Mazmoon03-04-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Tuesday, May 14, 2019

Mazmoon03-04-2019


مرزا قادیانی اور دجال

تحریر: جناب مولانا لیاقت علی باجوہ
مرزا قادیانی کے اکثر عقائد میں جس طرح خطرناک حد تک تضاد پایا جاتا ہے اسی طرح دجال کے بارے میں مرزا کی تحریرات میں بھی اختلاف ہے۔آیئے! ایک دفعہ دجال کے بارے میں مسلمانوں کا نظریہ دیکھتے ہیں اور پھر مرزا قادیانی کے نظریئے کا تحقیقی جائزہ لیتے ہیں۔
دجال کے بارے میں مسلمانوں کا نظریہ:
احادیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ دجال کا وجود انسانوں کی طرح ہوگا۔ جتنے بھی انبیاء کرامo دنیا میں تشریف لائے انہوں نے اپنی امتوں کو دجال کے فتنے سے ڈرایا۔ اسی طرح نبی کریمe نے بھی اپنی امت کو دجال کے فتنے سے ڈرایا اور اپنی امت کو اپنی دعاؤں میں دجال کے فتنے سے پناہ مانگنے کی تلقین بھی فرمائی ہے۔
دجال پہلے نبوت کا دعوی کرے گا اور پھر اس کے بعد خدائی کا دعوی کرے گا۔ دجال کی موت سیدنا عیسیٰu کے ہاتھوں ہوگی۔
دجال کا حلیہ:
ہمیں احادیث مبارکہ سے دجال کا جو حلیہ اور چند دوسری علامات معلوم ہوتی ہیں ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
1      دجال جوان ہوگا اور عبدالعزی بن قطن کے مشابہ ہوگا۔ (مسلم: ۴۲۶)
2      دجال کا رنگ گندمی اور بال پیچدار ہوں گے۔ (مسلم: ۴۲۶)
3      دونوں آنکھیں عیب دار ہوں گی۔ (بخاری: ۳۳۳۷)
4      ایک (دائیں) آنکھ سے کانا ہوگا۔ (بخاری: ۳۳۳۷)
5      دجال کی بائیں آنکھ بھی عیب دار ہوگی۔ (مسلم: ۷۳۶۶)
6      پیشانی پر کافر لکھا ہوگا۔ یعنی ک۔ف۔ر (بخاری: ۳۳۵۵)
7      پیشانی پر لکھے گئے کافر کو ہر مومن پڑھ سکے گا ۔ خواہ وہ پڑھنا لکھنا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔ (مسلم: ۷۳۶۷)
8      وہ ایک گدھے پر سواری کرے گا جس کے دونوں کانوں کے درمیان ۴۰ ہاتھ کا فاصلہ ہوگا۔ (مسند احمد: ۱۵۰۱۷)
9      دجال کی رفتار بادل اور ہوا کی طرح تیز ہوگی۔ (مسلم: ۷۳۷۳)
0      تیزی سے پوری دنیا میں پھر جائے گا (جیسے زمین اس کے واسطے لپیٹ دی گئی ہو۔) (مسلم: ۷۳۷۳)
!      ہر طرف فساد پھیلائے گا۔ (مسلم: ۷۳۷۳)
@      مکہ معظمہ اور مدینہ طیبہ میں داخل نہیں ہوپائے گا۔ (بخاری)
#      مکہ معظمہ ،مدینہ طیبہ کے ہر دروازے پر فرشتوں کا پہرہ ہوگا جو اس کو اندر گھسنے نہیں دیں گے۔ (بخاری: ۱۸۸۱)
$      دجال مدینہ طیبہ کے باہر ٹھہرے گا۔ (مسلم: ۷۳۷۵)
%      سب منافقین دجال سے مل جائیں گے۔ (مسلم: ۷۳۹۱)
^      دجال پہلے نبوت کا دعوی کرے گا اور اس کے بعد خدائی کا دعوی کرے گا۔ (ابن ماجہ: ۴۰۷۷)
&      اس کے ساتھ غذا کا بہت بڑا ذخیرہ ہوگا۔ (مسلم: ۵۶۲۴)
*      زمین کے خزانے اس کے تابع ہوں گے۔ (مسلم: ۷۳۷۳)
(      دجال کو مارنے اور زندہ کرنے کی طاقت دی جائے گی ۔ (مسلم: ۷۳۷۳)
)      اس کے ساتھ جنت اور جہنم ہوگی۔ (بخاری: ۳۳۳۸‘ مسلم: ۷۳۶۶)
 مرزا قادیانی کا دجال کے بارے میں پہلا نظریہ:
مرزا قادیانی کی بعض تحریرات سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال انسان کی طرح کسی وجود کا نام نہیں بلکہ عیسائی پادریوں کا گروہ ’’دجال‘‘ ہے۔
تحریر نمبر: ۱۔ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ
’’دجال معہود یہی پادریوں اور عیسائی متکلموں کا گروہ ہے جس نے زمین کو اپنے ساحرانہ کاموں سے تہہ بالا کر دیا ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام صفحہ ۷۲۲ مندرجہ روحانی خزائن ۲/۴۸۸)
تحریر نمبر: ۲۔ مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ
’’پادریوں کے سوا اور کوئی دجال اکبر نہیں ہے۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات ۱/ ۵۸۲۔ جدید ایڈیشن ۲ جلدوں والا) (مجموعہ اشتہارات ۲/ ۲۶۰۔ پرانا ایڈیشن ۳جلدوں والا)
تحریر نمبر: ۳۔ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ
’’میرا مذہب یہ ہے کہ اس زمانہ کے پادریوں کی مانند کوئی اب تک دجال پیدا نہیں ہوا اور نہ قیامت تک پیدا ہوگا۔‘‘ (ازالہ اوہام صفحہ ۴۸۸ مندرجہ روحانی خزائن ۳/ ۳۶۲)
تحریر نمبر: ۴۔ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ
’’بپایہ ثبوت پہنچ گیا کہ مسیح دجال جس کے آنے کی انتظار تھی یہی پادریوں کا گروہ ہے جو ٹڈی کی طرح دنیا میں پھیل گیا ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام صفحہ ۴۹۶ مندرجہ روحانی خزائن ۳/ ۳۶۶)
تحریر نمبر: ۵۔ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ
’’دجال کے معنی بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ جو شخص دھوکہ دینے والا اور گمراہ کرنے والا اور خدا کے کلام کی تحریف کرنے والا ہو اس کو دجال کہتے ہیں۔ سو ظاہر ہے کہ پادری لوگ اس کام میں سب سے بڑھ کر ہیں۔ پس اسی وجہ سے وہ دجال اکبر ہیں اور خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کے مطابق دوسرے کسی دجال کو قدم رکھنے کی جگہ نہیں کیونکہ لکھا ہے کہ دجال گرجا سے نکلے گا اور جس قوم میں سے ہوگا وہ قوم تمام دنیا میں سلطنت کریگی۔‘‘ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۴۵۶ مندرجہ روحانی خزائن ۲۲/۴۵۶)
مرزا قادیانی کا یہ نظریہ اس لحاظ سے باطل ہے کہ حدیث مبارکہ میں جس دجال کے آنے کی خبر دی گئی ہے اور تمام انبیاء کرامo نے ان سے ڈرایا ہے وہ دجال انسانوں کی طرح ایک وجود رکھتا ہے۔ وہ پہلے نبوت کا دعوی کرے گا پھر خدائی کا دعوی کرے گا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے بھی اس حدیث کو تسلیم کیا ہے۔
مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ
’’دجال کا بھی حدیثوں میں ذکر پایا جاتا ہے کہ وہ دنیا میں ظاہر ہوگا اور پہلے دعویٰ نبوت کرے گا اور پھر خدائی کا دعویدار بن جائے گا۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ صفحہ ۸۵، روحانی خزائن ۱۷/ ۲۳۳۰)
اب ہمارا قادیانیوں سے سوال ہے کہ اگر عیسائی پادریوں کا گروہ ہی دجال تھے تو ان کا پہلے دعوی نبوت اور پھر دعوی خدائی دکھائیں کہ انہوں نے مرزا قادیانی کے دور میں کب دعوی نبوت اور دعوی خدائی کیا؟؟؟
دوسری بات یہ ہے کہ یہ پادریوں کے گروہ تو نبی کریمe کے دور میں بھی موجود تھے اگر یہی دجال تھے تو نبی کریمe نے ان کی خبر کیوں نہیں دی؟
 مرزا قادیانی کا دجال کے بارے میں دوسرا نظریہ:
مرزا قادیانی دجال کے بارے میں اپنا نظریہ بتاتے ہوئے یوں لکھتا ہے کہ دجال سے مراد بااقبال قومیں ہیں۔ مرزا قادیانی کی تحریر ملاحظہ فرمائیں:
مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ
’’ہمارے نزدیک ممکن ہے کہ دجال سے مراد با اقبال قومیں ہوں اور گدھا ان کا یہی ریل ہو جو مشرق اور مغرب کے ملکوں میں ہزار ہا کوسوں تک چلتے دیکھتے ہو۔‘‘ (ازالہ اوہام صفحہ ۱۷۴‘ مندرجہ روحانی خزائن ۳/۱۷۴۰)
لیجئے مرزا کذاب نے با اقبال قوموں کو بھی بلادلیل ہی دجال تسلیم کر لیا۔ ہمارا قادیانیوں سے سوال ہے کہ وہ کون سی حدیث ہے جہاں با اقبال قوموں کو دجال کہا گیا ہے؟
ایسی کوئی حدیث قیامت تک بھی نہیں ملے گی۔
 مرزا قادیانی کا دجال کے بارے میں تیسرا نظریہ:
مرزا قادیانی کا دجال کے بارے میں تیسرا نظریہ یہ تھا کہ جھوٹوں کے گروہ کو دجال کہتے ہیں۔جیسا کہ مرزا نے لکھا ہے کہ
’’لغت میں دجال جھوٹوں کے گروہ کو کہتے ہیں جو باطل کو حق کے ساتھ مخلوط کر دیتے ہیں اور خلق اللہ کے گمراہ کرنے کے لیے مکر اور تلبیس کو کام میں لاتے ہیں۔‘‘ (ازالہ اوہام صفحہ ۳۶۲، روحانی خزائن ۳/ ۳۶۲۰)
یہ جھوٹوں کے گروہ تو نبی کریم e کے دور میں بھی موجود تھے لیکن آپ e نے تو نہیں بتایا کہ جھوٹوں کا گروہ ہی دجال ہے۔تو مرزا کو کیسے پتہ چل گیا؟
 مرزا قادیانی کا دجال کے بارے میں چوتھا نظریہ:
مرزا قادیانی کا دجال کے بارے میں ایک نظریہ یہ بھی تھا کہ شیطان کا نام ہی دجال ہے۔ مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ
’’واضح ہو کہ دجال کے لفظ کی دو تعبیریں کی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ دجال اُس گروہ کو کہتے ہیں جو جھوٹ کا حامی ہو اور مکر وفریب سے کام چلاوے۔ دوسرے یہ کہ دجال شیطان کا نام ہے جو ہر ایک جھوٹ اور فساد کا باپ ہے۔‘‘ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۱۳ مندرجہ روحانی خزائن ۲۲/۳۲۶۰)
شیطان بھی نبی کریم e کے دور میں موجود تھا لیکن آپe نے کبھی نہیں فرمایا کہ شیطان ہی دجال ہے۔ ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کا یہ نظریہ بھی جھوٹا ہے۔
 مرزا کا دجال کے بارے میں پانچواں نظریہ:
مرزا قادیانی کا دجال کے بارے میں ایک نظریہ یہ بھی تھا کہ عیسائیت کے بھوت کا نام دجال ہے۔
مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ
’’اس شیطان (دجال) کا نام دوسرے لفظوں میں عیسائیت کا بھوت ہے۔ یہ بھوت آنحضرت e کے زمانہ میں عیسائی گرجا میں قید تھا اور صرف جساسہ کے ذریعہ سے اسلامی اخبار معلوم کرتا تھا۔ پھر قرون ثلاثہ کے بعد بموجب خبر انبیاءo کے اس بھوت نے رہائی پائی اور ہر روز اس کی طاقت بڑھتی گئی۔ یہاں تک کہ تیرھویں صدی ہجری میں بڑے زور سے اس نے خروج کیا۔ اسی بھوت کا نام دجال ہے۔ جس نے سمجھنا ہو سمجھ لے اور اسی بھوت سے خدا تعالیٰ نے سورۂ فاتحہ کے اخیر میں ولا الضالین کی دعا میں ڈرایا ہے۔‘‘ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۴۵ مندرجہ روحانی خزائن ۲۲/۴۵۰)
ایک طرف تو مرزا قادیانی عیسائیت کے بھوت کو دجال کہتا ہے اور دوسری طرف لکھتا ہے کہ
’’یہ تحقیق شدہ امر ہے اور یہی ہمارا مذہب ہے کہ دراصل دجال شیطان کا اسم اعظم ہے۔ جو مقابل خدا کے اسم اعظم کے ہے۔جو اللہ الحی القیوم ہے۔اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ نہ حقیقی طور پر یہود کو دجال کہہ سکتے ہیں۔ نہ نصاری کے پادریوں کو اور نہ کسی اور قوم کو۔کیونکہ یہ سب خدا کے عاجز بندے ہیں۔ خدا نے اپنے مقابل پر ان کو کچھ اختیار نہیں دیا۔ پس کسی طرح ان کا نام دجال نہیں ہوسکتا۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ صفحہ ۱۰۴ مندرجہ روحانی خزائن ۱۷/۲۶۹۰)
اب مرزا قادیانی کی کون سی بات سچی ہے؟ پہلی بات سچی ہے یا دوسری سچی ہے؟؟
عیسائیت کا بھوت بھی نبی کریمe کے دور میں موجود تھا لیکن اس کو بھی آپe نے دجال نہیں فرمایا۔ لگتا ہے مرزا قادیانی کو شیطان نے یہ جھوٹی وحیاں کی ہیں جن کا کوئی ثبوت کسی مرزائی کے پاس نہیں ہے۔
 مرزا قادیانی کا دجال کے بارے میں چھٹا نظریہ:
مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ
’’دجال سے مراد صرف وہ فرقہ ہے جو کلام الہی میں تحریف کرتے ہیں۔ یا دہریہ کے رنگ میں خدا سے لاپروا ہیں۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ صفحہ ۸۶ مندرجہ روحانی خزائن ۱۷/۲۳۳۰)
مرزا قادیانی دہریوں کو بھی دجال کہہ رہا ہے۔ حالانکہ دہریوں کے دجال ہونے کا ذکر بھی کسی حدیث میں موجود نہیں۔
 دجال کی سواری:
مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ
’’ایک بڑی بھاری علامت دجال کی اس کا گدھا ہے جس کے بین الاذنین کا اندازہ ستر باع کیا گیا ہے اور ریل کی گاڑیوں کا اکثر اسی کے موافق سلسلہ طولانی ہوتا ہے اور اس میں بھی شک نہیں کہ وہ دخان کے زور پر چلتی ہیں جیسے بادل ہوا کے زور سے تیز حرکت کرتا ہے۔ اس جگہ ہمارے نبیe نے کھلے کھلے طور پر ریل گاڑی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ چونکہ یہ عیسائی قوم کی ایجاد ہے جن کا امام و مقتدا یہی دجالی گروہ ہے۔ اس لیے ان گاڑیوں کو دجال کا گدھا قرار دیا گیا۔‘‘ (ازالہ اوہام صفحہ ۳۹۸، روحانی خزائن ۳/۴۹۳۰)
حدیث مبارکہ میں دجال کی سواری ایک گدھے کو بتایا گیا ہے جس کے دونوں کانوں کا درمیانی فاصلہ ۴۰ ہاتھ ہوگا اور وہ نہایت تیزی سے سفر بھی کرے گا۔ مرزا قادیانی ریل گاڑی کو دجال کی سواری کا نام دے رہا ہے۔ باوجودیکہ ریل گاڑی میں حدیث میں بتائے گئے گدھے کی کوئی نشانی نہیں پائی جاتی خود مرزا قادیانی نے اسی دجال کے گدھے پر کئی دفعہ سفر بھی کئے ہیں اور مسیح موعود ہونے کا دعوی بھی کیا ہے۔ کیا گدھا دجال کی سواری ہوگا یا مسیح موعود کی؟؟
خلاصہ یہ ہے کہ دجال نہ ہی مرزا کی تحریرات کے مطابق عیسائی پادریوں کا گروہ یا جھوٹوں کا گروہ ثابت ہوتا ہے اور نہ شیطان اور بااقبال قومیں دجال ثابت ہوتی ہیں اور نہ ہی ریل گاڑی دجال کی سواری ثابت ہوتی ہے۔
ہمارا قادیانیوں کو تاقیامت چیلنج ہے کہ وہ کوئی ایسی حدیث دکھائیں جس میں نبی کریم e نے عیسائی پادریوں کے گروہ یا جھوٹوں کے گروہ کو دجال قرار دیا ہو یاشیطان اور بااقبال قوموں کو دجال قرار دیا گیا ہو اور ساتھ ہی ریل گاڑی کو شیطان کی سواری بھی قرار دیا گیا ہو۔ ہمارا دعوی یہ ہے کہ قادیانی تاقیامت ایسی کوئی حدیث پیش نہیں کرسکتے۔
 مرزا قادیانی اور دجال میں تقابلی جائزہ:
اگر ہم مرزا کی تحریرات کا بغور مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ مرزا ہی اپنی تحریرات کے مطابق دجال ہے۔
نشانی نمبر: ۱۔ مرزا قادیانی اور دجال کی نسل ایک:
مسلم کی حدیث نمبر ۷۳۴۹ سے پتہ چلتا ہے کہ دجال یہودی یعنی اسرائیلی نسل سے ہوگا۔
مرزا قادیانی بھی اپنے آپ کو اسرائیلی لکھتا ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ
’’میں خدا سے وحی پاکر کہتا ہوں کہ میں بنی فارس میں سے ہوں اور بموجب اُس حدیث کے جو کنز العمال میں درج ہے بنی فارس بھی بنی اسرائیل اور اہل بیت میں سے ہیں۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۵ مندرجہ روحانی خزائن ۱۸/۲۱۳۰)
ایک اور جگہ مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ
’’میں اسرائیلی بھی ہوں اور فاطمی بھی۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۶ مندرجہ روحانی خزائن ۱۸/۲۱۶۰)
یعنی مرزا قادیانی سیدنا اسحاقu کی نسل سے بھی ہیں اور ان کے بھائی سیدنا اسمٰعیلu کی نسل سے بھی۔
لیجئے! مرزا اور دجال میں ایک قدر مشترک یہ ثابت ہوئی کہ دونوں یہودی النسل یعنی اسرائیلی ہیں۔
نشانی نمبر: ۲۔ مرزا قادیانی اور دجال کا ایک دعوی:
ابن ماجہ کی حدیث نمبر ۴۰۷۷ میں ذکر ہے کہ دجال پہلے نبوت اور پھر خدائی کے دعوے کرے گا۔مرزا نے بھی اس حدیث کو ذکر کیا ہے۔
مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ
’’دجال کا بھی حدیثوں میں ذکر پایا جاتا ہے کہ وہ دنیا میں ظاہر ہوگا اور پہلے دعوی نبوت کرے گا اور پھر خدائی کا دعویدار بن جائے گا۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ صفحہ ۸۵ مندرجہ روحانی خزائن ۱۷/۲۳۳۰)
مرزا کذاب نے بھی دجال کی طرح پہلے نبوت اور پھر خدائی کا دعوی کیا۔
 دعوی نبوت:
مرزا قادیانی ۲۳ اپریل ۱۹۰۲ء کو لکھتا ہے کہ
1      تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی ہے ، وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ جب تک کہ طاعون دنیا میں رہے گا گو ستر برس تک رہے، قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لیے نشان ہے۔ (دافع البلاء صفحہ ۱۰ مندرجہ روحانی خزائن ۱۸/۲۳۰)
2      سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔ (دافع البلاء صفحہ ۱۱، روحانی خزائن ۱۸/۲۳۱)
 دعوی خدائی:
مرزا قادیانی ۱۵ مئی ۱۹۰۷ء کو لکھتا ہے کہ
’’تو جس بات کا ارادہ کرتا ہے، وہ تیرے حکم سے فی الفور ہو جاتی ہے۔‘‘ (حقیقت الوحی، صفحہ ۱۰۵ مندرجہ روحانی خزائن ۲۲/۱۰۸)
مرزا قادیانی اور دجال میں دوسری قدر مشترک یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے بھی دجال کی طرح پہلے نبوت کا دعوی کیا اور پھر اس کے بعد خدائی کا دعوی کیا۔
 نشانی نمبر: ۳
مسلم کی روایت نمبر ۷۳۹۲ سے پتہ چلتا ہے کہ دجال کے پیروکار ۷۰ ہزار یہودی ہوں گے۔ مرزا قادیانی نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ
’’پس اس پیشگوئی کا ظہور ہے کہ جو حدیثوں میں آیا ہے کہ ستر ہزار مسلمان کہلانے والے دجال کے ساتھ مل جائیں گے۔اب علمائے مفکرین بتلا دیں کہ یہ باتیں پوری ہوگئیں یا نہیں۔‘‘ (انوار الاسلام صفحہ ۴۹ مندرجہ روحانی خزائن ۹/۵۰)
مرزا قادیانی کی اس تحریر سے درج ذیل باتیں معلوم ہوئیں۔
1     دجال کے ساتھ جو ملیں گے وہ خود کو مسلمان کہلوائیں گے۔
2     ان کی تعداد ۷۰ ہزار ہو گی۔
3     اور یہ بات مرزا قادیانی کے وقت میں پوری ہوگی۔
اب مرزا قادیانی کی لکھی گئی دجال کی انہی ۳ باتوں پر مرزا کو پرکھتے ہیں۔
 مرزا قادیانی کے پیروکاروں کی تعداد:
متعدد جگہ مرزا قادیانی اپنے پیروکاروں کی تعداد ۷۰ ہزار بتاتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
تحریر نمبر: ۱۔ مرزا نے لکھا ہے کہ
’’اس وقت خداتعالیٰ کے فضل سے ستر ہزار کے قریب بیعت کرنے والوں کا شمار پہنچ گیا ہے۔‘‘
(نزول المسیح صفحہ ۴ مندرجہ روحانی خزائن ۱۸/۲۸۳-۲۸۳)
تحریر نمبر: ۲ ۔ ایک اور جگہ مرزا نے لکھا ہے کہ
’’جو جماعت پہلے دنوں میں چالیس آدمیوں سے بھی کم تھی آج ستر ہزار کے قریب پہنچ گئی۔‘‘ (نزول المسیح صفحہ ۳۰ مندرجہ روحانی خزائن ۱۸/۴۰۸)
تحریر نمبر: ۳۔ مرزا لکھتا ہے کہ
’’چالیس آدمی میرے دوست تھے اور آج ستر ہزار کے قریب اُن کی تعداد ہے۔‘‘ (نزول المسیح صفحہ ۳۲ مندرجہ روحانی خزائن ۱۸/۴۱۰)
لیجئے! مرزا قادیانی کی دجال کے بارے لکھی گئی تینوں نشانیاں مرزا ہی میں ثابت ہو گئیں۔
1      دجال کے پیروکاروں کی تعداد بھی ۷۰ ہزار اور مرزا کے مرید بھی ۷۰ ہزار ہی نکلے۔
2      مرزا نے خود اقرار کیا کہ دجال کا ساتھ دینے والے مسلمان کہلانے والے ہوں گے جب کے مرزا کو ماننے والے پہلے مسلمان ہی تھے مگر مرزا (دجال) کو مان کر یہودی صفت ہو گئے۔
3      یہ تمام باتیں اس وقت ظہور پذیر ہوں گی جو مرزا قادیانی کا وقت ہے یعنی مرزا کے دور میں یہ تمام باتیں پوری ہو گئیں۔
نشانی نمبر: ۴
بخاری کی حدیث نمبر ۱۸۸۱ سے پتہ چلتا ہے کہ دجال مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ جبکہ یہ نشانی مرزا میں بھی پوری ہوئی۔ مرزا نے بھی اس حدیث کو تسلیم کیا ہے۔ (ازالہ اوہام حصہ دوم صفحہ ۸۴۲ مندرجہ روحانی خزائن ۳/۵۵۷)
مرزا قادیانی بھی ساری زندگی مکہ اور مدینہ نہ جاسکا۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل تحریر سے ثابت ہے:
مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے لکھا ہے کہ
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مسیح موعود(مرزا قادیانی) نے حج نہیں کیا۔اعتکاف نہیں کیا۔ زکوۃ نہیں دی۔ تسبیح نہیں رکھی۔‘‘ (سیرت المہدی جلد اول صفحہ ۶۲۳ روایت نمبر ۶۷۲)
نشانی نمبر: ۵
مسند احمد کی حدیث نمبر ۱۵۰۱۷ میں لکھا ہے کہ دجال ایک گدھے پر سواری کرے گا جس کے دونوں کانوں کے درمیان ۴۰ ہاتھ کا فاصلہ ہوگا۔ مرزا نے بھی اس حدیث کو تسلیم کیا ہے۔ (ازالہ اوہام حصہ دوم صفحہ ۸۴۱ مندرجہ روحانی خزائن ۳/۵۵۶)
نیز مرزا قادیانی ریل گاڑی کو دجال کی سواری لکھتا ہے۔ جیسا کہ مرزا نے لکھا ہے کہ
’’ایک بڑی بھاری علامت دجال کی اس کا گدھا ہے جس کے بین الاذنین کا اندازہ ستر باع کیا گیا ہے اور ریل کی گاڑیوں کا اکثر اسی کے موافق سلسلہ طولانی ہوتا ہے اور اس میں بھی شک نہیں کہ وہ دخان کے زور پر چلتی ہیں‘ جیسے بادل ہوا کے زور سے تیز حرکت کرتا ہے۔ اس جگہ ہمارے نبیe نے کھلے کھلے طور پر ریل گاڑی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ چونکہ یہ عیسائی قوم کی ایجاد ہے جن کا امام ومقتدا یہی دجالی گروہ ہے۔ اس لیے ان گاڑیوں کو دجال کا گدھا قرار دیا گیا۔‘‘ (ازالہ اوہام صفحہ ۳۹۸، روحانی خزائن ۳/۴۹۳)
اب مرزا قادیانی جس سواری کو دجال کی سواری لکھتا ہے خود بھی اسی پر سفر کرتا رہا۔ مرزا کے ریل کے سفر کے حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں۔
حوالہ نمبر: ۱۔ مرزا خود لکھتا ہے کہ
’’ایک دفعہ ہم ریل گاڑی پر سوار تھے اور لدھیانہ کی طرف جارہے تھے کہ الہام ہوا۔‘‘ (نزول المسیح صفحہ ۲۱۳ مندرجہ روحانی خزائن ۱۸/۵۹۱)
حوالہ نمبر: ۲۔ مرزا کے بیٹے اور دوسرے قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے مرزا کے جنوری ۱۹۰۳ء کے جہلم کے سفر کی روئیداد یوں لکھی ہے۔
’’۱۹۰۲ء کے آخر میں حضرت مسیح موعودu پر ایک شخص کرم دین نے ازالہ عرفی کا مقدمہ کیا اور جہلم کے مقام پر عدالت میں حاضر ہونے کے لیے آپ کے نام سمن جاری ہوا۔ چنانچہ آپ جنوری ۱۹۰۳ء میں وہاں تشریف لے گئے۔ یہ سفر آپ کی کامیابی کے شروع ہونے کا پہلا نشان تھا کہ گو آپ ایک فوجداری مقدمہ کی جواب دہی کے لیے جا رہے تھے لیکن پھر بھی لوگوں کے ہجوم کا یہ حال تھا کہ اس کا کوئی اندازہ نہیں ہو سکتا۔ جس وقت آپ جہلم کے سٹیشن پر اُترے ہیں اُس وقت وہاں اس قدر انبوہِ کثیر تھا کہ پلیٹ فارم پر کھڑا ہونے کی جگہ نہ رہی تھی۔‘‘ (سیرت مسیح موعود صفحہ: ۴۸)
حوالہ نمبر: ۳۔ مرزا بشیر الدین محمود نے مرزا کے ۲ نومبر ۱۹۰۴ء کے سیالکوٹ کے سفر کی روئیداد یوں لکھی ہے:
’’جب لیکچر ختم ہو کر گھر کو واپس آنے لگے تو پھر بعض لوگوں نے پتھر مارنے کا ارادہ کیا۔لیکن پولیس نے اس مفسدہ کو بھی روکا۔لیکچر کے بعد دوسرے دن آپ واپس تشریف لے آئے۔ اس موقع پر بھی پولیس کے انتظام کی وجہ سے کوئی شرارت نہ ہوسکی۔جب لوگوں نے دیکھا کہ ہمیں دکھ دینے کا کوئی موقع نہیں ملا تو بعض لوگ شہر سے کچھ دورباہر جاکر ریل کی سڑک کے پاس کھڑے ہوگئے اور چلتی ٹرین پر پتھر پھینکے۔لیکن اس کا نتیجہ سوائے کچھ شیشے ٹوٹ جانے کے اور کیا ہوسکتا تھا۔‘‘ (سیرت مسیح موعود صفحہ: ۵۴)
حوالہ نمبر: ۴۔ مرزا بشیر الدین محمود نے مرزا کی ۱۹۰۸ء میں وفات کے بارے میں یوں لکھا ہے کہ
’’ساڑھے دس بجے آپ فوت ہوئے۔ اُسی وقت آپ کے جسم مبارک کو قادیان میں پہنچانے کا انتظام کیا گیا اور شام کی گاڑی میں ایک نہایت بھاری دل کے ساتھ آپ کی جماعت نعش لے کرروانہ ہوئی۔‘‘
(سیرت مسیح موعود صفحہ: ۶۵)
یعنی مرزا جس سواری کو دجال کی سواری کہتا تھا زندگی بھر اسی پر سفر کرتا رہا اور موت کے بعد لاش بھی دجال کی سواری پر لے جانا پڑی۔
نشانی نمبر: ۶۔
مسلم کی حدیث نمبر ۷۳۷۳ سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال سیدنا عیسیٰu کا اتنا بڑا مخالف ہوگا کہ ان کے ساتھ لڑائی کرے گا۔ اگر ہم مرزا کو دیکھیں تو اس نے بھی سیدنا عیسیٰu کی مخالفت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ چند حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں۔
گستاخی نمبر: ۱۔ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ
’’عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں، مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ آپ سے کوئی معجزہ ظاہر بھی ہوا تو وہ معجزہ آپ کا نہیں تالاب کا معجزہ ہے۔‘‘ (ضمیمہ رسالہ انجام آتھم صفحہ ۶ مندرجہ روحانی خزائن ۱۱/۲۹۰)
گستاخی نمبر: ۲۔ مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ
’’ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہہ سیدنا عیسیٰu کی ۳ پیشگوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں۔‘‘ (اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح صفحہ ۱۴ مندرجہ روحانی خزائن ۱۹/۱۲۱)
گستاخی نمبر: ۳۔ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ
’’اور یسوع اس لئے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے اور یہ خراب چال چلن نہ خدائی کے بعد، بلکہ ابتداء سے ہی ایسا معلوم ہوتا ہے اور خدائی کا دعوی شراب خوری کا ایک بدنتیجہ تھا۔‘‘ (ست بچن صفحہ ۱۷۲ مندرجہ روحانی خزائن ۱۰/۲۹۶)
گستاخی نمبر: ۴۔ مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ
’’یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰu شراب پیا کرتے تھے۔‘‘ (کشتی نوح صفحہ ۶۶ مندرجہ روحانی خزائن ۱۹/۷۱)
گستاخی نمبر: ۵۔ مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ
’’آپ کی انہی حرکات کی وجہ سے آپ کے حقیقی بھائی آپ سے سخت ناراض رہتے تھے، اور ان کو یقین ہوگیا تھا کہ ضرور آپ کے دماغ میں کچھ خلل ہے اور وہ ہمیشہ چاہتے رہے کہ کسی شفاخانہ میں آپ کا باقاعدہ علاج ہو ، شاید خدا تعالیٰ شفا بخشے۔‘‘ (ضمیمہ رسالہ انجام آتھم صفحہ ۶ مندرجہ روحانی خزائن ۱۱/۲۹۰)
اب آخر میں مختصرا مرزا قادیانی اور دجال کا تقابلی جائزہ لیتے ہیں:
مرزا قادیانی اور دجال:
1      دجال بھی یہودی النسل ہوگا۔ مرزا ملعون بھی یہودی النسل تھا۔
2      دجال پہلے نبوت کا دعوی کرے گا اور اس کے بعد خدائی کا دعوی کرے گا۔ مرزا قادیانی نے بھی پہلے نبوت کا دعوی کیا اور اس کے بعد خدائی کا دعوی کیا۔
3      دجال کے ساتھیوں کی تعداد بھی ۷۰ ہزار ہوگی۔ مرزا ملعون کے مرید بھی ۷۰ ہزار تھے۔
4      دجال مکہ اور مدینہ نہیں جاسکے گا۔ مرزا کذاب بھی ساری زندگی مکہ اور مدینہ نہیں جاسکے۔
5      دجال گدھے پر سواری کرے گا۔ مرزا جس سواری کو دجال کا گدھا کہتا رہا اسی پر سواری بھی کرتا رہا۔
6      دجال سیدنا عیسیٰu کا مخالف ہوگا۔مرزا بھی سیدنا عیسی علیہ السلام کی مخالفت کرتا رہا۔ (فتنہ قادیانیت اور قادیانی احتساب کورس)

No comments:

Post a Comment

View My Stats