Mz03-01-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Monday, May 13, 2019

Mz03-01-2019


تصورِ اقبال میں عورت کا مقام

تحریر: جناب پروفیسر عبدالعظیم جانباز
پردہ عورت کا فطری حق ہے۔ عورت گھر میں ہو یا بازار میں، کالج میں ہو یا یونیورسٹی میں، دفتر میں ہو یا عدالت میں، اپنی فطرت کو تبدیل کرنے سے قاصر ہے۔وہ جہاں ہو گی اس کے ضمیر کی خلش اور فطرت کی آواز اسے پردہ کرنے پر مجبور کرے گی۔وہ بے دین قوتیں جو عورت کی فطرت سے اندھی اور خالق  فطرت کے احکامات سے ناآشنا ہیں، وہ اگر عورت کی پردہ دری کے جرم کا ارتکاب کریں تو تعجب نہیں مگر ایک مسلمان جس کے سامنے اللہ اور رسول اللہe کے احکامات اور اس کے اکابر کا شاندار ماضی موجود ہو اس کا اپنی بہو بیٹیوں کوپردے سے باہر آنا مردہ ضمیر کا قبیح ترین مظاہرہ ہے۔
ستم ظریفی کی حد ہے کہ وہ عورت جو عصمت اور تقدس کا نشان تھی اور جس کی عفت و نزاہت سے چاند شرماتا تھا، اسے پردے سے باہر لاکر اس سے ناپاک نظروں کی تسکین اور نجس وقلوب کی تفریح کا کام لیا گیا، جدید تہذیب میں عورت زینت خانہ نہیں بلکہ شمع محفل ہے۔اس کی محبت اور خلوص کی ہر اد ا  اپنے شوہر اور بال بچوں کے لئے وقف نہیں، بلکہ اس کی رعنائی و زیبائی فقط تماشائے عالم ہے۔ وہ تقدس کا نشان نہیں کہ اس کے احترام میں غیر محرم نظریں نیچے جھک جائیں، بلکہ وہ آج بازاروں کی رونق ہے۔
علامہ اقبالa عورت کے لئے پردے کے زبردست حامی تھے۔ اقبال کی نظر میں اصل بات یہ ہے کہ آدمی کی شخصیت اور حقیقت ذات پر پردہ نہ پڑا ہو اور اس کی خودی آشکار ہو چکی ہو۔ اقبالaکے نزدیک عورت کو خلوت کی ضرورت ہے اور مرد کو جلوت کی، یہی وجہ ہے کہ اقبال عورت کی بے پردگی کے خلاف ہیں، ان کے خیال میں پردہ میں رہ کر ہی عورت کو اپنی ذات کے احکامات کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے اس کے برعکس جب عورت پردے سے باہر آتی ہے تو زیب و زینت، نمائش،بے باکی، بے حیائی اور ذہنی پراگندگی کا شکار ہو جاتی ہے۔ چنانچہ یہ فطری اصول ہے کہ عورت کے ذاتی جوہر خلوت میں کھلتے ہیں جلوت میں نہیںــ۔ خلوتـــ کے عنوان سے ایک نظم میں اقبالa نے اسی بات کی مکمل وضاحت کی ہے۔
’’ضرب کلیم‘‘ میں عورتوں کی آزادی یا بے راہروی کا ذمہ دار علامہ اقبال جدت پسند مردوں کی حماقت اور عاقبت نااندیشی کو قرار دیتے ہیں۔ ’’ضرب کلیم‘‘ کے اشعار ہیں:
ہزار بار حکیموں نے اس کو سلجھایا
مگر یہ مسئلہ زن رہا وہیں کا وہیں
قصور زن کا نہیں ہے کچھ اس خرابی میں
گواہ اس کی شرافت پہ ہیں مہ و پرویں
فساد کا ہے فرنگی معاشرت میں ظہور
کہ مرد سادہ ہے بیچارہ زن شناس نہیں
اقبالa کے نزدیک عورت کا اصل مقام اس کا گھر ہے۔ وہ مرد کو اس کے اخراجات کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ان کے نزدیک عورت کو چراغِ خانہ بن کر رہنا چاہیے، شمعِ محفل بنے گی تو مرد کی مردانگی پر حرف آئے گا:
نہ پردہ نہ تعلیم، نئی ہو کہ پرانی
نسوانیتِ زن کا نگہباں ہے فقط مرد
جس قوم نے اس زندہ حقیقت کو نہ پایا
اس قوم کا خورشید بہت جلد ہوا زرد
اسی نقطۂ نظر کو انہوں نے ایک مضمون میں پیش کیا ہے جو ۱۹۳۳ء میں ’’لور پول پوسٹ‘‘ لندن میں شائع ہوا تھا۔مشرق اور مغرب میں خواتین کی حیثیت پر لکھتے ہوئے وہ کہتے ہیں:
’’مَیں اس خیال سے لرزہ براندام ہو جاتا ہوں کہ عورتیں قوتِ لایموت کا خود بندوبست کریں۔اس طرزِ عمل سے نسائیت کا جوہر تباہ و برباد ہو جائے گا۔‘‘
اقبالa نے مثنوی اسرار و رموز، جاوید نامہ، ارمغان حجاز اور ضرب کلیم میں متعدد مقامات پر معاشرے میں عورت کی حیثیت و اہمیت اور اس کے تقدس و احترام پر اظہار خیال کیا ہے۔ وہ عورت کے معاملے میں یورپ کے طرزعمل پر بہت پریشان ہیں اور وہاں کی مخلوط سوسائٹی اور مخلوط تعلیم کو نفرت و بیزاری کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ’’ضرب کلیم‘‘ میں کہتے ہیں:
جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن
کہتے ہیں اُسی علم کو اربابِ نظر موت
بیگانہ رہے دیں سے اگر مدرسۂ زن
ہے عشق و محبت کے لئے علم و ہنر موت
تہذیب مغرب نے جس طرح عورت کو اس کے گھر سے نکال کر زبردستی اس کے بچوں سے دور یا محروم کرکے اسے کارخانوں اور دفتروں میں لا بٹھایا ہے، اس پر اقبال ’’خرد مندانِ مغرب‘‘ کو یوں شرمندہ کرتے ہیں:
کوئی پوچھے حکیم یورپ سے
ہند و یوناں ہیں جس کے حلقہ بگوش
کیا یہی ہے معاشرت کا کمال
مرد بیکار و زن تہی آغوش
اقبالa عورتوں کی بے جا آزادی کے مخالف تھے اور اسے شمعِ محفل کی بجائے چراغ خانہ دیکھنا چاہتے تھے۔ جس قوم نے عورتوں کو ضرورت سے زیادہ آزادی دی، وہ کبھی نہ کبھی ضرور اپنی غلطی پر پشیمان ہوئی ہے۔ عورت پر قدرت نے اتنی اہم ذمہ داریاں عائد کررکھی ہیں کہ اگر وہ ان سے پوری طرح عہدہ برآ ہونے کی کوشش کرے تو اسے کسی دوسرے کام کی فرصت ہی نہیں مل سکتی۔اگر اسے اس کے اصلی فرائض سے ہٹا کر ایسے کاموں پر لگایا جائے‘جنہیں مرد انجام دے سکتا ہے تو یہ طریقِ کار یقینا غلط ہوگا، مثلاً عورت کو جس کا اصل کام آئندہ نسل کی تربیت ہے،کسی آفس میںفرنٹ ڈیسک پربٹھا دینا نہ صرف قانونِ فطرت کی خلاف ورزی ہے، بلکہ انسانی معاشرے کو درہم برہم کرنے کی افسوسناک کوشش ہے۔‘‘
آزادئ نسواں کے حامی مغرب پسند حضرات کی روش پر اقبال یوں پریشانی کا اظہار فرماتے ہیں:
’’معاشرتی اصلاح کے نوجوان مبلغ یہ سمجھتے ہیں کہ مغربی تعلیم کے چند جرعے مسلم خواتین کے تنِ مردہ میں نئی جان ڈال دیں گے اور وہ اپنی ردائے کہنہ کو پارہ پارہ کردے گی۔شاید یہ بات درست ہو،لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ اپنے آپ کو برہنہ پا کر اسے ایک مرتبہ پھر اپنا جسم ان نوجوان مبلغین کی نگاہوں سے چھپانا پڑے گا۔‘‘
اقبالa عورتوں کے پردے کے شدت سے حامی تھے۔ چنانچہ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ حکومت برطانیہ نے اقبال کو جنوبی افریقہ میں اہم سفارتی عہدے کی پیشکش کی، مگر شرط یہ رکھی کہ ان کی بیگم کو مخلوط محفلوں میں جانا پڑے گا۔اقبال نے اس شرط کو قبول نہیں کیا اور پیشکش ٹھکرا دی۔
ملفوظات اقبال میں روسی ترکستان کے ایک عالم موسیٰ جار اللہ سے اقبال کی گفتگو خاصی بصیرت افروز ہے۔ متعلقہ عبارت یوں ہے:
’’موسیٰ جار اللہ صاحب تشریف لے آئے۔ پردے کے متعلق باتیں ہونے لگیں۔ ڈاکٹر صاحب فرمانے لگے: ’’فطرت کا تقاضا معلوم ہوتا ہے کہ ہر وہ چیز جس میں تخلیقی صفات ہوں، پردے میں رہے، خود خدا کو دیکھئے، بے حجاب نہیں۔ زندگی کو لیجیے‘اگرچہ اس کے آثار کو ہم دیکھ سکتے ہیں، مگر بذات خود وہ ہماری نظروں سے پنہاں ہے۔‘‘
اس پر موسیٰ جار اللہ نے کہا کہ ہم لوگ بھی پردے کے قائل تو ضرور ہیں، مگر حجاب روکو ضروری نہیں سمجھتے اور نہ قرآن کریم میں اس کے متعلق کو ئی نصِ قطعی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا: ’’نہیں، قرآن حجابِ روکا قائل ہے‘‘۔
اور ’’مقالات‘‘ میں رقم طراز ہیں:
’’مغربی دنیا میں نفسی نفسی کا ہنگامہ گرم ہے اور غیر معتدل مسابقت نے ایک خاص قسم کی اقتصادی حالت پیدا کردی ہے۔عورتوں کا آزاد کردیا جانا ایک ایسا تجربہ ہے جو میری دانست میں بجائے کامیاب ہونے کے الٹا نقصان رساں ثابت ہوگا اور نظام معاشرت میں اس سے بیحد پیچیدگیاں واقع ہو جائیں گی۔ اور عورتوں کی اعلیٰ تعلیم سے بھی جس حد تک کہ افرادِ قوم کی شرحِ ولادت کا تعلق ہے جو نتائج مرتب ہوں گے، وہ بھی غالباً پسندیدہ نہ ہوں گے۔‘‘
اقبالa زن و مرد کی ترقی، نشوونما اور تعلیم و تربیت کے لئے جداگانہ میدانِ عمل کے قائل تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جسمانی طور پر بھی ایک دوسرے سے مختلف بنایاہے اور فرائض کے اعتبار سے بھی، چنانچہ وہ عورتوں کے لئے ان کی طبعی و فطری ضروریات کے مطابق الگ نظام تعلیم اور الگ نصاب چاہتے ہیں۔
’’شذرات‘‘میں لکھتے ہیں:
’’تعلیم بھی دیگر امور کی طرح قومی ضروریات کی تابع ہوتی ہے۔ہمارے مقاصد کے پیش نظر مسلمان بچیوں کے لئے مذہبی تعلیم بالکل کافی ہے۔ایسے تمام مضامین جن میں عورت کو نسوانیت اور دین سے محروم کر دینے کا میلان پایا جائے احتیاط کے ساتھ تعلیم نسواں سے خارج کردیئے جائیں‘‘۔
اسی سلسلے میں ’’ملفوظات اقبال‘‘ میں ان کا ایک قول ہے:
’’تعلیم کا ذکر آیا تو فرمایا کہ مسلمانوں نے دنیا کو دکھانے کے لئے دنیوی تعلیم حاصل کرنا چاہی، لیکن نہ تو دنیا حاصل کر سکے اور نہ دین سنبھال سکے۔یہی حال آج مسلم خواتین کا ہے جو دنیوی تعلیم حاصل کرنے کے شوق میں دین بھی کھو رہی ہیں۔‘‘
چنانچہ ایک مرتبہ جب اقبال بھوپال میں بغرضِ علاج اپنے دوست سرراس مسعود کے ہاں مقیم تھے تو دورانِ گفتگو لیڈی مسعود کے جواب میں فرمایا:
’’بے شک قرآن کریم میں حصول علم پر بڑا زور دیا گیا ہے، لیکن اس میں یہ کہاں لکھا ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں ایک مکتب میں مل جل کر تعلیم حاصل کریں۔‘‘
اسی نقطۂ نظر کی تائید اقبال نے ’’ضربِ کلیم‘‘ میں بھی کی ہے، وہ ایسی تعلیم کو سراسر موت قرار دیتے ہیں جس سے عورت نسوانیت کے جوہر کھودے، وہ ایک مسلمان ماں کی خوبیوں سے محروم ہوجائے اور جس سے اس کا دینی کردار ختم ہو جائے۔
دراصل اقبالa کے نزدیک امتِ مسلمہ کے لئے قابلِ تقلید نمونہ نبی اکرمe اور ان کے صحابہ کرام] کا اسوئہ ہے۔چنانچہ اسی نسبت سے وہ خواتین کو تلقین کرتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ الزہراr کی پیروی اختیار کریں اور اپنی آغوش میں ایسے بچوں کی پرورش کریںجو بڑے ہوکر شبیر صفت ثابت ہوں۔ ’’رموز خودی‘‘ میں لکھتے ہیں:
مزرعِ تسلیم را حاصل بتولؓ
مادراں را اسوئہ کامل بتولؓ
’’ارمغان حجاز‘‘ میں خواتین کو یوں نصیحت کرتے ہیں:
اگر پندے زِ درویشے پذیری
ہزار امت بہ میرد، تو نہ میری
بتولے باش و پنہاں شو ازیں عصر
کہ در آغوش شبیرے بگیری
’’یعنی ایک درویش کی نصیحت کو قبول کر لو تو ہزار قومیں ختم ہو جائیں، لیکن تم ختم نہیں ہو سکتیں اور درویش کی نصیحت یہ ہے کہ بتولؓ بن کر زمانۂ حاضر کی نگاہِ بد سے اوجھل ہوجا (یعنی پردہ اختیار کرلو) تاکہ تم اپنی آغوش میں ایک شبیر کو پال سکو۔‘‘
اس قولِ فیصل کے بعد اس موضوع پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔

No comments:

Post a Comment