Mazmoon04-06-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Thursday, May 16, 2019

Mazmoon04-06-2019


چوہدری ظفر اقبال ... چند قابل قدر پہلو

تحریر: جناب حافظ افتخار الٰہی تنویر
چوہدری ظفر اقبال کمشنر ( مرحوم ) بائیسویں گریڈ کے ایک بڑے افسر تھے اور وہ اپنی نظر میں ایک مالک حقیقی کے بڑے ہی چھوٹے بند ہ عاجز تھے ۔ فرمان رسولe ہے کہ جو شخص صرف اللہ ہی کے لیے خاکساری اختیار کرتا ہے تو اللہ اس کو اونچا کردیتا ہے۔ گوکہ وہ تواضع کرنے والا اپنے آپ کو حقیر سمجھتا ہے لیکن لوگوں کی نگاہ میں بڑا ہوتا ہے۔ یہ اتفاق ہی تھا کہ میں اس جمعہ کو جناب چوہدری ظفر اقبال کمشنر برائے افغان مہاجرین کو ملنے لاہور چلا گیا دیکھتے ہی کہنے لگے کہ رب العالمین کتنا بے نیاز ہے ۔ گزشتہ روز ایک خواہش کی تھی کل نہیں تو آج اس نے پوری کردی ہے۔ ہمیشہ کی طرح میری رگ مزاح پھڑکی لیکن دفتر کی کرسی پر بیٹھے سنجیدگی کا پیکر بنے چوہدری صاحب سے میں نے پوچھا جناب! معاملہ کیا ہے؟کہنے لگے: جمعرات کو اسلام آباد میں جب میری سرکاری ملازمت کی تاریخ میں قیمتی ترین گاڑی جس کی مالیت ایک کروڑ روپے سے زیادہ ہے دی گئی تو میں نے خواہش کی کہ اس میں سب سے پہلے آپ کو بٹھائوں ۔ موٹروے چھوڑ کر میں جی ٹی روڈ کے ذریعے گوجرانوالہ پہنچا لیکن آپ سے ملاقات نہ ہو سکی۔ آج آپ کے آنے سے میری خواہش پوری ہوگئی لیکن حافظ صاحب اس میں سفر کرنا بڑی آزمائش کی بات ہے۔ خواہ مخواہ ہی دماغ میں نخوت محسوس ہوتی ہے۔
چوہدری ظفر اقبال مرحوم کے ساتھ میری شناسائی سن ۲۰۰۰ء میں اس وقت ہوئی جب وہ ایڈیشنل کمشنر ریوینو گوجرانوالہ تھے ۔ میری زمین کا انتقال تحصیل دار نے روک رکھا تھا۔ میں نے پٹواری صاحب سے پوچھا لیٹ کرنے کی وجہ کیاہے؟ کہنے لگا صاحب کی فیس ، میں نے کہا میں رشوت نہیں دوں گااب جو مداخلت کرسکے تحصیل دار سے بڑے افسر کی مجھے ضرورت تھی ۔ میرا ایمان ہے کہ جب کوئی بند ہ برائی سے بچنے کا ارادہ کرلے تو خدا تعالیٰ اس کی ضرور مدد فرماتے ہیں چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ماسٹر یوسف غوری ( مرحوم ) سے جب میں نے اس بات کا ذکر کیا تو کہنے لگے ایڈیشنل کمشنر ریونیو چوہدری ظفر اقبال ہمارے گائوں کے ہیں ان کے پاس چلتے ہیں ، ان دنوں چوہدری صاحب سرکٹ ہائوس میں قیام پذیر تھے ہم وہاں پہنچے ۔ پہلے تعارف کے بعد ایسے لگا جیسے ہم دونوں ایک دوسرے کی تلاش میں تھے ۔ لمبی نشست کے بعد جب اٹھنے لگے تو کہنے لگے آپ نے آنے کا سبب تو بتایا ہی نہیں ۔ کیس سن کر کہنے لگے صبح دفتر فائل لے کر آجانا ، اس طرح رشوت دئیے بغیر یہ کام ہوگیا اور چوہدری صاحب کے ساتھ لمبی علمی مجالس کا آغاز ہو جاتا ہے۔ ان کو دفتر سے فرصت ملتی تو میری دکان ( جنجوعہ سٹیل سنٹر ) چوک چشمہ پر آجاتے ۔ میں فارغ ہوتا تو سرکٹ ہائوس چلا جاتا ۔ ان کے عدالتی فیصلوں اور کردار کو دیکھ کر پھر سفارش کرنے اور کرانے کی جرأت نہیں ہوئی ۔ان کا اصول تھا کہ اگر آپ حق پر ہیں تو سفارش کی ضرورت نہیں ۔ پھر بھی آپ سفارش کرتے ہیں تو اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہے کہ آپ کو ہماری قوت فیصلہ پر اعتماد نہیں‘ اگر آپ حقدار ہی نہیں تو میری ساری سروس گواہ ہے کہ پچاس پچاس لاکھ روپیہ بریف کیس میں لانے والے میرے فیصلے تبدیل نہیں کروا سکے اور میں ڈرتا ہوں رب ذوالجلال کے سامنے کھڑے ہو کر جواب دینے سے۔ آج اختیار ہے تو دنیا کے مال کے لالچ میں غلط فیصلے کروں‘ جب اللہ تعالیٰ میدان محشر میں میرا فیصلہ کرے گا تو یہ مال یہ اولاد میرے کسی کام نہیں آئیں گے۔ فرمان رسولe جو شخص اپنی تیز طرار باتوں سے اپنے حق میں مجھ سے فیصلہ کروا لیتا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے تو میرے فیصلے کے باوجود وہ چیز اس کے لیے حلال نہیں ہوتی بلکہ ناجائز ہی رہتی ہے۔
 ایک عجیب واقعہ:
چوہدری ظفر اقبال مرحوم کے عدالتی فیصلوں میں یہ ایک درخشاں باب ہے: جب میں نے یہ سنا توحیرت واستعجاب میں ڈوبتا ہی چلا گیا۔ جب میں چوہدری صاحب کے ایک بیٹے چوہدری احمد جمال الرحمن کی شادی میں شرکت کے لیے ان کے گھر EME سوسائٹی لاہور پہنچا تو چوہدری صاحب کے والد چوہدری اللہ دتہ صاحب جو ابھی بقیدِ حیات تھے شادی میں نظر نہ آئے ، اس سے پہلے شادی کارڈ میں بھی غائب تھے۔ میں نے پوچھا چوہدری صاحب! ابا جی کو نہیں بلایا ؟ کہنے لگے نہیں۔ میں نے کہا اتنا مشکل فیصلہ آپ نے کیسے کرلیا؟ کہنے لگے یہ ضروری اور صحیح تھا ۔ انہوں نے گنجائش ہی نہیں چھوڑی ۔ بتانے لگے کہ میری عدالت میں کسی پارٹی کا کیس زیر سماعت تھا وہ بھاری رقم بطور رشوت لے کر گائوں پہنچے اور والد صاحب نے یہ رقم وصول کرکے سفارش کا وعدہ کرلیا ۔ میں معمول کے مطابق سماعت کرتا رہا‘ وہ ہر پیشی پر والد صاحب کو زور دیتے رہے‘ یہ وعدے کرتے رہے ، جب پارٹی نے فیصلہ اپنے خلاف ہوتے ہوئے محسوس کیا تو وہ والد صاحب پر دبائو ڈالنے لگے کہ ہمارا کچھ کرو، والدصاحب جانتے تھے کہ ظفر نہیں مانے گا ، پارٹی نے اپنے پیسے ڈوبتے ہوئے دیکھ کر بطور ثبوت باہمی گفتگو کو ریکارڈ کرلیا ، میرے رب کی کرم نوازی دیکھو کس طرح میری براء ت کا انتظام کیا ۔ ریکارڈ شدہ آوازوں میں ایک آواز میرے مرحوم بھائی کے بیٹے کی سنائی دیتی ہے۔ ، دادا جی! آپ کو پتہ ہے تایا ابو نے کسی صورت نہیں ماننا’’ آپ نے ان سے پیسے کیوں پکڑے ہیں۔‘‘ متعلقہ پارٹی نے مشتعل ہو کر میرے خلاف درخواست دے دی ۔ میں ابھی تک بے خبر تھا علم ہونے پر میں نے فوراً وہ کیس اپنی عدالت سے ٹرانسفر کر دیا۔ تحقیقات کے بعد جب فیصلہ ہوا تو اس میں لکھا تھا بدنصیب بیٹے کو باپ کی کارستانی کا بالکل علم نہیں تھا اس لیے باعزت بری کیا جاتا ہے۔ بھائی افتخار بتائو ،میں ان کو شادی پر کس طرح بلاتا ؟ جاٹو ں کی نہنگ شاخ سے تعلق رکھنے والے چوہدری ظفر اقبال تقسیم ہند کے وقت رو پڑ سے چلے اور چک ۷۹سمندری فیصل آباد سے ہوتے ہوئے گورنمنٹ کالج لاہور پہنچے ، میس کے لیے ملنے والا خرچہ بچاتے ۔ چنے چبا کر گزارا کرتے۔ پس انداز کئے ہوئے پیسوں سے کتابیں خرید کر پڑھنے کا شوق پورا کرتے۔ امتیازی حیثیت میں کامیاب ہوتے رہے، سی۔ایس۔ ایس کیا ۔ والد صاحب نے ملازمت جوائن نہیں کرنے دی پھر مجسٹریٹ لگے ۔ ڈپٹی کمشنر بنے پھر ممبر بورڈ آف ریو نیو سے ہوتے ہوئے چیف سیٹلمنٹ کمشنر پنچاب عہدہ تک پہنچے ۔ گوجرانوالہ میں پوسٹنگ ہوئی تو نائب تحصیل دار رشید الدین ڈار کو ان کے ساتھ ریڈرلگا دیا گیا۔ ڈار صاحب کہتے ہیں کہ میں نے پہلے دن عرض کیا سر مجھے اس کام کا تجربہ نہیں‘ بڑی شفقت سے کہنے لگے بیٹا! کسی حالت میں ایمان داری کا دامن نہیں چھوڑنا‘ میرے نام پر کسی سے پیسے نہیں لینے باقی کام میں سکھا دوں گا ۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ، ان کی ماتحتی میں جتنی شفقت ملی میں ساری زندگی بھول نہیں سکتا، میں نے جب ڈار صاحب کو ان کی وفات کی خبر فون پر دی تو اس طرح پھوٹ کر روئے کہ شاید اپنے کسی عزیز پر بھی ایسے غم کا اظہار نہ کیا ہو ۔
سادگی کی انتہاء: سرکٹ ہائوس گوجرانوالہ میں کئی مرتبہ دیکھا کہ سالن کے پیسے نہیں اچار کے ساتھ روٹی کھائی اور سوگئے ۔
مسلک سے محبت: سرکٹ ہائوس سے کمشنر صاحب کے منع کرنے کے باوجود کہ چوہدری صاحب! آپ اتنے بڑے افسر ہیں اکیلے پیدل نہ جایا کریں ۔ جامعہ محمدیہ چوک اہل حدیث (مسجد مولانا اسماعیل سلفی ) میں مغرب کی نماز ادا کرتے تھے ۔ جس دِن نماز میں ان بطش ربک لشدید سن لیتے تو رات رو کر گزارتے ، سو نہیں سکتے تھے ۔ پانچ سپارے ہر روز پڑھتے جب تک پورے نہیں ہوتے سوتے نہیں تھے ، چاہے فجر ہوجائے ۔
مطالعہ: ایک بڑی لائبریری کے مالک تھے ۔ اچھی کتابوں کی تلاش میں ہمیشہ رہتے ، جب میں نے کوئی نایاب کتاب دی جب تک ختم نہیں کرلیتے ، چھوڑتے نہیں تھے۔ علم کے شوق میں اہل علم کا بڑا احترام کرتے تھے ۔ مولانا حنیف ندویؒ، مولانا مودودیؒ، مولانا عطاء اللہ حنیفؒ، حافظ صلاح الدین یوسف ، علامہ احسان الٰہی ظہیر ؒ مولانا محمد حسین شیخوپوری ؒ اور مولانا پروفیسر عبد اللہ بہاول پوری ؒ ان کے دوست تھے ۔ خود بھی فارغ ہو کر لکھنے کا شوق اور اِرادہ رکھتے تھے لیکن موقع نہ مل سکا ، چونکہ انگلش زبان میں اللہ نے خاصی دسترس دے رکھی تھی اور ان کے لکھے ہوئے فیصلے ساتھیوں کو حیرت میں ڈال دیتے تھے ۔ وہ ڈکشنری اُٹھائے معنی ڈھونڈتے رہتے ، یہی اِرادہ اب اُن کے بیٹے چوہدری احمد جمال الرحمن (ایف سی کمانڈ سندھ) لکھنے اور قرآنِ مجید کی خدمت کا شوق رکھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ اُن کو یہ شوق پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین) ۔
دوستوں کی عزت نفس: چوہدری الیاس بٹ MNA، چوہدری صاحب کو ملنے گوجرانوالہ آئے اس موقع پر نوائے وقت کے کالم نگار فاروق عالم انصاری صاحب بھی موجود تھے ۔ دسترخوان پر میری طرف اشارہ کرکے کہنے لگے چوہدری صاحب! یہ خطیب اور عالم دین ہیں ۔ بڑے صاحب حیثیت اور کاروباری ہیں لیکن میرے ساتھ محبت کی وجہ سے آپ کی خدمت کر رہے ہیں ۔
تعلق کی لاج: ہر جمعہ کے دِن شام کا کھانا ہم بہت سے دوست چوہدری صاحب کے ڈیرے پر کھاتے تھے ۔ ایک شام کو کھانے کے بعد کہنے لگے آج میں لاہور سے صرف افتخار بھائی کی دِل آزاری سے بچنے کے لئے پہنچا ہوں ، ویسے چوہدری صاحب بہت کم کھاتے تھے ۔ فیصل آباد میں میرے بڑے بھائی جان پروفیسر سرفراز احمد کے گھر گئے تو یہ واقعہ بیان کرکے کہنے لگے: ہمیں بڑے لوگ دعوت دیتے ہیں لیکن سوائے حافظ افتخار الٰہی تنویر کے میں کسی کے پاس جاتا ہوں نہ کھانا کھاتا ہوں ۔ گوجرانوالہ میں میری کمائی یہ میرا چھوٹا بھائی ہے ۔
ایک مرتبہ میری دکان پر تشریف لائے تو ان کے ساتھ ان کے بیٹے FC کمانڈ سندھ احمد جمال الرحمن ، DC راشد کمال الرحمن تھے ۔ میں نے اپنے ساتھ والی دکان پر بٹھا دیا ، جاتے ہوئے کہنے لگے ہمیں آپ کا سب کچھ پسند ہے تو آپ کے پاس آتے ہیں آئندہ صرف اپنی دکان پر بٹھانا ۔ میں سرکٹ ہائوس میں سائیکل پر ہی ملنے جاتا تھا وہاں لوگ بڑی بڑی گاڑیوں پر آتے ہیں چوہدری صاحب میرا سائیکل پکڑ کر چلانا شروع کردیتے شاید میری حوصلہ افزائی کا خیال ہو۔
توکل: کھانے میں صرف آج کی بات کرتے تھے‘ کل کے لئے کھانا ہو یا پیسے ذخیرہ کرنا پسند نہیں کرتے تھے کہتے کل کا اللہ مالک ہے ۔ اسی وجہ سے ساری زندگی خواہش کے باوجود ذاتی گھر نہ بناسکے ۔ جنازہ بھی کرایہ کے مکان سے اُٹھایا گیا۔ اب ماشاء اللہ ان کے بیٹے EME سوسائٹی میں اپنا گھر بنا چکے ہیں ، اللہ تعالیٰ اسے آباد کرے اور رہنے والوں کو شاد کرے ۔ آمین !
توحید: اللہ تعالیٰ کی توحید کے خلاف عمل تو کجا بات سننا بھی گوارہ نہیں تھا ۔ کہتے رب کی بارگاہ میں عرض کروں گا بڑے گناہ کرکے آیا ہوں لیکن آپ کے ساتھ کبھی شرک نہیں کیا ، اللہ تعالیٰ پر یقین بڑا پختہ تھا ، مشکل اور تلخ معاملات کا سامنا کرتے ہوئے کہتے نماز پڑھو‘ رب سے ڈرو اور صرف اسی سے مانگو وہ بہتر کرے گا ۔
جہاں بھی پوسٹنگ ہوتی قبول کرلیتے بہتر کے لئے سفارش نہیں کراتے تھے ۔ خاموشی سے گھر بیٹھ جاتے ، اللہ تعالیٰ بھی اپنے ایسے درویش بندوں کو کبھی مایوس نہیں کرتا ۔
محبت رسولﷺ: نبی پاک e  کی ذاتِ اقدس سے اس قدر محبت و عقیدت تھی کہ سنت کے خلاف چلنے والوں کے پیچھے کبھی نماز نہیں پڑھتے تھے ۔ کہتے ہیں ایک دِن میں ماڈل ٹائون لاہور والے گھر سے ۱۷ میل سفر کرکے فجر کی نماز رنگ محل میں واقع چینیاں والی (مسجد سید دائود غزنوی ؒ اور علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید ؒ والی) مسجد میں پڑھنے کے لئے پہنچا جہاں آج کل رانا شفیق خاں پسروری خطیب ہیں ، دیکھا تو امام غیر اہل حدیث تھا ۔ اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھی ۔ کہتے تھے سنت کے خلاف نماز پڑھنے والوں کی اپنی نہیں ہوتی ہماری ان کے پیچھے کیسے ہوگی ؟ سچی بات یہ ہے کہ جس کی توحید پرستی کا یقین نہ ہوتا علانیہ اس کے جنازے میں شریک نہ ہوتے تھے۔
طمانچے: چھ فٹ سے بھی لمبے قد کے مضبوط جسم کے مالک تھے ، شکار اور پیدل سیر کے بڑے شائق تھے ۔ جسمانی قوت کا یہ عالم تھا کہ ملتان ایئر پورٹ پر AC کی حیثیت سے حاکم وقت کو رخصت کرنے کے لئے موجود تھے کہ ڈپٹی کمشنر کی زبان سے ناپسندیدہ بات سن کر ایک ہاتھ سے اسے گریبان سے پکڑ کر ہوا میں معلق کردیا ۔ جب بہاول پور میں پوسٹنگ ہوئی تو پروفیسر عبد اللہ ؒ صاحب کی مسجد میں نماز پڑھنے جاتے ، عین نماز کے وقت ایک دکاندار جان بوجھ کر اونچی آواز میں ٹیپ ریکارڈ لگادیتا، چوہدری صاحب نے قانون کی بجائے اپنے زور دار طمانچوں سے وہ سبق دیا کہ پھر اُسے جرأت نہ ہوئی۔ جب تحصیل چوبارہ میں تھے تو کچھ لوگ اس وقت پانچ لاکھ روپیہ بطور رشوت پیش کرنے آئے ان کو ایسی پھینٹی لگائی کہ نانی یاد کرادی۔ ان کے بیٹے FC کمانڈ سندھ چوہدری احمد جمال الرحمن نے بھی اسی روایت کو قائم رکھا ہوا ہے ۔ چوہدری صاحب غلط بات سن کر منہ پر جواب دینے سے ڈرتے نہیں تھے ، خاص طورپر دین کے معاملے میں ، سادہ خوراک اور درویشانہ لباس پہنتے تھے ، میرے ساتھ حاجی پورہ پہلواناں والی مسجد گوجرانوالہ میں نماز پڑھنے لگے ۔ سلام پھیر کر نمازی کسی بات پر اُلجھنے لگے مسجد سے باہر آکر کہنے لگے افسوس! نماز ، نمازی کے اندر جو صفات پیدا کرتی ہے ابھی ان کے اندر سفید داڑھیاں ہونے کے باوجود پیدا نہیں ہوسکیں۔
مستجاب الدعوات: دُعا کے بارے میں کہتے کہ جب میں دُعا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے فوراً پوری کردیتا ہے‘ اس صورت میں رب کا شکر بجالانا بہت ضروری ہوجاتا ہے اس کوتاہی سے بچنے کے لئے دُعا کم کرتا ہوں ۔ چوہدری صاحب کی اس قسم کی باتیں سن کر میری دکان پر موجود اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے سابق پروفیسر حافظ خالد حیات محمود فاضل مدینہ یونیورسٹی کہنے لگے ابھی تک چوہدری صاحب نے داڑھی نہیں رکھی دیکھ لینا ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی داڑھی سابق صدر پاکستان محمد رفیق تارڑ سے بھی بڑی ہوگی لیکن چوہدری صاحب ریٹائر ہونے سے قبل ہی سنت رسول e کو اپنے چہرے پر سجا چکے تھے جس سے ان کے وقار میں کئی گنا اضافہ ہوگیا تھا ۔
اولاد: اولاد کے سلسلہ میں اللہ رب العزت نے ان پر بڑا کرم کیا تھا اور اپنے آپ کو اللہ کے احسانات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہر وقت محسوس کرتے تھے ۔ بیگم کے بارے میں کہتے میں چھ نمازیں پڑھتا ہوں یہ سات نمازیں پڑھتی ہے ، سارا فارغ وقت قرآن کی تلاوت میں لگاتی ہے ۔ میں ساری زندگی کبھی اس کا جھوٹ نہیں پکڑ سکا ۔ ماشاء اللہ بڑے بیٹے چوہدری ساجد بلال الرحمن ڈائریکٹر IBپنجاب ہیں ، درمیانے بیٹے چوہدری احمد جمال الرحمن FC کمانڈ سندھ ہیں اور چھوٹے بیٹے DC ہیں ۔ ایک بیٹی ہے جو ماشاء اللہ CSS ٹاپ کرکے ایڈیشنل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب کی حیثیت سے DMG  سے وابستہ ہوچکی ہے ۔ چوہدری صاحب کی اپنی بیٹی کے بارے میں یہی خواہش تھی ۔
چوہدری صاحب کے بعد ان کی بیگم محترمہ باجی امۃ الحفیظ MA  اور سارے بچوں نے ان کے دوستوں خصوصاً ملک زبیر احمد صاحب آف شیخوپورہ ، حافظ افتخار الٰہی تنویر آف گوجرانوالہ ، پروفیسر ضمیر احمد آف راولپنڈی ، شفیق صاحب آف سمندری کے ساتھ رابطے اور ادب واحترام میں فرق نہیں آنے دیا ۔
چوہدری صاحب کے بعد جس دِن EME سوسائٹی لاہور میں نئے گھر کا سنگ بنیاد رکھا تو چوہدری صاحب کی بیگم نے کہا ملک زبیر صاحب ، حافظ افتخار صاحب دیکھ لو آپ حضرات ظفر صاحب کے بھائی تھے ہم اس موقع پر آپ کو بھولے نہیں ، آپ نے بھی چوہدری صاحب کے بچوں کو نہیں بھولنا ۔
حافظ افتخار الٰہی تنویر صاحب ! چوہدری صاحب نے ساجد بلال الرحمن ، احمد جمال الرحمن کا نکاح آپ سے پڑھوایا تھا ان کی نماز جنازہ کی امامت بھی آپ نے کی تھی اس لئے نئے گھر کی تقریب بنیاد کے لئے بھی ہم نے آپ کو زحمت دی ہے آپ سے ہم بجا طور پر اُمید رکھتے ہیں کہ آپ ہمیں ہمیشہ اپنی دُعائوں میں یاد رکھیں گے۔
سفر آخرت: ۱۵ جنوری ۲۰۰۸ء بروز منگل معمول کے مطابق سرگودھا عدالت کرنے گئے رات گئے واپس لاہور پہنچ کر تلاوت قرآن میں رات گزاری ، صبح فجر پڑھ کر سونے لگے تو سینے میں درد محسوس ہوا اور سانس لینے میں دِقت محسوس کی تو بڑے بیٹے ساجد بلال الرحمن کو بلایا ، ٹھیک اسی دِن بیٹی کا CSSکا انٹرویو تھا اس لئے اسے آگاہ نہ کیا خود چل کر گاڑی میں بیٹھے اور ہسپتال چلے گئے ۔ جب چیک اپ شروع ہوا تو ایک مرتبہ طبیعت اتنی خراب ہوئی کہ تقریباً ہاتھوں سے نکل گئے پھر ڈاکٹروں نے بڑی جدوجہد کے ساتھ سانس بحال کیا ۔ مخدوش حالت کو دیکھ کر لندن سے دونوں بیٹوں کو فوری پہنچنے کا فون کردیا گیا ۔ جو کورس کے سلسلہ میں وہاں گئے ہوئے تھے۔ مجھے FC کمانڈ سندھ جمال صاحب نے لندن سے فون کرکے بتایا ابو کو ہارٹ اٹیک ہوگیا ہے اور وہ پنجاب کارڈیالوجی میں ہیں، آپ فوراً لاہور پہنچیں ، ہم بھی واپسی کیلئے ایئرپورٹ جارہے ہیں ۔ جمعرات کی شام تک احمد جمال صاحب اور راشد کمال صاحب اور بیگم ڈاکٹر حمیرا جمال پہنچ گئے۔
ڈاکٹروں نے حالت بگڑتی دیکھ کر فوری بائی پاس کا فیصلہ کیا پھر دیگر رپورٹوں کو دیکھنے کے لئے کل تک مؤخر کیا گیا۔
رات گزار کر جمعہ کی صبح پھر حالت بگڑنا شروع ہوگئی ساری اولاد ، بیگم دوست ، بے بسی کی حالت میں سر اور پاؤں کی طرف کھڑے تھے ۔ کہنے لگے میں نے طہارت کرنی ہے نماز پڑھنی ہے واش روم لے جائو ۔ چونکہ سانس جاری رکھنے کے لئے مختلف مشینیں لگی ہوئی تھیں منع کیا گیا لیکن اپنے ہاتھ سے ان کو اُتارتے ہوئے اُٹھ بیٹھے ، ڈاکٹر بھی یہ دیکھ کر پریشان تھے ۔ بیٹے جمال نے کہا ابو میں اتنی دُور سے آپ کی خدمت کے لئے آیا ہوں میری بات مانیں جو کرنا ہے یہیں کرلیں ، غصہ میں کہنے لگے دنیا کی ہر چیز سے مجھے طہارت زیادہ عزیز ہے مجھے جانے دو ، یہ تم نے کھڑکیوں کو کیوں بند کیا ہوا ہے حبس ہوگیا ہے ، تازہ ہوا اور ان سبز لباس والوں کو آنے دو، پھر تمام کوششوں کے باوجود حرکت کرتے ہونٹوں سے کلمہ توحید کی گونج میں سب کو افسردہ چھوڑ کر مالک حقیقی کے پاس چلے گئے۔ اِناللہ وانا الیہ راجعون ۔
جب میت ان کے آبائی گائوں ۷۹ چک سمندری فیصل آباد پہنچی تو وقت کی کمی کے باوجود ہر طرف لوگ ہی لوگ تھے جب میں نماز جنازہ پڑھانے کے لئے کھڑا ہوا تو ۷۹ چک کی بہت بڑی مسجد ہونے کے باوجود اوپر نیچے سے بھر گئی اور باہر صفیں باندھنا پڑیں۔ لیکن ابھی آنے والے لوگوں کا تانتا بندھا ہوا تھا اس لئے مولانا اسماعیل خطیب صاحب کی امامت میں دوبارہ نمازِ جنازہ پڑھائی گئی۔ آہوں اور سسکیوں کے درمیان انہیں سپردخاک کردیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے ۔زندگی بھر کی کمیوں کوتاہیوں سے درگزر فرمائے اور ان کی اولاد کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی اچھائیوں کو جاری رکھنے کی توفیق بخشے ۔ آمین یارب العالمین !
چوہدری صاحب کی اہلیہ محترمہ شیخ زید ہسپتال لاہور میں زیر علاج رہنے کے بعد گذشتہ دنوں اللہ کو پیاری ہو گئیں۔ قارئین کرام سے مرحومہ کی بلندئ درجات کے لئے دُعائوں کی درخواست ہے ۔

No comments:

Post a Comment

View My Stats