Mazmoon21-02-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Monday, May 20, 2019

Mazmoon21-02-2019


روزہ اور جدید میڈیکل سائنس

تحریر: جناب پروفیسر عبدالعظیم جانباز (سیالکوٹ)
انسان کا مقصدِ تخلیق عبادتِ الٰہی ہے اور عبادت کا مقصدِ وحید تقویٰ وللہیت کا حصول ہے۔ عبادت اگر بطور عادت کی جائے تو اس سے محض ثواب ملتا ہے، تقویٰ اور روحانیت کے فیوض وبرکات حاصل نہیں ہوتے اور اگر یہی عبادت صدق واخلاص اور [اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ] کے شعور سے کی جائے تو اِنسان قرب ومعیت کے اس مقام پر فائز ہوتا ہے جہاں سے {اِرْجِعِیْ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً} کی ایمان افروز صدائیں آنے لگتی ہیں۔ اسلام کی ہر عبادت، ہر حکم میں بے شمار حکمتیں پوشیدہ ہیں اور اہل علم نے اپنے اپنے علم کے مطابق انہیں بیان بھی فرمایا ہے۔ اسی طرح سائنس کی ترقی سے بھی ایسے احکام اسلامیہ کی حکمتوں کے ایسے ایسے گوشے کھلے ہیں جو اب تک عام لوگوں پر نہاں تھے۔ روزے سے متعلق سائنسی حقائق کا علم اللہ رب العالمین نے نبی مکرمe کو چودہ سو سال پہلے ہی عطا فرما دیا تھا، آپe نے ارشاد فرمایا: [صُوْمُوْا تَصَحُّوْا] یعنی ’’روزہ رکھو صحت مند رہو گے۔‘‘ روزہ جہاں سابقہ گناہوں کی بخشش کا سبب بنتا ہے وہاں طبی نقطۂ نظر سے بھی انسانی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے، اس وقت دنیا میں ایسے بہت سے مراکز کا قیام عمل میں آ چکا ہے جہاں سالہا سال کی سائنسی تحقیقات کے ذریعے ڈاکٹر حضرات اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ بعض خاص قسم کے مریضوں کو بھوکے رکھ کر کئی ایک امراض کا علاج کیا جا سکتا ہے۔
 جسم انسانی ایک حیاتیاتی مشین:
جسم درحقیقت ایک مشین کی طرح ہے‘ اسے ہم حیاتیاتی مشین (Biological Machine) کہہ سکتے ہیں کہ یہ حیاتیاتی مشین بھی اسی طرح کام کرتی ہے جس طرح دوسری مشینیں کام کرتی ہیں۔ اس مشین کو بھی دیگر مشینوں کی طرح سرویسنگ (Servicing) اوور ہالنگ(Over hauling) اور ٹیوننگ کی ضرورت ہوتی ہے، تا کہ اس سے صحیح اعمال صادر ہوں۔ اسی لیے اس مشین کے خالق نے روزہ فرض کیا ہے تا کہ اس کا جسم اور اعمال پاک وصاف ہوں۔ جیسے جیسے طبی علم نے ترقی کی اس حقیقت کا علم بتدریج حاصل ہوا کہ روزہ تو ایک طبی معجزہ بھی ہے۔
آئیے! اب اس طبی معجزے کو سائنسی تناظر میں دیکھیں کہ روزہ کس طرح ہمیں جسمانی بیماریوں سے بچنے میں مدد دیتا ہے۔
 روزے کے نظامِ ہضم پر اثرات:
نظامِ ہضم ایک دوسرے سے قریبی طور پر ملے ہوئے بہت سے اعضاء پر مشتمل ہوتا ہے۔ اہم اعضاء جیسے کہ منہ (Mouth)اور جبڑے میں لعابی غدود (Salivery Glands)، زبان (Tongue)، گلا (Throat) مقوی نالی (Alimentary Canal) یعنی گلے سے معدہ تک خوراک لے جانے والی نالی، معدہ (Stomach)، بارہ نگشت آنت، جگر (Liver) اور لبلبہ (Pancrears) اور آنتوں (Intestines) کے مختلف حصے وغیرہ تمام اس نظام کا حصہ ہیں۔ اس نظام کی اہم بات یہ ہے کہ یہ سب پیچیدہ اعضاء خود بخود ایک کمپیوٹر نظام سے عمل پذیر ہوتے ہیں۔ جیسے ہی ہم کچھ کھانا شروع کرتے ہیں یا کھانے کا ارادہ ہی کرتے ہیں یہ پورا نظام حرکت میں آ جاتا ہے اور ہر عضو اپنا مخصوص کام شروع کر دیتا ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ سارا نظام چوبیس گھنٹے ڈیوٹی پر ہونے کے علاوہ اعصابی دباؤ اور غلط قسم کی خوراک کی وجہ سے ایک طرح سے گھس جاتا ہے۔ روزہ ایک طرح اس سارے نظام ہضم پر ایک ماہ کا آرام طاری کر دیتا ہے، مگر در حقیقت اس کا حیران کن اثر بطورِ خاص جگر (Liver) پر ہوتا ہے، کیونکہ جگر کے کھانا ہضم کرنے کے علاوہ پندرہ مزید عمل بھی ہوتے ہیں۔ یہ اس طرح تھکان کا شکار ہوجاتا ہے جیسے ایک چوکیدار جو ساری عمر سے پہرے پر کھڑا رہے۔ اس کی وجہ سے صفراء (Bile) کی رطوبت جس کا اخراج ہاضمہ کے لیے ہوتا ہے مختلف قسم کے مسائل پیدا کرتا ہے اور دوسرے اعمال پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
دوسری طرف روزے کے ذریعے جگر کو چار سے چھ گھنٹوں کے لیے آرام مل جاتا ہے اور یہ روزے کے بغیر قطعی نا ممکن ہے۔ کیونکہ بے حد معمولی مقدار کی خوراک یہاں تک کہ ایک گرام کے دسویں حصہ کے برابر بھی اگر معدہ میں داخل ہو جائے تو پورے نظام کا کمپیوٹر اپنا کام شروع کر دیتا ہے اور جگر فوراً مصروفِ عمل ہو جاتا ہے۔ سائنسی نقطۂ نظر سے یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ اس آرام کا وقفہ ایک سال میں ایک ماہ تو لازمی ہونا چاہیے۔
جدید دور کا انسان جو اپنی زندگی کی غیر معمولی قیمت مقرر کرتا ہے‘ متعدد طبی معائنوں کے ذریعے اپنے آپ کو محفوظ سمجھنا شروع کر دیتا ہے، لیکن اگر جگر کے خلیے کو قوت گویائی حاصل ہوتی تو وہ ایسے انسان سے کہتا کہ ’’تم مجھ پر ایک عظیم احسان صرف روزے کے ذریعے ہی کر سکتے ہو‘‘۔
جگر روزے کی برکات میں سے ایک وہ ہے جو خون کے کیمیائی عمل پر اس کی اثر اندازی سے متعلق ہے۔ جگر کے انتہائی مشکل کاموں میں ایک کام اس توازن کو برقرار رکھنا بھی ہے جو غیر ہضم شدہ خوراک اور تحلیل شدہ کے درمیان ہوتا ہے۔ اسے یا تو ہر لقمہ کو اسٹور میں رکھنا ہوتا ہے یا پھر خون کے ذریعے سے ہضم ہو کر تحلیل ہو جانے کے عمل کی نگرانی کرنا ہوتی ہے۔ روزے کے ذریعے جگر توانائی بخش کھانے کے اسٹور کرنے کے عمل سے بڑی حد تک آزاد ہو جاتا ہے۔ اس طرح جگر اپنی توانائی خون میں گلوبلن (Globulin) جو جسم کے محفوظ رکھنے والے (Immune) سسٹم کو تقویت دیتا ہے، کی پیداوار پر صرف کر سکتا ہے۔ روزے کے ذریعے گلے اور خوراک کی نالی کے بے حد حساس اعضاء کو جو آرام نصیب ہوتا ہے اس تحفہ کی کوئی قیمت ادا نہیں کی جا سکتی۔
انسانی معدہ روزے کے ذریعے جو بھی اثرات حاصل کرتا ہے وہ بے حد فائدہ مند ہوتے ہیں، اس ذریعے سے معدہ سے نکلنے والی رطوبتیں بھی بہتر طور پر متوازن ہو جاتی ہیں، اس کی وجہ سے روزے کے دوران تیزابیت (Acid) جمع نہیں ہوتی۔ اگرچہ عام قسم کی بھوک سے یہ بڑھ جاتی ہے، لیکن روزے کی نیت اور مقصد کے تحت تیزابیت کی پیداوار رک جاتی ہے۔ اس طریقے سے معدہ، پٹھے اور معدہ کی رطوبت پیدا کرنے والے خلیے رمضان کے مہینے میں آرام کی حالت میں چلے جاتے ہیں۔ جو لوگ زندگی میں روزے نہیں رکھتے ان کے دعوؤں کے برخلاف یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ایک صحت مند معدہ شام کو روزہ کھولنے کے بعد زیادہ کامیابی سے ہضم کا کام سر انجام دیتاہے۔
روزہ آنتوں کو بھی آرام اور توانائی فراہم کرتا ہے۔ یہ صحت مند رطوبت کے بننے اور معدہ کے پٹھوں کی حرکت سے ہوتا ہے۔ آنتوں کی شرائن کے غلاف کے نیچے (Endothelium) محفوظ (Immune) رکھنے والے نظام کا بنیادی عنصر موجود ہوتا ہے، جیسے انتڑیوں کا جال، روزے کے دوران ان کو نئی توانائی اور تازگی حاصل ہوتی ہے۔ اس طرح ہم ان تمام بیماریوں کے حملے سے محفوظ ہو جاتے ہیں جو ہضم کرنے والی نالیوں پر ہو سکتے ہیں۔
 روزے کے دورانِ خون پر اثرات:
دن میں روزے کے وقت دورانِ خون کی مقدار میں کمی ہو جاتی ہے، یہ اثر دل کو انتہائی فائدہ مند آرام مہیا کرتا ہے۔ زیادہ اہم یہ بات ہے کہ خلیوں (Cells) کے درمیان مائع (Intercellular) کی مقدار میں کمی کی وجہ سے پٹھوں (Tissues) پر دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ پٹھوں پر دباؤ یا عام فہم میں ڈائسٹالک دباؤ (Diastolic) دل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ روزے کے دوران ڈائسٹالک پریشر کم سطح پر ہوتا ہے یعنی اس وقت دل آرام کی صورت میں ہوتا ہے۔ مزید برآں آج کا انسان ماڈرن زندگی کے مخصوص حالات کی بدولت شدید تناؤ ہائپر ٹینشن (Hypertension) کا شکار ہے۔ رمضان کے ایک ماہ کے روزے بطورِ خاص ڈائسٹالک پریشر کو کم کر کے انسان کو بے پناہ فائدہ پہنچاتے ہیں۔ روزے کا سب سے اہم اثر دورانِ خون پر اس پہلو سے ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ اس سے خون کی شریانوںپر کیا اثر ہوتا ہے، اس حقیقت کا علم اب عام ہے کہ خون کی شریانوں کی کمزوری اور فرسودگی کی اہم ترین وجوہات میں سے ایک وجہ خون میں باقی ماندہ مادے (Remnantes) کا پوری طرح تحلیل نہ ہو سکنا ہے۔ جب کہ دوسری طرف روزے میں بطورِ خاص افطار کے وقت کے نزدیک خون میں موجود غذائیت کے تمام ذرّے تحلیل ہو چکے ہوتے ہیں، ان میں سے کچھ بھی باقی نہیں بچا، اس طرح خون کی شریانوں کی دیواروں پر چربی یا دیگر اجزا جم نہیں پاتے‘ اس طرح شریانیں سکڑنے سے محفوظ رہتی ہیں۔ چنانچہ موجودہ دور کی انتہائی خطرناک بیماریوں جن میں شریانوں کی دیواروں کی سختی (Arterioscierosis) نمایاں ترین ہے، سے بچنے کی بہترین تدبیر روزہ ہی ہے۔ چونکہ روزے کے دوران گردے جنھیں دوارنِ خون ہی کا ایک حصہ سمجھا جا سکتا ہے آرام کی حالت میں ہوتے ہیں اس لیے جسم کے ان اہم اعضاء کی قوت بھی روزے کی برکت سے بحال ہو جاتی ہے۔
 خلیہ پر روزے کے اثرات:
روزے کا سب سے اہم اثر خلیوں (Cells) کے درمیان اور خلیوں کے اندرونی سیال مادوں کے درمیان توازن کو قائم رکھنے سے ہے۔ چونکہ روزے کے دوران مختلف سیال مقدار میں کم ہو جاتے ہیں اس لیے خلیوں کے عمل میں بڑی حد تک سکون پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح لعاب دار جھلی کی بالائی جھلی کی سطح سے متعلق خلیے جنھیں ایپی تھیلیل سیل ( Epithelial Cell) کہتے ہیں اور جو جسم کی رطوبت کے متواتر اخراج کے ذمہ دار ہوتے ہیں، ان کو بھی صرف روزے کے ذریعے آرام اور سکون ملتا ہے جس سے ان کی صحت مندی میں اضافہ ہوتا ہے۔ خلیاتیات کے علم کے نکتہ نظر سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ لعاب بنانے والے غدود گردن کے غدود تیموسیہ اور لبلبہ کے غدود شدید بے چینی سے ماہِ رمضان کا انتظار کرتے ہیں تا کہ روزے کی برکت سے کچھ سستانے کا موقع حاصل کر سکیں اور مزید کام کرنے کے لیے اپنی توانائیوں کو جِلا دے سکیں۔
 روزے کے اعصابی نظام پر اثرات:
اس حقیقت کو پوری طرح سمجھ لینا چاہیے کہ روزے کے دوران چند لوگوں میں پیدا ہونے والا چڑ چڑا پن اور بے دلی کا اعصابی نظام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس قسم کی صورتِ حال ان انسانوں کے اندر انانیت (Egotistic) طبیعت کی سختی کی وجہ سے ہوتی ہے، اس کے برخلاف روزے کے دوران اعصابی نظام مکمل سکون اور آرام کی حالت میں ہوتا ہے۔ عبادات کی بجا آوری سے حاصل شدہ تسکین ہماری تمام کدورتوں اور غصّے کو دور کر دیتی ہے۔ اس سلسلے میں زیادہ خشوع وخضوع اور اللہ تعالیٰ کی مرضی کے سامنے سرنگوں ہونے کی وجہ سے تو ہماری پریشانیاں بھی تحلیل ہو کر ختم ہو جاتی ہیں۔ اس طرح آج کے دور کے شدید مسائل جو اعصابی دباؤ کی صورت میں ہوتے ہیں تقریباً مکمل طور پر ختم ہو جاتے ہیں۔ روزے کے دوران جنسی خواہشات چونکہ علیحدہ ہو جاتی ہیں اس وجہ سے بھی ہمارے اعصابی نظام پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے۔ روزہ اور وضو کے مشترکہ اثر سے جو مضبوط ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے اس سے دماغ میں دورانِ خون کا بے مثال توازن قائم ہو جاتا ہے جو صحت مند اعصابی نظام کی نشان دہی کرتا ہے۔ جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ اندرونی غدودوں کو جو آرام اور سکون ملتا ہے وہ پوری طرح سے اعصابی نظام پر اثر پذیر ہوتا ہے جو روزے کا انسانی نظام پر ایک اور احسان ہے۔ انسانی تحت الشعور (Sub-Conscious) جو رمضان کے دوران عبادت کی مہربانیوں کی بدولت صاف وشفاف اور تسکین پذیر ہو جاتا ہے اعصابی نظام سے ہر قسم کے تناؤ اور الجھن کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے۔
 خون کی تشکیل اور روزے کی لطافتیں:
خون ہڈیوں کے گودے میں بنتا ہے‘ جب کبھی جسم کو خون کی ضرورت پڑتی ہے ایک خود کار نظام ہڈی کے گودے کو حرکت پذیر (Stimulate) کر دیتا ہے‘ کمزور اور لاغر لوگوں میں یہ گودہ بطورِ خاص سست حالت میں ہوتا ہے۔
روزے کے دوران جب خون میں غذائی مادے کم ترین سطح پر ہوتے ہیں تو ہڈیوں کا گودہ حرکت پذیر ہو جاتا ہے، اس کے نتیجے میں لاغر لوگ روزہ رکھ کر آسانی سے اپنے اندر زیادہ خون پیدا کر سکتے ہیں۔ بہر حال یہ تو ظاہر ہے کہ جو شخص خون کی پیچیدہ بیماری میں مبتلا ہو اسے طبّی معائنہ اور ڈاکٹر کی تجویز کو ملحوظِ خاطر رکھنا ہی پڑے گا۔ چونکہ روزے کے دوران جگر کو ضروری آرام مل جاتا ہے، یہ ہڈی کے گودے کے لیے ضرورت کے مطابق اتنا مواد مہیا کر دیتا ہے جس سے باآسانی اور زیادہ مقدار میں خون پیدا ہو سکے گا، اس طرح روزے سے متعلق بہت سی اقسام کی حیاتیاتی برکات کے ذریعے ایک دُبلا پتلا شخص اپنا وزن بڑھا سکتا ہے۔ اسی طرح موٹے اور فربہ لوگ بھی صحت پر روزے کے عمومی برکات کے ذریعے اپنا وزن کم کر سکتے ہیں۔
 روزے سے شوگر کنٹرول:
روزہ ذیابیطس کے مرض یعنی شوگر کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے‘ جب کہ عام لوگوں کو اندیشہ ہوتا ہے کہ اگر شوگر کا مریض روزہ رکھ لے تو اسے کہیں پریشانی سے دوچار نہ ہونا پڑے۔ بعض لوگ جسم میں پانی کی کمی یا شوگر لیول (Sugar Level)حد اعتدال سے گرنے کے احتمال کو اپنے ذہن پر سوار کر لیتے ہیں، حالانکہ ایسا ہر گز نہیں۔ البتہ شدت مرض کی صورت میں صورتِ حال مختلف ہو سکتی ہے، شدتِ مرض کی حالت میں روزہ نہ رکھنے کی اللہ رب العزت نے اجازت دی ہے، جیسا کہ قرآنِ مجید میں ہے:
{وَمَنْ کَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَط یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ} (البقرۃ:185)
’’اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں (کے روزوں) سے گنتی پوری کرے، اللہ تمھارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور تمھارے لیے دشواری نہیں چاہتا۔‘‘
ماہرین طب کی رائے میں ایسے اشخاص جو روزہ دار نہ ہوں، کا شوگر لیول اتار چڑھاؤ کا شکار رہتا ہے‘ جب کہ روزہ دار مریض کا شوگر لیول نارمل رہتا ہے کیونکہ روزہ مریض اور معالج کے لیے کسی قسم کی مشکلات یا پریشانی پیدا نہیں کرتا۔ مزید برآں اگر رمضان المبارک کے علاوہ بھی یہ طریقہ اپنایا جائے تو اس سے نہ صرف شوگر لیول کنٹرول ہو گا بلکہ شوگر لیول میں عدم تنظیم کی بناء پر جو نقاہت وکمزوری ہوا کرتی ہے اس سے بھی محفوظ رہے گا۔ روزہ کے سبب شوگر میں مبتلا شخص کی قوتِ مدافعت (Resistance Power) بڑھتی ہے، لہٰذا اس سے شوگر کے باعث ہونے والی دماغی سوزش، کالا موتیا، اندھا پن، جگر اور گردوں کی خرابی کے خدشات بھی بڑی حد تک معدوم ہو جاتے ہیں۔
 روزے سے موٹاپا پن میں کمی:
یقینا روزہ موٹاپے میں کمی کا باعث بنتا ہے، بشرطیکہ اس حکمِ خداوندی کو یاد رکھا جائے:
{کُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا} (الاعراف:31)
’’کھاؤ اور پیو اور حد سے زیادہ خرچ نہ کرو‘‘۔
اس آیتِ قرآنی میں تلقین کی گئی ہے کہ کھانے پینے میں زیادتی نہ کرو، موٹا شخص سحری اور افطاری کے اوقات میں اس بات پر عمل کرے تو یقینا موٹاپے پر قابو پا سکتا ہے۔ انسانی جسم میں اگر چربی یا روغنی خلیات مقدار اور جسامت میں بڑھ جائیں تو موٹاپا لاحق ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کے خون میں Fatty Acid اور مختلف قسم کے چربیلے اجزاء Cholestrol اور Triacylglycrel میں اضافہ ہوتا ہے۔
ایسے لوگ خواہ غذا لیں یا نہ لیں ایک بار مرض آ جائے تو اس سے نجات مشکل ہو جاتی ہے، بلکہ بسیار خوری دوسرے امراض کو دعوت دیتی ہے۔ اس لیے موٹاپا کو ام الامراض کہا جاتا ہے، لہٰذا شحمی خلیوں (Adipose Cells) کو کنٹرول میں رکھنا بہت ضروری ہے، اس کا بہترین ذریعہ روزہ ہے اور مسلسل روزے رکھنے کے لیے ماہِ رمضان ایک ریفرشر کورس یعنی تربیت کا مہینہ ہے جس سے جملہ معمولات زندگی میں یکسر تبدیلی آ جاتی ہے۔ ماہِ صیام میں انسان اپنی خواہشات کو قابو میں رکھتے ہوئے غذائی معاملہ میں اپنے آپ کو ایک ایسے تربیتی مرحلے سے گزارتا ہے جس سے  انسانی Lipostate میں ایک امید افزا مستقل تبدیلی رونما ہو جاتی ہے۔
 روزے سے سرطان کی روک تھام:
حال ہی میں کی گئی تحقیق کے مطابق روزہ سرطان (Cancer) کی روک تھام میں مدد دیتا ہے اور یہ جسم میں کینسر کے خلیوں کی افزائش کو روکتا ہے۔ روزے کی حالت میں جسم میں Glucose کی مقدار کم ہو جاتی ہے چونکہ جسم کو کسی بھی مشین کی طرح ایندھن (Fuel) کی ضرورت ہوتی ہے۔ گلو کوز کی کمی کے باعث جسم توانائی کے حصول کے لیے چربی کا استعمال کرتا ہے‘ اس عمل میں Ketone Bodies بھی پیدا ہوتی ہیں جو پروٹین کو چھوٹے چھوٹے ذرات میں توڑنے کا عمل روکتی ہیں۔ کینسر کے خلیوں کو اپنی نشوونما کے لیے پروٹین کے چھوٹے ذرات کی ضرورت ہوتی ہے، روزے کی حالت میں ذرات کم پیدا ہوتے ہیں، اس لیے روزہ کی حالت میں کینسر سے تحفظ ملتا ہے۔
 مجموعی غذائیت میں اضافہ:
ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ روزے سے جسم میں کوئی نقص یا کمزوری واقع نہیں ہوتی، کیونکہ روزہ رکھنے سے دو کھانوں کا درمیانی وقفہ ہی معمول سے کچھ زیادہ ہوتا ہے اور در حقیقت 24 گھنٹوں میں مجموعی طور پر اتنے حرارے (Calories) اور جسم کو مائع (پانی) کی اتنی مقدار مل جاتی ہے جتنی روزے کے علاوہ دنوں میں ملتی ہے۔ مزید برآں یہ بھی ایک حقیقت اور مشاہدہ ہے کہ لوگ رمضان میں پروٹین اور کاروبو ہائیڈرایٹ عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ استعمال کرتے ہیں، اس حقیقت کے پیش نظر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ مجموعی غذائیت (حرارے) عام دنوں کے مقابلے میں جسم کو اکثر زیادہ تعداد میں ملتے ہیں‘ اس کے علاوہ جسم فاضل مادوں کو بھی استعمال کر کے توانائی کی ضرورت پوری کرتا ہے۔
 جسم کی قوت مدبرہ:
حقیقت یہ ہے کہ قدرتی علاج کی ہر صورت اس حقیقت پر مبنی ہے کہ قدرتِ کاملہ نے جسم کے اندر قوت مدبرہ پیدا کی ہے جسے آپ جسم کا ’’دفاعی نظام‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ قوت مدبّرہ کسی خاص تدبیر کے بغیر ہر وقت قوتوں کی حفاظت پر مامور رہتی ہے۔ قدرتی علاج کی صورت میں وہ تدابیر اختیار کرنی چاہئیں جو قوتِ مدبرہ کو مدد دینے والی ہوں اور ان باتوں سے بچنا چاہیے جو اسے کمزور کر دیں۔ ترکِ غذا سے بدن کی وہ قوت جو غذا ہضم کرنے میں ہر وقت استعمال ہوتی رہتی تھی اب جمع ہونے لگتی ہے اور قوتِ مدبرہ کے ساتھ مل کر امراض کو بدن سے نکالنے میں مصروف ہو جاتی ہے، اسی وجہ سے یہ بات کہی جاتی ہے کہ روزہ میں شفا بخشی کی زبردست صلاحیت ہے۔
 دل کے دورے سے بچاؤ:
دل کے دورے کے اسباب میں موٹاپا، مسلسل پریشانی، چربی کی زیادتی، زیابیطس، بلڈ پریشر اور سگریٹ نوشی شامل ہیں۔ روزہ ان تمام وجوہات کا خاتمہ کر کے انسان کو دل کے دوروں سے محفوظ رکھتا ہے۔ اسی طرح دل کے اکثر مریضوں کے لیے بھی روزہ اس طرح بھی بہت ہی فائدہ بخش ہے کہ عام دنوں میں دل کی طرف سے جسم کو مہیا کیے جانے والے خون کا دس فیصد غذا کو ہضم کرنے کے لیے اعضاء جسم میں چلا جاتا ہے جب کہ روزے کے دوران ترکِ غذا اور نظامِ انہضام کے کم عمل کی وجہ سے خون کی یہ مقدار جو غذا کو ہضم کرنے کے لیے استعمال ہوتی تھی اس کی مقدار کم ہو جاتی ہے، اسی طرح دل کو کام بہت کم کرنا پڑتا ہے اور آرام بہت زیادہ۔
 روزے سے پھیپھڑوں کی صفائی:
پھیپھڑے براہِ راست خون کو صاف کرتے ہیں اور اس لیے ان پر براہِ راست روزے کے فوائد کا اثر ہوتاہے۔ اگر پھیپھڑوں میں خون منجمد ہو تو روزے کی وجہ سے بہت جلد یہ شکایت رفع ہو جاتی ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ ہوا کی نالیاں صاف ہو جاتی ہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ روزہ کی حالت میں پھیپھڑے فضلات کو بڑی تیزی کے ساتھ خارج کرتے ہیں، اس سے خون اچھی طرح صاف ہونے لگتا ہے اور خون کی صفائی سے تمام جسمانی نظام میں صحت کی لہر دوڑ جاتی ہے۔
 روزے کے زبان پر اثرات:
روزے کا اثر زبان پر بھی دیکھا گیا ہے، اگر مریض کی زبان صاف ہو تو یہ اس کی تندرستی کی علامت ہے، اگر زبان صاف نہ ہو اور اس پر کوئی تہہ چڑھی ہوئی ہو تو انسان کسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے۔ روزے نے یہ نظریہ بالکل غلط ثابت کیا ہے، چنانچہ زبان کا صاف ہونا اور ایک تہہ کا چڑھا ہونا زبان کے صاف ہونے کی نسبت زیادہ بہتر ہے اور تندرستی کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت اس امر واقعہ پر مبنی ہے کہ زبان کیسی ہی صاف کیوں نہ ہو لیکن روزے کے بعد اس پر ایک تہہ چڑھ جاتی ہے اور روز بروز یہ تہہ موٹی ہوتی جاتی ہے لیکن جن لوگوں کو علاج بالصوم کا تجربہ ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ روزہ کے پہلے دن مریض کا حال اتنا بہتر نہیں ہوتا جتنا روزوں میں ایک ہفتہ گزارنے کے بعد ہوتا ہے، لہٰذا جو زبان پر تہہ چڑھ جاتی ہے یہ بدن کی فاضل رطوبتوں کی ہوتی ہے اور یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ بدن کی فاضل رطوبات خارج ہو رہی ہیں اور جسم تندرستی کی طرف رواں ہے۔
 روزے کا حواسِ خمسہ پر اثرات:
حواس خمسہ پر روزے کا حیرت انگیز اثر پڑتا ہے، بینائی میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے، یہی حالت سونگھنے اور سننے کی قوتوں کی ہوتی ہے اور یہ قوتیں ایسی تیز ہو جاتی ہیں کہ اس تیزی کی مثال گزشتہ عمر میں نہیں ملتی۔ اکثر لوگ دیکھے گئے ہیں کہ علاج بالصوم سے پہلے چشمہ استعمال کرتے تھے لیکن روزے کے بعد ان کی بینائی صاف اور روشن ہو گئی، سننے کی قوت میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا اور کانوں کا بھاری پن دور ہو گیا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ کانوں کے اندرونی حصے میں انجماد خون رفع ہو جاتا ہے اور ہوا کی گزر گاہ وسیع ہو جاتی ہے اور اس طرح کان کے پردوں پر ہوا کا مناسب دباؤ پڑتا ہے۔ اسی طرح قوت ذائقہ کی تمام خرابیاں روزہ سے دور ہو جاتی ہیں۔
 روزے کا نفسیاتی امراض پر اثرات:
روزے کے فوائد خالص نفسیاتی نوعیت کے عارضوں میں بھی حاصل ہوتے ہیں، اگر آپ نے کسی دن کھانے میں بد احتیاطی کی ہو تو آپ کو اس بات کا تجربہ ہو گا کہ خواب میں آپ کو پریشان کن چیزیں اور خوف ناک مناظر نظر آتے ہیں، کام کی طرف سے طبیعت اچاٹ ہونے لگتی ہے، چنانچہ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ روزہ نفسیاتی عوارض کو بھی دور کرتا ہے۔ اوہام وافکار، ہسٹیریا، مالیخولیا اور مراق جو بدن کے سمی مادوں کی وجہ سے پیدا ہوں ان میں روزہ نہایت مفید ہے۔ ان امراض میں سے امراض غدود کو بھی روزہ دور کرتا ہے اور صحت بحال ہوتی ہے، اسی طرح قولون کے مریضوں کو روزہ سے بہت فائدہ ہوتا ہے اورا لرجک کے بعض امراض میں بھی روزہ مفید ہے۔ وہ دیوانگی جو خون میں زہریلے مواد مل جانے سے پیدا ہو روزہ سے دور ہو جاتی ہے۔ اگر دماغ کو کوئی صدمہ پہنچے جس سے اس کے اعمال میں خلل واقع ہو تو روزہ نہایت ضروری ہے، ایسی حالت میں اس وقت تک روزے رکھے جائیں جب تک دماغی حالت درست نہ ہو جائے اور حواس خمسہ صحیح طور پر کام نہ کرنے لگیں۔
 روزہ روح کی غذا:
یہ ایک دلچسپ صورتِ حال ہے جسے مادّہ پرست ذہن نہیں سمجھ سکتا۔ جسم کی غذا لحمیات، روغنیات، حیاتین، نشاستہ وغیرہ پر مشتمل گوشت، مچھلی، انڈہ، روٹی، چاول، دودھ اور سبزی پھل وغیرہ کی شکل میں ہوتی ہے۔ گویا جسم کی خوراک یہ سب کچھ کھانا ہے ، لیکن اس کے برعکس روح کی خوراک روزہ رکھنا ہے۔ بظاہر یہ بات بڑی عجیب سی معلوم ہوتی ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ بھوک روحانی اور نوارنی خوراک ہے، کیونکہ مادی خوراک سے مادی قوت پیدا ہوتی ہے جو شہوانی نشے اور خمار کی شکل میں رگ رگ میں دوڑ جاتی ہے اور انسان تسکین ہوس کے لیے ایسی بے ہودہ تدبیریں سوچنے اور وحشیانہ حرکتیں کرنے لگتا ہے جو واہیات ، مکروہ اور اخلاق سوز ہی نہیں بلکہ خلاف انسانیت بھی ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس بھوک سے جسم نڈھال ہو جاتا ہے‘ کوئی شہوت انگیز قوت جنم نہیں لیتی اور نہ طبیعت پر کوئی خمار طاری ہوتا ہے۔ گناہ کے لیے انسان کے دل میں کوئی امنگ اور جذبہ پیدا نہیں ہوتا، یہی کیفیت وہ خوراک ہے جو روح کو تازگی اور توانائی بخشتی ہے اور اسے قوت وطاقت کا پہاڑ اور عظمت کا آسمان بنا دیتی ہے۔ اس بھوک کا دورانیہ جتنا لمبا ہو اسی قدر یہ خوارک بھی زیادہ اعجازی اثر کی حامل (Highpotency)اور قوی ہو جاتی ہے۔
 روزے کے مزاج واخلاق پر اثرات:
حضور نبی مکرمe نے فرمایا:
’’جو شخص تم میں سے گرہستی کا بوجھ اٹھانے کی ہمت رکھتا ہو اسے نکاح کر لینا چاہیے کیونکہ وہ نگاہ نیچی رکھنے والا اور شرم گاہ کو بچانے والا ہے اور جو شخص طاقت نہ رکھتا ہو اسے روزہ رکھنا چاہیے کیونکہ روزہ اس کے حق میں شہوت کو کم کرنے والا ہوتا ہے۔‘‘
Finland کے Huhtaniamiسائنسدان کے تجربوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ روزے سے Releasimg Harmones کی Gonodotrophin Recptor کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح (L-H)Luteinizing Harmone اور (F.S.H) Follicle Stimulate Harmone کی مقدار گھٹ جاتی ہے، ان ہارمونز کے بڑھ جانے یا کم ہو جانے سے انسان کے مزاج اور سوچنے کی صلاحیت پر غیر معمولی اثر پڑتا ہے۔ (L.H) اور (F.S.H)قوتِ محرکہ کے کم ہونے سے آدمی کی جنسی بھوک کم ہو جاتی ہے اور سوچنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے جو اس کے اخلاقی، نفسیاتی اور روحانی ترقی کا باعث ہے۔
 روزے سے قوتِ ارادی پر اثرات:
روزہ ارادے کی تقویت (Reinforcement) کے لیے ایک بہترین عملی مشق ہے، آدمی کا دیر تک کھانے پینے سے رکا رہنا اسے محنت ومشقت برداشت کرنے کا عادی بناتا ہے۔ جرمنی کے سکالر ’’جیہارڈٹ‘‘ نے قوتِ ارادی پر ایک کتاب لکھی ہے اورا نھوں نے روزے کو قوتِ ارادی پیدا کرنے کے لیے ایک بنیادی عمل قرار دیا۔ اس کے ذریعے ابھرنے والی خواہشات پر قابو حاصل ہوتا ہے، نیز اس کے سالانہ تکرار سے ارادے کی کمزوری سے حفاظت ہوتی ہے، پختگی حاصل ہوتی ہے، اس طرح ایک ایسا ڈسپلن معرضِ وجود میں آتا ہے جس سے ہر قسم کے نشے سے بھی جان چھڑائی جا سکتی ہے۔
بہر حال روزہ رکھنا ایک نہایت قوی روحانی عمل ہے جس کے درج بالا بے شمار دنیاوی اور جسمانی فوائد کے ساتھ ساتھ لا تعداد دینی اور اخروی فوائد بھی ہیں۔ روزے کی بدولت انسان دنیا میں پاکیزہ زندگی اور آخرت میں جہنم کی آگ سے بچ کر جنت کی ابدی نعمتوں کو حاصل کر سکتا ہے۔

No comments:

Post a Comment