Mz04-20-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, May 11, 2019

Mz04-20-2019


قرآن کریم کا صفاتی نام ’’التذکرہ‘‘

تحریر: جناب سید اکرام اللہ گیلانی
اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی رہنمائی کے لیے بہت سے انبیاء کرامu دنیا میں مبعوث کیے جن کا مقصد انسانوں کو اللہ رب العزت کی عبادت کی طرف راغب کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی ہر اس کام کی طرف رہنمائی کرنا تھا ، جو ان کے حق میں بہتر ہو ۔
اللہ عزوجل نے ہر آنے والے نبی کو اس کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے کچھ معجزات بھی عطا کیے تاکہ عناد پرست مخالفین کا سد باب کیا جاسکے اور اطاعت گزار متبعین کے حوصلوں کو جلا بخشی جائے۔ لیکن مرور زمانہ میں جوںجوں وہ انبیاء کرام دنیا سے رخصت ہوتے گئے ویسے ہی ان کے معجزات بھی یا توکلی طور پر ختم ہوتے گئے جیسے ید بیضا، دم عیسیٰ اور عصائِ موسیٰ یا پھر اگر باقی رہے بھی تو اپنی اصل حالت و کیفیت برقرار نہ رکھ پائے جیسے تورات و انجیل ہے ۔ لیکن جملہ انبیاء کرام علیہم السلام میں سے جناب محمد رسول اللہ eکو یہ نمایاں خصوصیت حاصل ہے کہ آپ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بھی آپ کے کئی معجزات آج بھی زندہ جاوید اور تروتازہ ہیں۔ جیسا کہ آب زم زم کا تسلسل ، حرمین میں مسلمانوںکا کنٹرول اور قرآن حکیم کا اصل شکل پر برقرار رہنا وغیرہ ۔
نبی کریم e کے معجزات میںسے قرآن ، ایک ایسا معجزہ ہے جو آج بھی آپ کی نبوت و رسالت اور حقانیت پر مہر ثبت کررہا ہے۔ یہ کتاب اپنے اندر بے شمار خصائص اور امتیازات سموئے ہوئے ہے‘ اس کے بہت سے صفاتی نام ہیں ، ہر نام در حقیقت ایک مستقل باب ہے، القرآن، الکتاب، الفرقان، الذکر، الحکیم، وغیرہ‘ یہ سب قرآن کے صفاتی نام ہیں انہی میں سے ایک نام ’’التذکرہ‘‘ہے ۔ قرآن مجید ہی میں اس کا تذکرہ ہے۔
{مآ انزلنا علیک القراٰن لتشقیٰٓ}
’’ہم نے آپ پر یہ قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ مصیبت میں پڑ جائیں۔‘‘
{اِلَّا تَذْکِرَۃً لِّمَنْ یَّخْشٰی} [طہ:۳]
’’بلکہ نصیحت کرنے کے لیے، اس کو جو ڈرتا ہے۔‘‘
’’التذکرۃ‘‘کا لغوی معنی ہے کسی کو وعظ ونصیحت کرنا، یا کسی کوبات یاددلانا یا یاددہانی کا ذریعہ۔ [القاموس الوحید :۵۷۲]
مفہومی معنی یوں ہوگا کہ کسی کو کوئی بات یاددلاتے ہوئے اسے وعظ و نصیحت کرنا ۔
اس اعتبار سے قرآن کانام’’التذکرۃ‘‘ اسم بامسمی ہے ۔ قرآن مختلف افراد ، اقوام اور ملل کو ان کی اصلیت یاد دلاتے ہوئے انہیں وعظ ونصیحت کرتا ہے ۔
قرآن کی صفت کے چند نمونے ملاحظہ فرمائیں:
{وَاذْکُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَکُمُ النَّاسُ فَاٰوٰٹکُمْ وَ اَیَّدَکُمْ بِنَصْرِہٖ وَ رَزَقَکُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ} [الأنفال:۲۶]
’’اور یاد کرو جب تم بہت تھوڑے تھے، زمین میں نہایت کمزور سمجھے گئے تھے، ڈرتے تھے کہ لوگ تمھیں اچک کر لے جائیں گے تو اس نے تمہیں جگہ دی اور اپنی مدد کے ساتھ تمہیں قوت بخشی اور تمہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا، تاکہ تم شکر کرو۔‘‘
جب مسلمانوں کو مدینہ میں حکومت ، غلبہ ، طاقت اور خوشحالی مل گئی تو اس آیت مبارکہ میں انہیں مکی زندگی میں قلتِ تعداد ، سختی اور خوف کے مناظر یاد کرواتے ہوئے تقوی اور پرہیزگاری کی نصیحت کی گئی ہے ۔ یہی قرآن کی صفت ’’التذکرہ ‘‘ہے۔
{وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا وَ اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآئً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًا وَ کُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَکُمْ مِّنْھَا کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ}
’’اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور جدا جدا نہ ہو جائو اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو، جب تم دشمن تھے تو اس نے تمھارے دلوں کے درمیان الفت ڈال دی تو تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے اور تم آگ کے ایک گڑھے کے کنارے پر تھے تو اس نے تمھیں اس سے بچا لیا۔ اس طرح اللہ تمھارے لیے اپنی آیات کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تم ہدایت پائو۔‘‘ [آل عمرآن:۱۰۳]
اس آیت میں مسلمانوں کو اتفاق و اتحاد اور یکجہتی کی اہمیت بتانے کے لیے ان کے سامنے ان کے پراگندہ ماضی اور زمانہ جاہلیت کی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے کہ آج اگر تم مدینہ منورہ میں متحد ہو تو یہی تمہاری شان وشوکت کا راز ہے اور اس اتحادکی قدر کرو ورنہ اگر تسبیح کے دانوں کی طرح ٹوٹ کر بکھر گئے تو تمہاری حیثیت پرکاہ کے برابر بھی نہیں ہوگی۔ یہی قرآن کی صفت ’’التذکرہ ‘‘ہے۔ 
{اَوَلَمْ یَرَ الْاِِنسَانُ اَنَّا خَلَقْنَاہُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِِذَا ہُوَ خَصِیْمٌمُّبِیْن} [یٰسین:۷۷]
’’اور کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے ایک قطرے سے پیدا کیا تو اچانک وہ کھلا جھگڑنے والاہے۔‘‘
اس آیت میں مکہ کے کفارکو نصیحت کی گئی ہے، جب انہوں نے مرنے کے بعد دوبارہ اُٹھائے جانے پر اعتراض کیا اور کہا کہ بھلا وہ ہڈیاں جو گل سڑ کر بوسیدہ ہو جائیں وہ کیسے زندہ ہوسکتی ہیں تو انہیں سمجھایا گیاکہ وہ تو پھر ہڈیاں ہیں تم ذرا اپنے ماضی پر غور کرو جب تم محض پانی کا ایک قطرہ تھے اور اگر پانی کے قطرے سے تمہیں زندہ کیا جاسکتا ہے تو بوسیدہ ہڈیوں سے کیونکر ناممکن سمجھ بیٹھے ہو ۔ یہی قرآن کی صفت’’التذکرہ‘‘ ہے۔
’’التذکرۃ‘‘ کا ایک معنی (یاد دہا نی کا آلہ )بھی ہے۔[القاموس الوحید ص: ۵۷۲]
سو قرآن یاد کرواتا ہے کہ اے لوگو! عالم ارواح میں ہونے والے ’’عھدِ الست ‘‘کو یاد کرو اور اپنے رب کی عبادت کرو۔
اے لوگو اگر شجرۂ ممنوعہ کو چکھنے سے تمہارے باپ آدم کو جنت سے نکالا جاسکتا ہے تو تمہارا مؤاخذہ کرنے پر بھی اللہ تعالیٰ قادر ہے۔
اے لوگو ! قوم نوح ، قوم لوط ، قوم عاد ، قوم ثمود ، اورقوم شعیب پر آنے والے عذابوں کو یاد کرتے ہوئے عبرت حاصل کرو ۔
اے لوگو! فرعون کویاد کرو وہ کیسی شان و شوکت اور قوت کا مالک تھا لیکن اللہ تعالیٰ کی گرفت سے نہ بچ سکا تو تم اگر نافرمانی کرو گے تو کیسے بچ پاؤ گے۔
اے لوگو! وہ واقعہ یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے ایک بے بس قوم کو موت کے منہ سے بچاتے ہوئے سمندر کی بے رحم لہروں کے درمیان راستے مہیا کیے تھے اگر تم اللہ کے دین کی نصرت کرو گے تو اللہ آج بھی اس بات پر قادر ہے۔
اے لوگو! یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے بھڑکتی ہوئی آگ سے ابراہیمu کو زندہ باہر نکالاتھا۔
آج بھی ہو گر ابراہیم کا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا
اے لوگو! یاد رکھو مچھلی کے پیٹ میں جانے والے یونسu کو بچانے والے اللہ رب العزت آج بھی ’’حی لا یموت‘‘ہیں ۔ الغرض قرآن کا صفاتی نام ’’ التذکرۃ‘‘ محض نام نہیں بلکہ قرآن میں یہ وصف بدرجہ اتم پایا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
{فَذَکِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ} [ق: ۴۵]
’’سو قرآن کے ساتھ اس شخص کو نصیحت کیجئے جو میرے عذاب کے وعدے سے ڈرتا ہے ۔ ‘‘
یہ کیا شاندار نصیحت اور تذکرہ ہے ۔
حافظ ابن رجب h لطائف المعارف کے ص ۵۴۷ میں لکھتے ہیں کہ کسی نیک بندے نے غسل کیلئے حمام کا قصد کیا ، جب وہ حمام میں داخل ہوئے اور سر پر گرم پانی پڑا تو محسوس کیا کہ یہ پانی کچھ زیادہ ہی گرم ہے لہذا پیچھے ہٹے اور رونا شروع کردیا ، پوچھنے پر وجہ بتلائی کہ مجھے جہنمیوں کے بارے اللہ تعالیٰ کاقرآن یاد آگیا کہ:
{یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُئُوْسِھِمُ الْحَمِیْم}
’’ان کے سروں کے اوپر سے کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا۔ ‘‘ [الحج: ۱۹]
عمر t جیسے جری اور بہادر آدمی کو دیکھئے ایک دن تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : یہ ہے عمر جس نے کبھی عدل نہیں کیا ، عمرt کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا ، قریب تھا کہ اس کو کوئی سزا سنائی جاتی کہ پاس بیٹھے ایک صحابی نے قرآن کی یہ آیت پڑھی ۔
{خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰھِلِیْنَ} [الاعراف:۱۹۹]
’’در گزر اختیار کر اور نیکی کا حکم دے اور جاہلوں سے کنارہ کر۔‘‘
یہ آیت پڑھی تھی کہ عمرt سے غصہ اس طرح غائب ہو گیا جیسے کبھی آیا ہی نہیں تھا۔
لفظ’’تذکرۃ‘‘دیگر معانی کے لیے بھی مستعمل ہے۔
تذکرہ دخول کے معنی میں بھی ہے ’’داخلے کاٹکٹ‘‘۔
تذکرہ مرور کے معنی میں بھی ہے ’’پاسپورٹ‘‘۔
تذکرہ ھویہ کے معنی میں بھی  ہے شناختی کارڈ‘‘۔  [القاموس الوحیدص:۵۷۲]
اس لحاظ سے بھی قرآن کا یہ نام محض نام ہی نہیں بلکہ باقاعدہ ایک شرعی اصل اور ضابطے کی طرف اشارہ ہے۔
جس طرح ’’التذکرۃ‘‘ٹکٹ کے بغیر گاڑی اور جہاز وغیرہ میں سفر نہیں ہو سکتا ، اگر ایسا کرتا ہے تو سزا کا مستحق ہے ۔ ’’التذکرۃ‘‘ پاسپورٹ کے بغیر کسی ملک نہیں جایا جاسکتا، اگر کوئی جاتا ہے تو مستوجب سزاہے۔  ’’تذکرۃ‘‘شناختی کارڈ کے بغیر دفتری کام نہیں ہوسکتا ۔
اسی طرح ’’تذکرۃ‘‘یعنی قرآن کے بغیر جنت کی طرف سفر کیا جاسکتا ہے نہ ہی جنت میں داخلہ مل سکتا ہے اور نہ ہی جنت کے حصول کی کوئی کوشش کامیاب بنائی جاسکتی ہے۔
بلکہ ’’التذکرۃ‘‘(قرآن) کو پس پشت ڈالنے والے مستوجب سزا ہو نگے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{وَ قُلْ اِنِّیْٓ اَنَا النَّذِیْرُ الْمُبِیْنُ }
’’اور کہہ دے بیشک میں تو کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں ۔‘‘
{کَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِیْنَ}
’’(ایسے عذاب سے) جیسا ہم نے ان تقسیم کرنے والوں پر اتارا۔ ‘‘
{الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ}
’’جنھوں نے کتاب کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا (کوئی مان لیا، کوئی نہ مانا)۔ ‘‘
{فَوَرَبِّکَ لَنَسْئَلَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَ}
’’سو تیرے رب کی قسم ہے! یقینا ہم ان سب سے ضرور سوال کریں گے۔‘‘
{عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْن} [الحجر: ۸۹تا۹۳]
’’اس کے بارے میں جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘
’’التذکرۃ‘‘کا ایک معنی شہرت بھی ہے۔ [القاموس الوحیدص:۵۷۲]
قرآن کریم اپنی صفت تذکرہ کے اس معنی میں بھی درجہ کمال پر فائز ہے ۔ اس معنی کی دو تو جیہات ہیں:
ایک قرآن کی اپنی شہرت۔
دوسری، قرآن سے منسلک افراد و اقوام کی شہرت۔
شہرت کی بلندیوں میں قرآن کی ثانی کوئی اور کتاب نہیں۔
آج دنیا کا کونسا کونہ، خطہ اور علاقہ ایسا ہے جہاں قرآن کا تذکرہ نہ ہو۔
دنیا میں کونسا وقت ایسا ہے کہ جب قرآن کی تلاوت نہ ہو رہی ہو ، انتہائے مشرق جاپان سے لیکر انتہائے مغرب برازیل تک ہر وقت کہیں نہ کہیں نماز کی ادائیگی کا وقت ہوتا ہے، جس میں قرآن ہی تو پڑھا جاتا ہے۔
آج دنیا میں کون سی کتاب ہے جس کو اپنے سینوں میں یاد رکھنے والوں کی اتنی تعداد ہو جتنی کہ حفاظِ قرآن کی تعداد ہے۔
آج دنیا بھر میں کون سی کتاب ہے جو اتنی تعداد میں شائع ہوتی ہو جتنی تعداد میں قرآن شائع ہوتا ہے۔
آج دنیا میں کونسی کتاب ہے جو اتنا عرصہ بیتنے کے باوجود اپنی اصل حالت پر قائم ودائم ہو اور گردش ایام سے اس میں ذرا بھر تغیر و تبدل نہ ہو سکا ہو۔ اس معنی کی دوسری توجیہ(قرآن سے منسلک افراد اور اقوام کی شہرت) ہے۔
نبی کریم e نے فرمایا :
[اِنَّ اللَّہَ یَرْفَعُ بِھَذَالْکِتَابِ اَقْوَاماً وَ یَضَعْ بِہِ آخَرِینَ] (مسلم: ۸۱۷)
’’اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریے بہت سے لوگوں کو بلند کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں کو پست کرتے ہیں۔ ‘‘
تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جو بھی اس قرآن سے وابستہ ہوا اللہ تعالیٰ نے اسے شہرت اور بلندی عطاکی۔
’’لیلۃ القدر‘‘ جبریل u، غار حرا، شہر رمضان، مکہ اور مدینہ ان سب کی شہرت اور بلندی اصل سبب قرآنی تعلق اور وابستگی ہی ہے۔
سیدنا بلال بن رباحt کو کون جانتا تھا شائد کہ آج تک لوگ ان کے دادا کے نام سے واقف نہیں ہیںلیکن متبع قرآن بنے تو ایک وقت تھا کہ کعبۃ اللہ کی چھت پرچڑھے اذان دے رہے تھے اور صنادیدِ مکہ نیچے سر جھکائے کھڑے تھے۔
امیر المومنین عمر بن خطاب t کا وقتِ وفات قریب ہوا تو خواہش کرنے لگے، کاش کہ آج فلاں کا غلام زندہ ہوتا تو میں اسے منصب خلافت عطا کرتا کیونکہ وہ قرآن کا بڑا عالم تھا۔
الغرض جو بھی قرآن سے جڑا تو’’التذکرۃ‘‘ نے اس کا تذکرہ بلند تر کردیا۔ اسی بات کو اقبال نے شعری پیرائے میں بیان کیا ہے:
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہوکر
(جواب شکوہ)


No comments:

Post a Comment

View My Stats