Mazmoon03-06-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Tuesday, May 14, 2019

Mazmoon03-06-2019


وحدتِ اُمّت سیمینار

تحریر: جناب پروفیسر یٰسین ظفر
اعلامیہ:
عالم اسلام اس وقت جن حالات سے دو چار ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ۔ تباہ حال امن وامان ، اقتصادی بحران ، غربت وجہالت ، تشدد ، انتہاپسندی ، سیاسی خلفشار اور مذہبی فرقہ واریت نے پوری امت کو مفلوج کر دیا ہے۔ اب حالات میں سے نکلنے کے لیے ازحد ضروری ہے کہ پوری امت یک جان ہو اور اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کرے۔ اپنے معمولی اختلافات کو بالائے طاق رکھ دے اور امت کو مشکلات سے نکالنے کے لیے کوشش کریں۔ امت کے تمام شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس سلسلے میں سعودی عرب کی جدوجہد ایک عرصے سے جاری ہے۔ انہوں نے بنیادی مسائل کے حل کے لیے انڈونیشیا سے مراکش تک تمام مسائل حل کرنے چاہے۔ اس ضمن میں رابطہ عالم اسلامی فعال کردار ادکر رہاہے۔ جو سعودی فرما نروا سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی سرپرستی میں اتحاد واتفاق کی فضا پیدا کررہاہے اور تمام مسلمانان عالم اسلا م کو ایک قوت میں تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
اس سلسلے میں حال ہی میں مکہ مکرمہ میں منعقد ہونے والی وحدت اسلامی انٹر نیشنل کانفرنس بہت اہمیت کی حامل ہے۔ جس میں ۱۲۷ ممالک کے ۱۲۰۰ نمائندوں نے شرکت کی۔ بیت اللہ کے سائے میں منعقد ہونے والی یہ عظیم الشان کانفرنس نے عالم اسلام کو بالخصوص اور پوری دنیا کو بالعموم یہ پیغام دیا ہے کہ مسلمان ایک پرامن امت ہے۔ جو ایک اللہ‘ ایک رسول‘ ایک قرآن اور ایک قبلہ پر یقین رکھتی ہے اور دنیا کو امن سلامتی کا پیغام دیتی ہے۔ عدم برداشت ، انتہا پسندی اور دہشت گردی سے شدید نفرت رکھتی ہے۔ انسانی حقوق کا نہ صرف اہتمام کرتی ہے بلکہ اس کی ادائیگی کا حکم دیتی ہے،۔ سیمینار میں اظہار خیال کرتے ہوئے مہمان مقرر جناب ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش صدر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی نے زور دیا کہ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے۔ اس کے لیے علماء کرام کو مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا۔ امت محمدیہ کا اعزاز ہے کہ یہ امت وسطیہ ہے۔ رواداری اور افہام وتفہیم کی فضا پیدا کرنا ہے۔ ہم مل جل کر ہی اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے سرکاری اور غیرسرکاری اداروں کو سوچنا ہوگا۔ مسلمانوں کے پاس بہت وسائل ہیں۔ انہیں ضائع ہونے سے بچایا جائے اور اس کے صحیح استعمال سے ہم امت کو ترقی یافتہ قوموں میں شامل کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹر ضیاء الحق نے کہا کہ آج پاکستانی علماء نے بھی اتفاق رائے سے پیغام پاکستان کی شکل میں نہایت اہم بیانیہ جاری کیا ہے جس سے فکری انقلاب آئے گا۔ ناظم اعلی وفاق المدارس السلفیہ جناب یٰسین ظفر صاحب نے مہمانوں کو ِخوش آمدید کہا اور شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم اعلان مکہ کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ اسے نافذ کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون کریں گے۔ انہوں نے بھی عالم اسلام کے علماء سے اپیل کی کہ وہ اعلان مکہ کا مطالعہ کریں اور اس پیغام کو گھر گھر پہنچائیں ۔ سیمینار سے جن دیگر مقررین نے خطاب کیا ان میں ضیاء الحق (ڈی جی آئی آو آئی ار) ڈاکٹر عتیق الرحمن ، مفتی عبدالحنان زاہد ، ڈاکٹر عبدالقادر گوندل، ڈاکٹر محمدانور ، حاجی بشیر احمد ، مولانا محمد یوسف انور ، حافظ مسعود عالم ، مولانا محمد یونس ، پروفیسر نجیب اللہ طارق شامل ہیں۔
سیمینار کی سفارشات!
جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں منعقد ہونے والے انٹرنیشنل سیمینار میں درج ذیل سفارشات منظور کی گئیں۔
1      یہ سیمینار پاکستان میں موجود تمام مذہبی گروہوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ مذہب ومسلک کی بنیاد پر اپنی پہچان ختم کریں اور اللہ تعالیٰ نے جو نام ہمارے لیے پسند فرمایا اسکو  اختیار کریں۔ {ھُوَ سَمَّاكمُ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْ قَبْلُ}
2      مسلمانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اتحاد واتفاق کا مظاہر کریں اور تعصب ، حسد ، علاقائی ، لسانی اور جذبات سے اجتناب کریں۔
3      یہ سمینار علماء اور مشائخ سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اختلافی مسائل کو اجاگر کرنے کی بجائے امت کو مشترکات پر جمع کریں اور ان کی صلاحیتوں سے بھر پور فائدہ اٹھائیں۔
4      یہ سیمینار تمام تعلیمی اداروں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اعتدال اور رواداری کو فروغ دینے کے لیے مختلف ورکشاپس منعقد کریں۔ اساتذہ اور طلبہ کی تربیت کریں۔ ان میں فکری کشادگی کے ساتھ ساتھ انسان دوستی کے جذبات کو فروغ دیں۔
5      یہ سمینار داعیان اسلام سے اپیل کرتا ہے کہ وہ امت میں پیار والفت اور محبت کو فروغ دیں۔ نفرت اور ناپسندیدگی کے جذبات کو ختم کریں۔ ایک دوسرے کے پروگراموں میں شرکت کریں۔
6      یہ سیمینار سعودی عرب کی اتحاد امت اور وحدت اسلامیہ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتا ہے اور خاص کر سعودی فرمانروا ملک سلمان بن عبدالعزیز آل سعود حفظہ اللہ کی جدوجہد اور اسلام ومسلمانوں کی خدمات کوقدر کی نظر سے دیکھتا ہے اور انہیں مکہ کانفرنس کی کامیابی پر مبارک باد پیش کرتا ہے۔
7      یہ سیمینار عالم اسلام کی موجودہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ تمام حکمران اپنے ملکوں میں عدل وانصاف کو فروغ دیں۔ غربت وجہالت کے خاتمے کے لیے کوششیں کریں۔
8      یہ سیمینار فلسطین ، شام ، یمن ، عراق ، کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالی کی مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ مسلمانوں کے جان مال آبرو کی حفاظت کی جائے۔ اور انہیں آزادی سے جینے کا حق دیا جائے۔
9      یہ سیمینار مطالبہ کرتا ہے کہ تمام مسلمان انتہاپسندی ، تشدد اور تخریب کاری سے اجتناب کریں۔ اپنے اندر رواداری ، پیار ومحبت کو فروغ دیں۔
0      یہ سیمینار تمام علماء سے اپیل کرتا ہے کہ وہ انفرادی فتوؤں سے اجتناب کریں۔ اسلام کی تشریحات کو مسلمہ اصولوں اور سلف صالحین کی فکر کے مطابق انجام دیں۔ انفرادیت سے اجتناب کریں اور قرآن وسنت کی تعلیمات پر عمل کریں۔

No comments:

Post a Comment