبیّن اللہ کے آخری رسول اور نبی ہیں۔آپ کے بعد کسی نبی نے نہیں آنا‘ اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو وہ دجال اور کذاب تو ہوسکتا ہے لیکن نبی نہیں ہو سکتا۔ ایک ۱۰۰ سے زائد آیات قرآنیہ اور سینکڑوں احادیث مبارکہ عقیدہ ختم نبوت کے لئے دلیل ہیں۔ اس کے باوجود ہر دور میں کچھ خبیث الفطرت عقل و شعور سے عاری لوگوں نے اس عقیدہ پر نقب لگانے کی کوشش کی تو شمع نبوت کے پروانوں نے اس فتنہ کا بھرپور مقابلہ کرتے ہوئے انجام بد سے دوچار کیا۔
انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے آغاز میں برصغیر پاک و ہند میں انگریز نے اِسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت پر نقب لگانے کے لئے مرزا قادیانی کو کھڑا کیا تو اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے اس دور کے مقتدر علماء، طلبہ اور ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے شمع ختم نبوت کے پروانے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے اپنا سب کچھ لٹانے کا عزم لے کر میدان میں برسرپیکار ہوئے۔قید و بند کی صعوبتیں، بیڑیاں، ہتھکڑیاں حتیٰ کہ تختہ دار پر لٹکنا بھی ان کو اپنے مشن سے پیچھے نہ ہٹا سکا۔تقسیم ہند سے قبل اور بعد میں بھی تحریک تحفظ ختم نبوت میں کسی قسم کی لچک پیدا نہیں ہوئی بلکہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد اس تحریک میں اور تیزی پیدا ہوئی۔ خصوصاََ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت جس کی قیادت سید عطاء اللہ شاہ بخاریa کر رہے تھے۔اس تحریک میں مرزا قادیانی اور اسکے پیروکاروں کو آئینی طور پر دائرہ اِسلام سے خارج قرار دینے کے مطالبہ پر دس ہزار پروانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ اس وقت بظاہر تحریک کی ناکامی کے باوجود تحریک کامیابی کی طرف رواں دواں ہوئی۔
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ شہدا ئے ختم نبوت کے خون کی برکت، اکابر علماء کی مسلسل محنت اور قربانیوں کے نتیجے میں بالآخر ۱۹۷۴ء میں قادیانی پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں طویل بحث و مباحثے کے بعد بالاتفاق اقلیت قرار پائے اور یوں الحمدللہ! عقیدہ ختم نبوت کو آئینی دستوری تحفظ نصیب ہوا۔ اس کے بعد ۱۹۸۴ء میں جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے قادیانیوں کو اِسلامی شعائر کے اِستعمال سے روک دیا گیا۔یہ ایک بہت بڑا معرکہ تھا،جس میں اللہ تعالیٰ نے اکابر علماء کو کامیابی عطا فرمائی۔ تاہم قادیانیوں نے آج تک اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت تسلیم نہیں کیا۔اُنہوں نے ہمیشہ اپنی جماعت کو مستحکم اور مضبوط کرنے کی کوشش کی اور مختلف ناپاک تدبیروں سے عام سادہ لوح مسلمانوں کو مرتد بنانے کے لئے اپنے دجل وفریب کے جال پھیلائے۔ آج بھی کئی مسلمان جو اُن کی اصل حقیقت سے آگاہ نہیں اُن کے ڈالے ہوئے ارتدادی جالوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔خصوصاََموجودہ دور میں جب سے سوشل میڈیا کا استعمال عام ہوتا جا رہا ہے یہ صورتحال مزید گھمبیر ہوتی جا رہی ہے۔ روز افزوں مقدس شخصیات کی اہانت کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے اور دُشمنان اِسلام کی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں۔ یقینا یہ صورتحال اکابر علماء کے لیے بالخصوص اور ختمِ نبوت کے پروانوں کے لئے بالعموم انتہائی خوفناک اور تشویشناک ہے۔عام مسلمانوں کے اِیمان کی حفاظت اور قادیانیوں کے اصل اور مکروہ چہرے سے پردہ اُٹھانا اہل اِسلام کی ذمہ داری ہے۔
اِنسان کی زندگی‘ اس کی تہذیب‘ اس کے تمدن‘ اس کی ثقافت‘ ا سکی شرافت‘ اس کی معاشرت یعنی اس کی تمام تر زندگی اس کے عقائد کا منہ بولتا ہوا ثبوت ہے۔ جو خداوند ِمتعال پر یقین رکھتا ہے وہ بھی اور جو نہیں رکھتا وہ بھی یعنی جس نے اسے گنگا کے جل میں دیکھا یا کچلی کے تھل میں دیکھا، جس نے اسے چمکتے سورج میں پایا، جس نے اسے دمکتے چاند میں دیکھا، جس نے اسے کھلتی ہوئی کلی میں تلاش کیا، جس نے اسے مقید ہوتی ہوئی خوشبو میں ڈھونڈا؛ ڈھونڈتا ہر کوئی اُسی مالک الملک، احد،و احد، یکتا، بے مثل و بے نظیر کو ہے لیکن یہ عقیدہ ہے کہ اگر ہم اس کی معرفت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ’’لا‘‘ سے سفر شروع کرکے ’’الہ‘‘ سے ہوتے ہوئے ’’اللہ‘‘ تک پہنچنا ہے۔جو شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے وہ اپنے آپ کو خداوند بزرگ و برتر کا ،اللہ رب العزت کا بندہ سمجھتے ہوئے اپنے اوپر واجب قرار دیتا ہے کہ وہ اللہ کی فقط ذات ہی کو نہیں مانے بلکہ اس کی بات کو بھی مانے۔دُنیائے آدم و عالم میں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے اور اس سے انکار ممکن نہیں کہ جن لوگوں نے اللہ کی ذات اور بات کو ماننے کی کچھ بھی سعی کی ان کے درجات دنیا میں ظاہراً اور یقینا آخرت میں باطناََ بہت بلند کر دیے گئے ہیں۔ہمارے سامنے بیسیوں ایسی مثالیں ہیں کہ جن پر غور کرکے ہم دیکھ سکتے ہیں۔ علماء فقہاء محدثین ایسے گزرے ہیں جنہوں نے اللہ رب العزت کی توحید پر قلم فرسائی کی ہے‘ جہاں اللہ رب العزت کی توحید کا اقرار ہے اسی سے متصل اللہ کے فرمان ذیشان کے مطابق یعنی اللہ کی ذات کو ماننا لاالہ الا اللہ ہے اور اس کی بات ماننا محمد رسول اللہ کا اقرار ہے۔ اِنسان کی ہدایت کا سلسلہ جو اس نے سیدنا آدمu سے شروع کیا اور حضرت ختم مرتبت احمد مجتبیٰ محمد مصطفیe پر ختم کردیا۔اب عقیدہ توحید کا قائل اگر عقیدہ ختم نبوت عقیدہ رسالت پر اِیمان نہیں رکھتا تو اُس کا عقیدہ کامل نہیں ناقص ہے۔ اگر اِنسان حضرات انبیاءo کی ذواتِ با صفات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوا حضرت رسالت مآبe پر آئے اور وہاں رکے نہیں یعنی عقیدہ ختم نبوت کا قائل نہ ہو تو اس کے عقیدۂ توحید کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس کا دوسرے انبیاء اور ان پہ نازل ہونے والے ُصحف پر یقین اور اِیمان کا قطعاً ذرہ برابر بھی فائدہ نہیں‘ نہ یہاں نہ وہاں۔ ہاں یہاں وہ اس طرح کی گھٹیا حرکت کر کے عقیدہ ختم نبوت سے اِنکار کر کے یا اس کو کسی طرح سے بھی اس سے دوری اختیار کر کے اپنا نام تو شاید بنا لے لیکن یہ دو دن کی روشنی ہے اور پھر اندھیری رات والا کام ہوجائے گا۔ خداوند ذوالجلال نے اپنے انبیاءo کو مبعوث فرمایا ہے ان تمام انبیاء کا جو سید و سردار ہے وہ اللہ کا محبوب ہے یعنی حضور پاکe کے فرمان مبارک کے مطابق [لانبی بعدی] کے بعد اس سلسلہ کا  قطعاً قطعاً بالکل نہ سوچ میں نہ سمجھ میں نہ عقل میں نہ شعور میں نہ فہم میں نہ قلم  میں نہ کتاب میں کسی صورت میں ایک لفط تو کیا سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ اس عقیدے سے انحراف کیا جائے۔ عقیدہ ختم نبوت در اصل عقیدہ توحید کی بقا و بنیاد ہے۔ دراصل اِسلام کی بنیاد‘ اِسلام کی بقا‘ اِسلام کا احیاء‘ اِسلام کے اِستحکام‘ اِسلام کے اِستقلال‘ اِسلام کا پرچار‘ اِسلام کی تبلیغ‘ اِسلام کو منزلت تک پہنچانا‘ اِسلام کو سربلند کرنا اور اِسلام کو سربلند کرتے ہوئے اپنے آپ کی سربلندی اگر ہم چاہتے ہیں تو بحیثیت مسلمانان عالم بحیثیت وارثان جانشین رِسالت یعنی انبیاء کی تعلیم کو پھیلا نے والے ہم جو جانشین ہیں یعنی ہمارے جو علماء، فقہاء، مفسرین، محدثین ہیں ۔یہ ضروری ہے کہ ہم بااعلان اور ہر طرح سے یعنی قلم سے بھی قدم سے بھی‘ زبان سے بھی‘ بیان سے بھی‘ جہاں موقع ملے اس بات کا پرچار کریں گے کہ عقیدہ ختم نبوت ہمارے اِیمان کی جڑ ہے‘ عقیدہ ختم نبوت ہمارے اِیمان کا ضامن ہے اس عقیدے سے انحراف کرتے ہوئے اگر ہم چلیں گے تو پھر نہ ہم عقیدہ توحید تک پہنچیں گے اور نہ عقیدہ رسالت ہمیں کوئی فائدہ دے گا ۔ہماری نمازیں ،ہمارے عقائداور ہماری عبادات ہمیں کچھ بھی فائدہ دینے والے نہیں ہیں۔ آئیے !ذرا غور کرتے ہیں کہ یہ عقیدہ ختم نبوت دراصل ہے کیا؟ اللہ نے اِنسان کے لیے جو اسباب مہیا کیے ہیں انبیاء کی شکل میں اور خصوصاََ احمد مصطفی حضرت محمد مصطفیe کی صورت میں یہ ہم سے تقاضا کیا کرتے ہیں‘ عقیدہ ہم سے تقاضا کیا کرتا ہے۔
اب یہاں تک تو ہم پہنچ چکے کہ یہ ایک بدیہی عقیدہ ہے‘ ایک نظریۂ حیات ہے ۔عقیدہ ختم نبوت اِسلام کی بنیاد ہے ، آج تک بہت سارے لوگوں نے اس پر قلم فرسائی کی جن لوگوں نے انحراف کیا ان کے جواب میں بھی بہت سارے دلائل اور براہین سے کام لیا گیا اور جن لوگوں نے ختم نبوت کا پرچار کیا اُنہوں نے بھی اپنی طرف سے کمال کرنے کی کوشش کی ،اُنہی شخصیات میں سے ایک ایسی شخصیت کہ جس نے اپنی زندگی کا لمحہ لمحہ اس کام کے لیے وقف کر دیا، جس نے اپنی جوانی اس کام میں لگا دی، جس نے اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اس مشن کا بیڑا اُٹھا یا ، جس نے اپنی مالی، بدنی، ذہنی اور روحانی کیفیات کو یکجا کیا اور کتاب کی شکل میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ عقیدہ ختم نبوت اگر اِنسان رکھتا ہو تو دین و دنیا میں ممتاز اور سرفراز ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک نام ڈاکٹر بہاؤ الدین کا ہے کہ جنہوں نے دین کے بہائو میں‘ دین کی تبلیغ میں‘ دین کی معرفت کے بہاؤ میں بہتے ہوئے اس قدر خوبصورتی اختیار کر لی ہے کہ کتنی ہی کتابیں ہیں جو آپ کے نام سے ہیں‘ کتنی ہی قلم فرسائیاں ہیں‘ کتنے ہی الفاظ ہیں جو آپ کے قلم کے ایک ایک نقطے سے نکلے ہیں۔ آپ ایک عالیٰ قدر، ایک زیرک، ایک انتہائی شریف النفس اِنسان ہیں، جنہوں نے حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفیe پر متعدد کتابیں لکھتے ہوئے آج ہمارے سامنے اتنا بڑا ذخیرہ جمع کردیا ہے کہ آنے والی نسلیں بھی اگر اس عقیدے پر مزید قلم فرسائی کرنا چاہیں‘ راہنمائی حاصل کرنا چاہیں تو بغیر کسی حیل وحجت بغیر کسی مسئلہ کے وہ کر سکتے ہیں۔  
بڑے خوشی نصیب اور لائق مبارکباد ہیں وہ لوگ جو اس اہم ترین میدان میں کام کر رہے ہیں اور علمائے کرام کی کاوشوں کو منصہ شہود پر لا رہے ہیں خصوصاً عصر حاضر میں اس سلسلے کی سب سے بڑی قد آور علمی شخصیت ڈاکٹر بہاؤ الدین کی ہے جنہوں نے دیار غیر میں بیٹھ کر ۷۵ جلدوں پر مشتمل تحریک ختم نبوت کے حوالے سے ایک ’’انسائیکلوپیڈیا‘‘ مرتب کرکے ایک تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے جو تاریخ میں یقینا سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ تحریک ختم نبوت ایک مقدس تحریک ہے جو عالم اِسلام کے درمیان اَمن و محبت اور اِتحاد و یکجہتی کا باعث بن سکتی ہے۔ڈاکٹر بہاؤالدین کا کہنا ہے کہ سنی، شیعہ سمیت جس جس نے بھی تاریخ ختم نبوت کے لیے کام کیا ہے وہ اس کتاب کی زینت بنا دیا گیا ہے اور ان میں سے ایک ایک فرد ہماری آنکھوں کا تارا ہے۔ڈاکٹر صاحب ختم نبوت کی تاریخ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:             
مرزا قادیانی نے نبوت یعنی مسیح ہونے کا دعویٰ اپنے رسالہ میں ۳۱ مارچ ۱۸۹۱ء کو کیا تھا جسے امرتسر میں اشاعت کے دوران اہل حدیث کے ایک اکابر فرزند مولانا محمد حسین بٹالویa نے دیکھ لیا اور مرزا سے پوچھا کہ کیا وہ مسیح موعود یعنی نبی ہونے کا دعویٰ کرنے جا رہا ہے؟ جس کے اعتراف میں مرزا نے صرف ہاں میں جواب دیا اور یوں علمائے حق کی جانب سے تحریک ختم نبوت کا آغاز ہوا۔تحریک ختم نبوت اور تاریخ اہل حدیث ڈاکٹر صاحب کی ایک عظیم علمی کاوش ہے‘ اس پر وہ بجا طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔
دُعا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا سایہ صحت و سلامتی سے تا دیر قائم و دائم رہے اور اُن کی اِس علمی کاوش کو اللہ رب العزت اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرماتے ہوئے ان کے لیے صدقہ جاریہ بنادیں۔ اُن کی کتابیں جو ایک زندہ و جاوید ہیں اس سے پڑھنے والے قارئین کرام استفادہ کر سکیں اور یہ نسل در نسل عقیدہ ہمارا چلتا رہے اور ہم میں کم از کم اتنی معرفت اللہ رب العزت پیدا کردے کہ ہم اِس عقیدے پر اپنی اپنی تمام مساعی جمیلہ کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے اپنے حصے کا دیا ضرور روشن کرجائیں۔

No comments:

Post a Comment

View My Stats