Mz05-20-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, May 11, 2019

Mz05-20-2019


رمضان المبارک .. فضائل واعمال

تحریر: جناب مولانا نعیم الغفور
رمضان لفظ ’’رمض ‘‘ سے نکلا ہے جس کے معنی گرم ہونا اور تیز دھوپ سے پاؤ ں کا جلنا ہے۔ رمضان المبارک میں روزہ دار کے سابقہ گناہوں کو جلا دیا یعنی مٹا دیا جاتاہے اس لئے اس کا نام رمضان رکھا گیاہے۔ ماہ رمضان نزول قرآن کامہینہ ،اللہ کی خاص رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ، صبر کا مہینہ، فراخی رزق کا مہینہ، ایک دوسرے سے خیر خواہی کامہینہ،جنت میں داخل ہونے اور جہنم سے آزادی حاصل کرنے کا مہینہ۔ ما ہ مضان ساری دنیا کے مسلمانوں کے لئے ذکر و فکر ،تسبیح و تہلیل ،تلاوت و نوافل، صدقہ و خیرات گویا ہر قسم کی عبادت کا ایک عالمی موسم بہار ،جس سے دنیا کا ہر مسلمان اپنے اپنے ایمان اور تقویٰ کے مطابق حصہ پا کر دل کو سکون اور آنکھوں کو ٹھنڈک مہیا کرتا ہے۔ بلاشبہ روزہ ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے‘ اس رکن کی ادئیگی ہر بالغ مسلما ن مرد، عورت پر فرض ہے ۔
اس کی فضیلت کے بارے میں قرآن مجید میں بایں الفاظ بیا ن کیا گیاہے:
’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن مجید ناز ل کیا گیا اس(کتاب ) میں ہدایت کی کھلی دلیلیں ہیں اوریہ حق و باطل میں فرق کر نے والی کتاب ہے۔‘‘ (البقرہ: ۱۸۵)
اللہ تعالیٰ اس مہینے میں کھلے عام مغفرت کا اعلان کرتے ہیں۔ رسول اللہ eنے فرمایا کہ
’’جس نے حالت ایمان میں ،طلب ثواب کے لئے رمضان کا روزہ رکھااس کے پہلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔‘‘ (صحیح بخاری: ۱/۲۵۵)
اگر دکھاوے کے لئے یاکسی اور نیت سے روزہ رکھا جائے تو اعمال میں ثواب نہیں بلکہ گناہ لکھا جائے گا۔ رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس میں جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو باندھ دیا جاتا ہے ۔اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں کی بر کھا بر ساتے ہیں ۔
رسول اللہ e نے فرمایا کہ جس نے اگر دکھاوے کے لئے یاکسی اور نیت سے روزہ رکھا تو بلاشبہ اس نے شرک کیا اور شرک بہت بڑ ا گناہ ہے جس کو االلہ تعالیٰ معاف نہیں کرتے۔ کیو نکہ روزہ صر ف اللہ کی رضا کے لئے رکھا جاتا ہے اور اس کا ثواب خود اللہ کی ذات عطا فرماتے ہیں۔
جو شخص ان رحمتوں سے محروم ہو گیا گو یا دنیا جہان کی تمام نعمتوں، دولتوں سے محروم ہو گیا۔ آج کل بعض لوگ بیماری اور زیادہ گرمی کا بہانہ بنا کر روزے چھوڑ دیتے ہیں۔ رسول اللہ e نے فرمایا کہ جو کوئی رمضان المبارک کا ایک روزہ بغیر عذر و بیماری کے چھوڑے ،تو ساری عمر اگر وہ روزے رکھے ،تب بھی اس رمضان کے برابر نہ ہو گا (ترمذی)
اس میں کوئی شک نہیں کہ روزے انتہائی گرمیوں میں ہیں لیکن آج تک ہم نے یہ کبھی نہیں سنا کہ کسی نے گرمی میں روزہ رکھا ہو اور روزہ اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوا ہو۔
بلکہ روزے کو ہمارے دین اسلام نے بیماروں کے لئے شفاء قرار دیا ہے۔ یہ صرف ہمارے بنی اسرائیل کی طرح حیلے بہانے ہیں۔ گرمی کو دیکھ کر،روزے کانام سن کر ہمیں ہلکا ہلکا بخار ہونے لگتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے ماں سے بھی ستر گنازیادہ پیار کرتا ہے تو وہ بھلا اپنے بندے کو کیسے مشقت میں ڈالے گا؟ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سب سے آسان دین دیا ہے جبکہ دیگر ادیان میں چوبیس چوبیس گھنٹے یعنی پورے رات دن کا روزہ ہوتا تھا۔اب صرف زیادہ سے زیا دہ چودہ یا پندہ گھنٹے کا روزہ ہے پھر بھی گرمی کا بہانہ ۔۔ آج سے چودہ سو سال پہلے کی تاریخ اٹھا کر دیکھیے تو پتا چلتا ہے کہ صحا بہ کرام] نے سخت گرمیوں میں روزے رکھ کر کفار کے ساتھ جنگیں لڑیں۔
علاوہ ازیں انہوں نے اسلام کی خاطر بہت محنتیں اورمشقتیں کیں۔ ان کے ایما ن پختہ تھے‘ وہ روزوں کی فرضیت و فضیلت کو بخوبی جانتے تھے‘ فرضی روزوں کے ساتھ ساتھ وہ نفلی روزے بھی بکثرت رکھتے تھے۔ان لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ’’اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گے۔
حجاز کی سرزمین بہت گرم‘ وہاں سالہا سال موسم گرم رہتا ہے‘ اس کے باوجو د وہ روزے باقاعدگی سے رکھتے تھے حالانکہ اس دور میں لوڈشیڈنگ تو دور کی بات بجلی کا نام ونشان تک نہیں تھا‘ ان کی مثالوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں بھی اپنا احتساب کر نا چاہیے۔
عمر کم ہو یا زیادہ ،بجلی ہو یا نہ ہو ،موسم گرم ہو یا ٹھنڈا، دن لمبے ہوں یا چھوٹے ،بیمارہوں یا صحت مند، مصروفیت ہویا فراغت، الغرض کچھ بھی ہو روزے فرض ہیں۔ چھوٹے بچوں پر بھی جو زورہ رکھنے کی استطاعت رکتھے ہیں ان کو چاہئے کہ وہ بھی روزے رکھیں ۔یوم آخرت کے وقت روزے داروں کو جنت میں ایک خصوصی دروازے ’’باب الریان‘‘ سے داخل کیا جائے گا ۔اس لئے گرمی، بیماری، کم عمری یا کوئی عذر بنا کر ہمیں روزے نہیں چھوڑنے چاہئیں۔ کیوں کہ اس کی جزا اللہ کی ذات خود دیں گے۔
ہاں ! یاد ر کھیئے کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کر نے کی بھی بڑی فضیلت ہے۔ رسول اللہe نے فرمایا کہ جو شخص رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرے گا اس کو دو حج اور دو عمرے کے برابر ثواب ملے گا۔ (رواہ البیہقی)
اسی آخری عشرے میں لیلتہ القدر بھی آتی ہے اس رات کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بھی زیادہ بہتر ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اس رات کی بڑی فضیلت بیان کی ہے۔ ارشاد الٰہی ہے:
’’ہم نے اس (قرآن ) کو قدر کی رات میں نازل کیا ہے اور آپ کو کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے ؟ لیلتہ القدر ہزار مہینے سے بہتر ہے ۔اس رات میں فرشتے اور رُوح القدس (جبریل u) رب کے حکم سے ہر امر خیر لے کر اُترتے ہیں ۔یہ رات سلامتی اور امن کی ہے طلوع فجر تک۔‘‘ (القدر)
رمضان المبارک میں نماز تراویح کا بھی خاص اہتمام کریں۔ رسول اللہe نے فرما یا کہ
’’جو شخص حالتِ ایمان میں حصول ِ ثواب کیلئے رمضان المبارک کا قیام کرتا (یعنی کہ تراویح پڑھتا رہا ) اس کے پہلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔‘‘ (البخاری:۱/۲۶۹)
آئیے !اس با برکت مہینے میں فرضی ،نفلی،عبادت سے ہم اپنے رب کو منا کر خود کو دنیا و آخرت کے عذاب سے بچائیں۔ اس ماہ مبارک کے بیش بہا لمحات سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کے لئے تیا ر ہو جائیں۔ اس بابرکت مہینے میں امت مسلمہ کے لئے خصوصی دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو کفا ر کے ظلم سے نجات عطاء فرمائے اور امت مسلمہ کے مابین اتحاد و اتفاق پیدا ہو ،اور اللہ تعالیٰ ہمیں فرقہ واریت کی لعنت سے نجات عطا فرمائے ۔کفار کے ناپاک عزائم کو نا کام بنائے اور انہیں نیست و نا بود کر دے۔ (آمین )

No comments:

Post a Comment

View My Stats