Mazmoon06-03-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Friday, May 17, 2019

Mazmoon06-03-2019


ولی اللہ کون..؟!

تحریر: جناب مولانا محمد عبداللہ سلفی
اللہ رب العالمین ہی معبود برحق ہے اور اس نے انس وجن کو صرف اور صرف اپنی عبادت وبندگی کے لیے ہی پیدا فرمایا ہے۔ جو بندہ جس قدر اخلاص وللہیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت وبندگی کرتا اور اس سے رابطہ وتعلق مضبوط ومستحکم بناتا ہے وہ اسی قدر اس سے قریب ہو جاتا ہے۔ قربت کے منازل طے کرتے کرتے بندہ اللہ تعالیٰ کا خصوصی قرب حاصل کر لیتا ہے اور اس کا محبوب‘ دوست‘ اور ولی بن جاتا ہے۔ ایسے بندے کو اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے اور اللہ کی طرف سے اس کو خصوصی تائید ونصرت حاصل ہو جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جس کو ولایت کہا جاتا ہے اور جس شخص کو یہ مقام حاصل ہو جاتا ہے اس کو ولی کہا جاتا ہے۔
 ولی کی تعریف:
ابن منظور افریقی لسان العرب میں لکھتے ہیں: الولی: الصدیق النصیر … یعنی ولی کے معنی دوست اور مددگار کے ہوتے ہیں۔ قرآن مجید میں ولی کا لفظ دوست‘ محبوب‘ قریبی‘ مددگار‘ حمایتی اور متولی وکار ساز وغیرہ معانی میں استعمال ہوا ہے۔ (دیکھیے! سورہ البقرہ: ۱۰۷‘ ۱۲۰‘ ۲۵۷۔ آل عمران: ۶۸‘ ۱۲۲۔ النساء: ۴۵‘ ۸۹‘ ۱۲۳۔ سورۂ العنکبوت: ۲۳ وغیرہا من الآیات) اس کا مادہ و‘ ل‘ ی ہے اور ولایت کے معنی محبت ونصرت‘ تائید وقربت اور حفاظت ونگہبانی کے ہوتے ہیں۔
اولیاء کا لفظ ولی کی جمع ہے۔ جب اس کی اضافت اللہ کی طرف کرتے ہوئے اولیاء اللہ بولا جاتا ہے تو معنی ہوتے ہیں: اللہ تعالیٰ کے وہ مقرب ومحبوب اور دوست بندے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی دوستی‘ محبت اور تقرب کے شرف سے نوازا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
{اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰہِ لَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَ لَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ٭ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ کَانُوْا یَتَّقُوْنَ٭ لَہُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَۃِ۱ لَا تَبْدِیْلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ۱ ذٰلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ٭}
’’آگاہ رہو! بے شک اللہ کے اولیاء پر کوئی خوف نہ ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (یعنی) وہ لوگ جو ایمان لائے اور (اللہ سے) ڈرتے رہے‘ ان کے لیے دنیاوی زندکی میں خوشخبری ہے اور آخرت میں (بھی) اللہ کی باتوں میں تبدیلی نہیں ہوتی‘ یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ (یونس: ۶۲)
اس آیت کریمہ میں پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ بتلایا ہے کہ اولیاء کے لیے ہے کیا؟ اللہ کے اولیاء پر کوئی خوف نہ ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے اور پھر ارشاد فرمایا کہ اولیاء ہیں کون؟ جو ایمان لائے اور (اللہ سے) ڈرتے رہے اور آخر میں ان کے لیے بشارت اور خوش خبری کا بیان ہے۔ ہمارے معاشرے میں اولیاء کے فضائل ومناقب بیان کرتے ہوئے پہلی آیت کو بڑے پر زور انداز میں جوش وخروش کے ساتھ بلکہ نمک مرچ لگا کر بیان کیا جاتا ہے لیکن دوسری آیت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے‘ حالانکہ اس موضوع پر گفتگو کرنے کے لیے اس کی وضاحت نہایت ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر نہ تو موضوع واضح ہو گا اور نہ ہی اس کا حق ادا ہو گا بلکہ بات نہایت ہی ناقص رہے گی۔ آئیے ان آیات کے معانی ومفاہیم کو دیگر آیات واحادیث اور فہم سلف کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اولیاء کی صفت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
{الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ کَانُوْا یَتَّقُوْنَ٭} (یونس: ۶۳)
’’جولوگ ایمان لائے اور اللہ سے ڈرتے ہیں۔‘‘
معلوم ہوا کہ ولی ہر وہ شخص ہے جو صاحب ایمان اور صاحب تقویٰ ہو۔
 ایمان کیا ہے؟!
لغت میں ایمان کے معنی ہوتے ہیں: یقین‘ تصدیق اور اقرار‘ جبکہ شریعت میں: زبان سے اقرار کرنے‘ دل سے یقین وتصدیق کرنے اور اعضاء وجوارح سے عمل کرنے کو ایمان کہا جاتا ہے‘ جو اعمال صالحہ کرنے سے بڑھتا ہے اور برائیوں وسئیات کے ارتکاب سے کم ہوتا ہے۔
 ایمان قرآن کی نظر میں:
ارشاد الٰہی ہے:
{قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ٭ الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوْنَ٭ وَ الَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ٭ وَ الَّذِیْنَ ہُمْ لِلزَّکٰوۃِ فٰعِلُوْنَ٭ وَ الَّذِیْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حٰفِظُوْنَ٭ اِلَّا عَلٰٓی اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَ٭ فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآئَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓیِکَ ہُمُ الْعٰدُوْنَ٭ وَ الَّذِیْنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَ عَہْدِہِمْ رٰعُوْنَ٭} (المؤمنون: ۱-۸)
’’مومن یقینا فلاح پا گئے‘ جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں اور جو لغو باتوں سے اعراض کرنے والے ہیں اور جو زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں اور جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ سوائے اپنی بیویوں یا ان (کنیزوں) کے جن کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ‘ بلاشبہ (ان کی بابت) ان پر کوئی ملامت نہیں‘ پس جو شخص ان کے علاوہ تلاش کرے تو ایسے لوگ ہی حد سے گذرنے والے ہیں اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘
مذکورہ بالا آیات میں اللہ رب العزت نے صاحب ایمان لوگوں کے اوصاف بیان کیے ہیں کہ جس کسی میں یہ اوصاف پائے جائیں وہ کامیاب وکامران ہو گیا او اس نے سعادت وفلاح حاصل کر لی۔ ان آیات کی روشنی میں جب ہم سورۂ یونس کی آیتوں پر غور کرتے ہیں۔ کیونکہ [القرآن یفسر بعضہ بعضا] یعنی قرآن کی ایک آیت دوسری آیت کی تفسیر کرتی ہے۔) تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ
\      اللہ کا ولی نمازوں کا پابند ہوتا ہے اور خشوع وخضوع کے ساتھ نمازیں ادا کرتا ہے۔
\      اللہ کا ولی لغو اور بے ہودہ باتوں سے اعراض کرتا اور دور رہتا ہے۔
\      اللہ کا ولی زکوٰۃ کی ادائیگی کرتا ہے۔
\      اللہ کا ولی اپنی بیویوں اور کنیزوں کو چھوڑ کر کسی کے سامنے بے پردہ نہیں ہوتا اور اپنی شرمگاہ کو بے ستر نہیں ہونے دیتا۔
\      اللہ کا ولی اپنی جنسی خواہش صرف اپنی بیویوں اور کنیزوں سے پوری کرتا ہے۔
\      اللہ کا ولی اپنے عہد وپیمان کی حفاظت کرنے والا ہوتا ہے۔
جس کا مفہوم یہ ہوا کہ
’’بے نمازی اللہ کا ولی نہیں ہو سکتا۔ لغو اور بیہودگی میں ملوث رہنے والا اللہ کا ولی نہیں ہو سکتا۔‘‘
کوئی زانی اور بدکار شخص اللہ کا ولی نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح جھوٹا‘ بے ایمان‘ بد عہد اور خائن شخص بھی اللہ کا ولی نہیں ہو سکتا۔
 ایمان حدیث کی روشنی میں:
کتاب وسنت میں ایمان کا لفظ جب اسلام سے الگ کر کے مستقل بالذات بولا جائے تو اس سے ارکان ایمان اور ارکان اسلام دونوں مراد ہوتے ہیں‘ مگر جب دونوں کو ایک ساتھ بولا جائے تو ایمان سے اس کے چھ ارکان اور اسلام سے اس کی پانچ بنیادیں مراد ہوتی ہیں۔ آئیے ہم آپ کے سامنے حدیث جبریل کا وہ حصہ پیش کرتے ہیں جس میں ایمان واسلام کی وضاحت کی گئی ہے:
[عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ … یَا مُحَمَّدُ اَخْبِرْنِی عَنِ الإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: الإِسْلَامُ اَنْ تَشْہَدَ اَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ ﷺ، وَتُقِیمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِیَ الزَّکَاةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَیْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَیْہِ سَبِیلًا، قَالَ: صَدَقْتَ … الحدیث] (مسلم، الایمان، باب بیان الایمان والاسلام والاحسان)
سیدنا عمر بن خطابt سے مروی ہے … اور (جبریلu) نے کہا: اے محمد! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے! رسول اللہe نے فرمایا:
’’اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمدe اس کے رسول ہیں‘ نماز کی پابندی کرو‘ زکوٰۃ ادا کرو‘ رمضان کے روزے رکھو اور اگر اللہ کے گھر تک راستہ (طے کرنے) کی استطاعت ہو تو اس کا حج کرو۔‘‘ اس نے کہا: آپe نے سچ فرمایا۔ (سیدنا عمرt نے) کہا: ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ آپe سے پوچھتا ہے اور (خود ہی) آپe کی تصدیق کرتا ہے۔ اس نے کہا: مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے! آپe نے فرمایا: ’’یہ کہ تم اللہ تعالیٰ‘ اس کے فرشتوں‘ اس کی کتابوں‘ اس کے رسولوں او آخری دن (یوم قیامت) پر ایمان رکھو اور اچھی اور بری تقدیر پر بھی ایمان لاؤ۔‘‘ اس نے کہا: آپe نے درست فرمایا۔‘‘
اس حدیث نبوی کی روشنی میں سورۂ یونس کی مذکورۃ الصدر آیت کریمہ پر غور کرنے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کا ولی کبھی اس کی عبادت وبندگی میںکسی غیر کو شریک نہیں بنا سکتا۔
اللہ کا ولی غیر اللہ کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہو سکتا۔ اللہ کا ولی کسی غیر کو مدد کے لیے نہیں پکار سکتا۔ اللہ کا ولی کسی غیر کو حاجت روا‘ مشکل کشا‘ فریادیں سننے والا‘ بگڑی بنانے والا اور غوث وغیرہ نہیں قرار دے سکتا۔
جب ولی خود ہی اللہ کے سامنے سجدہ کرتا‘ اسی سے دعائیں کرتا‘ اسی کو پکارتا‘ اسی کی بارگاہ میں قربانیاں کرتا اور اسی کے لیے نذر ونیاز پیش کرتا ہو‘ تو پھر کسی ولی کو سجدہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اس کو کیونکر مدد کے لیے (ما فوق الاسباب طریقے پر) پکارا جا سکتا ہے؟ اس کے لیے نذرو نیاز اور قربانیاں کیسے پیش کی جا سکتی ہیں؟ کیونکہ عابد معبود نہیں ہو سکتا اور ساجد مسجود نہیں ہو سکتا۔
اسی طرح اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک ولی نماز‘ روزہ‘ حج اور زکوٰۃ وغیرہ کی مکمل پابندی کرتا ہے یعنی کسی ولی سے نماز معاف نہیں ہے‘ کسی ولی سے روزے ساقط نہیں ہوتے‘ اگر کوئی صاحب استطاعت ہونے کے باوجود زکوٰۃ کی ادائیگی نہیں کرتا‘ سفر حج کا خرچ ہونے کے بعد بھی حج کے لیے نہیں جاتا تو ایسا شخص ہرگز ولی نہیں ہو سکتا۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ولی کا ایمان کے ہر رکن پر پختہ عقیدہ ہوتا ہے۔
آئیے اب آیت کریمہ کے دوسرے جزو {وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ} کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
 تقویٰ کیا ہے؟!
لفظ تقویٰ وقایہ سے ہے‘ اس کے معنی ہیں: بچنا‘ پرہیز کرنا‘ جس چیز سے انسان کو خطرہ لاحق ہو اس کے اور اپنے درمیان حائل وفاصل اور رکاوٹ کھڑی کرنا۔ سیدنا علیt نے تقویٰ کی وضاحت کرتے ہوئے یوں فرمایا:
[التقوی ہو الخوف من الجلیل والعمل بالتنزیل والاستعداد لیوم الرحیل والقناعۃ بالقلیل] (فرائد الکلام: ۳۳۴)
’’اللہ سے ڈرنا‘ قرآن وسنت پر عمل کرنا‘ کوچ کے دن (آخرت) کے لیے تیاری کرنا اور کم رزق پر قناعت کرنا تقویٰ ہے۔‘‘
یعنی دل میں اللہ تعالیٰ کا اس طرح اور اس قدر خوف ہو کہ ہر قدم اٹھانے سے پہلے انسان کو سوچنے پر مجبور کر دے کہ اللہ تعالیٰ اس عمل سے خوش ہو گا یا ناراض‘ اور اپنا ہر عمل تنزیل یعنی کتاب وسنت کے مطابق انجام دے‘ اس کے عقائد‘ اس کی عبادتیں اور اس کے معاملات غرضیکہ ہر ایک عمل کتاب وسنت کی تعلیمات کے مطابق ہو‘ یوم الرحیل یعنی آخرت کی زندگی کے لیے تیاری کرتا رہے‘ اس کا ہر ہر عمل آخرت کے لیے ہو‘ جو بھی کام کرے اس میں آخرت میں کامیاب ہونے کی سوچ کارفرما ہو اور اللہ تعالیٰ نے اسے تھوڑا بہت جو بھی دے رکھا ہے اس پر قانع اور راضی وخوش رہے‘ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آدمی مزید ترقی اور اضافے کی جائز کوشش ہی نہ کرے‘ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ اس کو ملا ہو اس پر شکوہ اور شکایت اپنی زبان پر نہ لائے بلکہ اللہ کا شکر ادا کرتا رہے۔
 تقویٰ قرآن کی نظر میں:
جب ہم قرآن مجید میں متقین کی صفات پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ تقویٰ ایک جامع لفظ ہے‘ جس کا مطلب ہے: اللہ تعالیٰ کے تمام احکام واوامر پر عمل کرنا‘ تمام محرمات ونواہی سے بچنا اور پورے دین پر عمل کرنا۔ یہاں طوالت کے خوف سے صرف سورۂ بقرہ کی ابتدائی آیات ذکر کرنے پر اکتفا کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
{الٓمّٓ٭ ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ۱ فِیْہِ۱ ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ٭ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ٭ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَ مَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ۱ وَ بِالْاٰخِرَۃِ ہُمْ یُوْقِنُوْنَ٭ اُولٰٓیِکَ عَلٰی ہُدًی مِّنْ رَّبِّہِمْ۱ وَ اُولٰٓیِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ٭} (البقرہ)
’’الم! یہ کتاب ہے جس (کے نازل ہونے) میں کوئی شک نہیں‘ ہدایت ہے متقین کے لیے‘ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور وہ نماز کو (اس کے آداب کے ساتھ) قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے‘ اس میں سے خرچ کرتے ہیں اور وہ لوگ جو اس پر ایمان لاتے ہیں جو آپ پر نازل کیا گیا اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں‘ یہ لوگ ہدایت پر ہیں اپنے رب کی طرف سے اور یہی فلاح پانے والے ہیں۔‘‘
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ غیب پر ایمان رکھنا حدیث جبریل کے حوالے سے جن ارکان ایمان کا ذکر کیا گیا وہ سب غیب سے تعلق رکھتی ہیں۔ نمازیں قائم کرنا‘ اللہ کی راہ میں صدقہ وخیرات کرنا‘ قرآن وسنت {بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ} پر ایمان رکھنا تقویٰ ہے۔ (معلوم ہوا کہ منکر حدیث اللہ کا ولی نہیں ہو سکتا۔) ایسے ہی دیگر آسمانی کتابوں پر ایمان رکھنا اور آخرت پر ایمان ویقین رکھنا تقویٰ ہے۔
مذکورہ بالا گفتگو سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ایک ولی کے لیے اس کا مومن ومتقی ہونا ضروری ہے‘ ہر مومن اور متقی شخص اللہ کا ولی ہے اور ولی سے کرامت کا صادر ہونا ضروری نہیں‘ اس کے یہ معنی نہیں کہ سارے اولیاء برابر ہیں یا ہم نے سارے متقی مومنوں کو برابر کر دیا ہے‘ بلکہ ان کے درمیان فرق مراتب ہے‘ ان کے ایمان وتقویٰ میں فرق کے اعتبار سے جو ایمان وتقویٰ کے جتنے اونچے مقام پر فائز ہو گا وہ اتنا ہی بڑا ولی ہو گا۔ صحابہ کرام]سب کے سب اللہ کے ولی تھے۔ (حالانکہ چند ہی صحابہ کرام] سے کرامتوں کا ظہور ہوا ہے۔) سب سے بڑے ولی سیدنا ابوبکر‘ پھر سیدنا عمر‘ پھر سیدنا عثمان‘ پھر سیدنا علی‘ پھر عشرہ مبشرہ اور اس کے بعد دوسرے صحابہ] اپنے مراتب میں فرق کے اعتبار سے تھے۔
حجۃ الاسلام ابوجعفر طحاوی حنفیؒ فرماتے ہیں:
[والمؤمنون کلہم اولیاء الرحمن واکرمہم عند اللہ اطوعہم واتبعہم للقرآن] (العقیدۃ الطحاویۃ: ۴۵)
یعنی ’’مومنین سب کے سب اللہ کے ولی ہیں اور ان میں اللہ کے نزدیک اس کا مرتبہ اتنا ہی اونچا اور بلند ہے جو جتنا قرآن کی اتباع اور اطاعت کرنے والا ہے۔‘‘
 ولی اور ولایت حدیث کی روشنی میں:
[عَنْ اَبِی ہُرَیْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ: ’إِنَّ اللَّہَ قَالَ: مَنْ عَادَی لِی وَلِیًّا فَقَدْ آذَنْتُہُ بِالحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَیَّ عَبْدِی بِشَیْءٍ اَحَبَّ إِلَیَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَیْہِ، وَمَا یَزَالُ عَبْدِی یَتَقَرَّبُ إِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّی اُحِبَّہُ، فَإِذَا اَحْبَبْتُہُ، کُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِی یَسْمَعُ بِہِ، وَبَصَرَہُ الَّذِی یُبْصِرُ بِہِ، وَیَدَہُ الَّتِی یَبْطِشُ بِہَا، وَرِجْلَہُ الَّتِی یَمْشِی بِہَا، وَإِنْ سَاَلَنِی لَاُعْطِیَنَّہُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِی لَاُعِیذَنَّہُ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَیْئٍ اَنَا فَاعِلُہُ تَرَدُّدِی عَنْ نَفْسِ المُؤْمِنِ، یَکْرَہُ المَوْتَ وَاَنَا اَکْرَہُ مَسَائَتَہُ۔] (صحیح البخاری: ۶۵۰۲)
سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسولe نے فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی اس کے خلاف میری طرف سے اعلان جنگ ہے اور میرا بندہ جن جن عبادتوں کے ذریعے میرا تقرب حاصل کرتا ہے ان میں سے کوئی عبادت مجھے اتنی پسند نہیں جس قدر وہ عبادت پسند ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے۔ میرا بندہ نوافل کے ذریعہ سے برابر مجھ سے قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ جب میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے‘ اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے‘ اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے دیتا ہوں‘ اگر وہ مجھ سے پناہ کا طالب ہو تو میں اس کو پناہ دیتا ہوں۔ میں کسی چیز میں اتنا تردد نہیں کرتا جس کو میں کرنے والا ہوتا ہوں جتنا مجھے مومن کی جان نکالتے وقت تکلیف ہوتی ہے۔ وہ مومن کو بوجہ تکلیف پسند کرتا اور مجھے بھی اسے تکلیف دینا اچھا نہیں لگتا۔‘‘
اس حدیث نبوی سے ہمیں معلوم ہوا کہ اللہ کے بعض بندے اس کے ولی‘ مقرب اور محبوب ہوتے ہیں‘ جو اولیاء اللہ سے دشمنی کرتا ہے‘ ان کو کسی طرح کی ایذاء پہنچاتا ہے‘ یا ان کے خلاف غلط پروپیگنڈہ کرتا ہے یا دل میں ان کے خلاف بغض وعداوت رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے خلاف اعلان جنگ کرتا ہے۔ اللہ کا ولی فرائض کا پابند ہوتا ہے یعنی جو فرائض کا تارک ہو وہ اللہ کا ولی نہیں ہو سکتا۔
اللہ کا ولی بندہ ہوتا ہے اور جو خود بندہ ہو اس کی عبادت نہیں کی جاتی‘ وہ حاجت روا اور مشکل کشا نہیں ہوتا‘ وہ بگڑی بنانے اور فریادیں سننے والا نہیں ہوتا۔
کوئی شخص مادر زاد ولی نہیں ہوتا یا یوں کہہ لیں کہ کوئی بچہ ولی نہیں ہوتا کیونکہ ولی فرائض کا پابند ہوتا ہے اور فرائض کے مکلف وہ لوگ ہوتے ہیں جو عاقل اور بالغ ہوں۔
مجذوب یعنی پاگل ولی نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ فرائض کا مکلف نہیں ہوتا۔
اولیاء اللہ نوافل کا اہتمام کرتے ہیں اور جو جتنا زیادہ نوافل کا اہتمام کرتا ہے اس کا مقام ومرتبہ ولایت میں اتنا ہی اونچا ہوتا ہے۔
ولی اللہ کا محبوب ہوتا ہے‘ سورۂ آل عمران (آیت: ۳۱) میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
{قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ٭}
’’آپ کہہ دیجیے! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو‘ اللہ تم سے محبت کرے گا۔‘‘
اولیاء کے مختلف مراتب ہیں‘ جتنا ایمان وتقویٰ اعمال صالحہ میں اضافہ ہوتا ہے اتنا ہی دوستی‘ ولایت اور تقرب کا درجہ بلند ہو جاتا ہے‘ سب اولیاء برابر نہیں ہیں۔
اولیاء‘ اللہ ہی سے مانگتے اور اسی سے پناہ کے طالب ہوتے ہیں اور جو خود سائل ہو‘ اپنے نفع ونقصان کا مالک نہ ہو بلکہ دوسرے سے پناہ کا طالب ہو وہ اس لائق نہیں کہ اس سے مانگا اور سوال کیا جائے‘ یا اس سے پناہ چاہی جائے یا اس سے دفع ضرر اور نفع کے حصول کی خواہش کی جائے‘ اگر اس کے اندر اتنی ہی طاقت ہوتی تو وہ اللہ سے سوال نہ کرتا اور نہ ہی پناہ کا طالب ہوتا۔
 خلاصۂ کلام:
اولیاء کرام اللہ تعالیٰ کے وہ برگزیدہ ومقرب‘ دوست اور محبوب بندے ہیں جن کے فضائل ومناقب کتاب وسنت میں واضح طور پر بیان ہوئے ہیں۔ ایمان وتقویٰ‘ خوف وخشیت‘ پرہیزگاری وللہیت‘ اور اطاعت واتباع کتاب وسنت ان کے نمایاں اوصاف ہیں۔  یہ وہ لوگ ہیں جو فرائض کے پابند‘ نوافل پر گامزن‘ محرمات سے گریزاں‘ مکروہات سے متنفر اور اپنے تمام اعمال میں صرف اور صرف اللہ کی رضا کے طلبگار وخواستگار ہوتے ہیں‘ ان پر اللہ کی نوازشات ہوتی ہیں‘ یہ جب دست سوال دراز کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں عطا فرماتا ہے‘ جب اس کی پناہ ڈھونڈتے ہیں وہ انہیں پناہ میں لے لیتا ہے۔
اولیاء اللہ اپنی شکل وصورت میں عام مسلمانوں سے ممتاز نہیں ہوتے‘ نہ ہی ان کا کوئی مخصوص لباس ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص رنگ‘ وہ امت محمدیہ کی تمام صفوں میں پائے جاتے ہیں‘ علماء وعبادت گزاروں کی صفوں میں بھی اور تاجروں‘ صنعت کاروں‘ کسانوں اور مزدوروں میں بھی‘ جو بھی صاحب ایمان وتقویٰ ہیں اللہ کے ولی ہیں‘ ان کا کوئی مخصوص لقب نہیں ہوتا‘ معیار ولایت کتاب وسنت کی اتباع ہے نہ کہ کرامت اور خرق عادت۔ کتاب وسنت ہی وہ پیمانہ ہے جس سے اقوال ورجال دونوں کو پرکھا جاتا ہے۔

No comments:

Post a Comment

View My Stats