Mz05-01-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Monday, May 13, 2019

Mz05-01-2019


مولانا عبدالعزیز راشد ... فی ذمۃ اللہ

تحریر: جناب ڈاکٹر حافظ سعید احمد چنیوٹی
۲ اور ۳ دسمبر کی درمیانی شب‘ شہباز خطابت ہر دلعزیز حضرت مولانا عبدالعزیز راشد مختصر علالت کے بعد وفات پا گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
مولانا کی وفات کی خبر ملک بھر‘ خصوصاً فیصل آباد میں آنا فانا پھیل گئی۔ دوست احباب اور علماء حیرت زدہ تھے جنہوں نے وفات سے چند گھنٹے قبل انہیں ہنستے مسکراتے دیکھا‘ وہ کس طرح جلد ہی اس خبر پر یقین کر لیتے؟ مولانا نے تو اتوار کو نجی‘ سماجی‘ دینی مصروفیات حسب معمول نبھائیں۔ دوپہر کو ایک شادی کی تقریب میں شرکت کی۔ دوست واحباب سے گپ شپ ہوئی‘ نماز مغرب کے بعد اچانک طبیعت بگڑی اور ہسپتال لے جایا گیا مگر جانبر نہ ہو سکے۔
ایک مرتبہ قبل ۲۰۱۳ء میں مولانا پر برین ہیمبرج کا حملہ ہوا‘ یاد داشت جاتی رہی‘ ڈاکٹروں نے مایوس کر دیا مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ زندگی دی اور خطابت‘ دعوت وعظ وتبلیغ‘ خطبات ودروس کے میدان میں رواں دواں چاک وچوبند رہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے ۵ سال تک دینی امور کی انجام دہی کا بھر پور کام لیا۔ اس دوران انہوں نے دیگر مصروفیات تج کر کے دعوتی وتبلیغی امور کو محور بنا لیا۔ ایسے خطرناک حملہ کے بعد جانبر ہونا دینی خدمات کے صلہ کا اعجاز ہے۔ اسی طرح ان کے مخلص اور مجاہد والد کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ مولانا کے والد گرامی انتہائی مخلص مجاہد اور انتھک کارکن تھے۔
خاندانی پس منظر:
مولانا کے والد گرامی مولانا محمد دین مجاہد آزاد کشمیر توحید آباد کے قریب نگری بالا سے تعلق رکھتے تھے۔ وہاں کی مسجد کے خطیب اور تحریک المجاہدین کے سرگرم کارکن تھے۔ تقسیم سے قبل یاغستان اور کابل میں حضرت صوفی عبداللہa کے ساتھ تحریک المجاہدین میں شریک رہے۔ عرصہ دراز مولانا وزیر آبادی کی صحبت میں رہنے کا شرف ملا۔ بعض معروضی حالات کی وجہ سے وہاں سے واپس پلٹ کر آزاد کشمیر آئے۔ انہیں وہاں ۲۵۰ کنال اراضی الاٹ ہوئی جو اس پہاڑی علاقہ میں ہموار زرعی زمین شاندار اور مہنگی ترین تھی۔ پھر حکومت آزاد کشمیر نے مجاہدین کو تقسیم اراضی سکیم کے تحت الائٹمنٹ کا اعلان کیا۔ مولانا محمد  دین کو بھی فارم دیا گیا کہ اگلے روز کچہریوں میں جا کر قانونی تقاضے پورے کریں تو انہوں نے یہ کہہ کر اراضی لینے سے انکار کیا کہ میں جہاد کا اجر وثواب ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ کل اللہ کے دربار میں یہ کہہ دیا گیا کہ تم نے جہاد کا معاوضہ دنیا میں وصول کر لیا ہے تو میں کیا جواب دوں گا؟ بہرحال مولانا کے والد گرامی متوکل علی اللہ‘ دیندار‘ تحریک المجاہدین کے عظیم سپاہی‘ درویش منش تھے۔ بقایا زندگی بھی اپنے مجاہد مرشد حضرت صوفی محمد عبداللہa کے زیر سایہ گزاری۔ انہوں نے حکم دیا کہ دنیاوی بکھیڑوں کو چھوڑ کر میرے پاس آجاؤ اور اوڈانوالہ مدرسہ کی خدمت کرو‘ چنانچہ انہوں نے مکمل زندگی اسی خدمت کے لیے وقف کر دی۔
دینی امور میں دلچسپی اور رغبت دلانا ان کا مشغلہ تھا۔ حضرت مولانا عبدالحمید ہزاروی‘ شیخ الحدیث جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ‘ مولانا دین محمد کے گاؤں مکوز بالا کے رہائشی ہیں۔ مولانا ہزاروی کو انہوں نے دینی تعلیم کے حصول کے لیے آمادہ کر کے اوڈانوالہ میں داخل کروایا۔ یہ بابا جی مجاہد کی باقیات الصالحات ہیں۔ اس عظیم باپ نے اسی جذبہ کے تحت اپنے بیٹے مولانا عبدالعزیز راشد کو حضرت صوفی صاحب کے زیر سایہ اوڈانوالہ مدرسہ میں دینی تعلیم کے لیے وقف کر دیا۔ تقبل اللہ جہودہم الطیبہ!
ابتدائی دینی تعلیم:
دینی تعلیم کا آغاز اوڈانوالہ کے مدرسہ سے کیا اور کچھ عرصہ دار القرآن والحدیث فیصل آباد میں بھی تعلیم حاصل کی‘ یہاں مولانا عتیق اللہ سلفی مدیر مدرسۃ الدعوۃ آف ستیانہ ان کے ہم کلاس تھے۔ اسی طرح تعلیمی دورانیہ کا کچھ حصہ دار العلوم تقویۃ الاسلام لاہور میں گذرا۔
اساتذہ کرام:
مولانا محمد یعقوب ملہی‘ مولانا عبدالرشید ہزاروی‘ مولانا محمد اسحاق حسینوی وغیرہم۔
 ذوق خطابت:
فطری طور پر آغاز ہی سے مولانا کا خطابت کی طرف میلان تھا۔ تعلیم کے ساتھ اس کے جوہر کھلنے شروع ہو گئے۔ پھر اساتذہ اور اکابرین کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی نے مزید نکھار پیدا کر دیا۔ حضرت صوفی عبداللہa سفر پر جارہے تھے تو اوڈانوالہ کی مسجد میں ان کی عدم موجودگی میں مولانا عبدالعزیز راشد نے خطبہ جمعہ دیا۔ حضرت صوفی صاحب کی واپسی پر احباب جماعت نے خطبہ جمعہ کی تعریف کی۔ مولانا فرماتے ہیں کہ میرے والد کی موجودگی میں حضرت صوفی صاحب کی طرف سے بلاوا آیا تو میں گھبرا گیا کہ کہیں کوئی شکایت نہ ہو۔ صوفی صاحب کی خدمت میں پہنچا تو انہوں نے مبارکباد دی۔ حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اپنا کرتا اتار کر مجھے دیا اور ساتھ ہی پانچ روپے کا سکہ دیتے ہوئے فرمایا: بیٹا! جب تک یہ سکہ تمہارے پاس رہے گا اللہ کے فضل سے پیسے ختم نہ ہوں گے۔ سا عمرمیں حوصلہ افزائی خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدار کر دیتی ہے بلکہ آتش فشاں بنا دیتی ہے۔ چنانچہ صوفی صاحب نے اس طالب علم کو اوڈانوالہ کی مسجد میں مستقل خطیب مقرر کر دیا۔ پھر یہی ابھرتا ہوا نوجوان مستقبل کا عظیم خطیب بنا اور جماعت کے نامور خطباء میں شمار ہونے لگا۔ ان کے خطیبانہ انداز کو دو آتشہ کرنے میں خطیب پاکستان مولانا محمد حسین شیخوپوریa کا بھی عظیم کردار ہے۔ جس کا پس منظر کچھ اس طرح ہے کہ مولانا عبدالعزیز راشد کا نکاح مولانا محمد طاہرa کی صاحبزادی سے ہوا۔ مولانا محمد طاہر ماچھی کے ضلع شیخوپورہ کے رہائشی ہیں‘ یہ گاؤں مولانا شیخوپوری کی زرعی زمین سے متصل ہے۔ خطیب پاکستان اور مولانا محمد طاہر کے دیرینہ دینی اور معاشرتی مراسم تھے۔ مولانا محمد طاہر مرکزی جمعیت اہل حدیث ضلع شیخوپورہ کے ضلعی امیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس سسرالی رشتہ کے بعد مولانا محمد حسین شیخوپوری سے تعارف ملاقات کے ذریعے دعوت وارشاد کے میدان میں روابط بڑھے۔ ایک تبلیغی پروگرام میں مولانا راشد کا خطاب سننے کا موقعہ ملا‘ پروگرام کے اختتام پر حضرت شیخ القرآن نے مولانا طاہر کو مبارکباد دی اور ان کی خطابت کی تعریف کی اور مسلسل بھر پور حوصلہ افزائی فرماتے رہے جس کی وجہ سے وہ شہباز خطابت کے لقب سے متعارف ہوئے۔ مولانا راشد ملک کے اہم مرکزی شہروں میں خطیب رہے۔ ملک بھر میں ان کی خطابت کا چرچا رہا۔ خطابت کا آغاز کامونکی کے قریب بھکی کی جامع مسجد سے کیا۔ اسی طرح گوجرانوالہ‘ لاہور‘ وہاڑی‘ فیصل آباد میں خطابت کے فرائض انجام دیئے اور خطابت کے جوہر دکھائے۔
مولانا کی خطابت کا امتیاز اور جوہر ان کی تمہید میں ہوتا۔ موضوع سے متعلق سامعین کو آغاز ہی میں اپنی سحر خطابت سے مسحور کر دیتے اور گھنٹوں کی تقریر میں بوریت محسوس نہ ہونے دیتے۔ متعلقہ موضوع سے معروف آیات واحادیث ایسے مرتب اور انوکھے انداز میں پیش کرتے کہ سامعین کے لیے جدت ہوتی۔ متعلقہ موضوع پر بھر پور تیاری کر کے احسن انداز میں بیان فرماتے۔ خطابت ان کا اوڑھنا بچھونا تھا جسے تا دم آخر نبھایا۔
مولانا عبدالعزیز کی دعوتی وتبلیغی اور جماعتی خدمات ہمیشہ یاد رہیں گی جس جس شہر میں خطیب رہے وہاں ان کا ذوق‘ محبت‘ خلوص‘ حسن اخلاق‘ اور معاشرتی حسن ہمیشہ یاد رہے گا۔ وہ جہاں رہے جامد زندگی بسر نہیں کی بلکہ جماعتی سرگرمیوں میں بھر پور حصہ لیا اور شوق ومحبت جذبہ وسرگرمی سے کام کیا۔ ان کی رحلت سے جہاں خاندان ایک اچھے سرپرست سے محروم ہوا وہاں جماعت ایک مخلص‘ عمدہ خطیب اور پر جوش قائد سے محروم ہو گئی۔ مجلس احباب ایک اچھے رفیق کو کھو بیٹھی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات کو قبول فرما کر ان کی لغزشوں کو معاف فرمائے۔ آمین!
ان کے عزیز واقارب برادران اور ان کے خلف الرشید پروفیسر عتیق الرحمن‘ عزیزم خلیل الرحمن اور ان کی دونوں بیٹیوں اور بیوہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین!

No comments:

Post a Comment