Mz02-01-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Monday, May 13, 2019

Mz02-01-2019


مسجد میں داخل ہوتے وقت کی دعا (پہلی قسط)

’’بسم اللہ والصلوٰۃ والسلام علی رسول اللہ‘‘

کے الفاظ کا تحقیقی جائزہ

تحریر: جناب پروفیسر حافظ محمد شریف شاکر
رسول اللہﷺ پر صلوٰۃ وسلام بھیجنا ہر مسلمان پر فرض قرار دیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
{إِنَّ الله وَمَلٰئِكتَه یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ یٰٓاَیُّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوا صَلُّوا عَلَیْْه وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْماً} (الاحزاب:۵۶)
’’بلاشبہ اللہ اور اس کے فرشتے نبی (e) پر صلوۃ بھیجتے ہیں ، اے (لوگو) جو ایمان لائے ہو! تم اس (نبی e) پر صلوٰۃ بھیجو اور خوب سلام بھیجو۔‘‘
مندرجہ بالا آیت کے نزول کے بعد صحابہ کرام نے رسول اللہ e سے صلوٰۃ کے بارے میں سوال کیا، چناں چہ سیدنا کعب بن عجرہt فرماتے ہیں:
[سَأَلْنَا رَسُوْلَ اللّٰهﷺ فَقُلْنَا : یَا رَسُولَ اللّٰه! كیْفَ الصَّلاَة  عَلَیْكمْ اَهلَ الْبَیْتِ؟ فَاِنَّ الله قَدْ عَلَّمَنَا كیْفَ نُسَلِّمُ، قَالَ: ’قُوْلُوْا: اَللّٰهمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ كمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاهیْمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاهیْمَ اِنَّك حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۱ اَللّٰهمَّ  بَارِك عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ كمَا بَارَكتَ عَلٰی اِبْرَاهیْمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاهیْمَ اِنَّك حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ‘۔] (البخاری،محمد بن اسماعیل، ابو عبدالله: صحیح البخاری،كتاب الدعوات، باب اذا بات طاهراً،حدیث۳۳۷: مكتبه دارالسلام ، الریاض: ۱۴۱۹ه/۱۹۹۹ء : ص۵۶۴)
احادیث صحیحہ میں صلوٰۃ (درود) مختلف الفاظ کے ساتھ وارد ہے ، لیکن رسول اللہ e کے فرمائے ہوئے الفاظ میں کسی قسم کا اضافہ جائز نہیں۔
صحیح البخاری کی حدیث نمبر۶۳۱۱میں رسول اللہe نے سیدنا براء بن عازبt کو جو دعاء سکھائی اس میں رسول اللہ e کے سکھائے ہوئے الفاظ یوں ہیں:
[اٰمَنْتُ بِكتَابِك الَّذِیْ اَنْزَلْتَ وَ بِنَبِیِّك الَّذِیْ اَرْسَلْتَ۔]
’’(اے اللہ!)میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی اور تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا۔‘‘ (صحیح البخاری، حدیث۶۳۱۱: ص۱۰۹۸)
تو سیدنا براءt نے یہ دعا ء رسول اللہ e کو سنائی اور اس دعا میں [بِنَبِیِّك الَّذِیْ اَرْسَلْتَ]کی بجائے [بِرَسُوْلِك الَّذِیْ اَرْسَلْتَ] کہہ دیاتو رسول اللہe نے فرمایا: [لاَ، وَنَبِیِّك الَّذِیْ اَرْسَلْتَ]یعنی [رَسُوْلِك الَّذِیْ اَرْسَلْتَ] نہ کہو ، بلکہ [نَبِیِّك الَّذِیْ اَرْسَلْتَ] کہو!
غور فرمایئے! رسول اللہ e نے اپنے فرمائے ہوئے الفاظ کو بدلنے کی اجازت نہیں دی۔
مندرجہ بالا صحیح حدیث سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ e کے فرمودات میں کسی قسم کی کمی وبیشی نہیں ہوسکتی۔
محترم جناب مولانا ابوعبداللہ باجوہ صاحب نے  ہفت روزہ ’’اہل حدیث‘‘لاہور کی جلد ۴۹، شمارہ۳۲میں ابودائود ۴۶۶،ابن ماجہ ۱۲۸،۱۲۹، کے حوالے سے ایک دعاء تحریر کی ہے۔ مولانا کی محوّلہ بالا دعا ء یوں ہے:
[اَعُوْذِ بِاللّٰه الْعَظِیْمِ وَ بِوَجْهه الْكرِیْمِ وَ سُلْطَانِه الْقَدِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ ، بِسْمِ الله  وَالصَّلاَة  وَالسَّلاَمُ  عَلٰی رَسُوْلِ الله  اَللّٰهمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِك]۔
·        تحقیقی جائزہ:
مولانا باجوہ صاحب کی پیش کردہ یہ دعا، حدیث نمبر۴۶۶میں مولانا کے تحریر کردہ الفاظ کے ساتھ موجود نہیں، بلکہ یہ دعا سنن ابی دائود میں یوں ہے:
[اَعُوْذِ بِاللّٰه الْعَظِیْمِ وَ بِوَجْهه الْكرِیْمِ وَ سُلْطَانِه الْقَدِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ]
سنن ابی داؤد کی حدیث نمبر۴۶۵ میں یوں ہے:
[اِذَا دَخَلَ اَحَدُكمُ الْمَسْجِدَ فَلْیُسَلِّمْ عَلَی النَّبِیِّﷺ ثُمَّ لْیَقُلْ:  اَللّٰهمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِك ، فَاِذَا خَرَجَ فَلْیَقُلْ: اَللّٰهمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُك مِنْ فَضْلِك۔] (السجستانی، سلیمان بن اشعث ، ابوداؤد، الامام: سنن ابی دائود، حدیث۴۶۵: دارالسلام، الریاض: ۱۴۲۰ه/ ۱۹۹۹ء:ص۷۸)
’’رسول اللہ e نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی شخص ، مسجد میں داخل ہو تو نبی e پر سلام پڑھے، پھر کہے: اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے، پھر جب (مسجد سے) نکلے تو کہے: اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں۔‘‘
مولانا باجوہ صاحب نے جو مندرجہ بالا دعاء ابوداؤد اور ابن ماجہ کے حوالے سے نقل کی ہے ، بعینہٖ انہی الفاظ کے ساتھ اس دعاء کو ’’حصن المسلم‘‘ کے مصنف القحطانیa نے چار مختلف کتب حدیث سے چار دعائیں لے کر انہیں ایک دُعاء کی شکل میں ’’مسجد میں داخل ہونے کی دُعاء ‘‘ کے عنوان سے نقل کردیا:
[(ا) اَعُوْذِ بِاللّٰه الْعَظِیْمِ وَ بِوَجْهه الْكرِیْمِ وَ سُلْطَانِه الْقَدِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ (ب)بِسْمِ الله وَالصَّلاَة (ج) وَالسَّلاَمُ  عَلٰی رَسُوْلِ الله (د) اَللّٰهمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِك۔] (القحطانی ، سعید بن علی: حصن المسلم، (ترجمه: عبدالسلام بن محمد): وزارة الشؤون الاسلامیه والاوقاف والدعوة والارشاد،مملكت سعودی عرب :۱۴۲۷ه:ص۲۲)
·        اس دُعا کی تفصیل:
اس دُعاء کا پہلا حصہ سنن ابی داؤد حدیث نمبر۴۶۶ صفحہ نمبر۷۸ پر موجود ہے، جب کہ اس کا دوسرا حصہ یعنی [بِسْمِ اللّٰہِ  وَالصَّلاَۃُ] ہے۔ حصن المسلم کے محشی نے اس کا حوالہ ابن السنی سے دیا ہے اور ابن السنی میں [بِسْمِ اللّٰہِ  وَالصَّلاَۃُ] کے الفاظ نہیں بلکہ ابن سنّی نے اسے یوں روایت کیا ہے:
[عن ابی حمید الساعدیّ أو ابی أسیدٍؓ قال: قال رسول اللّٰهﷺ: ’إذَا دَخَلَ احدكم المسجد فَلْیُسَلِّمْ وَلْیَقُل: اَللّٰهمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِك، وَاِذَا خَرَجَ فَلْیَقُلْ: اَللّٰهمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُك مِنْ فَضْلِك‘۔] (ابن السنی ، احمد بن محمد بن اسحاق الدینوری (م۳۶۴ه) : كتاب عمل الیوم واللیلة (مع عجالة الراغب المتمنی فی تخریج كتاب عمل الیوم واللیة لابن سنی بقلم ابی اسامة سلیم بن عید الهلالی): دارابن حزم ، بیروت: ۱۴۲۲ه/۲۰۰۱ء: ص۱/۲۱۲)
اس دعا کا پہلا حصہ (الف) ابودائود ، حدیث نمبر۴۶۶ کے حوالے سے ابھی اوپر ذکر کردیا گیا ہے، حصن المسلم کی دُعا کا دوسرا حصہ (ب) بِسْمِ اللّٰہِ  وَالصَّلاَۃُ  ہے ، جسے حصن المسلم کے محشی ومترجم نے ابن سُنّی کی حدیث نمبر۸۸ کے حوالے سے نقل کیا۔اس حدیث میں صرف سلام کا ذکر ہے ، نبی e پر صلاۃ کا تذکرہ نہیں۔
·        سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی منقطع حدیث:
ابن سُنّی نے اسے یوں تخریج کیا:
[حدثنی موسی بن الحسن الكوفی قال حدّثنا ابراهیم بن یوسف الكندی (قال) حدثنا سُعَیر بن الخمس عن عبداللّٰه بن الحسن الكوفی عن اُمّه عن جدّتهٖ قالت: كان  رسول اللّٰهﷺ: إذَا دَخَلَ المسجد حَمِدَ الله وسمّٰی وقال: ’اَللّٰهمَّ اغْفِرْ لِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِك‘، وَاِذَا خَرَجَ قَالَ مثل ذلك وقال: ’اَللّٰهمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ فَضْلِك‘۔] (الهلالی، سلیم بن عید، ابواسامه:  عجالة الراغب المتمنی فی تخریج كتاب عمل الیوم واللیة لابن سنی: دارابن حزم ، بیروت: ۱۴۲۲ه/۲۰۰۱ء: ص۱/۱۳۸)
کتاب [عمل الیوم واللیلة لابن السنی] کے محقق ابو اسامہ الہلالی نے لکھا ہے :
[رجال هٰذا السند ثقات لكن فیه انقطاع]
کہ اس سند کے رجال ثقہ ہیں لیکن اس میں انقطاع ہے جس کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے۔
·        مسند احمد میں یہی منقطع حدیث:
امام احمد بن حنبلa نے اس حدیث کو یوں تخریج کیا ہے:
[حدثنا اسماعیل بن ابراهیم قال حدثنا لیث یعنی ابن ابی سلیم عن عبداللّٰه بن حسن عن اُمّه فاطمة بنت حسین عن جدّتها فاطمة بنت رسول اللّٰهﷺ: قالت: كان رسول اللّٰهﷺ إذَا دَخَلَ المسجد صلّی علی محمد وسلم وقال: ’اَللّٰهمَّ اغْفِرْ لِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِك‘، وَاِذَا خَرَجَ صلّٰی علی محمد وسلم (ثم) قَالَ:  ’اَللّٰهمَّ اغْفِرْ لِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ فَضْلِك‘۔] (احمد بن حنبل، الامام:  المسند (مجلدین)، حدیث ۴۹، ۲۶۹۴۸: بیت الافكار الدولیة، الریاض: ۱۴۱۹ه/۱۹۹۸ء: ص۲/۱۰۶۵)
ہمیں حدیث روایت کی اسماعیل بن ابراہیم نے ، اس نے کہا کہ ہمیں حدیث روایت کی لیث نے یعنی ابن ابی سلیم نے (اس نے) عبداللہ بن حسن سے ،(اس نے) اپنی ماں فاطمہ بنت حسین سے ، (اس نے) اپنی دادی فاطمہ بنت حسین سے، (اس نے) اپنی دادی فاطمہ بنت رسول اللہ e سے ، اس نے کہا: جب رسول اللہ e مسجد میں داخل ہوتھے ، (تو) آپe محمد (e) پر صلوٰۃ وسلام بھیجتے اور فرماتے: [اَللّٰهمَّ اغْفِرْ لِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِك]، اور آپe جب نکلتے (تو) آپ محمد(e )پرصلوٰۃ وسلام بھیجتے (پھر) فرماتے: [اَللّٰهمَّ اغْفِرْ لِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ فَضْلِك]۔
·        تحقیقی جائزہ:
مسند احمد کی اس حدیث میں ’’صلّی علی محمد وسلم‘‘کے الفاظ آئے ہیں اور اس حدیث کی سند متصل نہیں، کیوں کہ فاطمہ بنت حسین (بن علی)] نے یہ حدیث اپنی دادی فاطمہ الزہراءr سے نہیں سنی۔
·        جامع ترمذی میں یہی منقطع حدیث:
امام ترمذیa نے اپنے استاذ علی بن حجر سے مسند احمد کی اسی سند کے ساتھ یہی متنِ حدیث روایت کیا اور کہا کہ علی بن حجر نے کہا کہ اسماعیل بن ابراہیم نے کہا کہ میں مکہ میں عبداللہ بن حسن سے ملا تو میں نے اس حدیث کے بارے میں اس سے سوال کیا، تو اس نے مجھے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب (رسول اللہ e مسجد میں ) داخل ہوتے (تو ) فرماتے: [رَبِّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِك]، اورجب آپ ﷺ(مسجد سے) نکلتے تو فرماتے: [رَبِّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ فَضْلِك]۔
ابوعیسیٰ (امام ترمذیa) نے کہا:کہ اس باب میں ابوحمید ، ابواسید اور ابوہریرہt سے احادیث مروی ہیں، ابوعیسیٰ نے کہا کہ فاطمہ ؓ کی حدیث، حسن حدیث ہے اور اس کی سند متصل نہیں ہے ، کیوں کہ فاطمہ بنت حسین نے، فاطمہ کبریٰ کو نہیں پایا، فاطمۃ الزُھرٰی تو نبی e کے بعد چند ماہ ہی زندہ رہی ہیں۔ (الترمذی ، محمد عیسیٰ ، ابوعیسیٰ، الامام: جامع الترمذی،ابواب الصلاۃ باب ماجاء ما یقول عند دخول المسجد، حدیث۳۱۴، ۳۱۵: ۱۴۲۰ھ/۱۹۹۹ء:ص۸۶) ابوحمید اور ابو اسید کی حدیث پہلے گزرچکی ہے۔
·        ابن ماجہ میں سیدنا ابوہریرہؓ کی حدیث:۷۷۳:
[حدثنا محمد بن بشارحدثنا ابوبكر الحنفی حدثنا الضحاك ابن عثمان: حدثنی سعید المقبری عَن أبی هریرة رضی الله عنه أن رسول اللّٰهﷺقال:  ’إذَا دَخَلَ اَحَدُكمُ الْمَسْجِدَ فَلْیُسَلِّمْ عَلَی النَّبِیِّﷺ فَلْیَقُلْ: اَللّٰهمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِك، وَاِذَا خَرَجَ فَلْیُسَلِّم عَلَی النَّبِیِّ وَلْیَقُلْ: اَللّٰهمَّ اعْصِمْنِیْ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ‘۔]
(ابن ماجه، محمد بن یزید ،ابوعبدالله ،القزوینی، الحافظ: سنن ابن ماجة، ابواب المساجد والجماعات، باب الدعاء عند دخول المسجد، حدیث۷۷۳: دارالسلام، الریاض: ۱۴۲۰ه/۱۹۹۹ء، ص۱۱۰، القحطانی، سعید بن علی بن وهف: الذكر والدعاء والعلاج بالرقیّ من الكتاب والسنة، (تخریج: شیخ یاسر بن فتحی المصری): حدیث:۶۶، ۱۴۲۲ه/۲۰۰۲ء، ص۱/۱۳۰)
سیدنا ابوہریرہ(t) سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ e نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو نبی e پر سلام بھیجے اور کہے: اے اللہ!میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے، اور جب (مسجد سے) نکلے تو نبی (e) پر سلام بھیجے اور کہے: اے اللہ! مجھے شیطان مردود سے بچا!‘‘
مندرجہ بالا ابوہریرہt کی حدیث میں ’’ بِسْمِ اللّٰہِ  وَالصَّلاَۃُ وَالسَّلاَمُ ‘‘ کے الفاظ نہیں ہیں۔
·        ابن ماجہ میں سیدہ فاطمہؓ کی منقطع حدیث:۷۷۱:
امام ابن ماجہa یوں حدیث کی تخریج کرتے ہیں:
حدثنا ابوبكر ابی شیبة حدثنا اسماعیل بن ابراهیم و أبومعاویة عن لیث عن عبداللّٰه بن حسن عن امّه عن فاطمة بنت رسول اللّٰهﷺ قالت:  كان رسول اللّٰهﷺ إذَا دَخَلَ الْمَسْجِد یقول: ’بِسْمِ الله   وَالسَّلاَمُ  عَلٰی رَسُوْلِ الله  اَللّٰهمَّ اغْفِرْ لِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِك‘۔ وَاِذَا خَرَجَ قَالَ: ’بِسْمِ الله  وَالسَّلاَمُ  عَلٰی رَسُوْلِ الله  اَللّٰهمَّ اغْفِرْ لِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ فَضْلِك‘۔ (ابن ماجه: سنن ابن ماجة، حدیث۷۷۱:ص۱۱۰)
رسول اللہ e مسجد میں داخل ہوتے وقت فرمایا کرتے:
[بِسْمِ الله وَالسَّلاَمُ  عَلٰی رَسُوْلِ الله  اَللّٰهمَّ اغْفِرْ لِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِك]
اورمسجد نکلتے وقت فرماتے:
[بِسْمِ الله  وَالسَّلاَمُ  عَلٰی رَسُوْلِ الله  اَللّٰهمَّ اغْفِرْ لِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ فَضْلِك]‘‘
·        تحقیقی جائزہ:
قارئین اچھی طرح اس حدیث کامطالعہ کریں ، اس میں بھی ’’الصلوۃ‘‘ کا اضافہ نہیں یعنی ’’بِسْمِ اللّٰہِ  وَالصَّلوٰۃُ وَالسَّلاَمُ‘‘ نہیں، بلکہ ’’بِسْمِ اللّٰہِ وَالسَّلاَمُ‘‘ ہے۔
·        تعلیلی جائزہ:
یہ حدیث معلول یعنی ضعیف ہے۔حافظ ابن حجرa فرماتے ہیں کہ لیث (بن ابی  سلیم بن زنیم القرشی مولاہم ابوبکر)، اس کے باپ کا نام ایمن ہے اور کہا گیا ہے کہ انس ہے اور اس کے علاوہ بھی کہا گیا ہے، ہے تو صدوق (سچا،لیکن) بہت مختلط ہوگیا، اس کی (روایت کی ہوئی) حدیث ممیّز نہیں ، لہٰذا اسے متروک قرار دیا گیا، یہ طبقہ سادسہ سے ہے، اور یہ ۱۴۸ھ میں فوت ہوا۔ (ابن حجر عسقلانی :تقریب التہذیب تحقیق: حامد عبداللہ المحلّاوی : دارالحدیث ،القاہرہ: ۱۴۳۰ھ/۲۰۰۹ء: ص۵۴۵)
اور ’’نِہَایَۃُ الاِغتبَاط‘‘کے مصنف لکھتے ہیں: 
[لیث بن ابی سلیم ، كان صالحاً عابداً صدوقاً لكن كان سیئ الحفظ ، كثیر الغلط ضعیف الحدیث، واختلط فی آخر عمره، فمثله كما قال ابو حاتم، وأبو زرعة لا یشتغل به وهو مضطرب الحدیث وروی له مسلم وأبوداؤد، والترمذی والنسائی وابن ماجة ولكن روی له مسلم مقروناً بغیره ولم یروله مانفرد به، وكذا فی صحیح البخاری معلقا۔] (علاء الدین علی رضا: نهایة الاغتباط (ذیل ’كتاب الاغتباط بمن رُمِیَ بالاختلاط‘): دارالحدیث، القاهره: ۱۴۰۸ه/۱۹۸۸ء: ص۲۹۹)
’’لیث بن ابی سلیم ایک صالح ، عابد اور صدوق شخص تھا ، لیکن وہ برے حافظہ والا، بہت غلطیاں کرنے والا ضعیف الحدیث تھا اور اپنی عمر میں اختلاط کا شکار ہوگیا۔اس کی مثال ایسے ہے جیسے ابوحاتم اورابوزرعہ نے کہا کہ اس کی حدیث کے ساتھ مشغول نہ ہوا جائے کیوں کہ اس کی حدیث میں اضطراب پایا جاتا ہے۔ امام مسلم، ابودائود، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ نے اس سے حدیث روایت کی (یعنی تخریج کی ) ہے، لیکن مسلم نے کسی اور راوی کے ساتھ ملا کر اس سے حدیث روایت کی ، اس سے ایسی کوئی حدیث روایت نہیں کی جس میں وہ منفرد ہے ، ایسے ہی صحیح البخاری میں اس سے (صرف) معلق روایت لی گئی ہے۔‘‘
حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ ابو زرعہ رازی نے کہا:
[لیث بن ابی سلیم لین الحدیث لا تقوم به الحجة عند أهل العلم بالحدیث۔] (ابن حجر عسقلانی :تهذیب التهذیب : داراحیاء التراث العربی، بیروت: ۱۴۱۳ه/۱۹۹۳ء: ص۴/۶۱۲)
’’لیث بن ابی سلیم حدیث میں کمزورہے، حدیث کا علم رکھنے والوں کے ہاں یہ قابل حجت نہیں۔‘‘
حافظ ابن حجر،ابن حبان کا قول نقل کرتے ہیں :
[قال ابن حبان: اختلط فی آخر عمرهٖ، فكان یقلب الاسانید ویرفع المراسیل، ویأتی عن الثقاث بما لیس من حدیثهم۔] (نفس المرجع :ص۴:۶۱۳)
’’ابن حبان نے کہا کہ وہ (لیث بن ابی سلیم) اپنی آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہوگیا تھا ، وہ سندوں کو اُلٹ پلٹ کردیتا اور مراسیل کو مرفوع بنا دیتا اور ثقہ راویوں سے ایسی حدیث منسوب کردیتا جو اُن (کی روایت کردہ) حدیثوں میں سے نہ ہوتی تھی۔‘‘
مندرجہ بالا ساری بحث سنن ابن ماجہ میں سیدہ فاطمۃ الزہراءr کی حدیث کی سند میں واقع ایک ضعیف اور مختلط راوی لیث بن ابی سعیدسے متعلق تھی۔
·        اللّجنۃالعلمیۃ:
اس وقت ہمارے سامنے [اللجنة العلمیة من علماء الدعوة السلفیة] کی کتاب ’’نمازنبوی مع حصن المسلم‘‘ ہے۔ اس کے صفحہ نمبر ۱۰۴ پر یہ دعاء مرقوم ہے اور لکھا ہے:
ایک روایت میں مسجد سے نکلنے کی دعا ان الفاظ میں منقول ہے:
[بِسْمِ الله  وَالصَّلاَة  وَالسَّلاَمُ عَلٰی رَسُوْلِ الله  اَللّٰهمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُك مِنْ فَضْلِك اَللّٰهمَّ اعْصِمْنِیْ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔] (اللجنة العلمیة:نمازِ نبوی مع حصن المسلم: دارالسلام، لاهور:ص۱۰۴)
اس کا حوالہ درج ذیل کتب حدیث سے دیا گیا ہے: 1 سنن ابی دائود ، الصلاۃ حدیث:۴۶۵2وجامع الترمذی، الصلاۃ ، حدیث: ۳۱۴ 3وسنن ابن ماجہ، المساجد والجماعات، حدیث:۷۷۱-۷۷۳
·        تحقیقی جائزہ:
محوّلہ بالا تینوں کتب کی احادیث مقالہ ہٰذا کے گذشتہ صفحات میں باحوالہ درج کردی گئی ہیں: ابودائود کی حدیث نمبر ۴۶۵ اور حدیث نمبر۴۶۶ میں ’’بِسْمِ اللّٰہِ  وَالصَّلاَۃُ‘‘ نہیں اور جامع الترمذی کی حدیث نمبر۳۱۴میں بھی ’’بِسْمِ اللّٰہِ وَالصَّلاَۃُ‘‘ کے الفاظ نہیںہیںاور سنن ابن ماجہ کی احادیث :۷۷۱-۷۷۳ میں بھی یہ الفاظ نہیں ہیں۔
ہمارے اس مقالہ کے حوالہ نمبر۹ کے تحت سنن ابن ماجہ کی حدیث :۷۷۳ میں ’فَلْیُسَلِّمْ عَلَی النَّبِیِّ ﷺ‘ کے الفاظ ہیں اور ہمارے اس مقالہ کے حوالہ نمبر ۱۰ کے تحت سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر۷۷۳ جو سیدہ فاطمہ الزہراءr سے روایت کی گئی ہے ، اس کی سند منقطع ہے اور اس کا ایک راوی لیث مختلط ہے ، اس ضعیف حدیث میں بھی [بِسْمِ الله وَالسَّلاَمُ عَلٰی رَسُول اللّٰه] کے الفاظ ہیں، [بِسْمِ الله  وَالصَّلاَة] کے الفاظ نہیں ہیں۔
لہٰذا ’اللجنۃ العلمیۃ‘ کے علماء کرام کی یہ ذمہ داری ہے کہ ان تینوں کتب حدیث سے یہ الفاظ دکھا کر سرخرو ہوں۔
مذکورہ بالا حدیثِ ابی ہریرہt (حوالہ نمبر۹ کے تحت مذکور)سعید بن علی القحطانیa نے بھی اپنی کتاب ’’الذکر والدعاء…الخ‘‘ کی پہلی جلد کے صفحہ ۱۳۰ پر درج کی ہے۔ اس کتاب کے محقق شیخ یاسر بن فتحی مصری نے اس حدیث کی درج ذیل کتب میں نشان دہی کی ہے:
·        صحیح ابن حبان کی حدیث:
[إذَا دَخَلَ احدكم المسجد فَلْیُسَلِّمْ عَلَی النَّبِیِّ ﷺ: ولیقل اَللّٰهمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِك، وَاِذَا خَرَجَ فَلْیُسَلِّمْ عَلَی النَّبِیِّﷺ وَلْیَقُلْ: اَللّٰهمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔] (ابن حبان ، ابوحاتم البستی ، محمد بن حبان التمیمی(م۳۵۴ه): صحیح ابن حبان المسند الصحیح علی التقاسیم والأنواع(تحقیق: محمد علی سونمزو خالص ای دمیر ) دارابن حزم، بیروت: ۱۴۳۳ه/۲۰۱۲ء: ص۱/۳۶۳)
اس حدیث میں بھی ’’بِسْمِ اللّٰہِ وَالصَّلاَۃُ‘‘ نہیں ہے۔
·        مصنف عبدالرزاق کی حدیث:
[عبدالرزاق عن ابن جریج قال: أخبرنی هارون بن أبی عائشة  عن أبی بكر بن محمد بن عمرو بن حزم قال:  كان رسول اللّٰهﷺ إذَا دَخَلَ الْمَسْجِد قال: ’اَلسَّلاَمُ  عَلَی النّبی ورحمة الله  اَللّٰهمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِك وَالْجَنَّة‘ وَاِذَا خَرَجَ قَالَ: ’اَ لسَّلاَمُ  عَلٰی النّبی ورحمة الله  اَللّٰهمَّ اعِذْنِیْ مِنَ الشَّیْطَانِ وَمِنْ الشّرْك كلّه‘۔] (الصنعانی، عبدالرزاق بن همام، ابوبكر، الحافظ الكبیر: المصنّف (تحقیق: حبیب الرحمن الاعظمی): حدیث۱۶۶۳: ۱۳۹۰ه۱۹۷۰ء: ص۱/۴۲۵)
اس حدیث میں بھی ’’بِسْمِ اللّٰہِ وَالصَّلاَۃُ‘‘ نہیں ہے۔ مصنف عبدالرزاق میں حدیث:۱۶۶۳ تا ۱۶۶۷پانچ احادیث تخریج کی ہیں کسی میں بھی ’’بِسْمِ اللّٰہِ وَالصَّلاَۃُ‘‘ نہیں ہے۔
·        صحیح ابن خزیمہ کی حدیث:
[عَن أبی هریرة رضی الله عنه أن رسول اللّٰهﷺ قال:  إذَا دَخَلَ اَحَدُكمُ الْمَسْجِدَ فَلْیُسَلِّمْ عَلَی النَّبِیِّﷺ وَلْیَقُلْ: [اَللّٰهمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِك، وَاِذَا خَرَجَ فَلْیُسَلِّمْ عَلَی النَّبِیِّ ﷺ: وَلْیَقُلْ: اَللّٰهمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ]۔ (ابن خزیمه، محمد بن اسحاق، ابوبكر نیشاپوری (م۳۱۱ه): صحیح ابنِ خُزَیْمَة، باب السلام علی النبیﷺ ۔۔۔الخ : حدیث۴۵۲: المكتب الاسلامی، دمشق، بیروت: سن ندارد: ص۱/۲۳۱)
اس حدیث میں بھی ’’بِسْمِ اللّٰہِ وَالصَّلاَۃُ‘‘ نہیں ہے۔
·        سنن دارمی کی حدیث:
[حدثنا یحیی بن حسان انا عبدالعزیز بن محمد عن ربیعة بن ابی عبدالرحمان عن عبدالملك بن سعید بن سُوَید قال سمعت ابا حمید و ابا أسید الأنصاری یقولان:  قال رسول اللّٰهﷺ: [إذَا دَخَلَ احدكم المسجد فَلْیُسَلِّمْ علی النبی ثم لیقل: اَللّٰهمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِك، وَاِذَا خَرَجَ فَلْیَقُلْ: اَللّٰهمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُك مِنْ فَضْلِك]۔  (الدارمی ، عبدالله بن عبدالرحمن ، ابو محمد (م۲۵۵ه): سنن الدارمی، باب القول عند دخول المسجد: حدیث۱۴۰۱: نشر السنة ، ملتان:سن ندارد: ص۱/۲۶۴،۲۶۵)
عبدالملک بن سعید بن سُوَید کہتے ہیں کہ میں نے ابو حمید اور ابو اُسید کو سنا وہ دونوں کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے جب کوئی مسجد میں داخل ہو تو نبی (ﷺ) پر سلام پڑھے پھر کہے: [اَللّٰهمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِك] اورجب (مسجد سے) نکلے تو کہے: اَللّٰهمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُك مِنْ فَضْلِك۔ دیکھئے اس حدیث میں بھی ’بِسْمِ اللّٰہِ  وَالصَّلاَۃُ‘ نہیں ہے۔...... (جاری)

No comments:

Post a Comment