Mazmoon02-07-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Tuesday, May 14, 2019

Mazmoon02-07-2019


حاجی عبدالمتین بندھانی رحمہ اللہ

تحریر: جناب مولانا عبدالرحمن ثاقب (سکھر)
یہ دنیا فانی ہے‘ اس میں کسی کو بھی دوام اور بقاء نہیں ہے‘ بلکہ جو بھی آیا اپنی حیات مستعار کے ایام گذار کر اپنے اصل مقام کی طرف چلا گیا۔ اس کے چاہنے اور اس سے پیار کرنے والے اس کی یاد میں آنسو بہاتے رہے اس کی خدمات اور کوششوں کو ایک عرصہ تک یاد کرتے رہتے ہیں۔ وہ جانے والا کچھ ایسے کام کرجاتا ہے جو بعد میں آنے والون کے لیے مثال بن جاتے ہیں۔ انہی میں سے ایک ہمارے ممدوح حاجی عبدالمتین بندھانیa بھی تھے۔
 پیدائش:
حاجی عبدالمتین بندھانی‘ عبدالرشید بندھانی کے گھر ۱۹۶۵ء کو نواں گوٹھ‘ بندھانی محلہ‘ سکھر میں پیدا ہوئے۔
 تعلیم:
حاجی عبدالمتین بندھانی صاحب نے میٹرک تعمیر نو سکول سے کی۔ اسلامیہ کالج سے گریجویشن اور شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور سے ایم اے کیا۔
 سیاست میں حصہ:
آپ نے ابتدائی طور پر ۲۰۰۲ء میں بلدیاتی الیکشن میں حصہ لیا اور اپنے علاقہ سے کونسلر منتخب ہوئے۔ پھر اسی سال یعنی ۲۰۰۲ء میں مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے نمائندہ کے طور پر متحدہ مجلس عمل کی ٹکٹ پر سکھر سے صوبائی سیٹ پر الیکشن لڑا۔ آپ کا یہ پہلا صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کا تجربہ تھا‘ آپ نے یہ سیٹ جیت بھی لی تھی لیکن پیپلز پارٹی کے امداد علی اعوان وکیل نے ملی بھگت کرکے انتخابات کے نتائج کو تبدیل کروا کر آپ کو ہروا دیا۔ ۲۰۰۸ء میں بھی آپ الیکشن میں کھڑے ہوئے تھے لیکن شہر کی اہم شخصیات اور دینی طبقہ کے اصرار پر آپ مولانا اسعد تھانوی صاحب کے حق میں دستبردار ہوگئے۔ ۲۰۱۸ء کے انتخابات میں اہل سکھر کی نظریں آپ پر مرکوز تھیں لیکن آپ عمرہ کے سفر پر ہونے کی وجہ سے فارم داخل نہ کروا سکے۔
 مہمان نوازی :
اللہ تعالی نے حاجی عبدالمتین بندھانیa کو مہمان نوازی کی اعلیٰ صفات سے نوازا تھا۔ آپ علماء کرام اور دینی قائدین کی مہمان نوازی کرکے خوشی محسوس کیا کرتے تھے۔ آپ نے ہر اہم موقع پر علماء و قائدین کی بہت اعلیٰ مہمان نوازی کی۔ ۹ مئی ۲۰۰۵ء کو جب قائد اہل حدیث علامہ پروفیسر سینیٹر ساجد میر صاحبd سکھر تشریف لائے تو اس وقت آپ کے اور متحدہ مجلس عمل سکھر کے قائدین کے اعزاز میں آپ نے بھرپور عشائیہ دیا۔ یکم اپریل ۲۰۱۳ء کو مرکزی جمعیت اہل حدیث صوبہ سندھ کی شوریٰ کے اجلاس کے موقع پر آپ نے اراکین شوریٰ کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا۔ اسی طرح فروری ۲۰۱۸ء میں متحدہ مجلس عمل سکھر کے انتخاب کے موقع پر جب ایم ایم اے کی صوبائی قیادت سکھر تشریف لائی تو ان کے اعزاز میں ظہرانہ آپ ہی کی طرف سے تھا۔ اس کے علاوہ بھی کئی مواقع پر آپ نے علماء کرام و قائدین کی میزبانی کا شرف حاصل کیا۔
 صدر اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز سکھر :
حاجی عبدالمتین بندھانی کی تاجر طبقہ کے لیے جدوجہد اور کوشش و کاوش کو دیکھتے ہوئے آٹو پارٹس ایسوسی ایشن سکھر نے آپ کو اپنا صدر منتخب کیا۔ اس کے بعد آپ کی سکھر شہر کے لیے خدمات اور تاجر برادری کے لیے بھاگ دوڑ کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کو اسمال ٹریڈرز اینڈ انڈسٹریز سکھر نے اپنا صدر منتخب کرلیا۔ آپ نے ہر پلیٹ فارم پر تاجر برادری کے مسائل حل کروانے کے لیے اپنی آواز بلند کی۔ آپ نے ایک دفعہ اسلام آباد جا کر (سابق) صدر پاکستان ممنون حسین سے بھی ملاقات کی اور سکھر کے مسائل کی طرف ان کی توجہ مبذول کروائی۔
 رفاہی خدمات:
حاجی عبدالمتین بندھانیa میں انسانیت کی خدمت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ آپ لوگوں کے مسائل حل کروانے میں خصوصی دلچسپی لیا کرتے تھے۔ اس کے لیے اپنے پرائے کی تمیز روا رکھے بغیر دن رات کمربستہ رہتے اور بسا اوقات اپنے کاروبار کی طرف بھی توجہ دینا بھول جاتے تھے۔
۲۰۱۰ء میں جب ملک بھر میں قیامت خیز سیلاب آیا تو ملک کے دیگر علاقوں کی طرح سکھر میں بھی متاثرین سیلاب کی ایک بہت بڑی تعداد آئی۔ حکومت کی سطح پر صرف دعوے اور نعرے ہی تھے جبکہ عملی طور پر مقامی لوگوں نے متأثرین کی خدمت کی۔ سکھر میں موجود متأثرین سیلاب کی خدمت میں حاجی عبدالمتین پیش پیش تھے۔ ان کے کھانے پینے کا انتظام کرتے حتی کہ رمضان المبارک کے ایام میں سحری کا کھانا تیار کرواکر متاثرین سیلاب تک پہنچاتے اور ان کے لیے ٹھنڈے پانی کی سپلائی کا انتظام کرتے۔
متأثرین سیلاب کی بحالی کے لیے جب مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان نے راقم الحروف کے ذمہ مکانات کی تعمیر کا کام لگایا تو آپ نے بھی میرے ساتھ اس سلسلہ میں کئی علاقوں کے سفر کیے۔
آپ نے ۱۳ ستمبر ۲۰۱۵ء کو دفاع پاکستان کے موضوع پر اپنے دوست مرحوم علی بخش خان مہر کے ساتھ مل کر راجپوت بندھانی ویلفیئر کی طرف سے بہت بڑا پروگرام کیا۔ جس میں سیاسی‘ مذہبی‘ تاجر اور رفاہی تنظیموں کے قائدین کے علاوہ برگیڈئیر عقیل حیدر صاحب سمیت فوجی افسران نے بھی شرکت تھی۔
۲۰۱۶ء میں آپ نے ضلع سکھر میں امن و امان قائم کرنے کے اعتراف میں اعلیٰ پولیس افسران کے اعزاز میں ایک عشائیہ دیا جس میں پولیس افسران کے ساتھ ساتھ شہری و مذہبی تنظیموں کے تمام تر نمائندہ افراد موجود تھے۔ اس موقع پر پولیس افسران کو امتیازی نشان اور شیلڈز پیش کی گئیں اور مقابلوں میں شہید ہونے والے پولیس کے نوجوانوں کے گھروں کیلیے تعاون بھی کیا گیا۔
۲۰۱۶ء میں سکھر شہر میں علماء کرام کو شہر میں امن ورواداری کو فروغ دینے پر پولیس افسران کی طرف سے آپ کی کوششوں سے تعریفی اسناد دی گئیں۔
 بین المسالک ہم آہنگی کے لیے کردار:
حاجی عبدالمتین بندھانیa کا سکھر شہر میں مذہبی ہم آہنگی برقرار رکھنے میں بڑا اہم کردار ہے۔ ایک وقت تھا جب نواں گوٹھ سکھر کے علاقہ سے دس محرم کا جلوس گذرنا مشکل تھا اور طرفین سے حالات خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا تھا۔ آپ نے معززین علاقہ سے مل کر اس مسئلہ کو حل کیا۔ آپ محرم کے ابتدائی دنوں میں تمام مسالک کے علماء کرام کو بلا کر راجپوت بندھانی ھال میں مذہبی امن و رواداری کے موضوع پر پروگرام کرواتے جس میں علماء کرام کے ساتھ ضلعی انتظامیہ کے اعلی افسران اور شہری تاجر تنظیموں کے نمائندے اور معززین علاقہ و شہر شریک ہوتے اس طرح سے شہر میں امن کا ایک پیغام پھیلتا۔
 راجپوت بندھانی ویلفیئر ایسوسی ایشن :
مرحوم اپنے خاندان‘ برادری اور اہل شہر کے لیے اک شجر سایہ دار کی حیثیت رکھتے تھے۔ آپ راجپوت بندھانی ویلفیئر ایسوسی ایشن کے تقریباً دس سال سے زائد عرصہ چیئرمین رہے۔ آپ نے اپنی برادری کی خوب خدمت کی۔ بیواؤوں‘ یتیموں‘ مساکین اور غرباء کی دل کھول کر مدد کی۔ اسی طرح برادری کے مختلف مسائل حل کروانے میں مدد کی۔ حتی کہ ایک موقع پر منشیات کا کاروبار کرنے والے لوگوں کے خلاف آواز اٹھانے پر آپ کو گرفتار ہونا پڑا۔ آپ کی گرفتاری پر اہلیان سکھر نے اپنا کاروبار بند کرکے احتجاج شروع کردیا جس کے نتیجے میں انتظامیہ آپ کو رہا کرنے پر مجبور ہوگئی۔
 تنظیمی تعلق:
حاجی صاحب اہل حدیث گھرانے کے فرد تھے۔ آپ نے ۲۰۰۲ء کا الیکشن مرکزی جمعیت اہل حدیث کی طرف سے متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر لڑا اور جماعتی وفاداری کا حق ادا کیا۔ آپ کی جماعت کے لیے خدمات کو دیکھتے ہوئے مرکزی جمعیت اہل حدیث سکھر نے متفقہ طور پر اپنا سرپرست منتخب کیا۔ آپ تاحیات اس منصب پر فائز رہے اور جماعت کی خدمت کرتے رہے۔
آپ میں دین کی خدمت کا جذبہ بہت تھا‘ مختلف مواقع پر جب بھی جماعت نے احتجاج کی کال دی آپ ہمیشہ صف اول میں رہے اور احتجاج میں شریک ہوتے رہے۔
۲۰۰۸ء اور ۲۰۱۸ء کی آل پاکستان اہل حدیث کانفرنسوں میں آپ کو بطور مہمان خاص دعوت دی جاتی رہی۔
 شادی واولاد:
حاجی عبدالمتین بندھانیa نے ایک شادی کی تھی جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں عطاء کیں۔
 وفات :
موصوف نے اپنی زندگی کے آخری دو سال تقریباً بیماری میں گذارے‘ کئی دفعہ کراچی کے ہسپتالوں میں داخل ہوئے۔ باالآخر وہ وقت آن پہنچا جس سے کسی کو بھی انکار نہیں۔ آپ ۵ دسمبر ۲۰۱۸ء کو نماز عصر کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون!
اگلے روز آپ کی نماز جنازہ راقم الحروف نے پڑھائی جس میں تمام تجارتی‘ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ بعد ازاں آپ کو نواں گوٹھ قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔
تاجر برادری نے آپ کی وفات پر آدھا دن کاروبار بند رکھا تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ آپ کی نماز جنازہ میں شرکت کرسکیں۔
آپ کی وفات پر ملک بھر میں افسوس کا اظہار کیا گیا۔ شیخ علی محمد ابوتراب صاحبd نائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان‘ میاں محمد جمیل (سابق ناظم اعلیٰ) و دیگر نے فون پر گہرے رنج و الم کا اظہار کیا۔ استاذالعلماء فضیلۃ الشیخ محمد یوسف قصوری صاحب امیر سندھ‘ محدث دوران علامہ عبداللہ ناصر رحمانی صاحبd و دیگر مرحوم کے گھر تعزیت کے لیے تشریف لائے‘ آپ کے بیٹوں اور خاندان کے افراد سے دکھ کا اظہار اور مرحوم کے لیے بخشش اور بلندی درجات کی دعا۔
اللھم اغفرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ!

No comments:

Post a Comment