Mz02-20-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, May 11, 2019

Mz02-20-2019


رمضان المبارک کیسے گذاریں؟!

تحریر: جناب مولانا امیر افضل اعوان
رحمتوں، برکتوں اور بے پناہ اجر و ثواب و فضیلت کے ساتھ رمضان المبارک ہمارے اوپر سایہ فگن ہے۔ اللہ پاک نے روزہ کی عبادت کو ہر زمانے میں ہر امت پر فرض کیا، اسلام کا اصل مقصد انسان کی پوری زندگی کو اللہ کی عبادت بنادیناہے۔ رمضان المبارک انفرادی تزکیہ اصلاح کے ساتھ ساتھ مخلوق خدا سے محبت، ہمدردی اور خیر خواہی کا مہینہ ہے۔ انسانوں کی سب سے بڑی خیرخواہی یہی ہے کہ ان کو اْن کے رب کے راستے پر لگایا جائے۔ آئیے رحمت، مغفرت اور آتش جہنم سے نجات کے اس بابرکت مہینہ میں اپنی ساری کاوشوں ،محنتوں ،ایثار اور انفاق کو اْسی کی بارگاہ میں پیش کرتے ہوئے مزید استقامت کے طلب گارہوں، تاکہ اگلے پورے سال کے لیے ایمان اور تقویٰ کا زادِ راہ ہاتھ آجائے۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلا کام نیت کا ہے، اس لئے اس ماہ مبارک سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ابھی سے خالص نیت اور پختہ ارادہ کر لیں کیوں کہ نیت پر ہی تمام اعمال کا دارو مدار ہوتاہے۔ رمضان کے پیغام اور اس کی عظمت و برکت کے احساس کو تازہ کر لیں، ایسے کام کرنے کاعزم کریںکہ جن سے آپ اور آپ کے مخاطبین کے اندر تقویٰ پیدا ہو۔
قرآن کریم اور رمضان المبارک کا آپس میں گہرا تعلق ہے، اس مہینے کا حاصل ہی قرآن سننا اور پڑھنا، قرآن سیکھنااور اس پرعمل کرنے کی استعداد پیدا کرنا ہے، روزانہ قرآن کا کچھ حصہ ترجمے کے ساتھ سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کریں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں، اگر پہلے اس پر توجہ نہیں دی تو آج ہی اس ارادے کے ساتھ قرآن ترجمے کے ساتھ پڑھنا شروع کر دیںکہ آئندہ رمضان تک پورا قرآن ترجمے کے ساتھ پڑھنے کی عادت پیدا ہو جائے۔ رمضان نیکیوں کا موسم بہار ہے اور روزے کی وجہ سے لوگوں کے دل اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، اس قلبی کیفیت سے فائدہ اْٹھاتے ہوئے علماء کرام، خطیب حضرات، شہر و دیہات کی مساجد کھلے میدانوں میں پانچ یا دس روزہ فہم قرآن کلاس اورجہاںممکن ہو ،دورہ تفسیر کا اہتمام کرنے کی کوشش کریں۔ جن مساجد میں نماز تراویح کا انتظام ہے وہاں خلاصہ تراویح کا اہتمام کریں، یہ قرآن کے فہم کو عام کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ تکمیل قرأت قرآن کی تقاریب رمضان المبارک کا اہم حصہ ہیںجن میں عوام الناس کی بڑی تعداد شریک ہوتی ہے، اپنے اردگرد مساجد میں ہونے والی ایسی تقاریب میں شرکت کریں، یہ بہت بڑی سعادت ہے۔
رمضان کریم ہر سال بعد ایک ٹریننگ کی صورت میں ہمیں معاملات ،رویوں اور تعلقات کے جائزہ سے احتساب کا موقعہ فراہم کرتاہے، اس پورے معاشرے کے ٹھیک ہونے سے پہلے اس کی ضرورت سب سے زیادہ ہے کہ معاشرے کی اکائی یعنی فرد درست ہو۔ ذاتی احتساب و جائزہ کے ذیل میں رمضان کی اہمیت محتاج بیان نہیں، احتساب و جائزہ کا ایک دائرہ میری اور آپ کی دنیاوآخرت کی ذمہ داری بھی ہے۔ ازروئے قرآن و سنت ہم اپنے اپنے دائرہ کار میں موجود افراد کی اصلاح ’تربیت، ابلاغ دین کے لیے جواب دہ ہیں۔ ہم زندگی کے کسی محاذ پر بھی ہوں بحیثیت مسلمان ہماری ذمہ داری ہے کہ اردگرد رہنے بسنے والوں کی دینی تربیت کے لیے کیا کردار ادا کیاہے‘ کتنا وقت اس دینی کام کے لیے دیا ہے، باجماعت نمازکا اہتمام تو ہمیشہ ہی کرنا چاہیے مگر رمضان المبارک میں تو بہت ضروری ہے کہ اذان کے بعد سب کام چھوڑ کر مسجد پہنچیں اور تکبیر تحریمہ کے ساتھ پہلی صف میں نماز ادا کرنے کی کوشش کریں۔ نماز کے حوالہ سے قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ
’’اور نماز قائم کرو اور  زکوٰۃ  دیا کرو اور (نماز میں) جھکنے والوں کے ساتھ تم بھی جھکا کرو۔‘‘ (البقرۃ: ۴۳)
اس آیت کریمہ میں نماز اور زکوٰۃ کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے کہ یہ دونوں عظیم الشان عبادتیں ہیں۔ نماز جو کہ بدنی عبادات میں سب سے اہم ہے، اس سے بندے کا اپنے رب کے ساتھ صحیح تعلق قائم ہوتا ہے، اور اس سے اس کو وہ روحانی قوت ملتی ہے جس سے وہ راہ حق میں صبر و استقامت سے سرفراز ہوتا ہے اور زکوٰۃ جو کہ مالی عبادات میں سب سے بڑی عبادت ہے، اس سے ایک طرف تو بندے کا قلب وباطن مال کی محبت سے پاک ہوتا ہے اور اسکو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص رحمتیں اور برکتیں نصیب ہوتی ہیں اور دوسری طرف اس سے خلق خدا کے ساتھ اس کا تعلق صحیح بنیادوں پر استوار ہوتا ہے۔
سیدنا ابن عمرw سے روایت ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا:
’’اسلام (کا قصر پانچ ستونوں) پر بنایا گیا ہے، اس بات کی شہادت دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمدe اللہ کے رسول e ہیں، نماز پڑھنا، زکواۃ دینا، حج کرنا، رمضان کے روزے رکھنا۔‘‘ (صحیح بخاری: ۱/۷)
قرآن مجید میں اللہ پاک کے واضح ارشادات واحکامات کے با وجود ہماری یہ حالت ہے کہ نمازیں اور روزے قضاء ہو رہے ہیں اورجلدی جلدی رکوع و سجود کو ہم غلطی ہی نہیں گر دانتے، ہم اس دنیا میں اس طرح مگن ہیں کہ نماز و روزہ جیسے دین کے اہم ارکان کی قدر و منزلت ہمارے دلوں سے نکلتی جا رہی ہے۔ حدیث پاک میں ہے کہ خالق باری تعالیٰ اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والوں کو پانچ برکتیں عطا فرماتے ہیں ،اس کے رزق میں کشادگی کر دی جاتی ہے ‘اس کو عذاب قبر نہیں ہوتا، روز محشر اس کا نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیا جاتا ہے، پل صراط سے بجلی کی طرح گزر جاتا ہے، نمازی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہو جائے گا،اس لئے ہم پر لازم ہے کہ ہم خواب غفلت سے بیدار ہو جائیں اور اللہ تعالی کو راضی کر لیں۔ اس کی بارگاہ میں دعا کریں کہ پوری امت اللہ تبارک  وتعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں سے فیض یاب ہو اوراپنی نماز میں خشوع و خضوع  کے ساتھ ادا کر نے والے بن  جائیں۔(آمین)

No comments:

Post a Comment

View My Stats