Mazmoon04-01-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Thursday, May 16, 2019

Mazmoon04-01-2019


رسول اللہ ﷺ بحیثیت ماہر نفسیات

تحریر: جناب پروفیسر عبدالعظیم جانباز
جہا ن فا نی سے لے کر جہا ن با قی تلک ہو اِنسا ن کی تر بیت اور تکمیل رو حا نی کیلئے اللہ رَب العزت نے مکمل انتظام فر ما یا ہے ۔ یہ اِنسان کی اپنی سستی و کا ہلی ، کم عقلی و بے ثبا تی ہے کہ وہ را ستو ں کی مو جو دگی ورہنمائوں کی سیرت سے فیض حا صل نہ کر سکے۔ یہ با ت مسلمہ حقیقت ہے کہ کو ئی بھی منزل اور کو ئی بھی را ستہ تب تلک واضح نہیں ہو تا جب تک جستجو اپنی حد کمال کو نہ جا پہنچے ۔ آج کی جدید رو شنی کے تعلیم یا فتہ اذہا ن ہر قسم کے علوم سے کما حقہ استفا دے کیلئے جس مضمو ن کو بنیا د قر ار دیتے ہیں وہ نفسیا ت کا علم ہے یعنی ہر علم کی جہتیں تب ہی سمجھ میں آ سکیں گی جب اس کی نفسیا ت سے وا قفیت ہو گی۔ پھر یہ تسلیم کر لینے میں کو ئی قیل و قا ل نہیں ہونا چا ہیئے کہ علو م سے بہر ہ ور کرا نے وا لی ذ ا ت نے جب سے اِس کا ئنا ت کو خلق فر ما یا ہے تبھی سے ہی اس کی نفسیات کی بنیا د بھی رکھ دی ہے۔ اب یہ ہما را کام ہے کہ ہم عقل و شعو ر کا دامن تھامے کائنات کی نفسیات کو سمجھیں تا کہ ارض و سما ء کی نفسیا ت ہماری سمجھ میں آ ئے اور ہم دیگر علو م و فنون سے دنیا کو درست معنو ں میں جا ن کر دو سر و ں کیلئے نا فع بنتے ہوئے اِسلام دشمن قو تو ں کا مقا بلہ کر سکیں۔ اس با ت کا دعویٰ دلیل کے سا تھ کر سکیں کہ ہما رے رب نے علم کے سا تھ جو معلم بھیجا ہے وہ ہمارے نبی e ہیں۔
بلا شک و شبہ حضور سر ور کا ئنا ت، فخر موجوداتe ہی کا ئنات کے سب سے بڑے نفسیا ت دا ن ہیں اس تناظر میں قرآنی اور تا ر یخی حو الے سے دیکھا جا ئے تو یہ امر روز رو شن کی طر ح عیا ں ہے کہ آنخضور e نے نفسیات کی ہر اک گرہ کھو لی کیو ں کہ اِمام الانبیاء،خاتم الانبیاء، ھادی عالم، شافع محشر،حبیبِ رب العالمین،شفیع المذنبین ورحمۃ للعالمین حضرت محمد مجتبیٰ، احمد مصطفیe کو اللہ کریم نے صفات و کمالات کا جامع بنایا تھا، آپ eکوقرآن کریم کی صورت میں دائمی معجزہ عطا فرمایا، جب کہ زبان مبارک سے نکلنے والے موتی ’’جوامع الکلام‘‘ ٹھہرے۔ ان کے بارے میں قرآنی اُصول یہ ہے کہ
’’اور نہ خواہش ِ نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں۔ ان کا ارشاد تو وحی ہے جو (اُن کی طرف) بھیجی جاتی ہے۔‘‘ (النجم: ۳-۴)
اِسی طرح اللہ کریم نے آپ e کو حکمت تامہ عطا فرمائی جس کی تعلیم آپ کے فرائض ِنبوت میں شامل تھی،قرآن پاک میں رسول اللہ e کی بعثت کو اِیمان والے کے لیے سب سے بڑی نعمت قرار دیتے ہوئے آپ کے فرائض منصبی کو یوں ارشاد فرمایا:
’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں پر بڑا اِحسان کیا کہ اُن کے درمیان اُنہی میں سے ایک رسول بھیجا جو اُن کے سامنے اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرے،وہ انہیں پاک صاف بنائے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے، جب کہ یہ لوگ اس سے پہلے یقینا ًکھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔‘‘ (آل عمران: ۱۶۴)
بعثت اِمام الانبیاء e سے قبل پوری دُنیا گمراہی اور شرک کی ظلمتوں سے بھری ہوئی تھی، ’’رسومات، توہمات، بدشگونیاں، اناپرستی، قتل غارت گری،بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا، ظلم، جبر، زنا، شراب نوشی، قمار اور جوئے‘‘ سے مرکب معاشرے کی اِصلاح کے لیے ایک عظیم مصلح کی ضرورت کو صدیوں سے محسوس کیا جا رہا تھا، بالآخر حضرت محمد بن عبداللہe رسول برحق، مبشر ونذیر، مدبرّ، مذکی، معلّم اور حکیم بن کردُنیا میں تشریف لائے،آپ e نے صرف۲۳ سالہ عرصہ نبوت میں حکمت اور دانائی سے عربوں کے نہ صرف عقائد،رسوم و رواج تبدیل فرمائے بلکہ ایک نئے معاشرے کی داغ بیل ڈالی جس میں وحی الٰہی سے راہنمائی لی جاتی ہے۔ امن،مساوات،بھائی چارہ، امانت و دیانت،اِیمان اور اعمال صالحہ اس کی بنیادی اکائیاں ہیں۔ تاریخ معترف ہے کہ پیغمبر اِسلامe سے زیادہ کامیاب شخصیت پوری نسل اِنسانی میں نہیں گزری، جس نے صرف دو دہائیوں میں اپنے مشن،کاز اور پروگرام میں اس انداز سے کامیابی حاصل کی کہ منیٰ میں کھڑے ہو کر ایک لاکھ سے زائد فرزندان ِ توحید کے سامنے اعلان فرمایا [فزت و رب کعبة۔] رب کعبہ کی قسم میں اپنے مشن میں کا میاب ہو گیا۔آپؐ نے اپنی کامیابی پر لوگوں کو بھی گواہ بنایاکہ تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا، پس تم کیا کہو گے؟ لوگوں نے کہاکہ ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے پیغام پہنچا دیا اور پوری خیر خواہی کے ساتھ ذمہ داری ادا کر دی۔ رسول اللہ e نے اپنی شہادت کی اُنگلی آ سمان کی طرف اُٹھائی اور اس کے ساتھ لوگوں کی طرف اشارہ کر کے کہا اے اللہ! گواہ رہنا، اے اللہ گواہ رہنا، اے اللہ گواہ رہنا۔ (مسلم: ۲۱۳۷)
اللہ کریم نے رسول اللہ e کو علم وحکمت کا وافر حصہ عطا کیا ہوا تھا،آپ e ہر ایک سے اس کی ذہنی سطح،مقام و مرتبہ اور نفسیاتی رجحان سے ہم آہنگ گفتگو فرماتے،سمجھاتے اور کتاب وحکمت کی تعلیم دیتے تھے،اِسلام سے قبل جب کہ آپ e کی عمر مبارک ۲۵ سال تھی، بیت اللہ شریف کی تعمیر نو کی گئی، جب حجر اسود کو اپنی جگہ رکھنے کا موقع آیا تو یہ سعادت حاصل کرنے کے لیے مختلف قبائل کے درمیان کشمکش شروع ہوئی، اور نوبت قتل وقتال تک پہنچ گئی، اس موقع پر مکہ کے ایک بزرگ نے تجویز پیش کی کہ کل جو شخص سب سے پہلے کعبۃ اللہ میں آئے گا، وہ حجر اسود کو اپنی جگہ رکھے گا، کل سب سے پہلے کعبہ میں آنے والی شخصیت آپe کی تھی، چنانچہ آپe نے ایک چادر منگوائی، اس کے وسط میں پتھر رکھا، ہر ہر قبیلے سے ایک ایک نمائندہ طلب کیا اور ان سب سے کہا کہ وہ چادر کے کنارے پکڑ کر حجر اسود کو اس جگہ تک لے جائیں، جہاں اسے نصب کیا جانا ہے پھر جب وہاں پہنچے تو اپنے دست مبارک سے پتھر کو اس کی جگہ نصب فرمادیا، اس طرح آپ e کی حکمت اورتدبر سے ایک بڑے فتنے کاسد باب ہوا اور حجر اسود اٹھانے کی سعادت بھی ہر قبیلہ کے حصہ میں آئی۔
رسول اللہ e نے اِنسانوں کے دلوں سے شرک اور کفر سمیت ہر روحانی بیماری کے خاتمے کے لیے حکمت بھری تعلیمات اِرشاد فرمائیں،اِنسانی قلوب واذہان کو آسان سے مشکل کی طرف،مشاہدے سے غائب کی طرف اور اجمال سے تفصیل کی طرف مائل کیا،یہاں تک کہ ہر انسان کو احتساب اور جواب دہی کے تصور اور اللہ کی رضا کے حصول کے لیے پاکیزہ زندگی کو ہی اپنا مطمع نظر بنانا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ e کاکوہ صفا پر کھڑے ہو کر قریش والوں کو اِسلام کی دعوت دینا ہو یاظلم و جبر کے ماحول میں دعوت ِاسلام کو پھیلانا ہو، صحابہ کرام کو اوامر اور نواہی کی تعلیم اور اس کی حکمتوں سے آراستہ کرنا ہو یا کفر وشرک سے آلودہ قلوب کو تعلیمات اِسلام سے پاکیزہ بنانا ہو، خواص اور بادشاہوں کو توحید کی دعوت دینا ہو یا غزوات و سرایا کے اعصاب شکن ماحول میں صحابہ کرام کے جذبوں کو تقویت دے کر دشمن کو شکست سے دو چار کرنا ہو،دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی حقیقت اور پائیداری کا یقین دلوں میں پیوست کرنے کے لیے حکیمانہ اسلوب اختیار کرنا ہویا شریعت مطہرہ کے احکامات کی تعلیم دینا ہو،الغرض عبادات،معاملات،انفرادی و اجتماعی اُمور، خانگی زندگی، حسن معاشرت،احکام معیشت،تہذیب نفس،اُمور سلطنت اور حقوق و فرائض سے آگاہی،ہر ایک امر نبی کریم e کی حکمت و بصیرت اور تدبر کی مکمل عکاسی کررہا ہے۔
آپe کی سیرت مطہرہ کے کسی پہلو کو بھی لیا جائے ہر ایک میں حکمت و تدبر اور مخاطب کی ذہنی کیفیت اور استعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ e کے ارشادات اُمت کی راہنمائی کررہے ہیں، آپ eصفہ کے چبوترے میں اُستاد ہو ں یا مسجد کے منبر و محراب میں کتاب و حکمت سے آراستہ کرنے والے مربی،میدان جہاد میں کمانڈر اِن چیف کے طور پر کمان کررہے ہوں یا کسی قافلے کے میر رواں، اِسلامی سلطنت کے حاکم کے طور پر فرائض سرانجام دے رہے ہوں یا عام مسلمانو ں کے دکھ درد میں شریک ایک غمگسار ساتھی،ہجرت مدینہ کے وقت ایک بے بس مسافر ہو ں یا سن ۸ ہجری میں ایک عظیم فاتح کی حیثیت سے ’’آج رحم کا دن ہے،جاؤ! آج تم سے کوئی بدلہ نہیں لیا جائے گا، تم سب آزاد ہو‘‘ کا اعلان کرنے والا فاتح اعظم e،ہر پہلو سے آپ e نے اِنسانی دلوں پر گہرے نقوش چھوڑے تھے۔ آپ e نے اِنسانی معاشرے میں قائم افراط و تفریط کے تمام ضابطے اوررواج توڑ کر ’’مسلمان،مسلمان کا بھائی ہے،وہ اس پر ظلم نہیں کرتا اور اسے رسوا نہیں کرتا۔‘‘ (بخاری) کا فلسفہ عطا کیا۔ عورت کو معاشرتی پستیوں سے نکال کر ماں،بیٹی،بہن، بیوی کا مقام و مرتبہ دے کر عزت دی، اسے وراثت میں حصہ دیا اور اس کے اِحساس کمتری کو اعتماد میں بدلا۔ غلاموں کے حقوق اوراحکامات اِرشاد فرما کر معاشرے میں ایک مقام عطا فرمایا: یتیموں کی کفالت کو دخول جنت کا سبب قرار دیا،اِنسانی سوچ و فکر کو ارتقاء کی بنیادیں فراہم کیں۔
بلاشبہ نبی آخر الزماںe نے ایک ماہر نفسیات اور حکیم ہونے کی حیثیت سے اِنسانی استعداد کے موافق اُمور ارشاد فرمائے ہیں۔ ان میں سب سے اعلیٰ اِنسانوں کو اِنسانوں کی غلامی سے نکال کر ’’اللہ وحدہ لاشریک لہ‘‘ کے در پر جھکا کر دائمی کا میابیوں کا مستحق بنایا۔ سود،ناحق قتل اور طبقاتی تفریق کا خاتمہ فرما کر شرف ِانسانی کو تقویت عطا فرمائی،چنانچہ آپ e نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر اِرشاد فرمایا: ’’اے لوگو! بخدا مجھے معلوم نہیں کہ آج کے بعد میں اِ س جگہ تم سے مل سکوں گا یا نہیں، آگاہ رہو! جاہلیت کا ہر کام میں اپنے ان دونوں قدموں کے نیچے دفن کر رہا ہوں۔اے لوگو! بے شک تمھارا رب بھی ایک ہے اور تمھارا باپ بھی ایک۔ آگاہ رہو! کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر اور کسی سیاہ فام کو کسی سفید فام پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ فضیلت کا معیار صرف تقویٰ ہے۔ تم میں سے اللہ کے نزدیک زیادہ عزت کا مستحق وہ ہے جو زیادہ حدود کا پابند ہے۔(مسنداحمد)
آگاہ رہو! جاہلیت کے زمانے کا ہر خون معاف کیا جاتا ہے، اور زمانہ جاہلیت کے خونوں میں سے پہلا خون جس کو معاف کیا جاتا ہے، وہ حارث بن عبدالمطلب کا خون ہے۔ (حارث کو دودھ پلانے کے لیے بنو لیث کے ہاں بھیجا گیا تھا جہاں اسے بنو ہذیل نے قتل کر دیا)۔ (ترمذی)
آگاہ رہو! زمانہ جاہلیت کا ہر سود کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ تم صرف اپنے اصل مال کے حق دار ہو۔ نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ ہاں عباس بن عبد المطلب کا لوگوں کے ذمے جو سودی قرض ہے، وہ سارے کا سارا معاف کیا جاتا ہے،بے شک تمہاری جانیں، تمہارے مال، تمہاری آبروئیں (اور تمہارے چمڑے) تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسے اس شہر اور اس مہینے میں تمہارے اس دن کی حرمت ہے۔ (ترمذی)
اس میں دو رائے نہیں ہیں کہ تمام اِنسانی مسائل چاہے وہ مادیت سے تعلق رکھتے ہوں یا روحانیت سے،سب کا مکمل حل خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی e کے پُرحکمت اِرشادات اور اعمال میں مضمر ہے،اِنہی اعمال کے فوائد کو سائنس تجربات کے بعد ثابت کررہی ہے جب کہ ۱۴ سو سال پہلے پیغمبر اِسلام e نے اپنی اُمت کو اپنی سنت کے طور پر وہ کام کرنے کی تلقین فرماچکے تھے۔اللہ کریم آپ e کی کامل اتباع کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!

No comments:

Post a Comment

View My Stats