Mz03-20-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, May 11, 2019

Mz03-20-2019


آٹھ تراویح سنت ... متفقہ فیصلہ

تحریر: جناب مولانا عبدالغفار ریحان
انہی کے مطلب کی کہہ رہا ہوں
زبان میری ہے بات ان کی
انہی کی محفل سجا رہا ہوں
چراغ میرا ہے رات ان کی
1         عن ابی سلمةt انہ سال عائشة ؓکیف کانت صلاة رسول اللہﷺ فی رمضان فقالت ما کان یزید فی رمضان ولا فی غیرہ علی احدی عشرہ رکعة۔
                ابو سلمہt نے سیدہ عائشہr سے پوچھا کہ آنحضرتe کی رمضان میں نماز کیسی تھی تو سیدہ عائشہr نے فرمایا کہ آنحضرت e رمضان میں اور غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ (مؤطا امام مالک (ص۱۰۴)، صحیح بخاری ج۱ (ص۶۷۹) سنن ابودائود ج۱ (ص۵۰۰) جامع ترمذی (ص۱۹۰)۔
2         آٹھ تراویح  کے بارے میں سیدہ عائشہr کی مزید احادیث دیکھئے: مؤطا امام مالک (ص۱۰۳)،صحیح بخاری ج۱(ص۶۶۸)، سنن ابو دائود ج۱ (ص۵۰۲)، سنن نسائی ج۱(ص۵۹۰)، سنن ابن ماجہ ج ۱(۵۸۵،۶۶۹)
3         آٹھ تراویح کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن عباسw کی حدیث دیکھئے: صحیح مسلم ج۲ (ص۲۶۱) سنن ابودائود ج۱ (ص۵۰۹ تا۵۱۱)۔
آنحضرت e کا رمضان میں تین رات کا جو قیام سیدہ عائشہr سے صحیح بخاری ج۱ (ص۶۷۱)، مؤطاامام مالک (ص۹۸۔۹۹)، صحیح مسلم ج۲(ص۲۵۶)، سنن ابودائودج۱ (ص۵۱۴)،سنن نسائی ج۱ (ص۵۹۲) میں، سیدنا زید بن ثابتr سے صحیح مسلم ج۲ (ص۶۷۰) میں اور سیدنا ابوذرt سے سنن ابودائود ج۱(ص۵۱۵)، جامع ترمذ ی ج۱ (ص۲۹۶)، سنن نسائی ج۱ (ص۵۹۲) میں، اور سیدنا نعمان بن بشیرt سے سنن نسائی ج۱ (ص۵۹۳) میں مذکورہ ہے۔ اس کے بارے میں :
4         علامہ عینی حنفی  نے عمدہ القاری ج۷ (ص۱۷۷)میں
5         علامہ زیلعی حنفی نے نصب الرایۃ ج۲ (ص۱۵۲) میں
6         علامہ عبدالحئی حنفی نے التعلیق الممجد (۱۴۱)میں
7         علامہ شوق نیموی حنفی نے آثار السنن (ص۴۶۸) میں، صحیح ابن حبان اور صحیح ابن خزیمہ کے حوالے سے سیدنا جابرt کی حدیث ذکر کی ہے۔
[صلی بنا رسول اللہ ﷺ ثمان رکعات واوتر]
سیدنا جابرt فرماتے ہیں کہ رمضان میں آنحضرت e نے ہمیں آٹھ رکعتیں اور وتر پڑھائے۔‘‘
8         علامہ ابن ھمام حنفی ؒ کا قول ہے:
[فتحصل من ھذاکلہ ان قیام رمضان سنة احدی عشرة بالو ترفی جماعة۔]
اس ساری بحث کا حاصل یہ ہے کہ قیام رمضان وتر سمیت گیارہ رکعت با جماعت سنت ہے ۔ (مرقاۃ ج۳ (ص۱۹۴)
9         ملاّ علی قاری حنفی کا فرمان ہے:
[فانہ صح عنہ انہ صلی بھم ثمان رکعات والوتر۔]
’’صحابہ کرام کو آٹھ رکعات تراویح اور وتر پڑھانا آنحضرت e سے ثابت ہے۔‘‘ (مرقاۃ  ج۳ (ص۱۹۲)
10         علامہ انور شاہ کشمیری حنفی شیخ الحدیث دیوبند کا ارشاد ہے:
[لامناص من تسلیم ان تراویحہ علیہ السلام کانت ثمانی رکعات]
’’یہ بات تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ کا ر نہیں کہ آنحضرت e کی تراویح آٹھ رکعت تھیں۔ (العرف الشذی (ص۳۰۹)
{تلک عشرة کاملة}
آٹھ تراویح کے بارے میں ائمہ اربعہ کا مسلک
1امام ابو حنیفہؒ کا موقف:
امام ابو حنیفہ ؒ کے عظیم شاگرد امام محمدؒ نے آٹھ رکعت والی احادیث ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے: [بھذا کلہ ناخذ] ان تمام احادیث پر ہمارا عمل ہے۔ مئوطا امام محمد (ص۱۴۳)
2امام مالکؒ کا موقف:
علامہ عینی حنفی فرماتے ہیں: [احدی عشرة رکعة ھواختیار مالک لنفسہ] گیارہ رکعات امام مالک کا مسلک ہے ۔ (عمدۃ القاری ج۱۱ (۱۲۷)
3امام شافعیؒ کا موقف:
[قال الشافی اخبرنا مالک عن محمد بن یوسف عن السائب بن یزید قال امر عمر الخطاب ابی بن کعب و تمیما الداری ان یقوما للناس با حدی عشرة رکعة۔]
امام شافعیؒ فرماتے ہیں: امام مالک نے محمد بن یوسف سے اور انہوں نے سائب بن یزید سے روایت کی ہے کہ سیدنا عمرt نے ابی کعب اور تمیم داریw کو حکم دیا کہ لوگوں کو گیارہ رکعتیں پڑھائیں۔ (معرفۃ السنن والا ثار ج۲ (ص۳۰۵)، سیدنا عمرt کا فرمان دیکھئے۔ مؤطاامام مالک  (ص۱۰۰)
4امام احمدؒ کا موقف:
شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں:
[خیر احمد بین احدی عشرة وثلاث وعشرین]
’’امام احمد نے اختیار دیا ہے خواہ گیارہ پڑھو یا تئیس۔ (المسوی شرح المئو طا  ج۱(ص۱۷۴)۔
5مسک الختام:
علامہ شامی حنفیؒ نے ذکر کیا ہے:
[ان مقتضی الدلیل کون المسنون منھا ثمانية]
’’دلیل کا تقاضہ ہے کہ آٹھ رکعات تراویح مسنون ہیں۔‘‘ (ردا لمختار علی درالمختار  ج۱ (ص۵۲۱)

No comments:

Post a Comment