Mz07-20-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, May 11, 2019

Mz07-20-2019


سرزمینِ اندلس ... چند یادیں چند باتیں

(تیسری قسط ) تحریر: جناب پروفیسر یٰسین ظفر
قرطبہ‘ اندلس کے بڑے شہروں میں سے ایک ہے۔ یہ اپنے محل وقوع اور خوبصورتی کے اعتبار سے ممتاز مقام رکھتا ہے۔ یہ شہر سرامونیا پہاڑ کے دامن میں واقع ہے اور سرامونیا کے پہاڑوں سے ابلنے والے چشمے کا ٹھنڈا اورمیٹھا پانی پورے شہر کی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ یہ شہر دریا وادی الکبیر کے کنارے ہے جس کا پانی گردونواح کو سیراب کرتا اور اس کی زرخیزی کا باعث ہے۔
اندلس کی فتح تقریباً ۷۱۱ میں ہوئی۔ اسلامی لشکر موسیٰ بن نصیر کی رہنمائی اور طارق بن زیاد کی قیادت میں مختلف شہروں کو فتح کرتے ہوئے قرطبہ پہنچے۔ شہر کا محاصرہ کیا گیا ۔ طارق نے مغیث رومی کو قرطبہ کا محاصرہ جاری رکھنے اور فتح کرنے کی ذمہ داری دیکر خودطلیطلہ کو فتح کرنے چلے گئے۔ مغیث بڑا جنگجو اور ماہرحرب تھا‘ سخت محاصرہ جاری رکھا اورشہر میں داخل ہونے کی تدبیر کرتا رہا۔ ایک رات بارش ہو رہی تھی کہ بعض فوجی ایک چرواہے کوپکڑ لائے‘ اس سے شہر میں داخل ہونے کے بارے میں پوچھا۔ پہلے تو اس نے لا علمی کا اظہار کیا لیکن بعد میں اس نے بتایا کہ د ریا میں قلعے کی فصیل کے ساتھ انجیر کا بڑا درخت ہے جہاں دیوار میں دراڑ ہے۔ آپ لوگ یہاں سے باآسانی اندر داخل ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا رات کی تاریکی اور بارش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مجاہدین نے دریا عبور کیا اور اس مقام پر پہنچ گئے۔ چند لوگ اندر داخل ہوئے جو محتاط طریقے سے مرکزی دروازے پر پہنچ گئے‘ محافظ جو بارش کی وجہ سے کمروں میں تھے۔ معمولی مزاحمت پر قتل کر دیئے گئے اور دروازہ کھول دیا گیا اور باقی فوج مغیث رومی کی قیادت میں اندر داخل ہوئی۔ قرطبہ کے گورنر نے قلعہ نما گرجا گھر میں پناہ لے لی۔ چند دن کی مزاحمت کے بعد ہتھیار پھینک دیئے اور گرفتار ہو گیا۔ اس طرح قرطبہ اسلامی فتوحات میں شمار ہونے لگا۔ موسیٰ اورطارق کی اندلس سے واپسی کے بعد موسیٰ کے بیٹے عبدالعزیز امیر اندلس بنے‘ انہوں نے اشبیلہ کو دارالحکومت قرار دیا۔ لیکن خلیفۃ المسلمین کے حکم پر جب عبدالعزیز کو اشبیلہ میں قتل کر دیا گیا تو ان کی جگہ آنے والے امیر ایوب بن حبیب نے سب سے پہلے دارالحکومت اشبیلہ سے قرطبہ منتقل کر دیا‘ اس کے بعد یہ چار سو سال تک مسلمانوں کا دارالحکومت رہا۔
قرطبہ نے مسلمانوں کے عہد میں بے پناہ ترقی کی‘ یہ شہر علوم و فنون کا مرکز رہا۔ یہاں عظیم الشان تعلیمی ادارے قائم ہوئے جہاں دنیا جہان سے تشنگان علوم اپنی پیاس بجھانے آتے تھے۔ خاص کر جب اندلس میں بنو امیہ کا عہد سلطنت شروع ہوا تو اس کی ترقی کو چار چاند لگ گئے۔ خاص کر عظیم فاتح اور حاکم عبدالرحمن الداخل نے اس شہر کو بہت اہمیت دی اور اسے مثالی شہر بنا دیا۔ انہوں نے پورے شہر کی از سر نو تعمیر کی‘ تمام بازاروں اور گلیوں کو سیدھا اور انہیں پختہ کیا۔ روشنی کا انتظام کرنے کے ساتھ شہر کی فضا کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے فوارے لگائے‘ شہر میں آب رسانی اور نکاسی آب کا جدید نظام متعارف کرایا۔ عبدالرحمن الداخل نے سب سے پہلے ایک شاندار باغ کی بنیاد رکھی اور اس میں کھجور کا درخت لگایا۔ اس کا نام اپنے دادا ہشام کے باغ کے نام پر’’رصافہ‘‘ رکھا۔ اس باغ میں پھل دار درخت لگائے‘ لوگ اپنے حکمران کی تقلید کرتے ہیں لہٰذا لوگوں نے بھی اپنے گھروں کے صحن اور گلیوں میں بکثرت درخت لگائے‘ پورا قرطبہ باغ محسوس ہوتا تھا۔ آج بھی پھل دار درخت موجود ہیں‘ ان سے قبل امیر سمح نے دریائے وادی الکبیر پر خستہ حال پل کی جگہ نہایت مضبوط اور  پائیدار پل تعمیر کرایا جو آج بھی قابل استعمال ہے۔
امیر عبدالرحمن الداخل کا عظیم الشان کا رنامہ قرطبہ میں جامع مسجد قرطبہ کی تعمیرہے۔ یہ مسجد کیا ہے ؟ ایک مثالی اور لافانی شاہکار ہے۔ فن تعمیر کا حسین نمونہ ہے۔ صدیوں پہلے ایسی تعمیر کا تصور ہی محال لگتا ہے لیکن ماہرین فن تعمیر کا کمال اور انہیں خواب سے حقیقت کا رنگ دینے والے مستریوں کی مہارت نے اسے لازوال بنا دیا۔ وسیع وعریض یہ مسجد بنانے کا خیال عبدالرحمن الداخل کو اس لیے آیا کہ مسلمان جو اندلس میں آباد ہیں اور حرمین شریفین جا نہیں سکتے ان کے لیے ایسی مسجد بنائی جائے جسے وہ حرم کی طرح سمجھیں اور یہ مسجد ان کی عقیدتوں کا مرکز ہو‘ لہٰذا اس کی تعمیر پر دل کھول کر خرچ کیا گیا۔
قرطبہ کے بارے میں عجیب و غریب اقوال موجود ہیں۔ ابو الفضل تیفاشی بیان کرتے ہیں کہ مغرب کے بادشاہ منصور کے سامنے فقیہ وقت ولید ابن رشد اور رئیس ابو بکر زہرہ کا مناظرہ ہوا۔اول الذکر نے قرطبہ کی فضیلت میں کہا کہ اس سے زیادہ کیا کہہ سکتے ہیں کہ جب اشبیلہ کا عالم وفات پا جاتا ہے تو اس کی تمام کتابیں بکنے کے لیے قرطبہ آتی ہیں۔ اور جب کوئی ارباب نشاط مرتا ہے تو اس کے آلات موسیقی اشبیلہ فروخت ہونے کو جاتے ہیں اور فرمایا کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ کتابیں قرطبہ میں پائی جاتی ہیں۔ (نفح الطیب۲۲)
ہم تقریبا دس بجے کے قریب قرطبہ شہر میں داخل ہوئے‘ میرے لیے ایک ایک چیز قابل توجہ تھی‘ ہم نے وادی الکبیر کو عبور کرنے کے لیے نیاپل استعمال کیا۔ پل پار کرنے کے بعد ایک پولیس والے سے رہنمائی لی  تو اس نے بتایا کہ آپ قرطبہ شہرکے قدیم حصے میں داخل ہو چکے ہیں‘ تھوڑا آگے جائیں تو یادگار عمارتیں اور خصوصاً جامع مسجد قرطبہ نظر آ جائے گی۔ ہم نے سب سے پہلے مسجد کی زیارت کا عزم کیا لہٰذا مسجد کے پہلو میں واقعہ شاندار پارک سے ہوتے ہوئے ان چھوٹی گلیوں میں داخل ہو گئے‘ صحیح معنوں میں وہی قرطبہ تھا جو صدیوں پہلے مسلمانوں نے نہ صرف آباد کیا بلکہ اسے خوبصورت بنایا۔ یکطرفہ ٹریفک کی وجہ سے ہم بآسانی کار پارکنگ میں پہنچ گئے جہاں کرائے پر گاڑی کھڑی کرنے کی سہولت موجود تھی‘ اس کے بعد ہم دریا کے کنارے پہنچ گئے اور سیدھا اس پل پر آئے جس کے بارے میں تاریخ بتاتی ہے کہ اسے دور امارت میں امیرسمح بن عبدالملک الخولانی نے تعمیر کیا۔ امیر سمح کو خلیفۃ المسلمین عمر بن عبدالعزیز نے اندلس پر امیر مقرر کیا تھا اور سمح بہت بیدار مغز‘ منتظم اور زہد و تقویٰ کے مالک تھے۔ انداز جہاںبانی سے خوب آگاہ تھے۔ انہوں نے خستہ ہال پل کی جگہ یہ پل تعمیر کیا۔ غالباً ۱۷ یا ۱۸ ستون ہیں‘ نہایت مضبوط بنیادوں پر تعمیر ہوا۔ یہ آج بھی صحیح حالت میں ہے‘ اگرچہ ٹریفک کے لیے استعمال نہیں ہوتا البتہ لوگ پیدل گزر گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ میں اس کی ساخت‘ بناوٹ اور مضبوطی کو دیکھتا ہی رہ گیا‘ کیا عظیم الشان پل ہے۔ آج بھی اس میں کافی پانی بہہ رہا ہے لیکن اس دور میں تو پانی کی روانی زیادہ ہو گی‘ اس کے باوجود اسوقت کے انجینئروں نے کمال مہارت سے اس کی تعمیر کی۔ پل پر سیر کرنے اور کافی وقت گزارنے کے بعد ہم نے مسجد کا رخ کیا۔
جامع مسجد قرطبہ باہر سے بہت سادہ نظر آتی ہے۔ اس کی بیرونی دیوار میں پیلے رنگ کا پتھر استعمال ہوا ہے جو مضبوطی کے اعتبار سے بہت اچھا ہے۔ اس کی چھت باہر سے دیکھیں تو کسی فیکٹری کی مانند دکھائی دیتی ہے۔ ہم دھیرے دھیرے مسجد کے دروازے کی طرف بڑھے جو مسجد کے صحن میں کھلتا ہے‘ اندر قدم رکھا تو بے ساختہ زبان پر یہ دعا آئی: [اللہم افتح لی ابواب رحمتک] اور دل تھا جو اس تیزی سے دھڑک رہا تھا کہ قابو نہیں آ رہا تھا‘ ایسے لگتا تھا کہ اچھل کر باہر آ جائے گا‘ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ میں خاکسار آج اس عظیم الشان مسجد میں موجود ہوں ۔ جس مسجد نے صدیوں مسلمانوں کی عظمت کو دیکھا اور جہاں دنیا کے باوقار حکمرانوں ‘ علماء اور خطیبوں نے اپنے خطاب سے قوم کا لہو گرمایا۔ یہ مسجد فن تعمیر میں لاثانی اور اس کے بانی اور مؤسس امیر عبدالرحمن الداخلa۔ آج اللہ کی توفیق سے میں بنفس نفیس اس مسجد میں داخل ہو رہا ہوں۔ ۳۵سال سے جس کی تاریخ طلبہ کو پڑھا رہا ہوں اور اس کی منظر کشی کرتے ہوئے‘ اس کے دروازوں ‘روشن دانوں ‘ستونوں ‘محرابوں ‘چھتوں پر کی گئی مینا کاری‘ اس کے فرش اور صحن میں لگے خوبصورت فواروں اور پھل دار اور پھولوں کا تذکرہ کرتا رہا ہوں‘ اس قدر مسجد کا رعب ‘دبدبہ غالب تھا کہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس کی زیارت کا آغاز کہاں سے کروں۔ وہ خوبصورت صبح‘ چمک دار دن‘ ہلکی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے بدن کو چھو رہے تھے۔ برادر حبیب یہ کہہ کر مجھے عالم بیداری میں لے آئے کہ مسجد میں داخل ہونے سے پہلے ٹکٹ لینا ہو گا۔ مسجد کے پچھلے حصے کے برآمدے میں کاؤنٹر بنے ہوئے تھے۔ ٹکٹ خرید کر ہم مسجد میں داخل ہونے کے لیے اس دروازے کی طرف بڑھے جہاں سے داخلہ ممکن تھا۔ یہاں پہنچ کر برادر حبیب سے ایک سنگین غلطی ہو گئی‘ اس نے ٹکٹ وصول کرنے والے سے یہ پوچھا کہ ہم تو مسجد دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بادل نخواستہ کہہ دیا کہ یہی مسجد ہے لیکن وہ سمجھ گئے کہ یہ مسلمان جن کے دل و دماغ پر ابھی تک مسجد قرطبہ کا سحر غالب ہے اور وہ اپنی عظمت رفتہ کو تلاش کرنے یہاں آتے ہیں۔ مسجد کو دیکھ کر ہی روحانی سکون ہوتا ہے۔ یہ بے ساختہ اس کے منبر و محراب سے اظہار محبت کرتے ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ وہ اس جگہ سجدہ ادا کریں جہاں ہمارے اسلاف نے سجدوں میں آنسو بہائے تھے۔ یہ چاہتے  ہیںکہ آج بھی اس مسجد میں نعرہ توحید بلند ہو اور اپنے ایمان کی تجدید کریں۔ پھر کیا تھا کہ سیکورٹی والوں نے ہم پر خصوصی نظر رکھی کیونکہ مسجد میں کسی قسم کی عبادت کی اجازت نہیں اور نہ اذان نہ نماز وغیرہ۔
مسجد میں داخل ہوتے ہی میرا تاثر یہ تھا کہ یہ مسجد بہت جلد اپنے وارثوں کو دوبارہ بلائے گی۔ کیونکہ اس کی بنیادوں میں عبدالرحمن الداخل کا خلوص اور للہیت موجود ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے ابھی تک اسی حالت میں برقرار رکھا۔ مرورِ زمانہ اور بدترین حالات کے باوجود اس کی ساخت‘ خوبصورتی ‘وسعت اور کشش اسی طرح قائم ہے۔ {فَاَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیْمُکُثُ فِی الْاَرْضِ} کے تحت اللہ تعالیٰ نے اسے خلقت کی منفعت کے لیے باقی رکھا ہے۔ قطار اندر قطار ستون جو مختلف رنگوں پر مشتمل ہیں۔ سنگ سرخ ‘سفید ‘سبز ‘کالے اور اسی ترتیب سے یہ ستون پورے ایک لمبے پتھر سے تراشے گئے جن میں کوئی جوڑ نہیں بلکہ نہایت سلیقے سے ان پر مینا کاری کی گئی‘ ان پر سرخ رنگ کے پتھر سے محرابی ڈاٹ اور اس کے اوپر دوسری سرخ محراب نے ایک سماں باندھ دیا‘ کیا فن تعمیر کا شاہکار جسے انسان دیکھتا ہی رہ جاتا ہے۔ اس پر گول ‘ مستطیل گنبد جن پر نہایت عمدہ بیل بوٹے اور پھول پتیاں بنی ہیں۔ ان میں بعض جگہ قرآنی آیات منقش کی گئیں اور ایسا طبعی رنگ استعمال ہوا جو صدیوں بعد بھی ماند نہیں پڑا اور اکثر سوناپانی (گولڈ کلر) استعمال کیا گیا۔ اس قدر خالص کہ اس کی چمک دمک میں ذرا فرق نہیں آیا۔ مسجد کی اندرونی دیواروں میں بھی خاص ٹائل استعمال کی گئی جو بہت پرکشش اور خوبصورت ہے۔ مسجد کا محراب تو لا جواب ہے‘ سنگ سفید اور سرخ کا استعمال ہوا۔ نیز اس پر قرآنی آیات کندہ کی گئیں‘ بہت ہی خوبصورت کہ انسان دیکھتا ہی رہ جائے۔ محراب کی طرف دیوار بلند ہے البتہ اوپر بڑے بڑے روشن دان ہیں جن میں شیشے جڑے ہوئے ہیں جہاں سے سورج کی روشنی مسجد کو منور کرتی ہے۔ مسجد میں تخلیہ بھی موجود ہے جہاں وقت کے حکمران آ کر نماز جمعہ اور عیدین پڑھتے۔ اسے اس قدر خوبصورت بنایا گیا کہ پوری دیوار ایک پتھر کو تراش کر اس میں جالیاں بنا دی گئیں۔ بلا شبہ آج کے عہد میں یہ ممکن نہیں باوجود کہ مشینری کا دور ہے۔
ایک وقت تھا یہ مسجد اندلس والوں کے لیے حرم کی مانند تھی‘ لوگوں کے دلوں میں اس کا بڑا احترام تھا‘ یہ محض عبادت گاہ نہ تھی بلکہ علمی ‘ثقافتی ‘تہذیبی مرکز تھا۔ پوری دنیا مشرق اور مغرب سے تشنگان علوم یہاں آتے اور اپنی علمی پیاس بجھاتے تھے۔ دنیا بھر کے عالی دماغ علماء ‘ماہرین علوم القرآن ‘محدثین ‘فقہاء ‘فلاسفی ‘حکماء ‘اطباء ‘ماہر نجوم اور فلکیات ادباء ‘شعراء ‘خطباء اس مسجد میں مل جاتے اور آنے والوں کے لیے راحت کا باعث ہوتے تھے۔
امیر عبدالرحمن الداخل بہت دور اندیش منصوبہ ساز اور نفسیات کا ماہر تھا۔ مسجد قرطبہ کی تعمیر کا خیال اس لئے آیا کہ وہ جانتا تھا کہ اندلس میں بسنے والے مسلمان اندلس سے روحانی تعلق نہیں رکھتے‘ ان کے لیے ضروری ہے کہ ایک ایسی عظیم الشان مسجد تعمیر کی جائے جس سے ان کا روحانی تعلق قائم ہو جائے۔ وہ اپنی دینی ضرورتیں اور روحانی تسکین کے لیے اس مسجد کا رخ کریں اور یہ مسجد حرمین شریفین کی ضرورت کو کسی حد تک پورا کر سکے‘ ایک تو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ اندلس سے ہزاروںمیل دور ہے۔ دوسرا وہاں عباسیہ کی حکومت ہے اور ان کا وہاں جانا مشکل ہے لہٰذا یہ مسجد تعمیر کی گئی۔ اس کے ساتھ یہ مسلمانوں کی وحدت کی علامت ہو گی اور لوگ تعلیم کے لیے رجوع کریں گے اور یہ مسجد ان لوگوں کے لیے بھی ایک کھلا پیغام ہو گی جو مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف رہتے تھے تاکہ جلد از جلد انہیں اندلس چھوڑنے پر مجبور کیا جائے۔ مسجد کے قیام سے یہ احساس دلا دیا گیا کہ ہم جانے کے لیے نہیں بلکہ مستقل رہنے کے لیے آئے ہیں‘ اس لیے یہ کہا جاتا تھا کہ یہ محض مسجد نہیں بلکہ اندلس میں مسلمانوں کی بقاء کی ضامن ہے۔ اس بات کا امیر عبدالرحمن الداخل کو شدت سے احساس تھا اس لیے انہوں نے اس کی تعمیر پر خزانے کے منہ کھول دیئے اور تمام صوبوں کے گورنروں کو حکم دیا کہ وہ اس کے لیے ہر قسم کا تعاون کریں۔ مختلف علاقوں سے مسالہ جات جس میں چونا ‘کوئلہ‘ جپسم وغیرہ آتا‘ کہیں سے سنگ سرخ اور کہیں سے اعلیٰ خوشبودار لکڑی آئی اور تعمیر کے فن کاروں نے کمال مہارت سے یہ حیرت انگیز عمارت کھڑی کر دی جو صدیاں گزرنے کے باوجود اپنی شان و شوکت کو قائم رکھے ہوئے ہے اور مسلمانوںکی عظمت رفتہ کی حسین یادگار ہے۔ صدیوں قبل یہ مسجد اپنی وسعت کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی مسجد شمار ہوتی تھی۔ امیر عبدالرحمن نے مسجد کی تعمیر کے لیے متصل گرجا گھر بھاری قیمت ادا کر کے خریدا تھا اور ۷۸۴ عیسوی کو اس کی سنگ بنیاد رکھی۔ اس کا نقشہ خود تیار کیا اور ۷۸۷ میں اس کی تکمیل ہوئی جبکہ یہ عظیم سپہ سالار ‘مفکر اور عالی دماغ حکمران ۷۸۸ کو وفات پا گیا۔ یہ مستطیل مسجد جس کی لمبائی ۱۸۰ میٹر جبکہ چوڑائی ۱۳۵ میٹر ہے۔
مسجد میں ایک مقصورہ بنایا گیا جہاں امراء اندلس آ کر نماز پڑھتے تھے‘ اس کی منظر کشی کے لیے الفاظ کم ہیں دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ مر ور زمانہ کے باوجود یہ شاہکار موجود ہے‘ اس کا فرش چاندی کا اور اس کی دیوار پر جڑاؤ کا کام‘ بلور کے ٹکڑوں اور قیمتی رنگین نگینوں سے کیا گیا‘ بعض جگہ سپی کے ساتھ اسے حسین بنایا گیا۔ ستونوں پر سونے کی پلیٹیں لگائی گئیں جن پر قیمتی جواہرات جڑے ہوئے ہیں اور قیمتی پتھر فیروزہ اور سونے کے پھول لگائے گئے۔
مجھے اس مسجد سے بے حد محبت بلکہ عشق ہے۔ میں بے ساختہ اس کے ستونوں سے بغل گیر ہوا۔ اس کی دیواروں پر ہاتھ پھیرا‘ محراب تک رسائی نہ تھی ورنہ عالم بے خودی میں سجدہ ریز ہوجاتا۔ بار بار میں مقصورہ کی دیواروں کو ہاتھ لگا تا اور بغور دیکھتا کہ یہی جگہ ہے جہاں میرے امراء نے نمازیں ادا کیں اور ان کی غیرت مند آنکھوں نے اس کا مشاہدہ کیا ہو گا۔ مسجد کا ایک ایک چپہ چھان مارا‘ قدم قدم پر رک کر اس کا نظارہ کیا‘ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ میں بھی مسجد قرطبہ میں موجود ہوں ۔ اللہ اللہ! کیا شان بے نیازی ہے کہ مجھ ایسے ناچیز اور خاکسار کو یہ موقع ملا‘ دل نہیں بھرتا تھا‘ ایک ایک چیز کو بار بار دیکھتا اور ماضی میں کھو جاتا‘ کس قدر پروقار اور ایمان افروز دور ہو گا‘ یہ مسجد نعرہ توحید سے گونجتی ہو گی۔ نماز باجماعت میں محمود و ایاز صف بند ہونگے اور درس و تدریس کا ایک لا متناہی سلسلہ چلتا ہو گا۔ خطبات جمعہ میں مایہ ناز خطیب‘ امراء اندلس اور علماء اپنی سحر بیانی سے اسلام کی حقانیت‘ اس کی خصوصیات اور اسلام کے فلسفہ حیات پر سیر حاصل خطاب فرماتے ہوں گے۔ مسجد کا اپنا تقدس ہے‘ یہ اللہ کا گھر ہے‘ بندگی اور عبادت کی جگہ ہے۔ اندلس اور قرطبہ کے راسخ العقیدہ لوگ اس کا خوب حق ادا کرتے ہونگے‘ اس کی آبادی کا خوب خیال کرتے ہونگے‘ ان تصورات میں ایساگم ہوا مجھے ذرا احساس نہ ہوا کہ میں اب اندلس نہیں صدیوں بعدسپین کی عیسائی ریاست میں ہوں جنہوں نے مسجد کو ذریعہ آمدن بنا لیا اور اس عظیم اور لافانی مسجد کے درمیان گرجا گھر بنا دیا۔ وہ مسجد کی ہئیت کو تو نہ بدل سکے البتہ ضرورت نہ ہونے کے باوجود تعصب کی بنیاد پر علامتی کلیسا بنا دیا۔ کون ہے جو وہاں مذہبی رسومات ادا کرتا ہے‘ صرف یہ بتانے کے لیے کہ اب یہ مسلمانوں کی مسجد نہیں بلکہ عیسائیوں کی جاگیرہے۔ اچانک مجھے حبیب کی آواز آئی جو مجھے مسجد کے درمیان موجود اس گرجے گھر کے بارے میں بتانے لگے۔ یہ منظر دیکھ کر میں بہت دکھی ہوا‘ دل خون کے آنسو رویا‘ کیا وہ شان وشوکت تھی کہ اس مسجد کے مینار سے توحید ورسالت کی دعوت دن میں پانچ وقت گونجتی تھی اورکہاں اب کلیسا کی گھنٹیاں بجتی ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
مسلمانوں نے کم و بیش آٹھ سو سال تک یہاں توحید کا جھنڈا لہرایا اور دنیا کو ایک نئی تہذیب سے آگاہ کیا‘ انہیں جینے کے ڈھنگ سکھلائے‘ کائنات کے چھپے سربستہ رازوں سے آگاہ کیا۔ نئی نئی ایجادات سے انہیں حیران و پریشان کیا۔ سمندر کی گہرائی جاننے کے آلات سے لیکر چاند ستاروں کی حقیقت کو بے نقاب کیا۔ دنیا کو ماپنے کے آلات تیار کیے‘ جراحی کے اوزار ایجاد کیے۔ جڑی بوٹیوں کی آمیزش سے ایسے رنگ تیار کیے جو انمٹ تھے اور قدرتی پودوں سے زندگی بچانے کی ادویات تیار کیں۔ کیا کمال کے لوگ جن میں الفت ومودت اور محبت کے سوا کچھ نہ تھا۔ بلا تعصب رنگ ‘نسل ‘مذہب علم بانٹنے اور نئی نئی ایجادات سے سب کو فوائد پہنچاتے تھے۔ دنیا کو تاریک راہوں سے نکال کر روشن راستوں پر ڈال دیا اور اسلام کے چراغ سے مغرب کو بھی منور کر دیا۔ آخر کار وہ مرحلہ کہ ہم مسجد کے ہال سے صحن کی طرف نکلے لیکن دل اندر رہ گیا اور نہایت نیم دلی کے ساتھ میں نے باہر قدم رکھا‘ ان دعاؤں کے ساتھ کہ اے اللہ کریم! ہم تو بے نوا اور بے بس ہیں‘ ہمارے اختیار میں یہ نہیں کہ اپنی اس میراث کو واپس لے سکیں لیکن توغالب حکمت والا ہے‘ اے اللہ! ایسی سبیل پیدا کر کہ ہم دوبارہ اندلس میں وہی باغ و بہار دیکھیں اور مسجد قرطبہ میں توحید کا نغمہ گونجے اور لاالہ الا اللہ کی صدائیں بلند ہوں۔
صحن مسجد میں کافی دیر بیٹھے رہے‘ تصاویر بنائیں صحن میں قدیم فوارے جو مرور زمانہ سے خستہ ہو چکے تھے لیکن ان میں پانی رواں دواں تھا اور چھوٹی چھوٹی نالیوں سے ہوتا ہوا باغیچے میں لگی گھاس کو سیراب کر رہا تھا۔ پھل دار درخت موجود تھے اور خاص کر ترشاوا پھل مالٹے بکثرت موجود تھے۔ صحن کے آخر میں برآمدہ تھا اور اس کی دیوار پر مسجد قرطبہ کے بعض بوسیدہ دروازے لٹکائے ہوئے تھے جو بناوٹ میں بہت خوبصورت تھے۔ ہم بوجھل دل کے ساتھ مسجد سے نکل گئے‘ اب ہمارا رخ قرطبہ کی گلیاں اور بازار تھے۔
ہم کافی دیر قرطبہ کی گلیوں اور بازاروں میں مٹر گشت کرتے رہے حتی کہ دوپہر ہو گئی اور بھوک کا احساس ہونے لگا‘ اصل مسئلہ تھا کہ کوئی حلال فوڈ ملے۔ گھومتے پھرتے ہم ایک گلی میں داخل ہوئے‘ کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں ایک چھوٹا سا بورڈ لگا تھا جس پر لکھا تھا لاہور ریسٹورنٹ‘ ہم آناً فاناً اس میں داخل ہوئے۔ غالباً ہم اس دن ان کے پہلے گاہک تھے۔ استقبال کرنے والا نوجوان جس کا تعلق سیالکوٹ سے تھا۔ ہم نے کھانے کی بابت پوچھا تو کہنے لگا کہ سردست قیمہ اور دال مل سکتی ہے‘ ہمارے لیے یہی غنیمت تھا ۔ آرڈر دیا‘ گرم روٹی اور سالن ہمارے سامنے تھا‘ خوب سیر ہو کر کھایا‘ بل ادا کیا اور باہر نکل گئے۔ اب ہمارا ارادہ تھا کہ گاڑی پر شہر کا اک چکر لگایا جائے لہٰذا ہم پارکنگ ایریا میں گئے‘ گاڑی نکالی اور قرطبہ شہر کا عمومی نظارہ کرنے نکل کھڑے ہوئے۔
خوبصورت موسم‘ چمکتی دھوپ مگرفضا میں خنکی کا احساس اور ٹھڈی ٹھنڈی ہوا‘ گاڑی کے شیشے کھول دیئے‘ اس حالت میں ہم نے مختلف سڑکوں بازاروں سے ہوتے ہوئے قدیم و جدید قرطبہ کا معائنہ مکمل کیا۔ پھر وادی الکبیر کے پار اس حصے میں داخل ہوئے جہاں کسی دور میں علماء کرام اور افسران بالاکی رہائشیں ہوتی تھیں۔ اب یہ علاقہ جدید طرز تعمیر سے آراستہ ہے مگر تصورات کی دنیا میں اب بھی خوبصورت‘ اندلس کا چپہ چپہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ جہاں قدم قدم پر مسلمان امراء ‘علماء‘ محدثین ‘فقہاء‘ اطباء‘ شعراء‘ خطباء کے قدموں کے نشانات ہیں۔ یہی وہ دھرتی ہے جہاں ان کے علمی مباحث کی مجلسیں جمتیں اور امراء ان کے درمیان فیصلے کرتے۔ آج بھی ان فضاؤںمیں ان کی گفتگو خطبوں اور نغموں کی ترنم اور سرسراہت موجود ہے۔ آٹھ صدیوں تک جس فضاء میں نغمہ توحید بلند ہوتا رہا اور مسلم سپہ سالاروں کے گھوڑوں کی ٹاپوں کی گونج میلوں دور سنائی دیتی رہی‘ بھلا اتنی جلدی ختم ہو سکتی ہے۔ آج بھی ہسپانیہ کی فضاؤں میں ان کی خوشبو اور آوازیں محسوس ہوتی ہیں۔ کیا باوقار مردان جلیل تھے جن کی مجلسوں میں عمیق فکر غالب ہوتی۔ سنجیدگی ‘تدبر ان کا زیور ہوتا۔ ذہین و فطین اور چمک دار آنکھیں بھی حقیقت کو پانے میں اپنا کردار ادا کرتی تھیں۔ فلسفیانہ گفتگو ‘ ماہرانہ رائے اور فقیہانہ انداز ان کی پہچان تھی۔ کائنات میں چھپے اسرار ورموز کی تلاش میں ایک دوسرے کے معاون و مدد گار ہوتے کتابوں کے رسیا تھے۔ نت نئی مباحث پر مبنی جدید کتابوں پر ناقدانہ تبصرہ نہایت مثبت اور مہذب انداز میں کرتے‘ اختلاف میں ادب کا پیمانہ کبھی لبریز نہ ہوتا‘ حفظ مراتب کا پورا خیال کیا جاتا‘ مجال ہے کہ کسی کو یہ احساس ہو کہ وہ لائق تکریم نہیں۔
یہ بات اندلس کی تاریخ کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ وہ دور علم و عرفان کی برتری کا تھا۔ سب سے زیادہ عزت دار وہ عالم ہوتا جو علوم شرعیہ پر مکمل دسترس رکھتا‘ معاشرے میں اس کا کوئی ثانی نہ ہوتا۔ یہی وجہ تھی کہ اندلس کے تمام شہری اس جدوجہد میں سرگرم نظر آتے کہ وہ زیادہ سے زیادہ علوم کے وارث بنیں۔ یہ شوق و ذوق کا بنیادی سبب وقت کے حکمران بنتے جن کے ہاں صرف اس شخص کی رسائی ہوتی جو عالم ہوتا ‘ماہر فن ہوتا‘ خطیب ادیب یا شاعر ہوتا۔
اندلس میں وہ وقت بھی آیا جب لوگ تحصیل علم کے لیے مدینہ منورہ کا رخ کرتے اور براہ راست امام مالک بن انس رحمہ اللہ سے پڑھنے آتے۔ ان میں ایک عالی مرتبت قاضی یحییٰ بن یحییٰ بھی تھے جن کے بارے میں معروف ہے کہ ایک دفعہ مدینہ میں ہاتھی آیا‘ تمام طلبہ مسجدسے نکل کر ہاتھی دیکھنے لگے‘ امام صاحب نے قاضی یحییٰ سے بھی کہا کہ تم بھی جاؤ‘ فرمانے لگے کہ میں اندلس سے ہاتھی دیکھنے نہیں بلکہ علم حاصل کرنے آیا ہوں‘ اس کا نتیجہ کہ فراغت کے بعد اندلس گئے تو انہیں بہت بلند مقام ملا‘ جتنے قاضی مقرر ہوتے وہ ان کے کہنے پر ہوتے ۔
کیسا پر امن دور تھا کہ نوجوانوں کی مجلسیں ہوتیں جس میں علمی مباحث ‘ ادبی شہ پارے شعر و شاعری ہوتی۔ اپنے اپنے علمی کمالات کا مظاہرہ ہوتا حتیٰ کہ شاہی دربار میں بھی یہ سلسلہ رات گئے تک جاری رہتا اورممتاز علماء علمی نکتہ آفرینیاں بیان کرتے۔ مسائل پر اختلافی رائے کا اظہار ہوتا اور امراء انہیں بنظر تحسین دیکھتے۔ خصوصاً اس کے لیے قرطبہ شہر معروف تھا جہاں علماء کی فراوانی تھی۔
قرطبہ کی سیر کے بعد ہمارا رخ مالقہ کی طرف تھا۔ کوشش تھی کہ ہم عصر تک وہاں پہنچ جائیں تاکہ شہر کی سیر بھی ہو جائے۔ وہاں ایک معروف قلعہ ہے جسے قلعہ خارہ کہتے ہیں۔ مالقہ صوبہ اندلوسیا کا دارالحکومت بحر متوسط پر واقعہ نہایت اہم شہر ہے۔ اسپین میں بار سلونا کے بعد مصروف ترین بندرگاہ بھی ہے۔ آج کل اس کی آبادی ۵۹۵۰۰۰ کے قریب ہے۔ مالقہ کی ایک طویل تاریخ ہے‘ مالقہ پہنچ کر پہلے ہوٹل گئے۔ منہ ہاتھ دھویا‘ نمازیں ادا کیں اور پھر گھومنے نکل گئے۔ نہایت خوبصورت صاف ستھرا شہر‘ بازار اور مختلف پبلک پارکوں میں گئے‘ آخر میں ہم ساحل سمندر پر آگئے‘ گاڑی پارک کی اور پیدل چلنے لگے۔ تقریباً چار گھنٹے کی سیر میں ہم تھک گئے اور واپسی ہوٹل کا راستہ لیا۔ دوسری صبح ہماری واپسی تھی لہٰذا مختصر وقت کے لیے ہم ایک قریبی بستی میں گئے جہاں ایک شاندار خوبصورت مسجد نظر آئی‘ مسجد دیکھنے اندر گئے تو وہاں کے امام اور خطیب سے ملاقات ہوئی‘ ان کا تعلق مصر سے تھا اور مدینہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل تھے۔ عرصہ تیس سال سے وہاں مقیم ہیں‘ یہ مسجد سعودی عرب نے تعمیر کرائی ہے۔ امام صاحب نے قہوہ کھجور سے تواضع کی اور دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا‘ وہاں سے ہم سیدھے ائرپورٹ آئے‘ گاڑی واپس کی اور بیلجیئم کے لیے عازم سفر ہو گئے۔

No comments:

Post a Comment