Mz04-01-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Monday, May 13, 2019

Mz04-01-2019


مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی

تحریر: جناب ملک عبدالرشید عراقی
v   شخصیت:
مولانا حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹیa اپنے عہد کے جلیل القدر وبلند پایہ مفسر قرآن‘ اعلیٰ پایہ محدث‘ نامور مؤرخ‘ محقق‘ دانشور‘ خطیب‘ مقرر‘ مبلغ‘ واعظ‘ معلم‘ متکلم‘ مناظر‘ مدرس‘ مصنف‘ صحافی اور علوم عالیہ وآلیہ کے متبحر عالم دین اور صاحب جلال بزرگ تھے۔ ملکی سیاست کے علاوہ عالمی سیاست سے بھی پوری طرح باخبر تھے اور برصغیر میں جن مذہبی‘ دینی‘ علمی‘ قومی وملی اور سیاسی تحریکات نے جم لیا ان کے قیام اور پس منظر سے پوری طرح باخبر تھے۔ ہر تحریک کے بارے میں اپنی ایک ناقدانہ رائے رکھتے تھے۔
مولانا میر سیالکوٹیa قدرت کی طرف سے اچھے دل ودماغ لے کر پیدا ہوئے تھے‘ ذہین وفطین تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حافظہ کی غیر معمولی نعمت سے نوازا تھا۔ چنانچہ رمضان المبارک میں دن میں روزہ کی حالت میں ایک پارہ حفظ کرتے اوررات کو نماز تراویح میں سناتے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ان پر خاص فضل تھا۔
قرآن مجید سے ان کو خاص شغف تھا اور اس کے ترجمہ وتفسیر کو مرکز توجہ قرار دیتے تھے اور یہ ان کی زندگی کا مقصد حیات تھا۔ چنانچہ قرآن مجید سے والہانہ لگاؤ اور محبت کی بنا پر سورۂ فاتحہ کی ایک ضخیم تفسیر بنام واضح البیان فی تفسیر ام القرآن لکھی جو ۴۰۸ صفحات پر مشتمل ہے۔ صرف ام الکتاب کی اتنی بسیط تفسیر میں کس قدر علمی نکات بیان ہوئے ہوں گے۔ اس کے علاوہ صرف آیت قرآنی:
{اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرٰفِعُکَ اِلَیَّ} کی تفسیر دو جلدوں میں بعنوان ’’شہادۃ القرآن‘‘ تالیف فرمائی جو مسئلہ حیات عیسیٰu پر ایسی گواہی ہے کہ سیدنا مسیحu کو مردہ بتانے والے بھی:
{کَذٰلِکَ یُحْیِ اللّٰہُ الْمَوْتٰی وَیُرِیْکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ}
پکار اٹھتے ہیں۔ قرآن کریم سے شغف اور محبت میں ان کے دو رسائل تعلیم القرآن اور تائید القرآن بھی ہیں۔
v   ولادت:
 ۱۸۷۴ء / ۱۳۹۱ھ‘ سیالکوٹ۔ وفات: ۱۹۵۶ء / ۱۳۷۵ھ۔ مدفن: سیالکوٹ۔
v   تعلیم:
عصری تعلیم: ایف اے۔      مذہبی تعلیم: فاضل علوم اسلامیہ
v   اساتذہ:
مولانا ابوعبداللہ عبیداللہ غلام حسن سیالکوٹیa
شیخ الحدیث استاد پنجاب حافظ عبدالمنان محدث وزیر آبادیa
شیخ الکل فی الکل حضرت میاں سید محمد نذیر حسین محدث دہلویa
v   تدریس:
فراغت تعلیم کے بعد کچھ مدت دارالحدیث رحمانیہ دہلی میں تدریس فرمائی۔ بعد ازاں سیالکوٹ میں دار الحدیث کے نام سے اپنا مدرسہ جاری کیا لیکن جماعتی اور ملکی سیاست میں حصہ لینے کی صورت میں یہ مدرسہ زیادہ دیر جاری نہ رہ سکا‘ تا ہم آپ سے کئی علمائے کرام نے استفادہ کیا۔
v   تلامذہ:
مشہور تلامذہ یہ ہیں: 1 شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی 2 مولانا عبدالمجید خادم سوہدروی3مولانا عصمت اللہ مبارکپوری 4مولانا عبیدالرحمن مبارکپوری 5مولانا عبدالصمد حسین آبادی مبارکپوری6مولانا عبدالواحد سیالکوٹی 7مولانا معین الدین لکھویS۔
v    شمائل وخصائل:
مولانا محمد ابراہیم میر کا شیخ الاسلام مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری a سے خاص تعلق تھا۔ دونوں علمائے کرام ایک ساتھ مذہبی جلسوں میں شریک ہوتے لیکن دونوں میں ایک فرق تھا‘ مولانا محمد ابراہیم میر غیور طبیعت اور سراپا جلال تھے جبکہ مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری نرم طبیعت اور سراپا جمال تھے۔
v   مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی رحمہ اللہ:
اپنی وضع کے پابند‘ اخلاق وشرافت کا مجسمہ اور علم وحلم کا پیکر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت سی خوبیوں سے نوازا تھا۔ اتنے بڑے مبلغ اسلام ہونے کے باوجود مزاج میں رعونت‘ اکڑ فوں‘ تعلّی‘ خودستائی اور شیخی نہیں تھی۔ ان میں اخلاص وللہیت‘ ذہانت وفطانت‘ قابلیت ولیاقت‘ امانت ودیانت‘ شفقت ورحمت‘ محبت والفت‘ تقویٰ ومہارت‘ شرافت ونجابت‘ رعب وحشمت‘ احترام وعظمت‘ اخلاق ومروت‘ وضعداری ورواداری اور خوش مذاقی ان کے کردار کے نمایاں اوصاف تھے۔
مولانا میر سیالکوٹی بڑے حساس‘ ذہین وفطین تھے۔  آپ کی پوری زندگی قناعت‘ وفا‘ ایثار اور قربانی کی جیتی جاگتی تصویر تھی۔
سیاسی اعتبار سے مولانا میر سیالکوٹی کٹر مسلم لیگی تھے۔ آخر زندگی تک مسلم لیگ سے وابستہ رہے اور دو قومی نظریہ کے حامی تھے۔
v    اعتراف عظمت:
مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی جید عالم دین تھے۔ ان کے تبحر علمی‘ ذوق مطالعہ اور وسعت معلومات کے اعتبار سے انہیں ہر طبقے میں قدر واحترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ مولانا قاضی محمد اسلم سیف فیروز پوریa لکھتے ہیں کہ
’’مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹیa ہمارے ملک کی عہد ساز شخصیتوں میں سے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو گونا گوں اوصاف سے متصف فرمایا تھا اور ان میں بے شمار خوبیاں ودیعت فرمائی تھیںـ۔ وہ ہمارے ان اکابر اسلاف کی ایک عظیم نشانی تھے جن کی بدولت اللہ تعالیٰ نے برصغیر میں بلکہ برما تک مسلک اہل حدیث اور تعلیمات کتاب وسنت کو فروغ بخشا۔‘‘ (سوانح مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی: ص ۴)
مولانا عبداللہ گورداس پوریa فرماتے ہیں کہ
’’مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی عالم دین تھے‘ ان میں انتظامی صلاحیتیں بہت تھیں۔‘‘
مؤرخ اہل حدیث مولانا محمد اسحاق بھٹیa لکھتے ہیں کہ
’’مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی بڑے عالم وفاضل‘ مبلغ ومفسر اور مناظر ومباحث تھے اور بہت بڑے مصنف بھی تھے۔‘‘
پروفیسر حکیم عنایت اللہ نسیم سوہدرویؒ کہتے ہیں کہ
’’مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی بلند پایہ عالم دین اور جامع کمالات شخصیت تھے۔ تحریر وتقریر پر یکساں عبور رکھتے تھے۔ تمام عمر اسلام کی سربلندی وسرفرازی اور ملت اسلامیہ کی نشأۃ ثانیہ کے لیے مصروف عمل رہے۔ اسلام سے والہانہ محبت ان کا امتیازی وصف تھا۔‘‘ (چالیس علمائے اہل حدیث: ص ۲۲۴)
v   علامہ سید سلیمان ندویؒ سے خصوصی تعلق:
برصغیر پاک وہند کے تمام مکاتب فکر کے ممتاز علمائے کرام‘ سیاستدان اور ادباء سے مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹیa کے تعلقات تھے۔ ان میں ندوۃ العلماء لکھنو کے گل سرسبد اور مشہور سیرت نگار علامہ سید سلیمان ندویa سے خصوصی تعلقات تھے اور دونوں علمائے کرام ایک دوسرے سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔ مولانا ابوعلی اثریa سابق رفیق دار المصنفین اعظم گڑھ نے ان دونوں علمائے کرام کی محبت اور ایک دوسرے سے عقیدت والفت کا ذکر اپنے ایک مضمون میں کیا ہے جو انہوں نے مولانا سیالکوٹی کی وفات پر ہفت روزہ الاعتصام لاہور میں لکھا تھا۔ مولانا اثری لکھتے ہیں کہ
’’مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی ۱۹۴۵ء میں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس مئو ناتھ بھنجن ضلع اعظم گڑھ کے اجلاس میں شرکت کے لیے تشریف لے گئے اور اس اجلاس کی صدارت کی۔ اس اجلاس میں شیخ الاسلام مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری کی تحریک پر یہ قرار داد منظور ہوئی کہ برصغیر کے اہل حدیث حضرات کو مسلم لیگ کی حمایت کرنا چاہیے۔‘‘
علامہ سید سلیمان ندویa نے بذریعہ تار مولانا سیالکوٹی کو اطلاع دی کہ واپسی پر دار المصنفین اعظم گڑھ ضرور تشریف لائیے اور دار المصنفین کی رونق کو دوبالا کیجیے۔‘‘
مولانا سیالکوٹیa کانفرنس کے اختتام پر اعظم گڑھ تشریف لے گئے۔ مولانا اثری لکھتے ہیں کہ
’’مولانا سیالکوٹی سے اس درجہ ارادت تھی کہ ان کی آمد پر سید صاحب واجب الاحترام قبلہ نے خود اپنے ہاتھوں سے مہمان خانہ تا فرش فروش میز کرسی اور دوسرے سامان آرائش سے سجایا تھا اور اتنا خوش تھے کہ بس دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ جب موصوف کی گاڑی مہمان خانہ کے سامنے پہنچی تو آگے بڑھ کر استقبال کیا‘ دیر تک بغل گیر رہے‘ خود ہی سامان اتروایا اور گاڑی کا کرایہ اپنی جیب سے ادا کیا۔ یہ منظر بڑا پر اثر اور قابل دید تھا۔‘‘ (ہفت روزہ الاعتصام لاہور ۱۶/مارچ ۱۹۵۶ء)
اس کے آگے مولانا اثری مرحوم لکھتے ہیں کہ
’’علامہ سید سلیمان ندوی جیسا بلند پایہ عالم جن کی بہترین‘ عمدہ اور بلند پایہ تصانیف وتالیف اور محققانہ علمی اور جامع مقالات ومضامین کی ساری دنیا میں دھوم تھی۔ ایک طرف مستشرقین یورپ سے اپنی تصانیف کی داد لیتے تھے اور دوسری طرف اپنی انشاء پردازی‘ علمی تبحر اور تفقہ واجتہاد پر عالم اسلامی سے خراج تحسین وصول کرتے تھے جو جمعیۃ العلماء ہند کے صدر نشین‘ ندوہ کی کائنات کے حامل اور شبلی کے علوم ومعارف کے ترجمان تھے۔ انہوں نے والہانہ عقیدت سے مولانا سیالکوٹی مرحوم کا استقبال کیا جیسے ایک احسان مند شاگرد استاد کا استقبال کرتا ہے۔‘‘
مولانا ابوعلی اثریa ایک دوسرے مضمون میں جو سہ روزہ منہاج لاہور کی اشاعت ۱۷-۲۱-۲۸جون ۱۹۵۶ء کو شائع ہوا تھا لکھتے ہیں کہ
’’سید صاحب کو حال کے علمائے اہلحدیث میں سب سے زیادہ تعلق مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی سے تھا۔ ان کو جماعت اہل حدیث کے اہل دل علماء میں شمار کرتے تھے اور ان کے فضل وکمال پر ان کو بڑا اعتماد تھا۔ ان سے مکاتبت ومراسلت کا سلسلہ بھی قائم تھا۔ سید صاحب کے نام ملک کے مشاہیر علماء کے خطوط کے وسیع ذخیرہ میں صحف ابراہیم کی بھی ایک اچھی خاصی تعداد ہے جو زیادہ تر قرآنی تصوف وحدیثی احسان وسلوک پر مشتمل ہیں۔ ان سے اعظم گڑھ سے باہر دینی جلسوں اور تقریبوں میں تو ملاقات کا اکثر وبیشتر اتفاق ہوتا تھا۔ بعدہ باہم بڑے راز ونیاز کی باتیں ہوتی تھیں لیکن اس طبعی مناسبت‘ فکری اہم آہنگی‘ تصنیفی ہم ذوقی امور سے قلبی لگاؤ کے باوجود دارالمصنفین آئے اور سید صاحب کا مہمان بننے کا اتفاق مولانا میر کو یہیں ہوا تھا۔ جس کی تمنا سید صاحب کو بہت تھی۔ ہندوستان کی تقسیم سے صرف ایک سال پہلے حسن اتفاق سے ایک جلسہ کی تقریب میں تیس برس بعد مئو تشریف لائے تو سید صاحب نے خط لکھ کر اعظم گڑھ بلوایا۔ تین دن ان کا قیام رہا۔ دوران قیام پنج وقتہ نمازیں انہی کی اقتداء میں ہوتی رہیں۔ جمعہ بھی انہی نے پڑھایا۔ جہری نمازوں میں وہ سورتوں کے ساتھ بسم اللہ بالجہر پڑھتے تھے جو یہاں کے لیے بالکل نئی چیز تھی۔ حنفیہ اس کے قائل نہیں‘ لوگوں کا بیان ہے کہ اپنے طریقہ ومسلک کے مطابق نماز پڑھانے کے باوجود نمازوں میں جو لذت اور کیفیت محسوس ہوئی اور توجہ وانابت الی اللہ کا جو غلبہ ہوا اس کی یاد اب تک باقی ہے۔‘‘ (سید سلیمان ندوی از مولانا ابوعلی اثری: ص ۲۰۲)
v   قادیانیت کی تردید میں مولانا سیالکوٹی کی تصانیف:
قادیانی فتنہ کی تردید میں برصغیر کے علمائے اہل حدیث کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ امام العصر مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی a کا شمار ان علماء میں ہوتا ہے جن کی ساری زندگی اول تا آخر قادیانی فتنہ اور آنجہانی مرزا قادیانی کی نبوت کاذبہ کا قلع قمع کرنے میں بسر ہوئی۔ مولانا سیالکوٹی نے اس سلسلہ میں جو تحریری خدمات انجام دیں اس بارے میں مولانا برق التوحیدی رقمطراز ہیں کہ
’’مولانا میر سیالکوٹی  کی دینی خدمات میں رد قادیانیت سرفہرست ہے کہ مولانا سید محمد نذیر حسین دہلوی ۱۹۰۲ء میں وفات پاتے ہیں تو اسی سال ان کے دور اثر کے شاگرد رشید مولانا میر سیالکوٹی نے ختم نبوت کے محاذ پر اپنے آپ کو وقف کر دیا۔ اسی سال آپ نے حیات مسیح پر ایک اشتہار شائع کر کے مرزا قادیانی کو بھیجا اور مرزا قادیانی اس کا جواب دینے سے خاموش رہا۔‘‘ (تحریک ختم نبوت (خدمات اہل حدیث کے امتیازی پہلو): ص ۲۳۰)
v   تصانیف کی تفصیل:
۱۔ شہادۃ القرآن (۲ جلد)
مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی کی یہ کتاب حیات مسیح u میں لا جواب ہے۔ یہ کتاب صرف آیت{اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرٰفِعُکَ اِلَیَّ} کی تفسیر دو جلدوں میں ہے اور حیات مسیح u پر ایسی گواہی ہے کہ سیدنا مسیحu کو مردہ بتانے والے بھی {کَذٰلِکَ یُحْیِ اللّٰہُ الْمَوْتٰی وَیُرِیْکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ} پکار اٹھتے ہیں۔
فضیلۃ الشیخ محقق العصر مولانا ارشاد الحق اثریd رقمطراز ہیں کہ
’’شہادۃ القرآن مولانا سیالکوٹی مرحوم ومغفور کی عظیم کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے۔ حصہ اول میں سیدنا عیسیٰu کی حیات پر بحث ہے جبکہ دوسرے حصہ میں مرزا قادیانی کی پیش کردہ ان (۳۰) آیات کا تسلی بخش جواب ہے جنہیں اس نے ’’ازالہ اوہام‘‘ میں وفات مسیح u کے بارے میں پیش کیا ہے۔‘‘ (سوانح حیات مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی: ص ۵۹)
مولانا محمد اسحاق بھٹیa لکھتے ہیں کہ
’’(شہادۃ القرآن ۲ جلدوں میں ہے) اس میں قرآن مجید‘ صحیح احادیث‘ اجماع امت اور لغوی قرائن وشہادات کی روشنی میں حیات مسیح کے دلائل دیئے گئے ہیں۔ اس کا پورا نام ’’شہادۃ القرآن باعلیٰ اللہ والمسیح حیا الی السماء‘‘ ہے۔ یہ کتاب قادیانیت کی تردید میں ہے۔‘‘ (ایضاً ص ۳۵)
شہادۃ القرآن کو حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری a بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ (صفحات مجموعی ۲/۳۳۶)
۲۔ الخبر الصحیح عن القبر المسیح:
اس رسالہ میں سیدنا مسیحu کی قبر اور آپ کے مدفن مقدس کے متعلق قرآنی آیات‘ احادیث نبویہ اور اقوال سلف سے بحث کر کے مرزا غلام قادیانی کے اس قول کی کہ ’’سیدنا عیسیٰu کی قبر کشمیر کے شہر سرینگر میں کی ہے۔‘‘ تردید کی گئی ہے۔ (صفحات ۲۴)
۳۔ ختم نبوت اور مرزائے قادیان:
مرزا قادیانی آنجہانی نے سورۂ فاتحہ کی آیت {صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ} سے آنحضرتe کے بعد بھی نبوت جاری رہنے کی دلیل پکڑی ہے‘ یہ رسالہ اس کے رد میں ہے۔ (صفحات:۸)
۴۔ رسائل ثلاثہ:
یہ کتاب تین مضامین کا مجموعہ ہے: 1 امام زمان 2مہدی منتظر 3 مجددِ دوراں
یہ کتاب مرزا قادیانی اور سر سید احمد خاں کے دعاوی کی حقیقت کھولنے کے لیے خصوصاً اور دیگر مدعیان امامت وامارت کے لیے عموما آئینہ کا کام دیتی ہے۔ (صفحات ۱۱۰)
۵۔ نزول الملائکہ والروح علی الارض:
اس رسالہ میں مرزا قادیانی کے ان عقائد کی بدلائل تردید کی گئی ہے جو نزول ملائکہ سے متعلق ہیں۔ (صفحات: ۲۴)
۶۔ مرزا قادیانی کی بد کلامیاں:
اس رسالہ میں مرزا غلام قادیانی کی بد کلامیوں کا جواب اچھے پیرایہ میں دیا گیا ہے۔ یہ رسالہ مولانا سیالکوٹی کی کتاب ’’المحقق‘‘ کے آخر میں ملحق ہے۔ (صفحات ۸)
۷۔ نص ختم النبوۃ بالعموم الدعوۃ وجامعیۃ الشرعیۃ:
اس رسالہ میں بیان کیا گیا ہے کہ سیدنا آدمu سے لے کر حضرت محمد رسول اللہe تک نبوت کا سلسلہ جاری رہا اور اب بند کیوں ہو گیا۔ پھر ختم نبوت پر روشنی ڈالی گئی ہے‘ اس کے بعد ان آیات کے رموز بتائے گئے ہیں جن سے مرزا قادیانی استدلال کرتے ہوئے اپنے آپ کو کبھی نبی‘ کبھی مسیح اور کبھی مہدی کہتا تھا۔ (صفحات: ۳۲)
۸۔ سلم العلوم الی اسرار الرسول:
آنجہانی مرزا قادیانی نے آپe کے جسمانی معراج کا انکار سیدنا مسیحu کے انکار ’’رفع الی السماء‘‘ کے ضمن میں کیا ہے‘ یہ رسالہ اس کے جواب میں ہے۔ (صفحات ۴۸)
۹۔ صدائے حق:
اس مختصر رسالہ میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ کہ عیسیٰu فوت ہو گئے ہیں بالکل جھوٹ ہے۔ ساتھ ہی اس کی بھی توضیح کی گئی ہے کہ قادیانی نہ مہدی موعود ہے نہ نبی ورسول بلکہ دجال اور شیطان ہے۔ (صفحات: ۱۶)
۱۰۔ کھلی چٹھی (نمبر ۲)
اس رسالہ میں مولوی غلام رسول مرزائی کے ٹریکٹ کا جواب دیا گیا ہے۔ (اہل حدیث امرتسر۲۱/ فروری ۱۹۴۱ء)
۱۱۔ قادیانی حلف کی حقیقت:
اس کتاب کا مفہوم اپنے نام سے ظاہر ہے۔ (اہل حدیث امرتسر۔ یکم فروری ۱۹۳۵ء)
۱۲۔ مرزا قادیانی کا آخری فیصلہ:
اس کتاب کا ذکر اہل حدیث امرتسر یکم فروری ۱۹۳۵ء میں ہے۔
۱۳۔ کشف الحقائق یعنی روداد مناظرات قادیانیت:
یہ کتاب اس مناظرہ کی روداد ہے جو قادیانیوں اور اہل حدیث کے ما بین ماہ جون ۱۹۲۳ء سیالکوٹ میں ہوا تھا۔ اس میں فریقین کے دلائل جمع کیے گئے ہیں۔ (صفحات ۱۴۱) (اہل حدیث امر تسر۔ یکم ستمبر۱۹۲۳ء)
۱۴۔ فیصلہ ربانی بر مرزا قادیانی (پنجابی منظوم)
اس رسالہ میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مرزا قادیانی بموجب دعائے مرض خود ہیضہ میں مبتلا ہو کر جہنم واصل ہوا۔ (اہل حدیث امرتسر۔ ۱۰ نومبر ۱۹۳۳ء)
نوٹ:
کتاب نمبر ۱۰‘ ۱۱‘ ۱۲‘ ۱۳‘ ۱۴ جماعت اہل حدیث کی تصنیفی خدمات از مولانا محمد مستقیم سلفی بنارسی ص ۷۲۴‘ ۷۲۵)


No comments:

Post a Comment