Mazmoon21-05-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Monday, May 20, 2019

Mazmoon21-05-2019


معرکۂ بدر الکبریٰ

تحریر: جناب مولانا عبدالرحمن محمدی
۱۷ رمضان المبارک ۲ھ میں غزوۂ بدر کبریٰ وقوع پذیر ہوا۔ ذیل میں قرآنی آیات اور روایات کی روشنی میں اس کا انتہائی مختصر ذکر کیا جا رہا ہے جس میں مسلمانوں کی کسمپرسی کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انہیں کھلی فتح سے نوازا اور اسے یوم الفرقان کہا گیا۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
{وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّہُ بِبَدْرٍ وَأَنتُمْ أَذِلَّۃٌ فَاتَّقُواْ اللّہَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ} (آل عمران: ۱۲۳)
اور دیکھو یہ واقعہ ہے کہ اللہ نے بدر کے میدان جنگ میں تمہیں فتح مند کیا تھا۔ حالانکہ تم بڑی گری ہوئی حالت میں تھے (اور تمہاری کامیابی کا کوئی وہم و گمان بھی نہیں کر سکتا تھا) پس اللہ سے ڈرو اور اس کی نافرمانی سے بچو) تا کہ تم میں اس کی نعمتوں کی قدر پہچاننا پیدا ہو جائے۔
قریش کا ایک تجارتی قافلہ شام سے زبردست مال و متاع لے کر لوٹ رہا تھا، یہ قافلہ جانے کے وقت آپؐ سے بچ نکلا تھا۔ نبی کریمe نے تین سو سے کچھ زائد صحابۂ کرامؓ کے ساتھ اس قافلے کی طرف رُخ فرمایا تا کہ قریش کے اس قافلے کو گھیر کر انہیں زک پہنچائی جائے کیونکہ اہل قریش نے مسلمانوں کو جانی و مالی نقصانات پہنچائے تھے۔ انہیں ان کے گھر بار اور وطن سے نکلنے پر مجبور کیا تھا۔ قافلۂ قریش کو آنحضورe کے ارادے اور اقدام کا علم ہوگیا، انہوں نے راستہ بدل دیا اور مکہ میں قریش کو بھی اس کی اطلاع مل گئی۔ چنانچہ قریش نے اپنے لگ بھگ تیرہ سو جگر گوشوں کو تیار کیا اور اس مہم پر روانہ کر دیا، ان میں دو سو سوار تھے۔ اس طرح قافلے کے بجائے مشرکین کے لشکر جرار سے مقابلے کے امکانات واضح ہوگئے۔
اس وقت رسول اللہe نے صحابہؓ سے مشورہ کیا کہ وہ آنے والے مغرور لشکر سے مقابلہ آرائی کیلئے رضا مند ہیں یا نہیں۔ کیونکہ مدینہ سے نکلنے کے وقت یہ معلوم نہیں تھا کہ مشرکین کے لشکر سے معرکہ آرائی کی نوبت آئے گی۔ جبکہ قافلے میں محض ۴۰ افراد تھے اور ان کے سردار ابوسفیان تھے جو نہایت محتاط اور چوکنا تھے۔ اسی نے اطلاعات حاصل کر کے ایک شخص کے ذریعے قریش کو مسلمانوں کے ارادے سے باخبر کیا تھا اور قافلے کو بچا کر نکال بھی لیا۔ بچ نکلنے پر قریش کو پیغام دیا کہ واپس لوٹ جائیں۔ لوگ واپس لوٹنا چاہتے تھے لیکن اس امت کے فرعون، ابوجہل نے کہا بخدا! ہم واپس نہیں جائیں گے۔ بدر کے مقام پر جشن منائیں گے… تا کہ ہمارا حال بیان کیا جائے اور دھاک بیٹھ جائے۔ اخنس بن شریق نے اس کے باوجود واپسی کا مشورہ دیا اور بالآخر بنو زہرہ کو ساتھ لے کر واپس لوٹ گیا۔ اس طرح تیرہ سو کا لشکر گھٹ کر ایک ہزار رہ گیا۔ یہ حالات اور یہ جنگ بھی غیر متوقع تھی اسی لئے مسلمانوں کا ایک طبقہ جنگ کو ناپسند کر رہا تھا۔ کیونکہ وہ اس کے لئے تیار نہیں تھے اور دشمن تعداد اور استعداد (سامان جنگ) میں مسلمانوں سے کہیں زیادہ تھا۔ انہیں محسوس ہو رہا تھا کہ یہ جنگ موت کا پیغام ہوگی۔
چنانچہ رسول اللہe نے اس نازک مرحلے پر ایک فوجی مجلس شوریٰ منعقد کر کے کمانڈروں اور فوجیوں سے مشاورتی گفتگو کی۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ اٹھے اور بہترین بات فرمائی۔ سیدنا عمرؓ کھڑے ہوئے اور عمدہ کلام کیا، پھر سیدنا مقداد بن عمروؓ اٹھے اور عرض کیا، اے اللہ کے رسول! اللہ نے آپ کو جو راہ دکھلائی ہے اس پر رواں دواں رہیے، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ اللہ کی قسم! ہم آپ سے وہ بات نہیں کہیں گے جو بنی اسرائیل نے موسیٰu سے کہی تھی کہ اذھب انت وربک فقاتلا انا ھھنا قاعدون، تم اور تمہارا رب جائو اور لڑو ہم یہیں بیٹھے ہیں‘‘ بلکہ ہم یہ کہیں گے کہ آپ اور آپ کے رب چلیں اور لڑیں ہم بھی آپ کے ساتھ ساتھ لڑیں گے…الخ۔ رسول اللہe نے ان کے حق میں دعا خیر فرمائی۔
انصار صحابہ کی نمائندگی کرتے ہوئے سیدنا سعد بن معاذt نے عرض کیا کہ آپ کا جو بھی فیصلہ ہوگا ہمارا فیصلہ بہرحال اس کے تابع ہوگا۔ اللہ کی قسم! اگر آپ پیش قدمی کرتے ہوئے برک غماد تک جائیں تو ہم بھی آپ کے ساتھ ساتھ چلیں گے اور اگر آپ ہمیں لے کر اس سمندر میں کودنا چاہیں تو ہم اس میں بھی کود جائیں گے۔
سیدنا سعدt کی یہ بات سن کر رسول اللہe پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ آپ پر نشاط طاری ہو گیا، آپ نے فرمایا: چلو اور خوشی خوشی چلو۔ اللہ نے مجھ سے دوگروہوں میں سے ایک کا وعدہ فرمایا ہے۔ واللہ! اس وقت گویا میں قوم کی قتل گاہیں دیکھ رہا ہوں۔ (الرحیق المختوم)
اس کے بعد آپ نے پہاڑی راستوں سے مقام بدر کے قریب نزول فرمایا۔ جاسوسی کا انتظام فرمایا، پہلی مرتبہ آپؐ خود سیدنا ابوبکرؓ کو ساتھ لے کر نکلے، بعد میں اپنے بعض اصحاب کو بھیجا۔
پھر تائید الٰہی کی بشارتیں مسلمانوں پر نازل ہونا شروع ہو گئیں۔ منجملہ ان بشارتوں کے اونگھ تھی جس میں امن و سکون تھا (یہ چیز دوسرے دن لڑائی میں نشاط و پھرتی کا سبب بنی) اسی طرح بارش ہوئی جس سے مسلمانوں کے گردوپیش میں فضا مرطوب ہو گئی، پھسپھسی اور ریتلی زمین جم گئی، ورنہ اس میں پیر دھنستے اور لڑنے میں دشواری ہوتی اور جلد تھکن چڑھ جاتی۔ اس طرح دشمن کی طرف پیش قدمی کرنے میں آسانی ہو گئی۔ ان سب سے بڑھ کر مذکورہ بالا خوف کا خاتمہ ہو گیا اور وثوق جمائو اور ڈھارس بندھ گئی، خوف قوت میں بدل گیا۔ یہ سب کچھ معرکے کی شب مسلمانوں پر نازل ہوا۔ جسے اللہ نے اپنی کتاب میں یوں محفوظ کیا ہے:
{إِذْ یُغَشِّیْکُمُ النُّعَاسَ أَمَنَۃً مِّنْہُ وَیُنَزِّلُ عَلَیْْکُم مِّن السَّمَاء  مَاء  لِّیُطَہِّرَکُم بِہِ وَیُذْہِبَ عَنکُمْ رِجْزَ الشَّیْْطَانِ وَلِیَرْبِطَ عَلَی قُلُوبِکُمْ وَیُثَبِّتَ بِہِ الأَقْدَامَ} (انفال: ۱۱)
’’جب ایسا ہوا تھا کہ اس نے چھا جانے والی غنودگی تم پر طاری کر دی تھی کہ یہ اس کی طرف سے تمہارے لئے تسکین و بے خوفی کا سامان تھا اور آسمان سے تم پر پانی برسا دیا تھا، تمہیں پاک و صاف ہونے کا موقعہ دے دے اور تم سے شیطان (کے وسوسوں) کی ناپاکی دور کر دے نیز تمہارے دلوں کی ڈھارس بندھ جائے اور (ریتلے میدانوں میں) قدم جما دے۔‘‘
غور فرمائیے کہ خوف زدہ لوگوں پر نیند کا غلبہ؟ جنہیں یہ خیال ہو کہ کل وہ موت کا سامنا کرنے والے ہیں کیا یہ تائید الٰہی نہیں؟ یقینا یہ پروردگار کا عمل تھا۔
کیا خوف کو امن و راحت میں بدل دینا اللہ کی تائید و نصرت نہیں؟
بارش کا نازل ہونا جس سے قدم جم جائیں اور بدن صاف اور چست ہو جائیں، کیا یہ کھلی ہوئی آسمانی مدد نہیں تھی؟ یقینا یہ تائید الٰہی اور فتح و نصرت کی بشارتوں کا آغاز تھا۔ بعد ازاں دوسری مدد آتی ہے یعنی دوسرے مرحلے میں تدبیر الٰہی کا اظہار ہوتا ہے۔ یہ مرحلہ دونوں فریق کے باہم صف آراء اور مقابل ہونے کا ہے۔ یہاں تائید عینی کی شکل یہ تھی کہ مومنوں کی نگاہوں میں کافروں کی تعداد کم دکھائی دینے لگی۔ کافروں کی نگاہ میں مسلمانوں کی تعداد کم تھی۔ یہ اس لئے ہوا تاکہ مقابلہ وقوع پذیر ہو اور وہ معرکہ آرائی پیش آئے، اللہ نے جس کے اسباب مہیا فرما دئیے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{وَإِذْ یُرِیْکُمُوہُمْ إِذِ الْتَقَیْْتُمْ فِیْ أَعْیُنِکُمْ قَلِیْلاً وَیُقَلِّلُکُمْ فِیْ أَعْیُنِہِمْ لِیَقْضِیَ اللّہُ أَمْراً کَانَ مَفْعُولاً وَإِلَی اللّہِ تُرْجَعُ الأمُورُ} (انفال: ۴۴)
’’اور (پھر دیکھو) جب تم دونوں فریق ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تھے اور اللہ نے ایسا کیا تھا کہ دشمن تمہاری نظروں میں تھوڑے دکھائی دئیے (کیونکہ تمہارے دلوں میں ایمان و استقامت کی روح پیدا ہو گئی تھی) اور ان کی نظروں میں تم تھوڑے دکھائی دئیے (کیونکہ بظاہر تعداد میں وہی زیادہ تھے) اور یہ اس لئے کیا تھا تا کہ جو بات ہونے والی تھی اسے کر دکھائے اور سارے کاموں کا دارومدار اللہ ہی کی ذات پر ہے۔‘‘
پھر اللہ کی مزید نصرت و مدد یہ ہوئی کہ دوران جنگ مشرکین کو مسلمانوں کی تعداد اپنے سے کہیں زیادہ (دگنی) نظر آنے لگی۔ جیسا کہ بعض علماء نے اللہ کے اس قول کی تفسیر کی ہے:
{قَدْ کَانَ لَکُمْ آیَۃٌ فِیْ فِئَتَیْْنِ الْتَقَتَا فِئَۃٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ وَأُخْرَی کَافِرَۃٌ یَرَوْنَہُم مِّثْلَیْْہِمْ رَأْیَ الْعَیْْنِ وَاللّہُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِہِ مَن یَشَاء ُ إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَعِبْرَۃً لَّأُوْلِیْ الأَبْصَارِ} (آل عمران: ۱۳)
بلاشبہ تمہارے لئے ان دو گروہوں میں (کلمۂ حق کی فتح مندیوں کی) بڑی ہی نشانی تھی۔ جو (بدر کے میدان میں) ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تھے۔ اس وقت ایک گروہ تو (مٹھی بھر بے سروسامان مسلمانوں کا تھا جو) اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا۔ دوسرا منکرین حق کا تھا جنہیں مسلمان اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے کہ ان سے دوچند ہیں۔ ایک ترجمہ یہ ہے کہ مشرکین مسلمانوں کو اپنے سے دوگنا دیکھ رہے تھے (بایں ہمہ منکرین حق کو شکست ہوئی) اور اللہ جس کسی کو چاہتا ہے اپنی نصرت سے مددگاری پہنچاتا ہے بلاشبہ ان لوگوں کیلئے جو چشم بینا رکھتے ہیں اس معاملہ میں بڑی ہی عبرت ہے۔
اس کے باوجود (رسول اللہe نے اپنے رب سے فریاد) طلب کرنے کو فراموش نہیں کیا۔ آپؐ اللہ کے حضور گڑگڑاتے ہیں اور گریہ وزاری کے ساتھ دعا کرتے ہیں: ’’اے اللہ! اگر یہ گروہ ہلاک ہو گیا تو پھر زمین میں تیری پرستش کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔ اے اللہ! اپنے وعدے کو پورا فرما، اے اللہ! تیری مدد!…‘‘ حضرت ابوبکرؓ کہتے ہیں: اللہ کے رسول! بس کیجئے! اللہ آپ کی فریاد ضرور سنے گا… اللہ کے رسولe کو اس عارضی اقامت گاہ میں نیند کا غلبہ ہوا (ایک جھپکی آئی) اور پھر بیدار ہوئے تب فرمایا: اے ابوبکر! خوش ہو جائو اللہ کی مدد آ چکی دیکھو! یہ جبرئیل ہیں جو غبار کے بیچ فرشتوں کی قیادت کرتے ہوئے اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے ہیں۔ اللہ نے اس احسان کا ذکر یوں فرمایا:
{إِذْ تَسْتَغِیْثُونَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ أَنِّیْ مُمِدُّکُم بِأَلْفٍ مِّنَ الْمَلآئِکَۃِ مُرْدِفِیْنَ٭ وَمَا جَعَلَہُ اللّہُ إِلاَّ بُشْرَی وَلِتَطْمَئِنَّ بِہِ قُلُوبُکُمْ وَمَا النَّصْرُ إِلاَّ مِنْ عِندِ اللّہِ إِنَّ اللّہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ} (الانفال)
’’جب ایسا ہوا تھا کہ (جنگ بدر کے موقع پر) تم نے اپنے پروردگار سے فریاد کی تھی کہ ہماری مدد کر اور اس نے تمہاری فریاد سن لی تھی اس نے کہا ’’میں ایک ہزار فرشتوں سے جو کہ یکے بعد دیگرے آئیں گے، تمہاری مدد کروں گا۔ اللہ نے یہ بات جو کی تو اس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ (تمہارے لئے) خوشخبری ہو اور تمہارے (مضطرب دل) قرار پا جائیں ورنہ مدد تو (ہر حال میں) اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ بلاشبہ وہ (سب پر) غالب آنے والا (اپنے تمام کاموں میں) حکمت رکھنے والا ہے۔‘‘
آپe اپنی اقامت گاہ سے باہر تشریف لائے، مشرکین کی طرف رخ فرمایا اور کہا: شاہت الوجوہ، آپ نے ایک مٹھی ریتلی مٹی اٹھا کر ان کی طرف پھینکی جس کے ریزے ہر مشرک کے کان ناک یا آنکھ میں گئے۔ اس کی تصویر کشی قرآن نے یوں کی وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی۔
اور (اے پیغمبر!) جب تم نے (میدان جنگ میں مٹھی بھر کر خاک) پھینکی تو حقیقت یہ ہے کہ تم نے نہیں پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی تھی۔ ملائکہ مسلمانوں کو ثابت قدم رکھنے میں مددگار ہوئے اور حملے میں ان کے معاون و مددگار اور شریک کار رہے۔ قرآن کہتا ہے:
یہ وہ وقت تھا کہ تیرے پروردگار نے فرشتوں پر وحی کی تھی، میں تمہارے ساتھ ہوں (یعنی میری مدد تمہارے ساتھ ہے) پس مومنوں کو استوار رکھو عنقریب ایسا ہوگا کہ میں کافروں کے دلوں میں (مومنوں کی) دہشت ڈال دوں گا۔ سو ان کی گردنوں پر ضرب لگائو، ان
کے ہاتھ پائوں کی ایک ایک انگلی پر ضرب لگائو۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے گا تو یاد رکھو! اللہ (پاداش عمل میں) سخت سزا دینے والا ہے۔ (اے اعدائِ حق) یہ ہے سزا تمہارے لئے تو اس کا مزہ چکھ لو اور جان رکھو! منکرین حق کو آتش دوزخ کا عذاب بھی پیش آنے والا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے قریش شکست سے دوچار ہوئے اور میدان کار زار سے بھاگ نکلے۔ انہوں نے اپنے پیچھے ستر مقتولین اور ستر قیدیوں کو چھوڑا۔ مقتولین میں اکثر قریش کی بڑی شخصیتیں تھیں۔ ان میں ابوجہل بھی تھا۔ (اس امت کا فرعون) جسے انصار کے دو نوجوانوں نے مارا اور آخری ضرب عبداللہ بن مسعودؓ نے لگائی۔ مسلمانوں میں صرف ۱۴ جانباز صحابہؓ اس معرکے میں شہید ہوئے اور زندہ و جاوید ہوئے۔ اس معرکے میں شریک ہونے والا ہر صحابی امتیازی شان کا حامل تھا۔ دوران معرکہ بے مثال کارنامے انجام دئیے۔ اللہ کے رسول فرماتے ہیں: شاید اللہ نے اہل بدر کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ جو چاہو کرو میں نے تمہیں بخشش دیا ہے۔ (بخاری)
یہ واقعہ حق و باطل کی معرکہ آرائی کا سب سے اہم واقعہ ہے اور اس کی غیر معمولی حیثیت ہے۔ جیسا کہ حدیث بالا سے بھی ظاہر ہے۔ علاوہ ازیں یہ واقعہ قرآن اور نبی کریمe کی حقانیت کی بھی دلیل ہے۔ نبیe نے جنگ سے پہلے کفار کی شکست اور قتل گاہوں کی نشاندہی کی، قرآن نے جنگ کے پورے معاملے کا بلیغانہ ذکر کیا۔ اگر ان میں کوئی غلطی ہوتی تو وقت کے مخالفین (مشرکین و منافقین) یہ اعتراض کر سکتے تھے کہ آپؐ کا یہ قول غلط نکلا۔ قرآن کا یہ بیان درست نہیں مگر کوئی ایسا نہ کہہ سکا، معلوم ہوا کہ یہ سب سچائی پر مبنی ہیں۔
نیز واقعہ بدر اس بات پر بھی شاہد ہے کہ اہل ایمان اگر راہ حق میں اقدام و عمل کریں تو اللہ کی مدد ان کے ساتھ ہوگی، نصرت الٰہی آ کر رہے گی اگر عمل نیک اور نیت خالص ہے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ کثرت و قلت بھی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اس میں مسلمان اقلیت میں ہوکر بھی اکثریت پر غالب رہے۔ اسی طرح ظاہری ساز و سامان سے زیادہ اہمیت دل کے جذبے اور قوت ارادی کی ہے۔ غرض یوم بدر یوم فرقان تھا۔ جس میں حق غالب ہوا اور باطل مغلوب، حق اور باطل میں واضح فرق ہو گیا۔ اللہ نے فرمایا:
[لیحق الحق ویبطل الباطل ولو کرہ المجرمون]
یہ اس لئے تا کہ حق کو حق کر کے دکھلادے اور باطل کو باطل کر کے (اگرچہ ظلم و فساد کے) مجرم ایسا ہو ناپسند نہ کریں۔ اس واقعے سے سبق ملتا ہے کہ اپنی کوشش کر کے نتیجہ اللہ سے طلب کیا جائے، اللہ کے رسولؐ میدان میں پہنچ کر اللہ سے مدد و نصرت مانگتے ہیں۔ یہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ قوت و طاقت اصل میں اللہ کی ہے، وہی دینے والا ہے۔ سیدالانبیاء بھی اس کی بارگاہ میں سوال کرتے تھے لہٰذا کسی غیراللہ سے مانگنا ایمان کے خلاف ہے۔ اس واقعے میں صحابۂ کرام کے ایمان و عظمت کا ثبوت ملتا ہے، ان کے درجات کا پتہ لگتا ہے کہ وہ سب سے اعلیٰ درجات کے حامل تھے۔
فضائے بدر پیدا کر فرشے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

No comments:

Post a Comment

View My Stats