Mazmoon03-07-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Tuesday, May 14, 2019

Mazmoon03-07-2019


مولانا محمد علی 

تحریر: جناب مولانا عبدالرحمن ثاقب (سکھر)
کچھ لوگوں کے دنیا سے چلے جانے کے بعد خاندان، دوست و احباب اور تعلق رکھنے والے اس کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ اس کی حسنات کو یاد کرتے رہتے ہیں اور بچھڑ جانے والے کی یاد میں آنسو بہاتے رہتے ہیں انہی میں سے ایک ہمارے تایا جان مولوی محمد علی صاحب بھی تھے جو کہ ہمارے گھرانے کے بڑے اور نیکی و تقوی کی مثال آپ تھے۔
 پیدائش :
مولوی محمد علی صاحب‘ حاجی محمد بوٹا کے گھر ۱۹۳۷ء کو پنڈ داؤد ضلع نارووال میں پیدا ہوئے۔ آپ بہن بھائیوں میں بڑے تھے۔ دادا جی کے تین بیٹے تھے: محمد علی، رحمت علی اور خادم علی۔ جبکہ تین ہی بیٹیاں زوجہ عنایت علی، زوجہ فیض اللہ اور زوجہ چوہدری شوکت علی تھیں۔ دادا جی مرحوم ۱۹۴۰ء سے پہلے اپنے پنڈ داؤد ضلع نارووال کی سکونت ترک کرکے سندھ بھریاروڈ کے قریب آگئے کیونکہ پنجاب میں زمین ناکافی تھی اور یہاں آکر زمینیں خریدیں اور آباد کیں۔ آپ سے پہلے برادر نسبتی مولوی محمد حسین مرحوم جد امجد ناظم سندھ مولانا محمد ابراہیم طارق صاحب یہاں تشریف لاچکے تھے۔
 تعلیم :
مولوی محمد علی صاحب نے ناظرہ قرآن مجید اپنے ماموں مولوی محمد حسین صاحب سے پڑھا اور پرائمری تک عصری تعلیم حاصل کی۔
قبول مسلک اہل حدیث:
ہمارے خاندان کے افراد بھی توحید و سنت سے ناآشنا تھے۔ قرآن و سنت کی سچی اور صاف ستھری دعوت کو سب سے پہلے قبول کرنے والے ناظم سندھ مولانا محمد ابراہیم طارق صاحب کے دادا مولوی محمد حسین مرحوم تھے ان کے بعد خاندان کے دیگر افراد نے مسلک اہل حدیث قبول کیا۔ مولوی محمد حسین مرحوم، امانت علی مرحوم (سسر مولانا محمد ابراہیم طارق صاحب)اور تایا جی مولوی محمد علی صاحب نے حضرت الامام مولانا عبدالستار سلفیa (سابق امیر جماعت غرباء اہل حدیث پاکستان) کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ آپ جماعت غرباء اہل حدیث کی کراچی میں منعقد ہونیوالی سالانہ قرآن و حدیث کانفرنس میں شرکت کیا کرتے تھے۔ اسی طرح سے پندرہ روزہ صحیفہ اہل حدیث کراچی بھی ہماری گوٹھوں میں آیا کرتا تھا۔ اس کی پرانی فائلیں میں نے گاؤں کی مسجد میں خود دیکھی ہیں جو کہ ۱۹۹۲ء کی طوفانی بارشوں کی نذر ہوگئی تھیں۔
 گاوں کی تعمیر سے پہلے مسجد کی تعمیر :
ہمارے دادا جی جب ۱۹۴۰ء میں پنجاب سے نقل مکانی کرکے سندھ آئے اور بھریاروڈ سے مشرق کی طرف ۷ کلومیٹر کے فاصلہ پر زمین خریدی تو گاؤں تعمیر کرنے سے پہلے اپنے والد مرحوم کے صدقہ جاریہ کے لیے ایک خوبصورت مسجد بنائی اور اس کو سفید رنگ کیا جس وجہ سے اس گاؤں کا نام ہی سفید مسجد مشہور ہوگیا۔ اس گاؤں میں تبلغ دین کے لیے تشریف لانے والے علماء کرام میں محدث دیار سندھ علامہ سید بدیع الدین شاہ راشدی، سید عبدالغنی شاہ کامونکی والے، شہید اسلام مولانا حبیب الرحمن یزدانیS، مولانا منظور احمد، استاذالعلماء مفتی الشیخ خلیل الرحمن لکھوی صاحب، استاذ مکرم سلیمان خان صاحب، استاذالعلماء مفتی محمد یوسف قصوری صاحب، الشیخ مولانا محمد یونس صدیقی صاحب، قاری محمد یعقوب فیصل آبادی صاحب وغیرہ شامل ہیں۔
آپ کو مسجد کی ہمیشہ آباد کاری کی فکر رہا کرتی تھی اور اس کی مرمت وغیرہ کا کام کرواتے رہتے تھے۔
 دین اور دینی تعلیم سے محبت:
مولوی محمد علی مرحوم دین سے انتہائی زیادہ لگاو رکھنے والے اور دینی تعلیم سے پیار کرنے والے تھے۔ باوجودیکہ آپ نے دینی مدرسہ سے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی لیکن دینی کتب و رسائل کا مطالعہ کیا کرتے تھے۔ ابتداء میں گاؤں کے لوگ دوسرے گاؤں نماز جمعہ پڑھنے جایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ دادا جی حاجی محمد بوٹا نے کہا کہ محمد علی آپ خود اپنی گوٹھ کی مسجد میں جمعہ پڑھایا کرو تو آپ نے ابتداء میں سید ابوالاعلی مودودیa کے خطبات سے تیاری کرکے اپنی گوٹھ میں خطبہ جمعہ شروع کردیا۔ بعد ازاں آپ اسلامی خطبات اور مواعظ طارق وغیرہ سے تیاری کرکے خطبہ جمعہ دیا کرتے تھے۔ اسی طرح نمازوں کی امامت کرواتے اور بچوں کو ناظرہ قرآن مجید پڑھاتے تھے۔ قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرنے والوں میں راقم الحروف اور مولانا محمد ابراہیم طارق صاحب کے علاوہ ایک بڑی تعداد ہے۔ بلکہ آپ زندگی کے کچھ سال گوٹھ عبداللہ جٹ نزد دوڑ ضلع نواب شاھ میں رہے اور وہاں پر آپ نے بچوں کے ساتھ ساتھ بچیوں اور شادی شدہ خواتین کو قرآن مجید اور منتخب سورتوں کا ترجمہ بھی پڑھایا۔
آپ علماء کے ساتھ محبت کیا کرتے تھے اور ان کے وعظ و نصیحت سننے کے لیے کراچی تک جایا کرتے تھے۔ آپ شیخ القرآن مولانا محمد حسین شیخوپوری اور سید علامہ بدیع الدین شاہ راشدیa کے بڑے مداح تھے اور ان کے خطابات بڑی دلچسپی سے سنا کرتے تھے۔
آپ سیرت رسولe اور سیرت صحابہ کا مطالعہ شوق سے کیا کرتے تھے اور اس کے متعلق کتب مجھ سے لے جایا کرتے تھے۔
آپ نے کئی دفعہ رمضان المبارک کے روزے میرے پاس آکر رکھے اور کہا کرتے تھے کہ یہاں آپ کے گھر کا ماحول مجھے بڑا پسند ہے۔ آپ جہاں بھی جاتے اپنے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کو قرآن مجید کی تلاوت اور ادعیہ مسنونہ یاد کرنے کی ترغیب دیا کرتے تھے۔
آپ عقیدہ توحید پر سختی سے کاربند رہنے والے اور متبع سنت تھے۔ رسوم و رواج سے دلی نفرت کیا کرتے تھے۔ بلکہ کوشش کیا کرتے تھے کہ شادی و بیاہ بغیر کسی رسم و رواج کے سادگی سے ہو۔
آپ نماز و تلاوت قرآن کے پابند تھے۔ شب زندہ داری والی خوبی آپ میں پائی جاتی تھی۔ رات کو پچھلے پہر اٹھ کر آپ مسجد چلے جایا کرتے تھے۔ نماز فجر پڑھانے کے بعد گاؤں کے بچوں کو قرآن مجید پڑھانے کے لیے بیٹھ جایا کرتے تھے۔ کوشش کرکے رمضان المبارک کے آخری عشرہ کا اعتکاف بھی کیا کرتے تھے۔
شجر سایہ دار :
آپ اپنے خاندان اور بہن بھائیوں میں بڑے ہونے کے ناطے شجر سایہ دار کی حیثیت بھی رکھتے تھے۔ سب سے پیار و محبت کرتے اور گاہے بگاہے ان کے گھروں میں جاتے اور ان کے حال احوال دریافت کرتے۔ والد محترم بتارہے تھے کہ مجھے اکثر فون کرتے اور پوچھتے کہاں ہو اور اگر میں گاؤں میں کھیتی باڑی کے کام میں مشغول ہوتا اور تھوڑی سی دوپہر ہوتی تو کہتے کہ بس کرو اور جلدی سے گھر آجاؤ گرمی بہت ہے۔ یعنی چھوٹے بھائی کا خیال بھی بیٹے کی طرح سے رکھتے کہ کہیں چھوٹے بھائی کو گرمی نہ لگ جائے۔ آپ اپنی بیٹیوں کا خاص خیال رکھتے بالخصوص جو مالی لحاظ سے کمزور ہیں زمین کی آمدن سے ان کو گندم خرید کر دیتے اور ان کی دیگر ضروریات کا خیال رکھتے۔
آپ مساجد و مدارس اور طلبہ دینیہ پر دل کھول کر خرچ کیا کرتے تھے۔ آپ کا زیادہ اور گہرا تعلق دین دار لوگوں سے تھا اور ان کے ساتھ بیٹھ کر خوش رہا کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو آٹھ بیٹیاں اور ایک بیٹا عطاء کیا تھا۔ آپ نے ابتدائی زندگی عسر و یسر میں گذاری لیکن کبھی بھی شکوہ نہ کیا۔ زندگی میں کئی مشکلات سے گذرنا پڑا لیکن ہر حال میں رب کی رضا پر راضی اور خوش نظر آئے۔
آپ نے اپنی ایک صاحبزادی کا نکاح راقم سے کیا۔ میرے لیے سعادت ہے کہ مجھے بچپن سے لاڈ اور پیار سے پالا بھی، قرآن مجید کی تعلیم اور دینی تعلیم کے لیے راغب بھی کیا اور زندگی بھر اپنی دعاؤں سے نوازتے رہے۔ میرے پاس آکر بڑا خوش ہوا کرتے اور کہا کرتے تھے کہ مجھے تمہارے گھر کا ماحول بہت پسند ہے‘ جس طرح سے میں چاہتا ہوں اسی طرح سے گھر کا ماحول ہے۔
وفات سے چار دن پہلے آپ کو دیکھنے اور ملنے کے لیے حاضر ہوا‘ آپ کو دیکھ کر آزردہ خاطر بھی ہوا اور محسوس ہوا کہ دعاؤں کا یہ باب بھی بند ہوا چاہتا ہے۔ یہ سوچ کر کہ رب کے فیصلہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں‘ قریب بیٹھا آنکھوں سے آنسو بہاتا رہا اور عمر گذشتہ کی شفقتوں کو یاد کرتا رہا۔
 وفات:
بالآخر ۳ جنوری ۲۰۱۹ء بروز جمعرات صبح ۳۰:۸ پر وہ وقت آن پہنچا جس سے کوئی بھی ذی شعور انسان انکار نہیں کرسکتا۔ پیغام اجل آپہنچا‘ آپ کی روح نے جسم کا ساتھ چھوڑ دیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
بعد نماز مغرب چک نمبر ۴ نزد اڈہ جوآنہ بنگلہ احمد پور سیال ضلع مظفر گڑھ میں راقم الحروف نے آنسؤوں اور سسکیوں میں نماز جنازہ پڑھائی اور مقامی قبرستان میں دفن کردیا۔
اللہ کے حضور دعا ہے کہ ہمارے تایاجان مولوی محمد علی مرحوم کی حسنات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور بشری خطاؤں اور لغزشوں کو معاف کرکے اعلیٰ علیین میں جگہ عطاء فرمائے۔ آمین!
اللھم اغفرله وارحمه وعافه واعف عنه

No comments:

Post a Comment

View My Stats