Mazmoon06-05-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Friday, May 17, 2019

Mazmoon06-05-2019


مسنون نکاح

تحریر: جناب مولانا لیاقت علی باجوہ
اکثر لوگ رشتہ کرتے وقت صرف روپیہ پیسہ اور برادری دیکھتے ہیں‘ دین اور تقویٰ کی بنیاد پر رشتے طے نہیں کرتے۔ اسی لیے ہمارا معاشرہ بے راہ روی اور بدسکونی کا شکار ہے اور دین کی بنیاد پر رشتے نہ کرنا قرآن وسنت کی تعلیمات کے مطابق نافرمانی وبغاوت ہے۔
جائز طریقے سے باہم ملنے کا نام نکاح ہے، اسلام میں اس نکاح کی بڑی اہمیت ہے‘ اسی سے نسل انسانی آگے بڑھی اور بڑھ رہی ہے اوریہ مومن ومسلم کے ایمان کی تکمیل کا باعث ہے۔ اس کا اہم مقصد عفت وعصمت کی حفاظت ہے۔یہ انسانی زندگی کی اہم ترین ضرورت ہے اور اللہ کی طرف سے اس کے بندوں کے لئے نایاب تحفہ ہے۔ اول وآخر سارے انبیاء نے شادی کی اور اپنی اپنی امت کو شادی کا پیغام دیا تاکہ انسان اپنی عزت وآبرو کی حفاظت کرے اور جائز طریقے سے اپنی خواہشات پوری کرے۔ اللہ تعالی نے قرآن میں ذکر کیا ہے:
{وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلاً مِّن قَبْلِکَ وَجَعَلْنَا لَہُمْ اَزْوَاجًا وَذُرِّیَّةً} (الرعد: ۳۸)
’’ہم آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیج چکے ہیں اور ہم نے ان سب کو بیوی بچوں والا بنایا تھا۔‘‘
یہ دور بہت ہی پرفتن ہے‘ ماں باپ کو چاہیے کہ اولاد کے جوان ہوتے ہی کہیں دینی اعتبار سے اچھا رشتہ دیکھ کر شادی کردے ۔ شادی کا حکم دیتے ہوئے قرآن میں اللہ نے ارشاد فرمایا:
{وَاَنکِحُوا الاَیَامَی مِنکُمْ وَالصَّالِحِینَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَإِمَائِکُمْ إِن یَکُونُوا فُقَرَاءَ یُغْنِہِمُ اللَّہُ مِن فَضْلِہِ وَاللَّہُ وَاسِعٌ عَلِیمٌ} (النور: ۳۲)
’’تم میں سے جو مرد، عورت بے نکاح کے ہوں ان کا نکاح کر دو، اور اپنے نیک بخت غلام لونڈیوں کا بھی۔ اگر وہ مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو غنی بنا دے گا۔ اللہ تعالیٰ کشادگی والا اور علم والا ہے۔‘‘
نبی کریمe کا ارشاد گرامی ہے :
[یَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنْ اسْتَطَاعَ منکُم الْبَاءَةَ فَلْیَتَزَوَّجْ، فَإِنَّہُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَعَلَیْہِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّہُ لَہُ وِجَاءٌ۔] (البخاری: ۵۰۶۶، ومسلم: ۱۴۰۰)
’’اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو کوئی استطاعت رکھتا ہو وہ ضرور شادی کرے کیونکہ یہ (شادی) نگاہوں کو بہت جھکانے والی اور شرمگاہ کی خوب حفاظت کرنے والی ہے اور جو شادی کی طاقت نہیں رکھتا وہ روزہ رکھے ، پس یہ اس کے لئے ڈھال ہوگا۔‘‘
یہاں میں نکاح کے مسائل پر بات نہیں کروں گا بلکہ یہ بتلاؤں گا کہ نکاح کیسے منعقد ہوتا ہے؟ ، نکاح پڑھانے میں نبیe کا نمونہ اور اسوہ کیا ہے ؟
نکاح جس قدر عظیم امر الٰہی ہے اس کا انعقاد بھی اسی قدر آسان ہے مگر لوگوں نے اسے تصنع اور رسم ورواج کا رنگ دے کر اسلامی رنگ سے بہت الگ کردیا ہے۔ ایک حدیث پیش کرتا ہوں اس سے اندازہ لگائیں کہ نکاح کیا ہے اور کیسے کیا جاتا ہے ؟ نبیe کا فرمان ہے:
[إذا خطبَ إلیکم مَن ترضَونَ دینَہ وخلقَہ، فزوِّجوہُ إلَّا تفعلوا تَکن فتنةٌ فی الأرضِ وفسادٌ عریضٌ۔] (الترمذی: ۱۰۸۴)
’’اگر تمہارے ہاں کوئی ایسا آدمی نکاح کا پیغام بھیجے جس کے دین اور اخلاق سے تم مطمئن ہو تو اس کے ساتھ (اپنی بیٹی یا بہن وغیرہ) کی شادی کر دو‘ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو زمین میں بہت بڑا فتنہ اور فساد پھیلے گا۔‘‘
اس میں نکاح کا طریقہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ کوئی آدمی اپنی شادی کا پیغام کسی لڑکی کے والد؍سرپرست کو دے کہ میں فلانہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں اور لڑکی کا والد لڑکے میں دین واخلاق پائے تو اس سے لڑکی کی شادی کردے یعنی لڑکی کا ولی لڑکے سے کہے کہ میں اپنی بیٹی کی شادی تم سے کرتا ہوں کیا تمہیں قبول ہے ، لڑکا کہے ہاں مجھے قبول ہے ۔ شادی ہوگئی ۔یہی شادی کا اسلامی طریقہ ہے جس میں کسی محفل ، کوئی رسم ورواج اورکوئی تصنع کا ذکر نہیں ۔جو اس طریقہ یا اس طرح سے شادی نہیں کرتا تو اس سے فتنہ پھیلتا ہے۔ آج زمین پر فتنہ وفساد کی کثرت اس سبب سے بھی ہے کہ شادی میں ہم نے سنت کا دامن چھوڑ دیا اور غیروں کی روش اختیار کرلی حتی کہ آج فلمی ستاروں کو دیکھ دیکھ کر مسلمان لڑکے کافرہ سے یا مسلم لڑکیاں کافر لڑکوں سے شادی کررہی ہیں ۔ العیاذ باللہ
جو شادیاں مسلمانوں کی آپس میں ہوتی ہیں ان میں ذات وبرادری، رنگ ونسل، حسن وجمال، دولت ومنصب، رسم وراوج، ریاونمود، تکلف وتصنع اور بدعات ومنکرات کی آمیزش ہوتی ہے جبکہ نبیe کے زمانے کی شادیاں بالکل سادہ اورعام ہوتی تھیں ۔ ایک طرف سے پیغام آیا دوسری طرف سے پیغام قبول کرکے شادی ہوگئی۔ دیکھیے سیدنا عبدالرحمن بن عوفt کی شادی۔ بخاری شریف کی روایت ہے سیدنا انسt بیان کرتے ہیں:
[انَّ النبیَّﷺ رأی عبدَ الرحمنِ بن عوفٍ أثرَ صُفرةٍ، قال: ’ما ہذا؟‘ قال: إنی تزوجت امرأةً علی وزنِ نواةٍ من ذہبٍ، قال: ’بارک لک اللہُ، أولمْ ولو بشاةٍ۔‘] (البخاری: ۵۱۵۵)
’’نبی کریمe نے سیدنا عبد الرحمن بن عوفt پر زردی کا نشان دیکھا تو پوچھا کہ ’’یہ کیا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ میں نے ایک عورت سے ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے مہر پر نکاح کیا۔ آنحضرتe نے فرمایا کہ ’’اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے‘ دعوت ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کی ہو۔‘‘
اس شادی میں سیدنا عبدالرحمنt نے امام کائنات حضرت محمدe تک کو نہیں بلایا جبکہ دونوں ایک ہی جگہ موجود ہیں ۔کتنی سادگی ہوگی اس شادی میں؟! نبیe جنگ خیبر کے سفر پر تھے‘ مال غنیمت میں بنوقریظہ کے سردار کی بیٹی صفیہ آئیں‘ ان سے نبیe کی شادی کا ذکر چند لفظوں میں دیکھیں، سیدنا انسt بیان کرتے ہیں:
[اَنَّ رسولَ اللہِ ﷺ أعتَقَ صَفیَّةَ وتزوَّجَہَا وجعَلَ عِتْقَہَا صدَاقَہَا، وأولمَ علیہا بِحَیْسٍ۔] (البخاری: ۵۱۶۹)
’’رسول اللہe نے سیدہ صفیہr کو آزاد کیا اور پھر ان سے نکاح کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیااور ان کا ولیمہ ملیدہ سے کیا۔‘‘
بخاری شریف میں ایک عورت کی شادی کا اس طرح ذکر ہے جو نبیe نے منعقد کروائی:
[جَائَتِ امْرَاَةٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ ﷺ، فَقَالَتْ: إِنِّی وَہَبْتُ مِنْ نَفْسِی، فَقَامَتْ طَوِیلًا، فَقَالَ رَجُلٌ: زَوِّجْنِیہَا إِنْ لَمْ تَکُنْ لَکَ بِہَا حَاجَةٌ، قَالَ: ’ہَلْ عِنْدَکَ مِنْ شَیْئٍ تُصْدِقُہَا؟‘ قَالَ: مَا عِنْدِی إِلَّا إِزَارِی، فَقَالَ: ’إِنْ اَعْطَیْتَہَا إِیَّاہُ جَلَسْتَ لاَ إِزَارَ لَکَ، فَالْتَمِسْ شَیْئًا۔‘ فَقَالَ: مَا اَجِدُ شَیْئًا، فَقَالَ: ’التَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِیدٍ۔‘ فَلَمْ یَجِدْ، فَقَالَ: ’اَمَعَکَ مِنَ القُرْآنِ شَیْءٌ؟‘ قَالَ: نَعَمْ، سُورَةُ کَذَا، وَسُورَةُ کَذَا، لِسُوَرٍ سَمَّاہَا، فَقَالَ: ’قَدْ زَوَّجْنَاکَہَا بِمَا مَعَکَ مِنَ القُرْآنِ۔‘]
’’ایک عورت رسول اللہe کے پاس آئی اور کہا کہ میں اپنے آپ کو آپ کے لئے ہبہ کرتی ہوں۔ پھر وہ دیر تک کھڑی رہی۔ اتنے میں ایک مرد نے کہا کہ اگر آنحضورe کو اس کی ضرورت نہ ہو تو اس کا نکاح مجھ سے فرمادیں۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس اسے مہر میں دینے کے لئے کوئی چیز ہے ؟ اس نے کہا کہ میرے پاس اس تہبند کے سوا اور کچھ نہیں۔ آنحضرتe نے فرمایا کہ اگر تم اپنا یہ تہبند اس کو دے دوگے تو تمہارے پاس پہننے کے لئے تہبند بھی نہیں رہے گا۔ کوئی اور چیز تلاش کرلو۔ اس مرد نے کہا کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ کچھ تو تلاش کرو ، ایک لوہے کی انگوٹھی ہی سہی! اسے وہ بھی نہیں ملی تو آنحضرتe نے دریافت فرمایا کہ ’’کیا تمہارے پاس کچھ قرآن مجید ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں! فلاں فلاں سورتیں ہیں، ان سورتوں کا انہوں نے نام لیا۔ آنحضرتe نے فرمایا کہ ’’پھر ہم نے تیرا نکاح اس عورت سے ان سورتوں کے بدلے کیا جو تم کو یاد ہیں۔‘‘
نکاح سے متعلق تمام احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ بس ایجاب وقبول کا نام نکاح ہے ، نہ قاضی وامام کی ضرورت ، نہ تقریب کا انعقاد ، نہ بارات و جہیز کا تصور اور نہ ہی کسی قسم کے رسم ورواج کی ضرورت ہے۔ سطور ذیل میں اب اختصار سے نکاح پڑھانے کا ذکر کرتا ہوں تاکہ نکاح خواں کے لئے آسانی ہو اور مسنون طریقہ سے نکاح پڑھا جائے ۔
نکاح سے پہلے شادی کا پیغام آچکا ہوتا ہے اور طرفین سے منگنی کے ذریعہ رضامندی کے ساتھ شادی کی بات پکی ہوچکی ہوتی ہے ۔ اب مسجد، مدرسہ یا کسی گھر پہ لڑکے والے جمع ہیں جہاں لڑکی کا ولی (اگر ولی حاضر نہ ہو تو اس کی رضامندی کے ساتھ کوئی وکیل) اور اس کے رشتہ دار بھی جمع ہیں ۔ نکاح کے ذریعہ لڑکا اورلڑکی کا عقد مسنون کیسے کیا جائے ؟
پہلی بات: بارات کا رواج غلط ہے لیکن نکاح کے موقع پر کچھ لوگوں کا جمع ہونا مستحب ہے‘ اس سے نکاح کا اعلان ہوجائے گا جس کا حکم نبیe نے دیا ہے ۔
[اعلِنوا ہذا النِّکاحَ واضرِبوا علیْہِ بالغربالِ۔] (صحیح ابن ماجہ: ۱۵۴۹)
’’اس نکاح کا اعلان کیا کرو اور اس موقع پر دَف بجایا کرو۔‘‘
نوٹ: شیخ البانی نے اس حدیث کا پہلا ٹکڑا ثابت مانا ہے۔
دوسری بات: اس وقت سماجی اور حکومتی سطح پہ نکاح نامہ بڑی سخت ضرورت بن گئی ہے‘ اس لئے قاضی صاحب جنہیں نکاح پڑھانے کے لئے مدعو کیا گیا ہے انہیں چاہیے کہ نکاح نامہ اور دیگر کاغذی امور مکمل کرلیں ۔
تیسری بات: مہر طے ہو تو بہتر ہے اور اسے بھی لکھ لیا جائے تاکہ زوجین یا ان کے خاندان والوں میں بعد میں کوئی تنازع نہ ہو اور مہر طے کرنے کی دلیل ملتی ہے ، اللہ کا فرمان ہے :
{وَإِن طَلَّقْتُمُوہُنَّ مِن قَبْلِ اَن تَمَسُّوہُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَہُنَّ فَرِیضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ} (البقرۃ: ۲۳۷)
’’اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے سے پہلے طلاق دے دو لیکن مہر مقرر کرچکے ہو تو آدھا مہر دینا ہوگا۔‘‘
چوتھی بات: لڑکی کی طرف سے اس کے ولی کی رضامندی حاصل ہواور وہ وہاں موجود ہو یا اس کی رضامندی سے اس کا کوئی وکیل موجود ہوکیونکہ بغیر ولی کے کوئی نکاح نہیں ہوگا ۔
نبیe کا فرمان ہے: [لا نِکاحَ إلَّا بولیٍّ۔] (صحیح ابن ماجہ: ۱۵۳۷)
’’بغیر ولی کے نکاح نہیں ہے ۔‘‘
اسی طرح یہ بھی فرمان رسول ہے:
[أیُّما امرأةٍ نَکَحَت بغیرِ إذنِ مَوالیہا، فنِکاحُہا باطلٌ، ثلاثَ مرَّاتٍ۔] (صحیح ابوداؤد: ۲۰۸۳)
’’جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا اس کا نکاح باطل ہے۔‘‘ یہ بات آپe نے تین بار کہی ۔
پانچویں بات: نکاح ہوتے وقت دو عادل گواہوں کی بھی ضرورت ہے۔ اللہ کے اس فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ
{فَإِذَا بَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَاَمْسِکُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ اَوْ فَارِقُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَاَشْہِدُوا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنکُمْ} (الطلاق: ۲)
’’پس جب یہ عورتیں اپنی عدت پوری کرنے کے قریب پہنچ جائیں تو انہیں یاتو قاعدہ کے ساتھ اپنے نکاح میں رہنے دو یا دستور کے مطابق انہیں الگ کردو اور آپس میں سے دو عادل شخصوں کو گواہ کرلو۔‘‘
اس معنی کی کوئی صحیح مرفوع روایت نہیں لیکن موقوفا صحیح ہے۔ شیخ البانیa نے سیدہ عائشہ، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا جابر بن عبداللہ، سیدنا ابوموسیٰ اشعری اور سیدنا حسن] سے موقوفا صحیح کہا ہے ۔
[لا نکاحَ إلا بولیٍّ وشاہدَینِ۔] (إرواء الغلیل: ۱۸۵۸)
’’ولی اور دو گواہ کے بغیر نکاح نہیں ہوگا۔‘‘
نوٹ: یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ ولی گواہ نہیں بن سکتا ‘ اس کے علاوہ دو آدمی گواہ بنائے جائیں۔
چھٹی بات: مذکورہ بالا کام ہوجانے کے بعد اب قاضی کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرکے خطبہ مسنونہ جسے خطبہ الحاجہ کہا جاتا ہے وہ پڑھیں ۔ یاد رہے خطبہ الحاجہ پڑھنا ضروری نہیں‘ ہے اس کے بغیر بھی صرف ایجاب وقبول سے نکاح منعقد ہوجائے گاتاہم اس کا پڑھنامستحب ہے۔ خطبہ الحاجہ کے الفاظ بتحقیق شیخ البانی رحمہ اللہ جو نبیe سے منقول ہیں وہ اس طرح ہیں:
[إن الحمد للہ نحمدہ، ونستعینہ، ونستغفرہ، ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا، ومن سیئات أعمالنا، من یہدہ اللہ فلا مضل لہ، ومن یضلل فلا ہادی لہ، وأشہد أن لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ وأشہد أن محمداً عبدُہٗ ورسولُہ۔ {یٰٓاَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقَاتِہٖ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَاَنْتُمْ مُسْلِمُونَ٭} … {یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمْ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیراً وَّنِسَاءً وَاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِی تَسَآئَلُوْنَ بِہٖ وَالاَرْحَامَ إِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیباً} … {یٰاَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا٭ یُصْلِحْ لَکُمْ اَعْمَالَکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَمَنْ یُطِعِ اللّٰہَ وَرَسُولَہٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیمًا٭} (أما بعد) (خطبۃ الحاجة للالبانی)
ساتویں بات: لوگوں کی کثرت ہو توا ما بعد کے بعد خطبہ میں مذکور تینوں آیات کی مختصر تشریح کردی جائے تو کوئی حرج نہیں مگر خطبہ کے بعد تقریر وبیان کوضروری سمجھنا یا تقریر کرنے والے نکاح خواں کو بلانا تاکہ زوردار تقریر کرے سنت سے ایسی کوئی دلیل نہیں ملتی۔ عہد رسول میں نکاح کے موقع پر تقریر کرنے کی کوئی دلیل نہیں، خطبہ میں اپنی جانب سے قرآنی آیات اور احادیث کا پڑھنا بھی نکاح خواں کی طرف سے اضافہ ہے جس کا ثبوت نہیں ملتا۔
آٹھویں بات: خطبہ مسنونہ پڑھنے کے بعد امام ؍ قاضی صاحب(جنہیں لڑکی کے ولی نے اپنا وکیل بنایا ہے) کو چاہیے کہ وہ لڑکے سے کہے کہ میں اپنی وکالت میں فلانہ بنت فلاں کا نکاح آپ سے کرتا ہوں کیا آپ کو قبول ہے ؟ تو لڑکا کہے کہ مجھے قبول ہے ۔ نکاح مکمل ہوگیا۔ ایجاب وقبول میں مہر کا ذکر ضروری نہیں بلکہ طے ہوجانا ہی کافی ہے۔
نویں بات: بعض جگہوں پر قاضی صاحب لڑکی سے بھی رضامندی لینے جاتے ہیں اس کی ضرورت نہیں، لڑکی کی رضامندی اس کے ولی کو چاہیے جوکہ منگنی کے وقت ہی ہوچکی ہوتی ہے پھر لڑکی کی جانب سے اس کا ولی شادی کی رضامندی کا اظہار کرتا ہے ۔منگنی کے موقع پر چاہے تو لڑکا لڑکی کو محرم کی موجودگی میں دیکھ سکتا ہے سنت سے اس کی دلیل ملتی ہے ۔
دسویں بات: ہاں شروع میں نکاح کا فارم پر کیا گیا تھا اس پر زوجین کے دستخط لے لئے جائیں ، لڑکی کے پاس اس کا ولی یا اس کا کوئی محرم جاکر دستخط کروائے ۔
ہر نکاح خواں ، ولی ، دلہا اور دلہن کو چاہیے کہ وہ نکاح کے ارکان وشروط کو جانے بلکہ ہر مسلمان کو جاننے کی ضرورت ہے۔
 نکاح کے دوارکان ہیں :
1      زوجین کا وجود اور ان دونوں کا آپس میں شادی جائز ہونا۔ یعنی شادی میں رضاعت ،نسب ،عدت ،حمل وغیرہ کی کوئی رکاوٹ نہ ہو۔
2      ولی یا اس کے وکیل کی طرف سے ایجاب یعنی تعیین کے ساتھ فلانہ کی شادی کرانے کا ذکر اور لڑکے کی جانب سے قبول کرناحاصل ہو ۔
 اورنکاح کی دو شرطیں بھی ہیں:
ایک ولی کی اجازت ورضامندی اور دوسری دو عادل گواہ کی موجود گی ہیں نکاح کا اعلان کرنا ضروری نہیں بلکہ مستحب ہے۔ دوارکان اور دو شرطیں پائی گئیں تو نکاح درست ہے ۔
نکاح کے بعد اجتماعی صورت میں دعا کرنا ثابت نہیں بلکہ انفرادی طور پر دلہا اور دلہن کو مبارکباد دینا چاہئے۔ سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے کہ
رسول اللہe جب کسی کو اس کی شادی کی مبارک باد دیتے تو فرماتے: [بارک اللہ لک وبارک علیک وجمع بینکما فی خیر] ’’اللہ تمہیں برکت دے ، تم پر اپنی برکت فرمائے اور تم دونوں کو خیر کے ساتھ اکٹھا رکھے۔‘‘ (صحیح أبی داؤد: ۲۱۳۰)
دلہا کو چاہیے کہ لڑکی کی رخصتی کے بعد ولیمہ کرے۔ ولیمہ سے متعلق سیدنا عبدالرحمنt کی شادی کی حدیث گزری جس میں نبیe نے کہا کہ ولیمہ کرو خواہ ایک بکری کیوں نہ ہو۔
نکاح سے متعلق مزیدچند باتوں کی وضاحت:
1      نکاح پڑھانے کے لئے کسی دوسری جگہ سے عالم یا قاضی بلانے کی ضرورت نہیں۔ لڑکی کا ولی لڑکے سے کہے کہ میں فلانہ بنت فلاں کی شادی آپ سے کرتا ہوں اور لڑکا کہے میں قبول کرتا ہوں تو شادی ہوگئی۔ گاؤں میں عالم موجود ہو تو ان سے نکاح پڑھالینے میں کوئی حرج نہیں۔
2      نکاح کے وقت لڑکا یا لڑکی سے کلمہ پڑھا نا ، توبہ کرانا اور ایمان مجمل وایمان مفصل بیان کرنا سنت سے ثابت نہیں‘ یہ دین میں نئی ایجاد ہے ۔
3      عقد نکاح کے لئے عربی کلمات مثلا زوجت، نکحت، قبلت کے الفاظ کہنا ضروری قرار دینا غلط ہے‘ کسی بھی زبان میں ایجاب وقبول ہوسکتا ہے ۔
4      لازما تین دفعہ ایجاب وقبول کروانا ضروری نہیں بلکہ ایک مرتبہ بھی کافی ہے ۔
5      نکاح کے بعد چھوہارا تقسیم کرنا رسول اللہe یا اصحاب رسول اللہ کی سنت نہیں‘ یہ محض رسم ہے اسے ہٹانا بہتر ہے کیونکہ اس کی وجہ سے اکثرجگہوں پر تنازع ہوتا ہے ۔ بیہقی کی روایت اس روایت کو شیخ البانی نے موضوع کہا ہے۔ [کان إذا زوَّج أو تزوَّج نثَر تمرًا۔] (السلسلۃ الضعیفہ: ۴۱۹۸)
           ’’جب نبیe شادی کرتے یا کراتے تو کھجور تقسیم کرتے۔‘‘
6      نکاح ہونے کے بعد آنگن یا صحن میں دلہا اور اس کے خواص کو طلب کرنا اور اجنبی لڑکیوں کاان سب سے ہنسی مذاق ، چوری چماری، نازیبا کلام وحرکات ناجائز وحرام ہے اس کا گناہ وہاں موجود دیکھنے سننے اور مددکرنے والے تمام لوگوں کو ملے گا۔
7      مہر نہ تو ارکان نکاح میں سے ہے اور نہ ہی شروط میں سے ،اگرنکاح کے وقت مہر طے نہیں ہوا تو بھی نکاح صحیح ہے لیکن نکاح ہوجانے سے مہرمثل واجب ہوجاتا ہے ۔
8      مسجد میں نکاح کو سنت قرار دینا صحیح نہیں کیونکہ مسجد میں نکاح سے متعلق روایت ضعیف ہے ، نکاح مسجد، غیرمسجد کہیں بھی کرسکتے ہیں ۔
9      صرف چار لوگوں کی موجود گی ولی ، لڑکا اور دوعادل گواہان سے شادی مکمل ہوجائے گی تاہم کچھ لوگ مزید جمع ہوجائیں تو اعلان نکاح ہوجائے گا مگر مروجہ بارات کا تصور اسلام میں نہیں‘ اس سے اجتناب کیا جائے۔
0      اوپر بیان کئے گئے نکاح کے ارکان وشرائط پائے جائیں تو ٹیلی فون پر بھی نکاح درست ہے مگر لڑکی کو بھگاکر ایک دوسرے کے گلے میں ہار ڈال دینے یا انگوٹھی پہنا دینے یا کورٹ میں رجسٹریشن کرالینے یا پارک میں جھولہ چھاپ‘ نکاح خواں سے نکاح پڑھوا لینے سے نکاح نہیں ہوگا جب تک کہ لڑکی کا ولی راضی نہ ہو۔(استفادہ نکاح کے احکام)اللہ تعالیٰ ہمیں نکاح کی بدعات سے اجتناب کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور کتاب وسنت کی تعلیمات کے مطابق نکاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین!

No comments:

Post a Comment