Mazmoon03-05-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Tuesday, May 14, 2019

Mazmoon03-05-2019


اسلامی تہذیب کے چند درخشاں پہلو

تحریر: جناب مولانا عمران احمد
اسلام ایک کامل و مکمل دین اور فطری نظام حیات ہے۔ اسلام میں جہاں عبادت کے طریقے سکھلائے ہیں وہیں زندگی بسر کرنے کے کچھ تہذیب و آداب سکھلائے گئے ہیں۔ دنیا کی کوئی بھی قوم بغیر تہذیب کے قائم نہیں ہے۔ منجملہ تہذیبوں میں سے ہماری اسلامی تہذیب بھی ہے۔ لیکن مغربی تہذیب کو اس بات پر بڑا ناز اور گھمنڈ ہے کہ وہ انسانی تاریخ کی سب سے متمدن اور ترقی یافتہ تہذیب ہے جس نے اپنی کرنوں سے سارے جہان کو منور کیا ہے۔ مگر صاحب علم و فہم اور معمولی بصیرت والے بھی یہ مشاہدہ کر رہے ہیں کہ یہ تہذیب کھوکھلی اور تاریک تر ہے، جس نے فی الواقع دنیا کو سطحی طور پر کچھ روشنی بہم پہنچائی ہے مگر اس نے انسانی معاشرے کے اخلاق، روحانیت اور انسانیت کی اندرونی دنیا کو مختلف امراض و مشکلات سے دوچار کر کے اسے موت سے بدتر زندگی جینے پر مجبور کر دیا ہے۔
 تہذیب کا لغوی مفہوم:
تہذیب کا لغوی معنی آراستگی، پاکیزگی، شائستگی، خوش اخلاقی، اصلاح، صفائی ، تمدن، فلاحت، تربیت، ذہنی ترقی، طہور انسانیت، اختیار آداب ، اخلاق و عادات اور رکھ رکھائو ہے۔ اسی سے شاعر کا قول ہے:
یہ دشنام کس طرح آئی تمہیں
یہ تہذیب کس نے سکھائی تمہیں
انگریزی میں اس کے لئے کلچر (Culture) کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ جس کا معنی ’’ہل چلانا‘‘ یا ’’کھیتی باڑی‘‘ کرنا ہے۔
تہذیب کا اصطلاحی مفہوم:
تہذیب ایک ایسا نظام اجتماعی ہے جو انسان کو ثقافتی ثمرات کے حصول میں زیادہ سے زیادہ مدد دیتا ہے۔ بعض محققین نے تہذیب کی اصطلاحی تعریف یوں کی ہے:
تہذیب وہ معیار ہے جس پر زندگی پرکھی جاتی ہے اور یہ زندگی کا نصب العین ہوتا ہے۔ نیز ہم جسے تہذیب کہتے ہیں اس کے معنی، دین، ایمان، دھرم، قانون اور علم کے سائے میں زندگی بسر کرنا، اپنی محنت سے اس زندگی کو درست رکھنا، نیک حوصلوں سے اس کو رونق دینا اور صنعت و تجارت کے ذریعہ سے وہ چیز حاصل کرنا جن سے آرام پہنچتا ہو وغیرہ ہیں۔ … نیز تہذیب ثقافت کی ایک شاخ ہے جس میں تحریر کا استعمال، شہروں کا وجود، سیاسی ردوبدل اور پیشہ وارانہ تخصص شامل ہے۔ جدید دور کے محققین نے تہذیب کے اندر ہر طرح کے تکنیکی علوم کو شامل کیا ہے، ثقافت کی طرح ہر شخص تہذیب میں اپنا کردار ادا نہیں کرتا اور یہ اس کے لئے ضروری بھی نہیں اور ثقافت کی طرح ترقی میں تہذیب ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ایک دینی مفکر نے اسلامی تہذیب اور اس کے مبادیات پر روشنی ڈالتے ہوئے تہذیب اور ثقافت کو ہم معنی لفظ قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک علوم و آداب، فنون لطیفہ، صنائع وبدائع، اطوار معاشرت، انداز تمدن اور طرزِ سیاست تہذیب کے نتائج و مظاہر ہیں۔
اسلامی تہذیب کی چند نمایاں خصوصیات:
پہلی خصوصیت: یہ ہے کہ اسلامی تہذیب عقیدۂ توحید کی اساس پر قائم ہے، چنانچہ یہ اولین تہذیب ہے جو الہ واحد کی طرف دعوت دیتی ہے، جس کی بادشاہی اور حکومت میں اس کا کوئی شریک نہیں، صرف اسی کی عبادت کی جانی چاہیے۔ چنانچہ اس عقیدے کا اسلامی تہذیب پر اتنا زبردست اثر پڑا کہ وہ تمام پہلی تہذیبوں سے ممتاز ہوگئی۔
دوسری خصوصیت: اسلامی تہذیب کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اس نے اخلاقی اصولوں کو اپنے پورے نظام اور اپنی ساری سرگرمیوں میں اولین مقام عطا کیا۔ حکومت، علوم و فنون، قانون سازی، صلح و جنگ، اخلاقی اصولوں کی تطبیق کو ہمیشہ مدنظر رکھا بلکہ اسلامی تہذیب اس معاملے میں حد کمال کو پہنچی ہوئی ہے۔ یہ ایسی تہذیب ہے جس نے انسانیت کے لئے خالص سعادت کی ضمانت دی ہے۔
تیسری خصوصیت: یہ ہے کہ یہ تہذیب کوئی ملکی یا قومی یا نسلی تہذیب نہیں بلکہ صحیح معنوں میں انسانی تہذیب ہے۔ یہ انسان کو بحیثیت انسان کے خطاب کرتی ہے اور اس شخص کو اپنے دائرے میں لے لیتی ہے جو توحید، رسالت، کتاب اور یوم آخرت پر ایمان لائے۔ اس طرح سے اس تہذیب نے ایک ایسی قومیت بنائی ہے جس میں بلاامتیاز رنگ و نسل و زبان ہر انسان داخل ہو سکتا ہے۔
چوتھی خصوصیت: ہماری تہذیب کی چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنے میلان و رجحان کے اعتبار سے پوری انسانیت پر حاوی ہے، اپنے پیغام اور مشن کے اعتبار سے آفاقی و عالم گیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوسری ہر تہذیب صرف ایک ہی نسل اور ایک ہی قوم کے ناموروں پر فخر کر سکتی ہے، لیکن اسلامی تہذیب ان تمام اقوام و قبائل کے سپوتوں پر فخر کر سکتی ہے جنہوں نے مشترکہ طور پر اس قصرِتہذیب کی تعمیر میں مدد دی، مثلا، ابوحنیفہ، مالک، شافعی، احمد، سیبویہ، فراء وغیرہ s۔
پانچویں خصوصیت: ہمہ گیری و آفاقیت کے ساتھ اسلامی تہذیب کی نمایاں خصوصیات کا زبردست ڈسپلن اور اس کی طاقت و گرفت ہے جس سے وہ اپنے متبعین کو شخصی و اجتماعی حیثیت سے اپنے آئین کا پابند بناتی ہے۔ اس طریقہ سے اسلامی تہذیب کو جوزبردست نفوذ و اثر حاصل ہوا وہ کسی دوسری تہذیب کو نصیب نہیں ہوا۔
چھٹی خصوصیت: یہ ہے کہ یہ تہذیب علم کے سچے اصولوں پر ایمان رکھتی ہے اور پاکیزہ ترین اصول و عقائد کو اپنا مرکز قرار دیتی ہے اور اس خصوصیت میں بھی کوئی تہذیب اس کی شریک نہیں، پھر ہماری اسلامی تہذیب وہ واحد تہذیب ہے جو دین کو ریاست سے جدا نہیں کرتی، لیکن اس کے باوجود ان دونوں کے امتزاج سے ان خرابیوں میں سے کوئی خرابی پیدا نہیں ہوئی جس سے یورپ قرون وسطیٰ میں دوچار ہوا تھا۔
تہذیبوں کی تاریخ میں اسلامی تہذیب کے یہ بعض خصائص و امتیازات ہیں جو پوری دنیا کے لئے موجب حیرت تھے۔ چنانچہ اسلامی تہذیب کی انہیں خصوصیات کو دیکھ کر ’’رابرٹ بریفالٹ‘‘ نے اس کا ذکر کچھ اس طرح سے کیا ہے کہ ’’جس روشنی سے تہذیب کا چراغ ایک دفع پھر روشن ہوا وہ یونانی اور رومی ثقافت کے ان شراروں سے نہیں اٹھی جو یورپ کے کھنڈروں میں سلگ رہے تھے، یہ روشنی شمال سے نہیں آئی بلکہ اس سلطنت کے جنوبی حملہ آور یعنی عرب اپنے ساتھ لائے تھے۔
اسلامی تہذیب ابتدائی عہد میں:
تہذیب و تمدن‘ ثقافت کی دو بڑی شاخیں ہیں۔ اسلامی تہذیب میں بھی ان شاخوں نے اتنا بھرپور کردار ادا کیا ہے کہ آج تہذیب و ثقافت کو جدا جدا مفہوم میں بیان کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ ابتدائی عہد کی اسلامی تہذیب یقینا عرب تہذیب سے ایک حد تک جداگانہ تھی، اس امر کو یوں بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ’’عرب بت پرست تھے‘ حضرت محمدe کی برکت نبوت سے وہ چند برس میں توحید پرست ہو گئے اور خانہ کعبہ بتوں سے پاک ہو گیا۔
’’السلام علیکم‘‘ تہذیب کا ایک اہم اور بنیادی جزو بن گیا۔ بدلے اور ظلم کی جگہ اخوت اور بھائی چارگی نے لے لی۔ عورتوں اور بیٹیوں کو قتل کرنے پر مجبور محض سمجھنے کی جگہ انہیں بھی قابل قدر مقام مل گیا۔ طاقتوروں کا کوئی مقام نہ رہا، مظلوموں اور بیوائوں کی داد رسی ہونے لگی۔ جوا، قتل، شراب نوشی اور ایسی دیگر برائیوں کا قلع قمع ہو کر ایک صالح معاشرہ بننے کے آثار پیدا ہوگئے۔ پاکیزگی، صفائی اور پانچ وقت کی نماز جزو زندگی بن گئی۔ دنیا میں پہلی بار باقاعدہ نظام تعلیم اور درسگاہوں کا اجراء ہوا، اس سے پہلے مقامی اساتذہ اور ان کی درسگاہیں محدود تعداد میں ہوا کرتی تھیں۔ شرم و حیا اسلامی تہذیب و ثقافت کا اہم جزو بن گئی۔ عدل و انصاف کا دور دورہ ہوا، یہاں تک کہ عدل فاروقی آج بھی دنیا میں ضرب المثل ہے، اطاعت امیر عام مسلمانوں کا طرۂ امتیاز بن گئی، سیدنا خالد بن ولیدt کی معزولی ایک اہم مثل ہے۔ چنانچہ ان تمام امور کی اہم مثالیں تاریخ اسلام میں بکھری ہوئی ہیں۔
اسلامی تہذیب قرون وسطی میں:
قرون وسطی میں سقوط بغداد (تیرہویں صدی عیسوی) میں اسلامی تہذیب و تمدن اپنے عروج پر تھا، خصوصاً سائنسی و علمی میدانوں میں دور دور تک مسلمانوں کا ہم پلہ کوئی نہ تھا۔ دنیا و آخرت دونوں پر مسلمانوں کی نظر تھی اور وہ ان دونوں کو بہتر بنانے میں لگے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب یورپ بربریت اور جہالت میں ڈوبا ہوا تھا۔ سیاست و حکومت اور تہذیب و تمدن کا کوئی تصور سرے سے وہاں موجود نہ تھا اور دنیا کی بڑی بڑی تہذیبیں تباہ ہو چکی تھیں۔ اس وقت مسلمان اٹھے اور انہوں نے ایک صدی میں ہندوستان سے فرانس اور چین سے افریقہ تک کے علاقوں میں ایک نئی تہذیب قائم کر دی۔ جابجا مسجدیں بنوائیں، علم و فن کے بڑے بڑے مراکز قائم کئے، جابجا کتب خانے اور درسگاہیں قائم کیں۔ چنانچہ ’’رابرٹ بریفالٹ‘‘ لکھتا ہے کہ ’’عربوں کے یہاں اتنے نفیس سوتی اور ریشمی لباس تھے جنہوں نے نیم عریاں لوگوں کو لباس کا شوقین بنا دیا۔ ڈاکٹر ڈریپر لکھتا ہے کہ: ’’جب یورپ جہالت کے اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا تو قرطبہ اور غرناطہ کی درسگاہوں میں حصول علم کے بڑے بڑے فانوس جگمگا رہے تھے، کتب اکٹھی کرنے کا جنون مسلمانوں میں عام تھا، سلاطین و امراء کیا عام مسلمان بھی کتابوں کا ذخیرہ کرنا تہذیب و ثقافت کا جزو سمجھتے تھے۔
ابن ندیم لکھتے ہیں:
’’بغداد میں محمد بن حسین ابی بعرہ کا کتب خانہ لاجواب تھا۔ یاقوت حموی رقم طراز ہیں کہ: ’’سلطان بہاؤ الدولہ کے وزیر ابونصر سابور کے کتب خانے سے بہتر کوئی کتب خانہ نہ تھا۔‘‘
چنانچہ ہمارے اسلاف نے بھی خود تصنیف کے انبار لگا دئیے تھے، ہزاروں علماء و ادباء ایسے گذرے ہیں جن کی تصانیف کی تعداد سو سے اوپر ہے، مثلا: امام ابن تیمیہa نے پانچ سو۔ جلال الدین سیوطیa نے ساڑھے پانچ سو، امام غزالیa دو سو۔ ابن عربیa ڈھائی سو کتابوں کے مصنف تھے۔ مسلمان ہی پہلے وہ لوگ تھے جنہوں نے سائنس پر کماحقہ توجہ دی، یوں تو مسلمانوں کے طبی کارناموں کی فہرست بڑی طویل ہے مختصراً یہ کہ انہوں نے روشنی، نظر، کسوف، خسوف، بادو باراں، حیوانات، نباتات، خواص اشیاء وغیرہ پر لاتعداد کتب لکھیں۔ طب میں اسلام نے ہزار ہا علماء پیدا کئے، فلسفہ اور دیگر علوم مابعد الطبیعیات میں مسلمانوں نے بیش قیمت اضافے کئے، علم تاریخ مسلمانوں ہی نے صحیح اور سائنسی بنیادوں پر مدون کیا۔ چنانچہ قرون وسطی کی تہذیب و ثقافت میں علم کی فراوانی کا یہ حال تھا کہ لوگ تحصیل علم کو فرض اولین اور کسب معاش کو فرض دوم سمجھتے تھے۔
اسلامی تہذیب میں مساوات کا جوہر:
اسلام انسان کی عظمت، انسانیت کی مساوات اور اخوت کا علم بردار ہے۔ رنگ و نسل اور زبان و قومیت کے اختلاف کو جغرافیائی اور تاریخی حالات و حوادث کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔ چنانچہ ہماری لازوال تہذیب کی انسان دوستی کا یہ ایک ایسا پہلو ہے کہ جس نے انسانوں کے درمیان حقیقی مساوات کی بنیادیں مضبوط کیں، بغیر یہ لحاظ کئے کہ کس کا رنگ کیا ہے اور کس کا نسبی تعلق کس سے ہے؟ چنانچہ قرآن مجید کا اعلان ہے:
{اِنَّ اَكرَمَكمْ عِنْدَ الله اَتْقٰٹكمْ٭}
’’اللہ کے نزدیک تم سب میں سے باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔‘‘
اسی طرح نبی کریمe نے فرمایا:
[لا فضل لعربی علی عجمی ولا لعجمی علی عربی ولا لأحمر علی أسود ولا لأسود علی أحمر الا بالتقوی۔]
’’خبردار کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ ہی کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت ہے اور نہ کسی گورے کو کسی کالے پر اور نہ کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت ہے مگر تقویٰ کے ذریعہ۔‘‘
سوچئے تو ذرا کہ اسلامی تہذیب کے اصول و مبادی کا یہ پہلو کس قدر روشن ہے، اولا انسان کا مقام اس اسلامی تہذیب کے اصول و مبادی میں کس قدر بلند ہے، لوگ سب کے سب سیاہ فامی کو عیب تصور کرتے تھے اور کالوں کو گویا انسانوں میں شمار ہی نہ کرتے تھے، لیکن جب ہماری اسلامی تہذیب آئی تو اس نے ان سب باطل معیاروں کا قلع قمع کر دیا۔ مختصراً یہ کہ ہماری اسلامی تہذیب نے سیاہ فاموں اور گورے رنگ والوں کے درمیان کسی قسم کا کوئی طبقاتی فرق روا نہیں رکھا، بلکہ ہماری اسلامی تہذیب ایک ایسی حقیقی انسانی تہذیب ہے جس کی نظرمیں انسانیت کی قدر و قیمت ہے۔
اسلامی تہذیب میں مذہبی رواداری:
اسلامی تہذیب میں مذہبی رواداری کے باب میں چند اصول و مبادی اس طرح بیان کئے جاتے ہیں:
تمام سماوی دین ایک ہی سرچشمہ سے پھوٹتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{شَرَعَ لَكمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْك وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖٓ اِبْرٰهیْمَ وَ مُوْسٰی وَ عِیْسٰٓی اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْه٭} (شوریٰ:۱۳)
دین کے ایجاب و قبول میں کوئی جبر و اکراہ (زبردستی) نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{لَآ اِكرَاه فِی الدِّیْنِ} (البقره)
دوسری جگہ ارشاد ہے:
{فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآء َ فَلْیَكفُرْ} (الكهف:۲۹)
تمام ادیان و مذاہب کی عبادت گاہیں قابل احترام و حفاظت ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{وَ لَوْ لَا دَفْعُ الله النَّاسَ بَعْضَهمْ بِبَعْضٍ لَّهدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْكرُ فِیْها اسْمُ الله كثِیْرًا٭} (الحج:۴۰)
چنانچہ امن و سلامتی کی حالت میں حسن خلق، نرمی، ضعیفوں سے رحم دلی، اقرباء اور پڑوسیوں کے ساتھ رواداری کا مظاہرہ ہر قوم کر سکتی ہے، لیکن جنگ کی حالت میں لوگوں کے ساتھ منصفانہ معاملہ کرنا، دشمنوں سے نرم سلوک کرنا، بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کے ساتھ رحم دلی کا مظاہرہ کرنا ہر قوم کے بس کی بات نہیں۔ ایسی حالت میں ہماری واحد اسلامی تہذیب ہے جس کے اکابر نے سخت ترین جنگی حالات میں بلند ترین عادلانہ و منصفانہ انسانیت کا مظاہرہ کیا۔ چنانچہ اسلامی تہذیب کے جنگی اصول ومبادی کو صرف تین لفظوں میں پیش کیا جا سکتا ہے: انصاف، رحم اور وفا عہد۔
اسلامی تہذیب میں حسن سلوک اور رحم وشفقت کا کردار:
ہماری اسلامی تہذیب اپنے اصولوں اور طرز عمل کے لحاظ سے ایسے لطیف انسانی شعور کی پیامبر بن کر اور ایسے رحیمانہ روپ میں سامنے آئی جو کسی گذشتہ تہذیب کو نصیب نہ ہوا اور نہ اسلامی تہذیب کے بعد کسی قوم کو میسر آیا، یعنی انسانوں سے رحم و شفقت کا سلوک کرنا تو درکنار حیوانات سے رحم و شفقت کا سلوک ہماری اسلامی تہذیب میں پایا جاتا ہے۔ ہماری اسلامی تہذیب نے سب سے پہلے یہ اعلان کیا کہ حیوانات بھی انسان کی طرح ایک مخلوق ہیں اور وہ رحم و شفقت کے مستحق ہیں جس طرح ایک انسان رحم و شفقت کا مستحق ہے۔
رسول اکرمe کا ارشاد ہے:
[الراحمون یرحمھم الرحمن ارحموا اھل الأرض یرحمكم من فی السماء]
’’رحم کرنے والوں پر رحمن رحم کرتا ہے، اے زمین والو! رحم کرو اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے گا۔‘‘
دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
[اتقوا فی ھذه البھائم المعجمة، فاركبوھا صالحة واتركوھا صالحة۔]
’’ان حیوانات کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کا خوف کرو جو بول نہیں سکتے۔ ان پر سواری کرو جب کہ وہ اس کے قابل ہوں اور انہیں چھوڑ دو جب کہ وہ اچھی حالت میں ہوں۔‘‘
بعض اوقات حیوانات کے ساتھ سنگ دلانہ برتاؤ کی وجہ سے ایک آدمی جہنم میں بھی داخل ہو سکتا ہے۔ رسول اللہe نے فرمایا:
[دخلت امرأة النار فی ھرة ربطتھا ولم تطعمھا ولم یدعھا تاكل من خشائش الارض۔]
’’ایک عورت محض ایک بلی کی وجہ سے جہنم کی سزا وار ہوئی کہ اس نے اس کو باندھ رکھا تھا نہ کچھ کھانے کو دیا اور نہ آزاد چھوڑا تا کہ وہ کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔‘‘
مسلمانوں کے چند تہذیبی مراکز:
مسلمانوں کی تہذیب کا ایک اجمالی تعارف تو سابق سطور میں پیش کیا جا چکا ہے، یہاں مسلمانوں کے چند اہم شہروں کی تہذیبوں کی ایک جھلک پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
بغداد عہد عباسیہ میں:
عباسی خلفاء نے عراق کے شہر بغداد کو اپنا پایۂ تخت بنایا تو دنیا بھر سے اہل علم و ہنر یہاں اکٹھے ہو گئے۔ سلطنت عباسیہ کے عہد میں شہر بغداد آبادی، خوبصورتی، علوم و فنون، تہذیب و ثقافت اور رکھ رکھائو کے لحاظ سے دنیا میں اول نمبر کا شہر تھا۔ امرائے سلطنت کے محل سنگ مر مر کے بنے ہوئے تھے، دریائے دجلہ شہر کے درمیان سے گزرتا تھا، لوگوں کے پینے کے لئے میٹھا اور صاف پانی مہیا ہوتا تھا۔ بغداد میں بے شمار مساجد، مدارس اور جامعات تھیں۔ طلبہ کو وظائف دئیے جاتے تھے، عدل و انصاف کا چرچا دور دور تک تھا، علم و ادب کا دور دورہ تھا، الف لیلیٰ کی مشہور داستان یہیں لکھی گئی۔
قرطبہ اموی دور میں:
یہ اسپین کا ایک شہر ہے، شہر کے سامنے وادی الکبیر کا پل تھا، لاتعداد مدارس تھے، تعلیم مفت دی جاتی تھی، کتب خانے بے شمار تھے، قرطبہ کی جامع مسجد آج بھی مسلمانوں کی اس تہذیب و تمدن کی نشاندہی کر رہی ہے۔ ان دو بڑے مراکز کے علاوہ بے شمار چھوٹے مراکز بھی ہیں جو مختلف علاقوں مصر، شام، ترکستان، ہندوستان میں وجود میں آئے۔ چنانچہ قاہرہ، دمشق، بصرہ، سمرقند، بخارا، دہلی، لکھنؤ، مالدیپ وغیرہ میں مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت آج بھی قابل ذکر ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ دنیا کے اندر انصاف پسند اور مساوات کی تعلیم دینے والی اگر کوئی تہذیب ہے تو وہ اسلامی تہذیب ہے۔ اس لئے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی تہذیب کو خود اپنائیں اور اس کی خوبیوں اور اچھائیوں کو لوگوں کے سامنے پیش کریں، تا کہ دنیا جان لے کہ ہماری اسلامی تہذیب نہ صرف گوناگوں خصوصیات کی حامل ہے بلکہ ساری دنیا کے لیے امن و سلامتی کی ضامن ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں مغربی تہذیب کے شکنجوں اور اس کی برائیوں سے بچائے اور اسلامی تہذیب کو اپنانے کی توفیق دے، آمین!

No comments:

Post a Comment