Mazmoon05-02-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Thursday, May 16, 2019

Mazmoon05-02-2019


سیدنا ابوطلحہ انصاری ؓ

تحریر: جناب مولانا عبدالمالک مجاہد (الریاض)
بعض گھرانے بہت مبارک ہوتے ہیں‘ ان گھرانوں کے ہر فرد نے اسلام کے لیے اور اللہ اور اس کے رسولe کے لیے کوئی نہ کوئی خدمت اور کارنامہ ضرور انجام دیا ہوتا ہے۔ ایسے ہی مبارک گھرانوں میں سے ایک گھرانہ مدینہ طیبہ کے ایک باسی سیدنا ابوطلحہ انصاریt کا بھی ہے۔ ان کا اصل نام زید بن سہل تھا۔ یہ قبیلۂ خزرج سے تعلق رکھتے تھے مگر ان کی کنیت اصل نام پر غالب آ گئی۔
سیدنا ابوطلحہt کا نسب کچھ اس طرح سے ہے: زید بن سہل بن اسود بن حرام بن عمرو بن زید بن عدی بن عمرو بن مالک بن نجار‘ خزرجی انصاری۔ یہ ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے شروع ہی میں اسلام قبول کر لیا تھا مگر ان کے قبول اسلام میں ان کی زوجۂ محترمہ سیدہ ام سلیمr کا بڑا دخل تھا۔ سیدہ ام سلیمr کا اصل نام غُمیصا یا رُمیصا تھا۔ یہ مدینہ طیبہ کی ان معروف عورتوں میں سے تھیں جو بہت جری اور بہادر تھیں۔ ذہانت وفطانت تو ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ ان کی شادی مالک بن نضر سے ہوئی۔ ان سے ہونے والے بیٹے کا نام انس تھا جو بعد میں رسول اللہe کے خادم خاص کی حیثیت سے مشہور ہوئے۔ سیدہ ام سلیمr نے بھی بہت پہلے اسلام قبول کر لیا تھا‘ مگر ان کا خاوند مالک بن نضر کفر پر قائم تھا۔ یہ اپنے بیٹے انس کو (لا الہ الا اللہ) پڑھاتیں تو خاوند ناراض ہوتا کہ تم میرے بیٹے کو خراب کر رہی ہو۔ یہ جواب میں کہتیں: میں تو اس کو سنوار رہی ہوں۔ ایک دن خاوند ان سے ناراض ہو کر شام کی طرف چلا گیا اور وہاں حالت کفر ہی میں مر گیا۔ جب ان کی عدت ختم ہوئی تو سیدنا ابوطلحہt نے ان کی طرف پیغام نکاح بھیجا۔ دنیاوی اعتبار سے سیدنا ابوطلحہt بڑی خوبیوں کا مرقع تھے۔ دولت مند بھی تھے‘ خاندانی وجاہت بھی تھی‘ خوبصورت بھی تھے‘ بہادر اور جری بھی تھے۔ جب سیدہ ام سلیمr کو ان کا پیغام ملا تو انہوں نے سیدنا ابوطلحہt کو جواب بھیجا کہ تم جیسے شخص کا پیغامِ نکاح ٹھکرایا نہیں جاتا مگر تم کافر ہو‘ بتوں کی پوجا کرنے والے ہو اور میں ایک رب کی عبادت کرنے والی ہوں‘ جن بتوں کی تم پوجا کرتے ہو‘ انہیں تو مدینہ کے ایک بڑھئ نے تراشا ہے اور اس کو بنا سنوار کر تمہارے سپرد کر دیا ہے۔ ابوطلحہ! تمہارے جیسے بہادر اور خوبیوں والے شخص پر افسوس ہے کہ اس قدر سمجھ دار ہو کر بھی تم لکڑی اور پتھر کی مورتیوں کے آگے سر جھگاتے ہو! یہ لکڑی اور پتھر کسی نفع ونقصان کے مالک نہیں ہیں‘ لہٰذا میں تم سے کس طرح شادی کر سکتی ہوں؟ ہاں! اگر تم اسلام قبول کر لو تو یہی میرا حق مہر ہو گا اور میں آپ سے مزید کسی چیز کا مطالبہ نہیں کروں گی۔
سیدنا ابوطلحہt یہ جواب پا کر گہری سوچ میں پڑ گئے۔ کہنے لگے: میں چند روز غور وفکر کر لوں‘ پھر جواب دوں گا‘ چنانچہ وہ کئی دن تک غور وفکر کرتے رہے۔ سیدنا ابوطلحہt کو سیدہ ام سلیمr کی دلیل نے اتنا متاثر کیا کہ انہوں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا اور اس فیصلے کی اطلاع سیدہ ام سلیمr کو بھی بھیج دی۔ (واضح رہے کہ یہ ہجرت سے پہلے کی بات ہے۔ سیدنا ابوطلحہ نہ صرف بیعتِ عقبہ میں شریک ہوئے بلکہ وہ ایک نقیب بھی تھے۔) اس طرح انہوں نے اپنی نئی زندگی کا آغاز کیا۔ سیرت نگاروں کا کہنا ہے کہ اسلامی تاریخ میں سیدہ ام سلیمr کے مہر سے بڑھ کر باعزت حق مہر کسی خاتون کو نہیں ملا۔ سیدنا انس بن مالکt جن کا اوپر ذکر ہوا‘ سیدنا ابوطلحہt کے سوتیلے بیٹے تھے اور اللہ کے رسولe کے لیے ان کی محبت اور خدمت کسی سے مخفی نہیں۔ سیدہ ام سلیمr بھی اللہ کے رسولe سے بے حد محبت  اور عقیدت رکھتی تھیں۔ اللہ کے رسولe سیدنا ابوطلحہt کے گھر تشریف لے جایا کرتے تھے اور بعض اوقات وہاں قیلولہ بھی کیا کرتے تھے۔ ان کا باغ مسجد نبوی کے بالکل قریب تھا۔ اللہ کے رسولe بسا اوقات اس باغ میں بھی تشریف لے جاتے تھے۔ سیدنا ابوطلحہt آپe کی ضیافت کرتے تھے۔ بعد میں ان کا یہ باغ مسجد نبوی میں شامل کر لیا گیا۔ سیدنا ابوطلحہt بدری صحابی تھے‘ بدر میں انہوں نے بہادری اور جاں نثاری کے خوب جوہر دکھائے۔ غزوۂ اُحد کے دن تو انہوں نے جاں نثاری کے بڑے نادر اور بے مثال نمونے پیش کیے۔ ان کی اہلیہ سیدہ ام سلیمr سیدہ عائشہ صدیقہr کے ساتھ میدان اُحد میں موجود تھیں۔ وہ پانی بھر بھر کر لاتی تھیں اور زخمیوں کو پلاتی تھیں۔ جب مسلمانوں کو شکست کے حالات پیش آئے تو کفار ومشرکین کا سارا زور اللہ کے رسولe کی ذات اقدس کی طرف ہو گیا۔ ایسے نازک وقت میں جب بعض صحابہ میدان جنگ کو چھوڑ گئے تھے‘ سیدنا ابوطلحہt ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے آخر دم تک مکمل ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ وہ اللہ کے رسولe کے آگے ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے۔ وہ بہترین تیر انداز تھے۔ ان کا نشانہ کم ہی چوکتا تھا‘ چنانچہ وہ مسلسل تیر برساتے رہے۔ اللہ کے رسولe بھی ان کی حوصلہ افزائی فرما رہے تھے۔ سیدنا انسt کہتے ہیں: سیدنا ابوطلحہt اپنا اور نبی کریمe کا ایک ہی ڈھال سے دفاع کر رہے تھے۔ جب وہ تیر چلاتے تو اللہ کے رسولee اپنی مبارک نگاہ اٹھا کر دیکھتے کہ ان کا تیر کہاں لگا ہے۔ سیدنا ابوطلحہt نے اُحد کے روز دو یا تین کمانیں توڑ ڈالیں۔
عہد نبوی کے نمایاں تیر اندازوں میں جو صحابہ کرام] شامل تھے ان میں سیدنا ابوطلحہ انصاریt کے علاوہ سیدنا سعد بن ابی وقاص‘ سیدنا سائب بن عثمان بن مظعون‘ سیدنا مقداد بن عمرو‘ سیدنا زید بن حارثہ‘ سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ‘ سیدنا عتبہ بن غزوان‘ سیدنا خراش بن صمہ‘ سیدنا قطبہ بن عامر بن حدیدہ‘ سیدنا بشر بن براء بن معرور‘ سیدنا ابونائلہ سلطان بن سلامہ‘ سیدنا عاصم بن ثابت اور قتادہ بن نعمان کے اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں۔
کوئی شخص نبی کریمe کے قریب سے تیروں کا ترکش لے کر گزرتا تو آپe فرماتے: انہیں ابوطلحہ کے لیے بکھیر دو۔ پھر نبیe میدانِ جنگ کی طرف سر اٹھا کر دیکھتے اور صورتحال کا جائزہ لیتے تو سیدنا ابوطلحہt کہتے: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں‘ آپ سر اٹھا کر نہ دیکھیں۔ مبادا! آپ کو کوئی تیر لگ جائے۔ میں آپ کے دفاع کے لیے سربکف ہوں۔ میرا چہرہ آپ کے چہرے کا بچاؤ کرے گا اور میرا سینہ آپ کے سینے کے لیے ڈھال ہو گا۔ سیدنا ابوطلحہt رہ رہ کر کہتے تھے: اے اللہ کے رسول! مجھے اللہ نے طاقت اور ہمت عطا کی ہے آپ مجھے اپنی مہمات کے لیے حکم فرمایا کریں۔ سیدنا ابوطلحہt اس قدر ماہر تیر انداز تھے کہ رسول اللہe زمین سے ایک لکڑی اٹھا کر سیدنا ابوطلحہt کو دیتے اور فرماتے: ابوطلحہ! اسے دشمن کی طرف پھینکو۔ سیدنا ابوطلحہt اس لکڑی کو اتنی مہارت اور چابکدستی سے پھینکتے تھے کہ یہ دشمن پر تیر کی طرح لگتی تھی۔
اس قدر شدید اور گھمسان کی جنگ میں بھی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں  پر خاص فضل وکرم یہ فرمایا کہ مسلمانوں کو وقفے وقفے سے نیند کے مواقع عطا کر دیے۔ قرآن مجید نے خبر دی ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے مسلمانوں کے لیے امن وطمانیت کا سامان تھا۔ سیدنا ابوطلحہt فرماتے ہیں: میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہیں اُحد کے روز اس قدر غلبے کی نیند آ رہی تھی کہ میرے ہاتھ سے کئی بار رہ رہ کر تلوار گرتی رہی۔ حالت یہ تھی کہ تلوار گرتی اور میں لپک کر پکڑتا تھا‘ تلوار پھر گر پڑتی اور میں پھر جلدی سے پکڑتا تھا۔ اس طرح مجاہدین اسلام کے تھکے ہوئے اعصاب سکون واطمینان کی حالت میں آکر تازہ دم ہو گئے۔
سیدنا ابوطلحہt کو اللہ تعالیٰ نے بڑی زبردست آواز عطا فرمائی تھی۔ وہ بلند اور گرج دار آواز کے مالک تھے۔ بہت سے مواقع پر انہوں نے اپنی بلند آہنگ اور گرج دار آواز سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچایا۔ اسی لیے اللہ کے رسولe نے ان کے بارے میں فرمایا: کسی فوج میں محض ابوطلحہ کی آواز ایک ہزار جماعت کی موجودگی سے بہتر ہے۔ چنانچہ غزوۂ حنین میں انہوں نے اس آواز سے خوب فائدہ اٹھایا اور جو لوگ بھاگ گئے تھے انہیں واپس بلایا۔ سیدنا ابوطلحہt بڑی قوت کے مالک تھے۔ غزوۂ حنین میں اللہ کے رسولe نے اعلان فرمایا کہ جو شخص کسی کافر کو قتل کرے گا‘ اس کا تمام ساز وسامان قتل کرنے والے کو دے دیا جائے گا۔ سیدنا ابوطلحہt نے اس غزوے میں بیس کافروں کو قتل کیا اور ان سب مقتولین کے مال غنیمت کے حق دار ٹھہرے۔ وہ اپنی گرج دار آواز سے دشمنوں کے دلوں پر لرزہ طاری کر دیتے تھے اور پھر اپنی تیغِ بے دریغ سے انہیں واصل جہنم کرتے چلے جاتے تھے۔ چنانچہ اللہ کے رسولe نے اس موقع پر بھی ان کی گرج دار آواز کی تحسین فرمائی۔ واضح رہے کہ غزوۂ حنین میں ان کی اہلیہ محترمہ سیدہ ام سلیم r بھی شامل تھیں۔
سیدنا ابوطلحہt کو اللہ تعالیٰ نے سیدہ ام سلیمr سے ایک بیٹا عطا فرمایا۔ جب یہ بیٹا چلنے پھرنے کے قابل ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس گھرانے کے صبر وتحمل کا امتحان لینے کا فیصلہ کیا۔ سیدنا ابوطلحہt کو اس فرزند سے غیر معمولی محبت تھی۔ اللہ کی تقدیر سے یہ بچہ بیمار ہو گیا۔ سیدنا ابوطلحہt کا معمول تھا کہ جونہی گھر آتے‘ سب سے پہلے اپنے اسی لخت جگر کی خیریت دریافت کرتے۔ ان کی والدہ سیدہ ام سلیمr بچے کے علاج معالجے پر پوری توجہ دیتی رہیں مگر اس کی حالت بگڑتی ہی چلی گئی۔ ایک دن بقضائے الٰہی یہ بچہ وفات پا گیا۔ سیدہ ام سلیمr پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ مگر اس عظیم مجاہدہ نے اس موقع پر صبر جمیل کی ایسی نادر مثال قائم کی کہ تاریخِ انسانی میں اس کی نظیر دور دور تک نظر نہیں آتی۔ انہوں نے بڑے تحمل اور وقار سے اپنے غم واندوہ پر قابو پا کر بیٹے کی میت خاموشی سے گھر کے ایک کونے میں رکھ دی۔ اس پر کپڑدا ڈال دیا اور اپنے شوہر نامدار کا انتظار کرنے لگیں۔ شام کو سیدنا ابوطلحہt گھر آئے تو انہوں نے حسب معمول سب سے پہلے بچے کا حال پوچھا۔ ماں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا بس اتنا کہ وہ پہلے کی نسبت آرام سے ہے۔ اب سیدہ ام سلیمr نے جلدی جلدی شوہر کے لیے کھانا تیار کیا اور دسترخوان پر چن دیا۔ جب دونوں کھانا کھا چکے تو سیدہ ام سلیمr فوراً اٹھیں اور اپنی زیب وزینت میں مصروف ہو گئیں۔ انہوں نے آرائش جمال کا خوب اہتمام کیا۔ اپنے آپ کو بہت سنوارا اور سجایا۔ پھر شوہر نامدا کی خدمت میں حاضر ہو گئیں۔ اس طرح انہوں نے یہ شب شوہر گرامی کے ساتھ یک جائی میں بسر کی۔ اس دوران انہوں نے ایک لمحے کے لیے بھی اپنی کسی حرکت سے یہ الم انگیز حقیقت ظاہر نہ ہونے دی کہ بیٹا وفات پا چکا ہے۔ صبح ہوئی۔ سیدہ ام سلیمr نے بڑی خوش آہنگی سے شوہر سے پوچھا: ابوطلحہ! یہ بتاؤ کہ کوئی امانت رکھنے والا اپنی امانت واپس طلب کرے تو کیا اس کی واپسی میں کوئی حیل وحجت کی جا سکتی ہے؟ سیدنا ابوطلحہt نے کہا: ہرگز نہیں۔ فرمانے لگیں: بس اب اپنے بیٹے کے بارے میں صبر سے کام لیجیے‘ اللہ تعالیٰ نے جو امانت ہمارے سپرد کی تھی وہ رات کو اس نے واپس لے لی ہے۔ سیدنا ابوطلحہt ناراض ہوئے‘ فرمانے لگے کہ تم نے مجھے رات ہی کو کیوں نہ بتلا دیا؟ پھر وہ یہ شکایت لے کر اللہ کے رسولe کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اللہ کے رسولe نے سارا ماجرا سنا اور دونوں میاں بیوی کو دعا دی کہ اللہ تعالیٰ تمہاری گزشتہ شب میں برکت عطا فرمائے۔ یہ اللہ کے رسولe کی دعا کی برکت تھی اور سیدہ ام سلیمr کے صبر جمیل کا صلہ بھی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں پھر ایک بیٹے سے نوازا۔ سیرت نگار لکھتے ہیں کہ اس بیٹے کے چھ یا سات بیٹے ہوئے جو سب کے سب قرآن مجید کے حافظ اور جید عالم تھے۔
سیدنا ابوطلحہt ان صحابہ میں سے تھے جو قرآن مجید پر خوب غور وفکر کرتے اور کتاب اللہ میں جن کاموں کے کرنے کا حکم ہے ان پر پوری طرح عمل کرتے تھے اور جن کاموں سے منع کیا گیا ہے‘ ان سے رک جاتے۔ جب چوتھے پارے کی یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ
{لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ}
یعنی ’’تم لوگ نیکی کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی محبوب ترین چیز اللہ کی راہ میں خرچ نہ کر دو۔‘‘ (ال عمران: ۹۲)
سیدنا ابوطلحہt نے اس آیت کا مضمون سنا‘ اس پر خوب غور وفکر کیا اور پھر ایک نتیجے پر پہنچ گئے اور خود کلامی کرتے ہوئے کہنے لگے: اللہ تعالیٰ مجھے اپنی عزیز ترین متاع اپنے راستے میں خرچ کرنے کا حکم دے رہا ہے۔ سیدنا ابوطلحہt مدینہ کے صاحب ثروت لوگوں میں تھے۔ مدینہ طیبہ میں ان کے کئی باغات تھے مگر سب سے عمدہ اور ان کو بے حد محبوب باغ وہ تھا جس کا نام ’’بیر حاء‘‘ تھا۔ اس کی کھجوریں بڑی اعلیٰ قسم کی اور بہت قیمتی تھیں۔ اس کے کنویں کا پانی بہت عمدہ‘ ٹھنڈا اور میٹھا تھا۔ وہ فوراً اللہ کے رسولe کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم اپنی محبوب ترین چیز اس کی راہ میں خرچ کر دیں۔ میرا باغ ’’بیر حاء‘‘ میرا سب سے زیادہ پسندیدہ اور محبوب ترین باغ ہے۔ میں اسے اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں۔ اب یہ آپ کے حوالے ہے‘ اسے آپ جہاں چاہیں اور جس طرح چاہیں خرچ کر دیں۔ اللہ کے رسولe نے اس فیصلے کی تحسین کرتے ہوئے فرمایا: بخ‘ بخ یعنی واہ‘ واہ کیا کہنے! کیا خوب فیصلہ ہے! پھر آپe نے ارشاد فرمایا: ابوطلحہ! اس باغ کو اپنے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کر دو۔ (تا کہ صدقہ اور صلہ رحمی دونوں کام ہو جائیں۔) چنانچہ سیدنا ابوطلحہt نے اسے اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دیا۔ شاعر نبوت سیدنا حسان بن ثابتt بھی ان کے رشتہ داروں میں سے تھے‘ لہٰذا ان کو بھی اس میں سے حصہ ملا۔
اللہ کے  رسولe‘ سیدنا ابوطلحہt اور ان کے گھرانے سے خاص تعلق خاطر اور محبت رکھتے تھے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ جب آپe نے حج کیا تو بے شمار دیگر صحابہ کے ساتھ سیدنا ابوطلحہt بھی منیٰ کے میدان میں موجود تھے۔ آپ نے جب حلق کرانے کا ارادہ فرمایا تو حلاق کو بلوایا۔ صحابہ کرام آپe کے ارد گرد جمع ہو گئے‘ وہ آپe کے موئے مبارک حاصل کرنا چاہتے تھے۔ یہ بلاشبہ بہت بڑی سعادت تھی کہ کسی کے پاس اللہ کے رسولe کے موئے مبارک ہوں۔ آپe نے دائیں جانب کے بال تو تمام صحابہ میں تقسیم کر دیئے مگر جب بائیں جانب سے حلق کرایا تو دریافت فرمایا: ابوطلحہ کہاں ہیں؟ سیدنا ابوطلحہt کو یہ سعادت ملی کہ اس جانب کے تمام بال اکیلے سیدنا ابوطلحہt ہی کے نصیب میں آئے۔ اس عطا پر وہ جتنا بھی فخر کرتے کم تھا۔ ان کی اور ان کے گھرانے کی ساری زندگی اسلام کی خدمت اور جہاد میں گزری۔ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ وہ بہت طاقتور جسم کے مالک تھے اور ان کی آواز بڑی گرج دار تھی‘ اس لیے وہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچنے کے باوجود جہاد میں مسلسل شریک رہے۔ وہ قرآن کریم کی آیت {اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِقَالًا} (التوبہ: ۹/۴۱) کے معنی یہ سمجھتے تھے کہ جہاد جوانوں اور بوڑھوں سب پر یکساں فرض ہے‘ چنانچہ جب وہ بوڑھے ہو گئے تو ان کے بیٹوں نے کہا: ابا جان! آپ نے اللہ کے رسولe‘ صدیق اکبرt اور فاروق اعظمt کے دور میں جہاد کیا ہے اب آپ گھر پر آرام فرمائیں‘ اب ہم آپ کی جگہ جہاد کریں گے۔ مگر انہوں  نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا اور آخری وقت تک جہاد میں مصروف رہے۔
ان کی وفات کے بارے میں سیرت نگاروں نے دو مختلف روایات بیان کی ہیں۔ ایک روایت یہ ہے کہ وہ جہاد کے لیے نکلے اور اسی دوران بحری سفر میں وفات پا گئے۔ دوسری روایت یہ ہے کہ وہ سمندری سفر سے واپس مدینہ طیبہ پہنچ گئے تھے اور مدینۃ الرسول ہی میں مقیم تھے کہ سن ۳۴ ہجری میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔ وفات کے وقت ان کی عمر ستر برس تھی۔ سیدنا عثمان بن عفانt نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ سیدنا ابوطلحہt نبی کریمe کے بعد ۴۰ برس تک زندہ رہے۔ اس دوران انہوں نے بڑی کثرت اور تواتر سے نفلی روزے رکھے۔ آپ صرف سفر اور مرض ہی کی حالت میں روزے کا ناغہ کرتے تھے۔ آپ حدیث کے راویوں میں سے ایک ہیں۔ حدیث کی چھ کتابوں میں ان سے روایت کردہ احادیث موجود ہیں۔ ان میں سے دو احادیث متفق علیہ یعنی بخاری ومسلم دونوں میں ہیں۔ اسی طرح ایک حدیث ایسی ہے جسے صرف امام بخاری نے روایت کیا ہے اور دوسری حدیث ایسی ہے جسے صرف امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ دیگر کتب سنن میں ان کی روایات کی تعداد بیس کے قریب ہے۔
اللہ تعالیٰ اس محب رسولe اور اسلام کے لیے انتہائی قیمتی خدمات انجام دینے والے مردِ مجاہد پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے!

No comments:

Post a Comment

View My Stats