Mz06-20-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, May 11, 2019

Mz06-20-2019


بیس رکعات تراویح ... ایک جائزہ

(تیسری قسم) تحریر: جناب غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری
بیس رکعت تراویح کو مسنون قرار دینا بدعت ہے۔ اس کے مزعومہ دلائل کا علمی وتحقیقی ، مختصر ، مگر جامع جائزہ پیش خدمت ہے:
1         سیدنا عبداللہ بن عباسwسے روایت ہے کہ رسول اللہeرمضان المبارک میں بیس رکعتیں اور وتر پڑھا کرتے تھے۔ (مصنف ابن أبی  شیبۃ: ۲/۲۹۴، السنن الکبری للبیہقی: ۲/۴۹۶، المعجم الکبیر للطبرانی: ۱۱/۳۹۳)
تبصرہ:
یہ جھوٹی روایت ہے ، اس کی سند میں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان راوی ’’متروک الحدیث‘‘ اور ’’کذاب‘‘ ہے ، جمہور نے اس کی تضعیف کر رکھی ہے۔
علامہ زیلعی حنفی لکھتے ہیں:
’’یہ روایت ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان راوی کی وجہ سے معلول (ضعیف)ہے ، جوکہ امام ابو بکر بن ابی شیبہ کا داداہے ، اس  کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ، امام ابن عدی نے بھی الکامل میں اسے کمزور قرار دیاہے ،نیز یہ اس صحیح حدیث کے مخالف بھی ہے ، جس میں ابوسلمہ بن عبدالرحمنt نے سیدہ عائشہrسے رسول اللہeکی رمضان میں نماز کے بارے میں سوال کیا تو سیدہ عائشہrنے فرمایا: آپe رمضان یا غیررمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے…۔‘‘ (نصب الرایۃ: ۲/۱۵۳)
ا               جناب انور شاہ کشمیری دیوبندی لکھتے ہیں :
’’آٹھ رکعات نماز ِ تراویح رسول اللہeسے صحیح ثابت ہیں اور بیس رکعت کی روایت ضعیف ہے، اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔‘‘ (العرف الشذی: ۱/۱۶۶)
بالاتفاق ضعیف راوی کی روایت وہی پیش کر سکتا ہے جو خود اس کی طرح بالاتفاق ضعیف ہو۔
ب           جناب عبدالشکور فاروقی دیوبندی نے بھی اس کو ’’ضعیف‘‘ قرار دیا ہے۔ (علم الفقہ: ص: ۱۹۸)
ج             ابن عابدین شامی حنفی (م:۱۲۵۲ ھ)لکھتے ہیں:
’’یہ حدیث ضعیف ہے ، کیونکہ اس کا راوی ابو شیبہ (ابراہیم بن عثمان)بالاتفاق ضعیف ہے، نیز یہ حدیث (صحیح بخاری وصحیح مسلم کی )صحیح (حدیثِ عائشہr) کے بھی خلاف ہے۔‘‘ (منحۃ الخالق: ۲/۶۶)
یہی بات امام ِ احناف ابن ہمام حنفی(فتح القدیر: ۴۶/۸۱)، علامہ عینی حنفی (عمدۃ القاری: ۱۷/۷۷ا)، ابنِ نجیم حنفی (البحر الرائق: ۶/۶۲)، ابنِ عابدین شامی حنفی (رد المحتار: ۱/ا۵۲)، ابوالحسن شرنبلانی حنفی (مراقی الفلاح: ۴۴۲)، طحطاوی حنفی (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار: ا/۲۹۵) وغیرہم نے بھی کہی ہے۔
علامہ سیوطیa ۸۴۹۔۹۱۱ھ)لکھتے ہیں:
’’یہ حدیث سخت ترین ضعیف ہے ، اس سے حجت و دلیل قائم نہیں ہو سکتی۔‘‘ (المصابیح فی صلاۃ التراویح: ۱۷)
تنبیہ:
امام ِ بریلویت احمد یار خان گجراتی اپنی کتاب ’’جاء الحق‘‘(۲/۲۴۳) میں ’’نماز ِ جنازہ میں الحمد شریف تلاوت نہ کرو۔‘‘کی بحث میں امام ِ ترمذی aسے نقل کرتے ہیں:’’ابراہیم بن عثمان ابو شیبہ منکر ِ حدیث ہے۔ ‘‘
لیکن اپنی اسی کتاب (۱/۴۴۷)کے ضمیمہ میں مندرج رسالہ ’’لمعات المصابیح علی رکعات التراویح‘‘ میں اس کی حدیث کو بطور ِ حجت پیش کرتے ہیں ، دراصل انصاف کو ان سے شکایت ہے کہ وہ اس کا ساتھ نہیں دیتے۔
اتنی کھلی حقیقت کے بعد بیس رکعات نماز ِ تراویح کو سنتِ مؤکدہ کہنا کیونکر درست ہو گا؟
2         سیدنا جابر tسے روایت ہے کہ رمضان المبارک میں ایک رات نبی کریمe باہر تشریف لائے اور صحابہ کرام کو چوبیس رکعتیں اور تین رکعات وتر پڑھائے۔ (تاریخ جرجان لابی قاسم حمزۃ بن یوسف السہمی، ص: ۲۷۵)
تبصرہ:
یہ روایت جھوٹ کا پلندا ہے ، اس میں عمر بن ہارون بلخی راوی ’’متروک و کذاب‘‘ اور جمہور نے اسے ’’ضعیف‘‘ قرار دیا ہے، محمد بن حمید رازی بھی جمہور کے نزدیک ’’ضعیف‘‘ ہے ، نیز اس میں ایک غیر معروف راوی بھی ہے۔
3         سیدنا ابی بن کعب tسے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب tنے انہیں حکم دیا کہ وہ رمضان میں رات کو لوگوں کو نماز پڑھایا کریں، آپ نے فرمایا کہ لوگ دن میں روزہ تورکھتے ہیں ، لیکن اچھی طرح قراء ت نہیں کر سکتے ، اگر تم رات کو ان پر قرآن پڑھا کرو تو اچھا ہو ، سیدنا ابی بن کعبt نے عرض کیا: اے امیر المومنین!پہلے ایسا نہیں ہوا تو آپt نے فرمایا:مجھے بھی معلو م ہے ، تاہم یہ ایک اچھی چیز ہے ، چنانچہ ابی بن کعب tنے لوگوں کو بیس رکعات پڑھائیں۔ (کنز العمال: ۸/۴۰۹)
تبصرہ:
اس کی سند ’’ضعیف‘‘ ہے۔ امام ابن حبانa اس کے راوی ربیع بن انس کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:
’’محدثین اس سے ابو جعفر کی مرویات سے بچتے ہیں کیونکہ ان میں بہت اضطراب ہے۔‘‘ (الثقات: ۴/۲۲۸)
مذکورہ بالا روایت بھی ربیع بن انس سے عیسیٰ بن ابی عیسیٰ بن ماہان ابو جعفر رازی بیان کر رہا ہے،یہ جرح مفسر ہے،جسے ردّ کرنا جائز نہیں۔
4         حسن بصریaسے روایت ہے :
’’سیدنا عمربن خطابt نے لوگوں کو سیدنا ابی بن کعب tپر اکٹھا کیا ، وہ انہیں بیس رکعات پڑھاتے تھے۔‘‘ (سنن أبی داوٗد، سیر اعلام النبلاء: ۱۰/۴۰۰، جامع المسانید والسنن لابن کثیر: ۱/۵۵)
تبصرہ: 
1         ’عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً‘ کے الفاظ دیوبندی تحریف ہے ،یہ جسارت محمود الحسن دیوبندی نے کی ہے، ’عِشْرِیْنَ لَیْلَۃً‘ بیس راتوں کی بجائے ’عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً‘ بیس رکعتیں کر دیا ہے۔
جبکہ سنن ابی داود کے کسی نسخہ میں ’عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً‘ نہیں ہے ، تمام نسخوں میں ’عِشْرِیْنَ لَیْلَۃً‘ ہی ہے، حال ہی میں محمد عوامہ کی تحقیق سے جو سنن ابی داود کا نسخہ چھپا ہے ، جس میں سات آٹھ نسخوں کو سامنے رکھا گیا ہے ، اس میں بھی ’عِشْرِیْنَ لَیْلَۃً‘ ہی ہے ، محمد عوامہ لکھتے ہیں:
’’سارے کے سارے بنیادی نسخوں میں یہی الفاظ ہیں۔‘‘ (سنن أبی داود بتحقیق محمد عوامہ: ۲/۲۵۶)
’عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً‘ کے الفاظ محرف ہونے پر ایک زبردست دلیل یہ بھی ہے کہ امام بیہقیa (السنن الکبریٰ:۲/۲۹۸) نے یہی روایت امام ابو داودaکی سند سے ذکر کی ہے اور اس میں ’عِشْرِیْنَ لَیْلَۃً‘ (بیس رات) کے الفاظ ہیں۔
یہی الفاظ حنفی فقہا اپنی اپنی کتابوں میں ذکر کرتے رہے ہیں۔
رہا مسئلہ سیر اعلام النبلاء اور جامع المسانید والسنن میں ’عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً‘ کے الفاظ کا پایا جانا تو یہ ناسخین کی غلطی ہے ، کیونکہ سنن ابی داود کے کسی نسخے میں یہ الفاظ نہیں ہیں، یہاں تک کہ  علامہ عینی حنفی (م:۸۵۵ھ) نے شرح ابی داود (۵/۳۴۳) میں ’عِشْرِیْنَ لَیْلَۃً‘ کے الفاظ ذکر کیے ہیں ، نسخوں کا اختلاف ذکر نہیں کیا ، اگر ’رَکْعَۃً‘ کے الفاظ کسی نسخے میں ہوتے تو علامہ عینی حنفی ضرور بالضرور نقل کرتے ، اسی لیے غالی حنفی نیموی (م:۱۳۲۲ھ) نے بھی اس کو بیس رکعت تراویح کی دلیلوں میں ذکر نہیں کیا۔
2         اگر مقلدین کی بات صحیح تسلیم کر بھی لی جائے تو پھر بھی یہ روایت ان کی دلیل نہیں بن سکتی ، جیسا کہ خلیل احمد سہارنپوری دیوبندی صاحب (م:۱۲۶۹۔۱۳۴۶ھ) لکھتے ہیں: ایک عبارت بعض نسخوں میں ہو اور بعض میں نہ ہو تو وہ مشکوک ہوتی ہے۔ (بذل المجہود: ۴/۴۷۱، بیروت)
جناب سرفراز خان صفدر دیوبندی ایک دوسری روایت کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’جب عام اور متداول نسخوں میں یہ عبارت نہیں تو شاذ اور غیر مطبوعہ نسخوں کا کیا اعتبار ہو سکتا ہے ؟۔‘‘  (خزائن السنن: ۲/۹۷)
لہٰذا بعض لوگوں کے اس اصول سے بھی یہ روایت مشکوک ہوئی۔
تنبیہ:
امام ِ بریلویت احمد یار خان نعیمی گجراتی (۱۳۲۴۔۱۳۹۱ھ) نے ’عشرین لیلۃ‘ کے الفاظ ذکر کیے ہیں۔ (جاء الحق: ۲/۹۵، بحث: قنوت ِ نازلہ پڑھنا منع ہے)
3         علامہ زیلعی حنفی اور علامہ عینی حنفی لکھتے ہیں:
’’اس روایت کے راوی امام حسن بصریaنے سیدنا عمر بن خطابtکا زمانہ نہیں پایا۔‘‘ (نصب الرایۃ: ۲/۱۲۶، شرح أبی  داود: ۵/۳۴۳)
لہٰذا یہ روایت منقطع ہوئی ، کیاشریعت منقطع روایات کا نام ہے ؟
4         علامہ عینی حنفی نے اس کو ’’ضعیف‘‘ قرار دیا ہے۔ (شرح سنن أبی  داود: ۵/۳۴۳)
5         اس روایت کو حافظ نووی aنے بھی ’’ضعیف‘‘ کہاہے۔ (خلاصۃ الاحکام: ۱/۵۶۵)
6         سیدنا عمر بن خطاب tکا گیارہ رکعت تراویح بمع وتر کا حکم دینا ثابت ہے۔
(موطأ امام مالک: ۱۳۸، السنن الکبری للبیہقی: ۲/۴۹۶، شرح معانی الآثار للطحاوی: ۱/۲۹۳، معرفۃ السنن والآثار للبیہقی: ۴/۴۲، فضائل الاوقات للبیہقی: ۲۷۴، قیام اللیل للمروزی: ۲۲۰، مشکاۃ المصابیح: ۱/۴۰۷، وسندہٗ صحیح)
امام طحاویa حنفی نے اس حدیث سے حجت پکڑی ہے۔
5         یزید بن رومان کہتے ہیں کہ لوگ سیدنا عمر بن خطابt کے زمانہ خلافت میں رمضان میں تئیس رکعات پڑھا کرتے تھے۔ (الموطا للامام مالک: ۱/۹۸، السنن الکبریٰ للبیہقی: ۱/۴۹۴)
تبصرہ:
یہ روایت انقطاع کی وجہ سے ’’ضعیف‘‘ ہے، کیونکہ اس روایت کے راوی یزید بن رومان نے سیدنا عمر بن خطاب tکا زمانہ ہی نہیں پایا ، امام بیہقیaفرماتے ہیں:
’’یزید بن رومان نے سیدنا عمر بن خطاب tکا زمانہ نہیں پایا۔‘‘ (نصب الرایۃ للزیلعی: ۲/۱۶۳)
لہٰذا یہ روایت منقطع ہوئی ،جبکہ موطا امام مالک میں اس منقطع روایت سے متصل پہلے ہی صحیح و متصل سند کے ساتھ ثابت ہے کہ امیر المومنین سیدنا عمر بن خطابt نے گیا رہ رکعت کا حکم دیا تھا۔
جناب انور شاہ کشمیری دیوبندی لکھتے ہیں:
’’ضابطہ یہ ہے کہ متصل کو منقطع پر ترجیح حاصل ہوتی ہے۔‘‘ (العرف الشذی: ۱۱)
ہم کہتے ہیں کہ یہاں بے ضابطگیاں کیوں؟ جناب اشرف علی تھانوی دیوبندی اس روایت کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’روایت ِ موطا امام مالک منقطع ہے۔‘‘ (اشرف الجواب: ۱۷۲)
صحیح احادیث کے مقابلے میں منقطع روایت سے حجت پکڑنا انصاف کا خون کرنے کے مترادف ہے۔
6         یحییٰ بن سعیدa سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب tنے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو بیس رکعات پڑھائے۔ (مصنف ابن أبی  شیبۃ: ۲/۳۹۳)
تبصرہ:
یہ روایت منقطع ہونے کی بنا پر ’’ضعیف‘‘ ہے ، نیموی حنفی لکھتے ہیں:
’’یحییٰ بن سعید الانصاری نے سیدنا عمر tکا زمانہ نہیں پایا۔‘‘ (التعلیق الحسن: ۲۵۳)
7         عبدالعزیز بن رُفَیع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابی بن کعب tرمضان میں لوگوں کو مدینہ میں بیس رکعات اور تین رکعات وتر پڑھاتے تھے ۔ (مصنف ابن أبی  شیبۃ: ۲/۳۹۳)
تبصرہ:
یہ روایت بھی انقطاع کی وجہ سے ’’ضعیف‘‘ ہے ، نیموی حنفی لکھتے ہیں:
’’عبدالعزیز بن رفیع نے سیدنا ابی بن کعب tکا زمانہ نہیں پایا۔‘‘ (التعلیق الحسن: ۲۵۳)
8         سیدناسائب بن یزیدtسے روایت ہے کہ سیدنا عمرtکے دورِ خلافت میں لوگ رمضان میں بیس رکعتیں پڑھتے تھے۔ (مسند علی بن الجعد: ۲۸۲۵، السنن الکبریٰ للبیہقی: ۲/۴۹۶، وسندہٗ صحیحٌ)
تبصرہ:
یہ بیس رکعتیں پڑھنے والے لوگ صحابہ کرام] کے علاوہ اور لوگ تھے ، کیونکہ صحابی رسول سیدنا سائب بن یزیدt خود فرماتے ہیں :
’’ہم(صحابہ)سیدنا عمر بن خطاب tکے دور میں گیارہ رکعات (نمازِ تراویح بمع وتر)پڑھتے تھے۔‘‘ (حاشیۃ آثار السنن: ۲۵۰، وسندہٗ صحیحٌ)
صحابہ کرام کے علاوہ دوسرے لوگوں کا عمل حجت نہیں ،نیز یہ کہاں ہے کہ یہ نامعلوم لوگ بیس رکعت سنت ِ موکدہ سمجھ کر پڑھتے تھے ، اگر کوئی آٹھ کو سنت ِ رسولeاور بارہ کو زائد نفل سمجھ کر پڑھے تو صحیح ہے ، یہ لوگ بھی ایسا ہی کرتے ہوں گے۔
جناب خلیل احمد سہارنپوری دیوبندی لکھتے ہیں:
’’ابنِ ہمام نے آٹھ رکعات کو سنت اور زائد کو مستحب لکھا ہے ، سویہ قول قابل طعن کے نہیں۔‘‘ (براہین قاطعہ: ۱۸)
مزید لکھتے ہیں:
’’سنتِ مؤکدہ ہونا تراویح کا آٹھ رکعت تو باتفاق ہے ، اگر خلاف ہے تو بارہ میں۔‘‘ (براہین قاطعہ: ۱۹۵)
باقی امام عطاء ، امام ابن ابی ملیکہ ، امام سوید بن غفلہs وغیرہم کابیس رکعت پڑھنا بعض الناس کو مفید نہیں، وہ یہ بتائیں کہ وہ امام ابو حنیفہ کے مقلد ہیں یا امام عطاء ابن ابی رباح وغیرہ کے ؟ اور اس بات کاکوئی ثبوت نہیں کہ وہ بیس رکعت کو سنت ِ موکدہ سمجھ کر پڑھتے تھے۔آلِ تقلید پر لازم ہے کہ وہ باسند ِ صحیح اپنے امام ابوحنیفہ سے بیس رکعت تراویح کا جواز یا سنت ِ موکدہ ہونا ثابت کریں ، ورنہ مانیں کہ وہ اندھی تقلید میں سرگرداں ہیں۔
الحاصل:
رسول اللہ e یا کسی صحابی سے بیس رکعت نما ز ِ تراویح پڑھنا قطعاً ثابت نہیں۔ سنت صرف آٹھ رکعات ہیں۔دُعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں حق کی سمجھ عطا فرمائے۔آمین !
فائدہ:
نماز تہجد اور نماز تراویح میں کوئی فرق نہیں،ایک نماز کے دو نام ہیں،بعض لوگ خواہ مخواہ مغالطہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ تراویح اور تہجد دونوں علیحدہ نمازیں ہیں،ان کے جواب میں جناب انور شاہ کاشمیری دیوبندی کہتے ہیں:
’’کوئی ایسی روایت ثابت نہیں کہ نبی کریمe نے رمضان میں نماز تہجد اور تراویح الگ الگ پڑھی ہوں، بلکہ عہد رسالت میں رکعات کے اعتبار سے تراویح اور تہجد میں کوئی فرق نہیں تھا، البتہ وقت اور طریقے میں کچھ فرق تھا کہ تہجد کے برعکس نماز تراویح مسجد میں باجماعت ادا  کی جاتی تھی، اسی طرح نماز تراویح رات کے پہلے حصے میں پڑھی جاتی تھی اور نماز تہجد رات کے آخری حصہ میں ادا کی جاتی تھی۔‘‘ (العرف الشذی: ۱/۱۶۶، دیوبند)
سیدنا ابو ذرt بیان کرتے ہیں:
’’ہم نے رمضان میں رسول اکرمe کے ساتھ روزے رکھے۔ آپe نے ہمیں قیام نہ کروایا، حتی کہ سات دن باقی رہ گئے تو آپe نے ہمیں قیام کروایا، حتی کہ تہائی رات گزر گئی، جب چھ راتیں باقی رہ گئیں تو ہمیں قیام نہ کروایا، جب پانچ راتیں رہ گئیں تو پھر قیام کروایا حتیّٰ کے آدھی رات گزر گئی،میں نے عرض کیا:اے اللہ کے رسولe! کاش کہ آپe ہمیں اس رات کا قیام کروائیں، آپe نے فرمایا:آدمی جب امام کے ساتھ مکمل نماز(عشا )پڑھتا ہے، اس کا قیام اللیل شمار ہوتاہے۔جب چار راتیں رہ گئیں تو آپe نے قیام نہ کروایا۔ جب تین رہ گئیں تو لوگوں اور اپنے گھر والوں کو اکٹھا کر کے ہمیں قیام کروایا حتی کہ ہم ڈرے کہ ہم سے فلاح فوت نہ ہو جائے۔ راوی نے سیدنا ابو ذرt سے پوچھا:فلاح کیا ہے؟ کہا: سحری، پھر باقی مہینہ ہمیں قیام نہ کروایا۔‘‘ (مسند الامام احمد: ۵/۱۵۹، سنن أبی  داوٗد: ۱۳۷۵، سنن النسائی: ۱۶۰۶، سنن الترمذی: ۸۰۶، سنن ابن ماجۃ: ۱۳۲۷، وسندہٗ صحیحٌ)
نبی کریمe نے ساری رات قیام فرمایا،یہ قیامِ رمضان تھا،اس رات الگ سے نماز تہجد ادا نہیں کی،معلوم ہوا کہ نماز تہجد اور نماز تراویح ایک ہی نماز کے دو نام ہیں،رہا سیدہ عائشہr کا یہ کہنا کہ آپe نے ساری رات قیام نہیں فرمایا،اس کا مطلب ہے کہ آپe ہمیشہ ایسا نہیں کرتے تھے،مگر کبھی کبھا ایسا کر بھی لیا کرتے تھے،یا سیدہ عائشہr کی یہ بات عدم علم پر محمول ہے ۔
نماز تراویح سے زائد نوافل کی ادائیگی
جب کوئی نماز تراویح پڑھ چکا ہو،اگر بعد میں نوافل پڑھنا چاہتا ہے توکوئی حرج نہیں،مثلاً کوئی شخص لیلۃ القدر کی تلاش میں نماز تراویح کے بعد زائد نفلی نماز  ادا کر کے  شب بیداری کر سکتا ہے؟ اصل میں مسئلہ یہ ہے کہ ممنوعہ اوقات کے علاوہ جتنی بھی تعداد میں نوافل پڑھنا چاہے تو دینِ اسلام  میں کوئی پابندی نہیں،سلف کے عمل سے اس کی تائید ہوتی ہے۔
قیس بن طلقa سے روایت ہے کہ رمضان میں ایک دن سیدناطلق بن علیt ہمارے پاس آئے، شام پڑ گئی تو ہمارے پاس ہی افطاری کی، پھر اسی رات ہمیں قیام کروایا اور وتر پڑھائے، پھر اپنی مسجد میں گئے اور اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی، جب وتر رہ گئے تو ایک آدمی کو آگے کر کے فرمایا:اپنے ساتھیوں کو وتر پڑھائو، میں نے رسول اکرمe سے سنا ہے: ’’ایک رات میں دو بار وتر نہیں۔‘‘
(سنن أبی داوٗد: ۱۴۳۹، سنن النسائی: ۱۶۸۰، سنن الترمذی: ۴۷۰، وسندہٗ حسنٌ،وأخرجہ أحمد: ۴/۲۳، وسندہٗ حسنٌ)
اس حدیث کو امام ترمذیa نے ’’حسن‘‘، امام ابن خزیمہa۱۱۰۱) اور امام ابن حبانa۲۴۴۹) نے ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حجرa نے اس روایت کو ’’حسن‘‘ قرار دیا ہے۔ (فتح الباری شرح صحیح البخاری: ۲/۴۸۱)

No comments:

Post a Comment